Muslim99Muslim99

Sahih Muslim · Book 16 · Chapter 568

The book of aetikaaf

86. باب: مدینہ منورہ میں سکونت اختیار کرنے کی ترغیب اور وہاں کی تکالیف پر صبر کرنے کا بیان۔

Chapter: The virtue of Al-Madinah and the Prophet's Prayer for it to be blessed. Its sanctity and the sanctity of its game and trees. The Boundaries of its sanctuary

مدینہ کی فضیلت ‘اس میں برکت کےلیے نبی ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ کی دعا ‘مدینہ کی حرمت ‘اس کے شکار اور اس کے درختوں کی حرمت اور حرم کی حدود کا بیان

14 hadiths in this chapter

3336

Sahih Muslim #3336

Sahih

حدثنا حَمَّادُ بْنُ إِسْمَاعِيل ابْنِ عُلَيَّةَ ، حدثنا أَبِي ، عَنْ وُهَيْبٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، أَنَّهُ حَدَّثَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ: أَنَّهُ أَصَابَهُمْ بِالْمَدِينَةِ جَهْدٌ وَشِدَّةٌ، وَأَنَّهُ أَتَى أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، فقَالَ لَهُ: إِنِّي كَثِيرُ الْعِيَالِ، وَقَدْ أَصَابَتْنَا شِدَّةٌ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَنْقُلَ عِيَالِي إِلَى بَعْضِ الرِّيفِ، فقَالَ أَبُو سَعِيدٍ : لَا تَفْعَلِ الْزَمِ الْمَدِينَةَ، فَإِنَّا خَرَجْنَا مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَظُنُّ أَنَّهُ قَالَ: حَتَّى قَدِمْنَا عُسْفَانَ، فَأَقَامَ بِهَا لَيَالِيَ، فقَالَ النَّاسُ: وَاللَّهِ مَا نَحْنُ هَا هُنَا فِي شَيْءٍ وَإِنَّ عِيَالَنَا لَخُلُوفٌ، مَا نَأْمَنُ عَلَيْهِمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: " مَا هَذَا الَّذِي بَلَغَنِي مِنْ حَدِيثِكُمْ، مَا أَدْرِي كَيْفَ، قَالَ: " وَالَّذِي أَحْلِفُ بِهِ، أَوْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَوْ إِنْ شِئْتُمْ لَا أَدْرِي أَيَّتَهُمَا قَالَ لَآمُرَنَّ بِنَاقَتِي تُرْحَلُ، ثُمَّ لَا أَحُلُّ لَهَا عُقْدَةً حَتَّى أَقْدَمَ الْمَدِينَةَ، وَقَالَ: " اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ، فَجَعَلَهَا حَرَمًا، وَإِنِّي حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ حَرَامًا مَا بَيْنَ مَأْزِمَيْهَا، أَنْ لَا يُهْرَاقَ فِيهَا دَمٌ، وَلَا يُحْمَلَ فِيهَا سِلَاحٌ لِقِتَالٍ، وَلَا تُخْبَطَ فِيهَا شَجَرَةٌ إِلَّا لِعَلْفٍ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعَنْا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعَنْا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا، اللَّهُمَّ اجْعَلْ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا مِنَ الْمَدِينَةِ شِعْبٌ وَلَا نَقْبٌ، إِلَّا عَلَيْهِ مَلَكَانِ يَحْرُسَانِهَا حَتَّى تَقْدَمُوا إِلَيْهَا "، ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ: " ارْتَحِلُوا "، فَارْتَحَلْنَا، فَأَقْبَلْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ، فَوَالَّذِي نَحْلِفُ بِهِ أَوْ يُحْلَفُ بِهِ، الشَّكُّ مِنْ: حَمَّادٍ مَا وَضَعَنْا رِحَالَنَا حِينَ دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ حَتَّى أَغَارَ عَلَيْنَا بَنُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَطَفَانَ، وَمَا يَهِيجُهُمْ قَبْلَ ذَلِكَ شَيْءٌ.

