Muslim99Muslim99

Sahih Bukhari · Book 78 · Chapter 3010

The book of dress.

بَابُ الطِّيبِ فِي الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ

(74) CHAPTER. To apply scent to the head and beard.

سر اور داڑھی میں خوشبو لگانا

2 hadiths in this chapter

5923

Sahih Bukhari #5923

Sahih

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كُنْتُ أُطَيِّبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَطْيَبِ مَا يَجِدُ حَتَّى أَجِدَ وَبِيصَ الطِّيبِ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ .

English

Narrated `Aisha: I used to perfume Allah's Apostle with the best scent available till I saw the shine of the scent on his head and shine beard.

اردو ترجمہ · Urdu

میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے عمدہ خوشبو لگایا کرتی تھی، یہاں تک کہ خوشبو کی چمک میں آپ کے سر اور آپ کی داڑھی میں دیکھتی تھی۔

5924

Sahih Bukhari #5924

Sahih

حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ مِنْ جُحْرٍ فِي دَارِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحُكُّ رَأْسَهُ بِالْمِدْرَى ، فَقَالَ : لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكَ تَنْظُرُ لَطَعَنْتُ بِهَا فِي عَيْنِكَ ، إِنَّمَا جُعِلَ الْإِذْنُ مِنْ قِبَلِ الْأَبْصَارِ .

English

Narrated Sa`d: A man peeped into the house of the Prophet through a hole while the Prophet was scratching his head with a Midrai (a certain kind of comb). On that the Prophet said (to him), If I had known you had been looking, then I would have pierced your eye with that instrument, because the asking of permission has been ordained so that one would not see things unlawfully.

اردو ترجمہ · Urdu

ایک صاحب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیوار کے ایک سوراخ سے گھر کے اندر دیکھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اپنا سر کنگھے سے کھجلا رہے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تم جھانک رہے ہو تو میں تمہاری آنکھ پھوڑ دیتا ارے اذن ( اجازت ) لینا تو اس کے لیے ہے کہ آدمی کی نظر ( کسی کے ) ستر پر نہ پڑے۔