Muslim99Muslim99

Sahih Bukhari · Book 57 · Chapter 1865

The book of jihad (fighting for allah’s cause).

بَابُ مَنْ تَأَمَّرَ فِي الحَرْبِ مِنْ غَيْرِ إِمْرَةٍ إِذَا خَافَ العَدُوَّ

(183) CHAPTER. (It is permissible for) somebody to take over the leadership of the army during a battle with being appointed when there is danger from the enemy.

جو شخص میدان جنگ میں جبکہ دشمن کا خوف ہو امام کے کسی نئے حکم کے بغیر امیر لشکر بن جائے

1 hadith in this chapter

3063

Sahih Bukhari #3063

Sahih

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدٌ فَأُصِيبَ ، ثُمَّ أَخَذَهَا جَعْفَرٌ فَأُصِيبَ ، ثُمَّ أَخَذَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ ، فَأُصِيبَ ثُمَّ أَخَذَهَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، عَنْ غَيْرِ إِمْرَةٍ فَفُتِحَ عَلَيْهِ وَمَا يَسُرُّنِي أَوْ ، قَالَ : مَا يَسُرُّهُمْ أَنَّهُمْ عِنْدَنَا ، وَقَالَ : وَإِنَّ عَيْنَيْهِ لَتَذْرِفَانِ .

English

Narrated Anas bin Malik: Allah's Apostle delivered a sermon and said, Zaid received the flag and was martyred, then Ja`far took it and was martyred, then `Abdullah bin Rawaha took it and was martyred, and then Khalid bin Al-Walid took it without being appointed, and Allah gave him victory. The Prophet added, I am not pleased (or they will not be pleased) that they should remain (alive) with us, while his eyes were shedding tears.

اردو ترجمہ · Urdu

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مدینہ میں ) غزوہ موتہ کے موقع پر خطبہ دیا ‘ ( جب کہ مسلمان سپاہی موتہ کے میدان میں داد شجاعت دے رہے تھے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب اسلامی عَلم ( جھنڈا ) زید بن حارثہ نے سنبھالا اور انہیں شہید کر دیا گیا، پھر جعفر نے عَلم اپنے ہاتھ میں اٹھا لیا اور وہ بھی شہید کر دیئے گئے۔ اب عبداللہ بن رواحہ نے عَلم تھاما ‘ یہ بھی شہید کر دیئے گئے۔ آخر خالد بن ولید نے کسی نئی ہدایت کے بغیر اسلامی عَلم اٹھا لیا ہے۔ اور ان کے ہاتھ پر فتح حاصل ہو گئی ‘ اور میرے لیے اس میں کوئی خوشی کی بات نہیں تھی یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ کہ ان کے لیے کوئی خوشی کی بات نہیں تھی کہ وہ ( شہداء ) ہمارے پاس زندہ ہوتے۔ ( کیونکہ شہادت کے بعد وہ جنت میں عیش کر رہے ہیں ) اور انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