English

Abu Sa'id Maula al-Mahri reported that they were hard pressed by the distress and hardship of Medina, and he come to AbU Sa'Id al-Khudri and said to him: I have a large family (to support) and we are enduring hardships; I have, therefore, made up my mind to take my family to some fertile land. Thereupon Abu Sa'id said: Don't do that, stick to Medina, for we have come out with Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), and (I think that he also said) until we reached 'Usfan, and he (the Prophet along with his Companions) stayed there for some nights. There the people said: By Allah, we are lying here idle, whereas our children are unprotected behind us, and we do not feel secure about them. This (apprehension of theirs) reached Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), whereupon he said: What is this matter concerning you that has reached me? (I do not retain how he said it, whether he said like this: ) By Him (in the name of Whom) I take oath, (or he said like this: ) By Him in Whose Hand is my life, I made up my mind or if you like (I do not retain what word did he actually say), I should command my camel to proceed and not to let it halt until it comes to Medina and then said: Ibrahim declared Mecca as the sacred territory and it became sacred, and I declare Medina as the sacred territory-the area between the two mountains ('Air and Uhud). Thus no blood is to be shed within its (bounds) and no weapon is to be carried for fighting, and the leaves of the trees there should not be beaten off except for fodder. O Allah, bless us in our city; O Allah, bless us in our sil; O Allah, bless us in our mudd; O Allah, bless us in our sa; O Allah, bless us in our mudd. O Allah, bless us in our city. O Allah, bless with this blessing two more blessings. By Him in Whose Hand is my life, there is no ravine or mountain path of Medina which is not protected by two angels until you reach there. (He then said to the people: ) Proceed, and we, therefore, proceeded and we came to Medina By Him (in Whose name) we take oath and (in Whose name) oath is taken (Hammad is in doubt about it), we had hardly put down our camel saddles on arriving at Medina that we were attacked by the people of the tribe of 'Abdullah b. Ghatafan but none dared to do it before.

