Sahih Ibn Khuzaymah #1672
نا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: أَكَلْتُ ثَوْمًا، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدْتُهُ قَدْ سَبَقَنِي بِرَكْعَةٍ، فَلَمَّا صَلَّى قُمْتُ أَقْضِي، فَوَجَدَ رِيحَ الثُّومِ، فَقَالَ: مَنْ أَكَلَ هَذِهِ الْبَقْلَةَ، فَلا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا حَتَّى يَذْهَبَ رِيحُهَا". فَلَمَّا قَضَيْتُ الصَّلاةَ، أَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّ لِي عُذْرًا، نَاوِلْنِي يَدَكَ، فَوَجَدْتُهُ سَهْلا، فَنَاوَلَنِي يَدَهُ، فَأَدْخَلْتُهَا مِنْ كُمِّي إِلَى صَدْرِي، فَوَجَدَهُ مَعْصُوبًا، فَقَالَ:" إِنَّ لَكَ عُذْرًا"""
EnglishUnverified translation
** Narrated to us Salamah ibn Junadah: Narrated to us Waki’ (who said): Narrated to us Sulayman ibn al-Mughirah: Narrated to us Humayd ibn Hilal: Narrated to us Abu Burdah: On the authority of al-Mughirah ibn Shu’bah (RA) who said: I ate some garlic, then I came to the Prophet (ﷺ). I found that he had already preceded me by one rak’ah. When he finished the prayer, I stood to make up the missed rak’ah. He perceived the smell of garlic and said: “Whoever eats this plant, let him not approach our mosque until its smell has gone.” When I finished making up the prayer, I came to him and said: “O Messenger of Allah, I had an excuse.” He extended his hand to me, and I found it to be soft. So I took his hand and inserted it into my sleeve up to my chest, where I found it to be bandaged. He said: “Indeed, you have an excuse.” ---
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے لہسن کھایا، پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں پایا کہ آپ ایک رکعت ادا کرچکے تھے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمّل کرلی تو میں نے کھڑے ہوکر نماز مکمّل کرنا شروع کردی، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لہسن کی بُومحسوس کی تو فرمایا: ”جس شخص نے یہ سبزی کھائی ہو وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے حتّیٰ کہ اس کی بُو ختم ہو جائے - جب میں نے نماز مکمّل کی تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور عرض کی کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم (لہسن کھانے میں) میراعذر ہے - آپ مجھے اپنا دست مبارک دیجیے، آپ اس بات کو آسان پائیں گے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنا دست مبارک تھما دیا - پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک اپنی آستین سے داخل کر کے اپنے سینے تک لگایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ (میرا پیٹ بھوک کی وجہ سے) بندھا ہوا تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک (اس حالت مجبوری میں تیرے لئے لہسن کھانے میں) عذر ہے۔