Sahih Ibn Khuzaymah #293
نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، وَنا بَهْزٌ يَعْنِي ابْنَ أَسَدٍ الْعَمِّيَّ ، نا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، نا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ عَمِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدًا فِي الْمَسْجِدِ وَأَصْحَابُهُ مَعَهُ، إِذْ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ، فَبَالَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ أَصْحَابُهُ: مَهْ مَهْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَصْحَابِهِ: لا تُزْرِمُوهُ، دَعُوهُ"، ثُمَّ دَعَاهُ، فَقَالَ:" إِنَّ هَذَا الْمَسْجِدَ لا يَصْلُحُ لِشَيْءٍ مِنَ الْقَذَرِ وَالْبَوْلِ أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّمَا هُوَ لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ، وَذِكْرِ اللَّهِ، وَالصَّلاةِ"، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ مِنَ الْقَوْمِ:" قُمْ فَأْتِنَا بِدَلْوٍ مِنَ الْمَاءِ فَشُنَّهُ عَلَيْهِ" ، فَأَتَى بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَشَنَّهُ عَلَيْهِ"
EnglishUnverified translation
We are Abdullah bin Hashim, we are Bahz, meaning the blind son of Asad, we are Ikrimah bin Ammar, we are Ishaq bin Abdullah bin Abi Talha, On the authority of his uncle Anas bin Malik, he said: The Messenger of God, may God bless him and grant him peace, was sitting in the mosque and his companions were with him, when a Bedouin came. Then he urinated in the mosque, and his companions said: “No, no.” Then the Prophet, may God bless him and grant him peace, said to his companions: “Do not force him, leave him.” Then he called him and said: “Indeed, This mosque is not suitable for any filth or urine, or as the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, said, it is only for reading the Qur’an. And the remembrance of God and prayer.” Then the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, said to a man from among the people: “Get up and bring us a bucket of water and pour it over him.” So he came. With a bucket of water, he poured it on him
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ اچانک ایک بدو آیا تو اُس نے مسجد میں پیشاب کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے کہا کہ رُکو، رُکو تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ سے فرمایا کہ اس کا پیشاب نہ روکو، اُسے چھوڑ دو (جب وہ فارغ ہو گیا) پھر اُسے بلایا اور فرمایا: ”یہ مسجد گندگی اور پیشاب کے لیے مناسب نہیں ہے۔“ یا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ”یہ توقرآن مجید کی تلاوت، اللہ کے ذکر اور نماز کے لیے (بنائی گئی) ہیں۔“ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ میں سے ایک شخص سے کہا: ”اُٹھو، ہمارے پاس پانی کا ایک ڈول لاؤ اور اُسے اُس (پیشاب) پر بہادو۔“ تو وہ پانی کا ایک ڈول لیکر آیا اور اُسے اُس پر بہا دیا۔