اردو ترجمہ · Urdu

حماد بن اسماعیل بن علیہ نے ہمیں ہمیں حدیث بیا ن کی ، ( کہا : ) ہمیں میرے والد نے وہیب سے حدیث بیان کی ، انھوں نے یحییٰ بن ابی اسحاق سے روایت کی کہ انھوں نےمہری کےمولیٰ ابو سعید سے حدیث بیان کی کہ انھیں مدینہ میں بدحالی اورسختی نےآلیا ، وہ ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا : میں کثیر العیال ہوں اورہمیں تنگدستی نے آلیا ہے ، میرا ارادہ ہے کہ میں ا پنے افراد خانہ کو کسی سر سبز وشاداب علاقے کی طرف منتقل کردوں ۔ تو ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا : ایسا مت کرنا ، مدینہ میں ہی ٹھہرے رہو ، کیونکہ ہم اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( سفر پر ) نکلے ۔ میرا خیال ہے انھوں نےکہا ۔ حتیٰ کہ ہم عسفان پہنچے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں چند راتیں قیام فرمایا ، تو لوگوں نے کہا : ہم یہاں کسی خاص مقصد کے تحت نہیں ٹھہر ے ہوئے ، اور ہمارے افراد خانہ پیچھے ( اکیلے ) ہیں ہم انھیں محفوظ نہیں سمجھتے ، ان کی یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ کیا بات ہے جو تمھاری طرف سے مجھے پہنچی ہے؟ " ۔ میں نہیں جانتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےکس طرح فرمایا ۔ " اس ذات کی قسم جس کی میں قسم کھاتا ہوں ۔ " یا ( فرمایا ) " اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!میں نےارادہ کیایا ( فرمایا ) اگرتم چاہو ۔ میں نہیں جانتا کہ آپ نے ان دونوں میں سے کون سا جملہ ارشاد فرمایا : میں اپنی اونٹنی پر پالان رکھنے کا حکم د وں ، پھر اس کی ایک گرہ بھی نہ کھولوں یہاں تک کہ مدینہ پہنچ جاؤں ۔ " اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " اے اللہ!بلاشبہ ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کی حرمت کا اعلان کیا ، اور اسے حرم بنایا ، اور میں نے مدینہ کو اس کے دونوں پہاڑوں کے درمیان کو حرمت والا قرار دیا کہ اس میں خون نہ بہایا جائے ، اس میں لڑائی کے لئے اسلحہ نہ اٹھایا جائے اور اس میں چارے کے سوا ( کسی اورغرض سے ) اس کے درختوں کے پتے نہ جھاڑے جائیں ۔ اے اللہ !ہمارے لئے ہمارے شہر ( مدینہ ) میں برکت عطا فرما ۔ اے اللہ !ہمارے لئے ہمارے صاع میں برکت عطا فرما ، اے اللہ!ہمارے لیے ہمارے مد میں برکت عطا فرما ، اے اللہ !ہمارے لئے ہمارے صاع میں برکت عطا فرما ، اے اللہ!ہمارے لیے ہمارے مد میں برکت عطا فرما ، اے اللہ !ہمارے لئے ہمارے شہر ( مدینہ ) میں برکت عطا فرما ۔ اور اس برکت کے ساتھ دو برکتیں ( مزید عطا ) کردے ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!مدینہ کی کوئی گھاٹی اور درہ نہیں مگر اس پر دوفرشتے ہیں جو اس کی حفاظت کریں گے یہاں تکہ کہ تم اس میں واپس آجاؤ ۔ " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا " کوچ کرو ۔ " تو ہم نے کوچ کیا اور مدینہ آگئے ۔ اس ذات کی قسم جس کی ہم قسم کھاتے ہیں! یا جس کی قسم کھائی جاتی ہے ۔ یہ شک حماد کی طرف سےہے ۔ مدینہ میں داخل ہوکر ہم نے اپنی سواریوں کے پالان بھی نہیں اتارے تھے کہ بنو عبداللہ بن غطفان نے ہم پر حملہ کردیا اور اس سے پہلے کوئی چیز انھیں مشتعل نہیں کررہی تھی ۔

3337

Sahih Muslim #3337

Sahih

وحدثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ ، حدثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حدثنا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعَنْا، وَمُدِّنَا وَاجْعَلْ مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ "،

English

Abu Sa'id al-Kbudri (Allah be pleased with him) reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: O Allah, bless us in our sa' and mud and shower with its blessings two other blessings (multiply blessings showerted upon it).

اردو ترجمہ · Urdu

علی بن مبارک سے روایت ہے ، ( کہا : ) ہمیں یحییٰ بن ابی کثیر نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں مہری کے مولیٰ ابوسعید نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نے فرمایا : " اللہ ہمارے مد اور صاع میں برکت عطا فرما اورایک برکت کے ساتھ دو برکتیں ( مزید ) عطافرما ۔ "

3338

Sahih Muslim #3338

Sahih

وحدثناه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنا شَيْبَانُ . ح وحَدَّثَنِي إِسْحَاقَ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حدثنا حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ ، كِلَاهُمَا عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

English

A hadith like this has been narrated by Yabya b. Abu Kathir with the same chain of transmitters.

اردو ترجمہ · Urdu

شیبان اورحرب ، یعنی ابن شداد دونوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سندکے ساتھ ، اسی کے مانند حدیث بیان کی ،

3339

Sahih Muslim #3339

Sahih

وحدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا لَيْثٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْمَهْرِيِّ: أَنَّهُ جَاءَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ لَيَالِي الْحَرَّةِ، فَاسْتَشَارَهُ فِي الْجَلَاءِ مِنَ الْمَدِينَةِ، وَشَكَا إِلَيْهِ أَسْعَارَهَا، وَكَثْرَةَ عِيَالِهِ، وَأَخْبَرَهُ أَنْ لَا صَبْرَ لَهُ عَلَى جَهْدِ الْمَدِينَةِ وَلَأْوَائِهَا، فقَالَ لَهُ: وَيْحَكَ لَا آمُرُكَ بِذَلِكَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَصْبِرُ أَحَدٌ عَلَى لَأْوَائِهَا فَيَمُوتَ، إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا، أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِذَا كَانَ مُسْلِمًا ".

