Sahih Ibn Khuzaymah #1371
نَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: خُسِفَتِ الشَّمْسُ فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ فَزِعًا يَخْشَى أَنْ تَكُونَ السَّاعَةُ، فَقَامَ حَتَّى أَتَى الْمَسْجِدَ، فَقَامَ يُصَلِّي بِأَطْوَلِ قِيَامٍ وَرُكُوعٍ وَسُجُودٍ رَأَيْتُهُ يَفْعَلُهُ فِي صَلاةٍ قَطُّ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ هَذِهِ الآيَاتِ الَّتِي يُرْسِلُ اللَّهُ لا تَكُونُ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّ اللَّهَ يُرْسِلُهَا يُخَوِّفُ بِهَا عِبَادَهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا فَافْزَعُوا إِلَى ذِكْرِهِ، وَدُعَائِهِ، وَاسْتِغْفَارِهِ"""
EnglishUnverified translation
Musa bin Abdul Rahman Al Masruqi told us, Abu Usama told us, on the authority of Burayd, meaning Ibn Abdullah, on the authority of Abu Burdah, on the authority of Abu Musa, He said: The sun eclipsed during the time of the Messenger of God, may God bless him and grant him peace, so he got up in fear, fearing that the Hour would come, so he got up until he came to the mosque, then he got up. He prays with the longest standing, bowing, and prostration that I have ever seen him do in a prayer. Then he said: “These signs that God sends are not for the death of anyone.” Nor for his life, but God sends it to frighten His servants with it, so if you see any of it, be terrified to mention it and supplicate to it. And ask for His forgiveness.”
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں سورج گرہن لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھبراہٹ اور پریشانی کے عالم میں اُٹھ کھڑے ہوئے، اس ڈر سے کہ کہیں یہ قیامت ہی نہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھ کر مسجد میں تشریف لے آئے اور آپ نے کھڑے ہو کر نہایت طویل قیام، رکوع اور سجدوں کے ساتھ نماز پڑھنی شروع کر دی، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی طویل ترین نماز پڑھتے کبھی نہیں دیکھا۔ پھر (نماز کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ یہ نشانیاں جنہیں اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے یہ کسی شخص کی موت یا زندگی کی وجہ سے وقوع پذیر نہیں ہوتیں، بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں بھیج کر اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ لہٰذا جب تم ان میں سے کوئی چیز دیکھو تو اللہ تعالیٰ کے ذکر، اس سے دعا و التجا اور اس سے اپنے گناہوں کی بخشش طلب کرنے کی طرف جلدی کرو۔“