Sahih Ibn Khuzaymah #1674
نا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَعِيدٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي هِلالٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَا، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَوَجَدْنَاهُ قَائِمًا يُصَلِّي، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَقَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالسُّقْيَا أَوْ بِالْقَاحَةِ، قَالَ: أَلا رَجُلٌ يَنْطَلِقُ إِلَى حَوْضِ ألايَايَةِ فَيَمْدُرَهُ، وَيَنْزِعَ فِيهِ، وَيَنْزِعَ لَنَا فِي أَسْقِيَتِنَا حَتَّى نَأْتِيَهُ؟" فَقُلْتُ: أَنَا رَجُلٌ، وَقَالَ جَابِرُ بْنُ صَخْرٍ: أَنَا رَجُلٌ، فَخَرَجْنَا عَلَى أَرْجُلِنَا حَتَّى أَتَيْنَاهَا أَصِيلا، فَمَدَرْنَا الْحَوْضَ، وَنَزَعْنَا فِيهِ، ثُمَّ وَضَعْنَا رُءُوسَنَا حَتَّى ابْهَارَّ اللَّيْلُ، أَقْبَلَ رَجُلٌ حَتَّى وَقَفَ عَلَى الْحَوْضِ، فَجَعَلَتْ نَاقَتُهُ تُنَازِعُهُ عَلَى الْحَوْضِ، وَجَعَلَ يُنَازِعُهَا زِمَامَهَا، ثُمَّ قَالَ:" أَتَأْذَنَانِ ثَمَّ أَشْرَعُ؟" فَإِذَا هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا: نَعَمْ بِأَبِينَا أَنْتَ وَأُمِّنَا، فَأَرْخَى لَهَا، فَشَرِبَتْ حَتَّى ثَمِلَتْ، ثُمَّ قَالَ لَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: فَدَنَا حَتَّى أَنَاخَ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِي بِالْعَرْجِ، فَخَرَجَ لِبَعْضِ حَاجَتِهِ، فَصَبَبْتُ لَهُ وَضُوءًا فَتَوَضَّأَ، فَالْتَحَفَ بِإِزَارِهِ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، ثُمَّ أَتَاهُ آخَرُ، فَقَامَ عَنْ يَسَارِهِ، فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، وَصَلَّيْنَا مَعَهُ ثَلاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً بِالْوِتْرِ . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِخْبَارُ ابْنِ عَبَّاسٍ: بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ مِنْ هَذَا الْبَابِ"
EnglishUnverified translation
Narrated to us Yunus ibn Abd al-A'la, who said: Yahya ibn Bukayr narrated to me, who said: Al-Layth narrated to me, from Khalid ibn Yazid, from Sa'id ibn Abi Hilal, from Amr ibn Abi Sa'id (RA), who reported: I entered upon Jabir ibn Abd Allah (RA) along with Abu Salamah ibn Abd al-Rahman (RA), and we found him standing in prayer. He then related this hadith, saying: We set out with the Messenger of Allah (ﷺ) until we reached either al-Suqya or al-Qaha. The Prophet (ﷺ) said: "Is there no man who will go to the water trough of Alayyah, clean it, draw water into it, and draw water for us in our waterskins so that we may reach it?" I said: "I am a man," and Jabir ibn Sakhr (RA) said: "I am a man." So we set out on foot until we reached the trough in the late afternoon. We cleaned the trough, drew water into it, then rested our heads until the depth of the night. A man came until he stood by the trough, his she-camel began to pull toward the trough, and he struggled to hold her by her reins. Then he called out: "Will you permit me to let her drink?" We realized it was the Messenger of Allah (ﷺ). We said: "Yes, by our father and mother who are dearer to us than you," so he released her, and she drank until she was fully satiated. Then Jabir ibn Abd Allah (RA) said to us: He came until he hobbled his camel at the open plain of al-Araj, then went to attend to a personal need. I poured water for him for ablution, he performed wudu, wrapped himself in his lower garment (izar), I stood to his left, so he moved me to his right. Then another man arrived and stood to his left, so the Messenger of Allah (ﷺ) led the prayer, and we prayed with him thirteen rak'ahs, including the witr prayer. Abu Bakr (RA) added: The report of Ibn Abbas (RA): I spent the night at my aunt Maymunah's (RA), and the Prophet (ﷺ) stood to pray the night prayer from this door. ### CHAPTER:
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت عمرو بن ابی سعید بیان کرتے ہیں کہ میں اور سیدنا ابوسلمہ بن عبدالرحمان رضی اللہ عنہ، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے اُنہیں کھڑے ہوکر نماز پڑھتے ہوئے پایا۔ پھر مکمّل حدیث بیان کی۔ اور فرمایا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں واپس آئے حتّیٰ کہ جب ہم سقیا یا قاحہ مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون مرد ہے جو ایایہ حوض پر پہنچ کر پسپائی کرکے اُس کے سوراخ بند کرے اور اُس سے پانی کھینچے، اور ہمارے آنے سے پہلے ہمارے مشکیزوں میں پانی بھردے۔ تو میں نے عرض کی کہ یہ کام کرنے کے لئے میں حاضر ہوں اور سیدنا جابر بن صخر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ایسا آدمی ہوں (جو یہ خدمت بجا لانے کے لئے تیار ہے) - لہٰذا ہم پیدل چلتے ہوئے شام کے وقت حوض پر پہنچ گئے - ہم نے پسپائی کرکے حوض کے رخنے بند کیے اور اُس سے پانی نکالا - پھر ہم لیٹ کر سو گئے حتّیٰ کہ آدھی رات ہوگئی تو ایک شخص آیا اور حوض پر کھڑا ہوگیا، اُس کی اونٹنی اُسے کھینچ کر حوض کی طرف لے جانے کی کو شش کرتی جبکہ وہ اُس کی لگام کھینچ کر اُسے روکنے کی کو شش کرتا پھر اُس نے کہا، کیا تم دونوں اجازت دیتے ہو کہ میں پانی پلا لوں؟ نا گہاں وہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ تو ہم نے عرض کی کہ جی ہاں۔ ہمارے ماں باپ آپ پر قربان، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹنی کی لگام ڈھیلی کردی تو اُس نے خوب سیر ہوکر پانی پیا۔ پھر سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما نے ہمیں بتایا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ منوّرہ) کے قریب ہو گئے حتّیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرج کے علاقے میں بطحاء مقام پر اونٹنی کو بٹھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی ضرورت کے لئے تشریف لے گئے (واپس تشریف لائے) تو میں نے آپ کے لئے پانی انڈیلا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا پھر آپ اپنی چادر میں لپٹ گئے (اور نماز شروع کردی) میں آپ کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کرلیا - پھر ایک اور آدمی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کی بائیں جانب کھڑا ہوگیا - لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے اور نماز پڑھائی - ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وتر سمیت تیرہ رکعات ادا کیں - امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی یہ روایات کہ میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رات گزاری تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت نماز کے لئے کھڑے ہو گئے۔ اسی مسئلے کے متعلق ہیں۔