English

Abu Sa'id Maula al-Mahri reported that he came to Abu Sa'id al-Khudri during the nights (of the turmoil) of al-Barrah, and sought his advice about leaving Medina, and complained of the high prices prevailing therein and his large family, and informed him that he could not stand the hardships of Medina and its rugged surrounding. He said to him: Woe to you; I will not advise you to do it, for I heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: No one will endure hardships of Medina without my being an intercessor or a witness on his behalf on the Day of Resurrectiar), if he is a Muslim.

اردو ترجمہ · Urdu

سعید بن ابوسعید نے مہری کے آزاد کردہ غلام ، ابو سعید سے روایت کی وہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس حرہ کی راتوں میں آئے ( یعنی جن دنوں مدینہ طیبہ میں ایک فتنہ مشہور ہوا تھا اور ظالموں نے مدینہ کو لوٹا تھا ) اور ان سے مشورہ کیا کہ مدینہ سے کہیں اور چلے جائیں اور ان سے وہاں کی گرانی نرخ ( مہنگائی ) اور کثرت عیال کی شکایت کی اور خبر دی کہ مجھے مدینہ کی محنت اور بھوک پر صبر نہیں آ سکتا تو سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تیری خرابی ہو میں تجھے اس کا مشورہ نہیں دوں گا ( کیونکہ ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ وہ فرماتے تھے کہ کوئی شخص یہاں کی تکلیفوں پر صبر نہیں کرتا اور پھر مر جاتا ہے ، مگر یہ کہ میں قیامت کے دن اس کا شفیع یا گواہ ہوں گا اگر وہ مسلمان ہو ۔

3340

Sahih Muslim #3340

Sahih

حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، جَمِيعًا عَنْ أَبِي أُسَامَةَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ، وَابْنِ نُمَيْرٍ، قَالَا: حدثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنِّي حَرَّمْتُ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ "، قَالَ: ثُمَّ كَانَ أَبُو سَعِيدٍ يَأْخُذُ، وقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَجِدُ أَحَدَنَا فِي يَدِهِ الطَّيْرُ فَيَفُكُّهُ مِنْ يَدِهِ ثُمَّ يُرْسِلُهُ.

English

Abd al-Rahman reported on the authority of his father Abu Sa'id (Allah be pleased with him) that he heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: I have declared sacred what is between the two lava grounds of Medina just as Ibrahim (peace be upon him) declared Mecca as sacred. He (the narrator) then said: Abu Sa'id caught hold of (Abu Bakr, another narrator, used the word found ) a bird in his hand and then released it from his hand and set it free.

اردو ترجمہ · Urdu

سعید بن عبدالرحمان بن ابی سعیدخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ عبدالرحمان نے انھیں اپنےوالد ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے : " میں مدینہ کی دوسیاہ پتھروں والی زمین کے درمیانی حصے کوحرم قرار دیتا ہوں ، جیسے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کوحرم قرار دیا تھا ۔ " کہا : پھر ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہم میں سے کسی کو پکڑ لیتے ، اور ابو بکر نے کہا : ہم میں سے کسی کو دیکھتے کہ اس کے ہاتھ میں پرندہ ہے ۔ تو اسے اس کے ہاتھ سے چھڑاتے ، پھر اسے آزاد کردیتے ۔

3341

Sahih Muslim #3341

Sahih

وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ يُسَيْرِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، قَالَ: " أَهْوَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ، فقَالَ: إِنَّهَا حَرَمٌ آمِنٌ ".

