Muslim99Muslim99

Silsila Sahiha · Book 16 · Chapter 1299

لباس، زینت، لہو و لعب، تصاویر

انسان اور اس کا ہر عضو خوبصورت ہے

2 hadiths in this chapter

1958

Silsila Sahiha #1958

Sahih

-" يا عمرو! إن الله عز وجل قد احسن كل شيء خلقه. يا عمرو! - وضرب رسول الله صلى الله عليه وسلم باربع اصابع من كفه اليمنى تحت ركبة عمرو فقال: - هذا موضع الإزار، ثم رفعها، [ثم ضرب باربع اصابع تحت الاربع الاولى ثم قال: يا عمرو! هذا موضع الإزار]، ثم رفعها، ثم وضعها تحت الثانية، فقال: يا عمرو! هذا موضع الإزار".-" يا عمرو! إن الله عز وجل قد أحسن كل شيء خلقه. يا عمرو! - وضرب رسول الله صلى الله عليه وسلم بأربع أصابع من كفه اليمنى تحت ركبة عمرو فقال: - هذا موضع الإزار، ثم رفعها، [ثم ضرب بأربع أصابع تحت الأربع الأولى ثم قال: يا عمرو! هذا موضع الإزار]، ثم رفعها، ثم وضعها تحت الثانية، فقال: يا عمرو! هذا موضع الإزار".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عمرو بن فلاں انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ وہ اس حال میں چل رہا تھا کہ اس نے اپنا ازار (ٹخنوں سے نیچے) لٹکا رکھا تھا، اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے جا ملے، اس حال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پیشانی پکڑی ہوئی تھی اور یہ کہہ رہے رتھے: ”اے اللہ! تیرا بندہ ہوں، تیرے بندے کا بیٹا ہوں اور تیری لونڈی کا بیٹا ہوں۔“ عمرو کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری پنڈلیاں پتلی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمرو! یقیناً اللہ تعالی نے ہر چیز کو خوبصورت پیدا کیا ہے، عمرو!۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ کی چار انگلیاں عمرو کے گھٹنے کے نیچے رکھیں اور فرمایا: یہ ”ازار کی جگہ ہے۔“ پھر ان کو اٹھایا اور پہلے والی چار انگلیوں (کے فاصلے سے) سے نیچے پھر چار انگلیاں رکھیں اور فرمایا: ”یہ ازار کی جگہ ہے۔“ پھر ان کو اٹھایا اور دوسری والی چار انگلیوں کے نیچے رکھا اور فرمایا: ”عمرو! یہ ازار کی جگہ ہے۔“

1959

Silsila Sahiha #1959

Sahih

-" ارفع إزارك واتق الله".-" ارفع إزارك واتق الله".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا شرید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دور ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ تہبند گھسیٹتے ہوئے جا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف جلدی گئے یا اس کی طرف لپکے اور فرمایا: ”اپنا تہبند بلند کر لو اور اللہ تعالی سے ڈرو۔“ اس نے کہا: میرے پاؤں اندر کی طرف مڑے ہوئے ہیں اور چلتے وقت میرے گھٹنے ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا تہبند بلند کر لے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ہر مخلوق خوبصورت ہے۔“ اس کے بعد اس آدمی کو نہیں دیکھا گیا، مگر اس حالت میں اس کا تہبند پنڈلیوں کے نصف تک ہوتا تھا۔