Muslim99Muslim99

Silsila Sahiha · Book 10 · Chapter 953

خلافت، بیعت، اطاعت اور امارت کا بیان

سیدنا عثمان برحق خلیفہ رسول تھے

2 hadiths in this chapter

1371

Silsila Sahiha #1371

Sahih

- (تهجمون على رجل معتجر ببرد حبرة، يبايع الناس، من اهل الجنة)- (تَهجُمون على رجلٍ مُعتَجرٍ ببردٍ حَبِرَةٍ، يبايعُ الناسَ، من أهل الجنة)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن حوالہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا: ”اچانک تم ایسے آدمی پر (‏‏‏‏ بیعت کرنے کے لیے) ٹوٹ پڑو گے، جس نے دھاری دار چادر لپیٹی ہو گی، وہ لوگوں سے خرید و فروخت کا معاملہ کر رہا ہو گا، اس حال میں کہ وہ جنتی ہو گا۔“ (‏‏‏‏ایک دن آیا کہ) ہم نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی بیعت کرنے کے لیے ان پر ہجوم کیا اور انہوں نے دھاری دار چادر لپیٹی ہوئی تھی اور وہ لوگوں سے خرید و فروخت کا معاملہ کر رہے تھے۔ اس حدیث میں «يبايع» سے مراد خرید و فروخت ہے۔

1372

Silsila Sahiha #1372

Sahih

- (إني، وإياك، وهذين، وهذا الراقد- يعني: عليا- يوم القيامة في مكان واحد، يعني: فاطمة وولديها: الحسن والحسين رضي الله عنهم)- (إنّي، وإيّاكِ، وهذين، وهذا الرّاقد- يعني: عليّاً- يوم القيامة في مكان واحد، يعني: فاطمة وولديْها: الحسن والحسين رضي الله عنهم)

اردو ترجمہ · Urdu

جبیر بن نفیر کہتے ہیں کہ ہم سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ خیمہ زن تھے، سیدنا کعب بن مرہ بہزی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات نہ سنی ہوتی تو میں اس مقام پر کھڑا نہ ہوتا۔ جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سنا تو لوگوں کو بٹھا دیا، انہوں نے کہا: ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے، سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا وہاں سے گزر ہوا، انہوں نے اپنے بالوں کو سنوارا ہوا اور چہرے پر کپڑا لپیٹا ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس (عثمان) کے قدموں کے نیچے سے فتنہ نکلے گا۔ اس وقت یہ (عثمان) اور اس کے پیروکار ہدایت پر ہوں گے۔“ منبر کے پاس سے ابن حوالہ ازدی کھڑا ہوا اور مجھے کہا: (کعب!) تو بھی اسی کا ساتھی ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ اللہ کی قسم! میں اس مجلس میں حاضر تھا، اگر مجھے یہ یقین ہو جائے کہ اس لشکر میں میری تصدیق کرنے والے موجود ہیں تو میں اس کے بارے میں سب سے پہلے میں کلام کروں گا۔