English

Sahl b. Hunif reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) pointed with his hands towards Medina and said: That is a sacred territory and a place of safety.

اردو ترجمہ · Urdu

سہل بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مدینہ کی طرف اشارہ کیا اورفرمایا : " بلاشبہ یہ حرم ہے ، امن والاہے ۔ "

3342

Sahih Muslim #3342

Sahih

وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَهِيَ وَبِيئَةٌ، فَاشْتَكَى أَبُو بَكْرٍ، وَاشْتَكَى بِلَالٌ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكْوَى أَصْحَابِهِ، قَالَ: " اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَمَا حَبَّبْتَ مَكَّةَ، أَوْ أَشَدَّ وَصَحِّحْهَا، وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا، وَمُدِّهَا، وَحَوِّلْ حُمَّاهَا إِلَى الْجُحْفَةِ "،

English

A'isha (Allah be pleased with her) reported: When we came to Medina, and it was an unhealthy, uncogenial place, Abu Bakr fell sick and Bilal also fell sick; and when Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) saw the illness of his Companions he said: O Allah, make Medina as congenial to us as you made Mecca congenial or more than that; make it conducive to health, and bleesus in its sa' and in its mudd, and transfer its fever to al-juhfa.

اردو ترجمہ · Urdu

عبدہ نے ہمیں ہشام سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والدسے اورانھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب ہم مدینہ میں ( ہجرت کر کے ) آئے تو وہاں وبائی بخار پھیلا ہوا تھا ۔ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کی بیماری دیکھی تو دعا کی کہ اے اللہ! ہمارے مدینہ کو ہمارے لئے دوست کر دے جیسے تو نے مکہ کو دوست کیا تھا یا اس سے بھی زیادہ اور اس کو صحت کی جگہ بنا دے اور ہمیں اس کے ”صاع“ اور ”مد“ میں برکت دے اور اس کے بخار کو جحفہ کی طرف پھیر دے ۔

3343

Sahih Muslim #3343

Sahih

وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، حدثنا أَبُو أُسَامَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.

English

This hadith has been narrated by Hisham b. 'Urwa with the same chain of transmitters.

اردو ترجمہ · Urdu

ابو اسامہ اور ابن نمیر دونوں نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کےساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔

3344

Sahih Muslim #3344

Sahih

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنا عِيسَى بْنُ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، حدثنا نَافِعٌ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ صَبَرَ عَلَى لَأْوَائِهَا، كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا، أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".

English

Ibn 'Umar (Allah be pleased with them) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: He who patiently endures the hardships of it (of this city of Medina), I would be an intercessor or a withness on his behalf on the Day of Resurrection.

اردو ترجمہ · Urdu

نافع نے ہمیں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے : " جس نے اس ( مدینہ ) کی تنگ دستی پر صبر کیا ، میں قیامت کے دن اس کے لئے سفارشی ہوں گایا گواہ ۔ "

3345

Sahih Muslim #3345

Sahih

حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ قَطَنِ بْنِ وَهْبِ بْنِ عُوَيْمِرِ بْنِ الْأَجْدَعِ ، عَنْ يُحَنَّسَ مَوْلَى الزُّبَيْرِ، أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا عَنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي الْفِتْنَةِ، فَأَتَتْهُ مَوْلَاةٌ لَهُ تُسَلِّمُ عَلَيْهِ، فقَالَت: إِنِّي أَرَدْتُ الْخُرُوجَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، اشْتَدَّ عَلَيْنَا الزَّمَانُ، فقَالَ لَهَا عَبْدُ اللَّهِ : اقْعُدِي لَكَاعِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ، إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".

English

Yuhannis, the freed slave of Zubair, narrated that when he was sitting with Abdullah b. 'Umar (Allah be pleased with him) during the days of turmoil, his freed slave-girl came to him. After saluting him she said: Abu Abd al-Rahmin, I have decided to leave (Medina) for the time is hard for us, whereupon Abdullah said to her: Stay here, foolish lady, for I have heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: For one who shows endurance on the hardships and rigour of it (of Medina) I would be an intercessor or a witness on his behalf on the Day of Resurrection.

