Silsila Sahiha #1588
-" إذا راى احدكم من اخيه ومن نفسه ومن ماله ما يعجبه فليبركه، فإن العين حق".-" إذا رأى أحدكم من أخيه ومن نفسه ومن ماله ما يعجبه فليبركه، فإن العين حق".
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عامر بن ربیع اور سہل بن حنیف دونوں غسل کرنے کے ارادے سے نکلے وہ کوئی اوٹ تلاش کر رہے تھے۔ عامر اور مستدرک کی روایت جو زیادہ درست ہے، کے مطابق سہل نے اون کا جبہ اتارا، جب میں نے اسے دیکھا تو اسے میری نظر بد لگ گئی، وہ پانی میں اتر کر نہانے لگ گیا، میں نے پانی میں اس کے بڑبڑانے کی آواز سنی۔ میں اس کے پاس آیا، اسے تین دفعہ آواز دی، لیکن اس نے جواب نہ دیا۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور ساری بات بتائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور پانی میں داخل ہو گئے، گویا کہ میں اب بھی آپ کی پنڈلیوں کی سفیدی دیکھ رہا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سینے پر تین دفعہ ہاتھ مارا اور پھر یہ دعا کی: ”اے اللہ اس کی گرمی و سردی اور بیماری و لاغری دور کر دے۔“ پھر کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”جب کسی کو اپنے بھائی کا وجود یا کوئی مال پسند آئے تو اس کے لئے برکت کی دعا کرے، کیونکہ نظر لگ جانا حق ہے۔“