Muslim99Muslim99

Sahih Bukhari · Book 57 · Chapter 1726

The book of jihad (fighting for allah’s cause).

بَابُ مَنْ حَبَسَهُ العُذْرُ عَنِ الغَزْوِ

(35) CHAPTER. (The rewad of) whoever is held back from Jihad by a legal cause.

جو شخص کسی معقول عذر کی وجہ سے جہاد میں شریک نہ ہوسکا

2 hadiths in this chapter

2838

Sahih Bukhari #2838

Sahih

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ ، قَالَ : رَجَعْنَا مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

English

Narrated Anas: We returned from the Ghazwa of Tabuk along with the Prophet. (See Hadith No. 92 below) .

اردو ترجمہ · Urdu

ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ساتھ غزوہ تبوک سے واپس ہوئے۔

2839

Sahih Bukhari #2839

Sahih

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي غَزَاةٍ ، فَقَالَ : إِنَّ أَقْوَامًا بِالْمَدِينَةِ خَلْفَنَا مَا سَلَكْنَا شِعْبًا ، وَلَا وَادِيًا إِلَّا وَهُمْ مَعَنَا فِيهِ حَبَسَهُمُ الْعُذْرُ ، وَقَالَ : مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ : الْأَوَّلُ أَصَحُّ .

English

Narrated Anas: While the Prophet was in a Ghazwa he said, Some people have remained behind us in Medina and we never crossed a mountain path or a valley, but they were with us (i.e. sharing the reward with us), as they have been held back by a (legal) excuse.

اردو ترجمہ · Urdu

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ ( تبوک ) پر تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کچھ لوگ مدینہ میں ہمارے پیچھے رہ گئے ہیں لیکن ہم کسی بھی گھاٹی یا وادی میں ( جہاد کے لیے ) چلیں وہ ثواب میں ہمارے ساتھ ہیں کہ وہ صرف عذر کی وجہ سے ہمارے ساتھ نہیں آ سکے۔ اور موسیٰ نے بیان کیا کہ ہم سے حماد نے بیان کیا ‘ ان سے حمید نے ‘ ان سے موسیٰ بن انس نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) فرماتے ہیں کہ پہلی سند زیادہ صحیح ہے۔