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک نے قطن بن وہب بن عویمر بن اجدع سےروایت کی ، انھوں نے حضرت زبیر کے آزاد کردہ غلام یحس سے روایت کی ، انھوں نے انھیں ( قطن کو ) خبردی کہ وہ فتنہ ( واقعہ حرہ ) کے دوران میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، ان کے پاس ان کی ایک آزاد کردہ لونڈی سلام کرنے پر حاضر ہوئی اور عرض کی : ابو عبدالرحمان ! ہمارےلیے گزرا اوقات مشکل ہوگئی ہے لہذا میں مدینہ سے نقل مکانی کرنا چاہتی ہوں ۔ اس پر حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے کہا : ( یہیں مدینہ میں ) بیٹھی رہو ، نادان عورت! بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا : " کوئی بھی اس تنگدستی اور سختی پر صبر نہیں کرتا مگر قیامت کےدن میں اس کے لئے گواہ ہوں گا یاسفارشی ۔ "

3346

Sahih Muslim #3346

Sahih

وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَنا الضَّحَّاكُ ، عَنْ قَطَنٍ الْخُزَاعِيِّ ، عَنْ يُحَنَّسَ مَوْلَى مُصْعَبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ صَبَرَ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا، كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا، أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " يَعْنِي: الْمَدِينَةَ.

English

Abdullah b. 'Umar (Allah be pleased with them) said: I heard Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: He who patiently endured the hardships and rigours of (this city, i. e. Medina), I would be his witness and intercessor on the Day of Resurrection.

اردو ترجمہ · Urdu

ضحاک نے ہمیں قطن خزاعی سے خبر دی ، انھوں نے مصعب کے مولیٰ یحس سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " جس نے اس ( شہر ) کی تنگدستی اورسختی پر صبر کیا ، میں قیامت کے دن اس کا گواہ ہوں گایا سفارشی ۔ " ان کی مراد مدینہ سے تھی ۔

3347

Sahih Muslim #3347

Sahih

وحدثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَاءِ الْمَدِينَةِ، وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي، إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، أَوْ شَهِيدًا "،

English

Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: For one among my Ummah who shows endurance against the hardships and rigours of Medina, I would be an intercessor or a witness on his behalf on the Day of Resurrection.

اردو ترجمہ · Urdu

علاء بن عبدالرحمان ( بن یعقوب ) نے اپنے والدسے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " میری امت میں سے کوئی شخص مدینہ کی تنگدستی اور مشقت پر صبر نہیں کرتا مگر قیامت کےدن ، میں اس کا سفارشی یاگواہ ہوں گا ۔ "

3348

Sahih Muslim #3348

Sahih

وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حدثنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي هَارُونَ مُوسَى بْنِ أَبِي عِيسَى ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.

English

A hadith like this has been narrated on the authority of Abu Huraira (Allah be pleased with him) through another chain of transmitters.

اردو ترجمہ · Urdu

ابو عبداللہ قر اظ کہتے ہیں : میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ۔ ۔ ( آگے ) اسی کے مانند ہے ۔

3349

Sahih Muslim #3349

Sahih

وحَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ عِيسَى ، حدثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي صَالِح عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَصْبِرُ أَحَدٌ عَلَى لَأْوَاءِ الْمَدِينَةِ "، بِمِثْلِهِ.

English

Abu Huraira (Allah be pleased with him) reported Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: None who shows endurance on the hardships of Medina, (the rest of the hadith is the same).

اردو ترجمہ · Urdu

صالح بن ابو صالح نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی بھی مدینہ کی مشقتوں پرصبر نہیں ۔ کرتا " ۔ ۔ ۔ ( آگے ) اسی کے مانند ہے ۔