Muslim99Muslim99

Sahih Ibn Khuzaymah · Book 37 · Chapter 12

Chapters 901–925

بَابُ إِبَاحَةِ الْفَصْلِ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ إِذَا جُمِعَ بَيْنَهُمَا بِفِعْلٍ لَيْسَ مِنْ عَمَلِ الصَّلَاةِ

Chapter: The permissibility of separating between Maghrib and Isha when combined, by an act that is not part of the prayer itself

باب: جمع کی گئی مغرب اور عشاء کے درمیان کسی ایسے عمل سے فرق کرنے کی اجازت جو نماز کا حصہ نہ ہو

1 hadith in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

2851

Sahih Ibn Khuzaymah #2851

وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ ، وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: دَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَةَ وَأَرْدَفَ أُسَامَةَ، فَلَمَّا بَلَغَ الشِّعْبَ نَزَلَ فَبَالَ، وَلَمْ يَقُلْ: إِهْرَاقَ الْمَاءِ، قَالَ أُسَامَةُ: فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ مِنَ الإِدَاوَةَ، فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا، قُلْتُ: الصَّلاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: الصَّلاةُ أَمَامَكَ"، ثُمَّ أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ وَضَعَ رَحْلَهُ، ثُمَّ صَلَّى الْعِشَاءَ ، قَالَ سُفْيَانُ: انْتَهَى حَدِيثُ إِبْرَاهِيمَ إِلَى قَوْلِهِ، الصَّلاةُ أَمَامَكَ، وَالزِّيَادَةُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ"

EnglishUnverified translation

### Ahmad bin Mani' narrated to us, saying: Sufyan narrated to us, from Muhammad bin Abi Harmalah and Ibrahim bin Uqbah, from Kurayb, from Ibn Abbas (RA), who said: The Messenger of Allah (ﷺ) departed from Arafat, and Usamah (RA) rode behind him. When they reached the valley (Shi'b), he dismounted and urinated, but he did not say, "Pour water." Usamah (RA) said: So I poured water for him from the

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے واپس روانہ ہوئے اور آپ نے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے سوار کرلیا۔ پھر جب آپ گھاٹی کے پاس پہنچے آپ سواری سے اُترے اور پیشاب کیا۔ اور یہ الفاظ نہیں کہے کہ آپ نے پانی بہایا۔ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک برتن سے آپ کے لئے پانی اُنڈیلا تو آپ نے ہلکا سا وضو کیا۔ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، نماز کا ارادہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز آگے جاکر ادا کریںگے۔“ پھر آپ مزدلفہ آئے تو مغرب کی نماز ادا کی، پھر آپ نے اپنی سواری سے کجاوہ وغیرہ اُتار کر اُسے کھول دیا، پھر عشاء کی نماز ادا کی۔ امام سفیان کہتے ہیں کہ ابراہیم کی روایت ان الفاظ پر ختم ہوگئی کہ ”نماز آگے جاکر ادا کریںگے۔“ باقی اضافہ جناب ابن ابی حرملہ کی روایت کا ہے۔