Muslim99Muslim99

Sahih Bukhari · Book 52 · Chapter 1575

The book of gifts and the superiority of giving gifts and the exhortation for giving gifts.

بَابُ الإِشْهَادِ فِي الهِبَةِ

(13) CHAPTER. The witnesses for Al-Hibah (the gifts).

ہبہ کے اوپر گواہ کرنا

1 hadith in this chapter

2587

Sahih Bukhari #2587

Sahih

حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، يَقُولُ : أَعْطَانِي أَبِي عَطِيَّةً ، فَقَالَتْ عَمْرَةُ بِنْتُ رَوَاحَةَ : لَا أَرْضَى حَتَّى تُشْهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي أَعْطَيْتُ ابْنِي مِنْ عَمْرَةَ بِنْتِ رَوَاحَةَ عَطِيَّةً ، فَأَمَرَتْنِي أَنْ أُشْهِدَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : أَعْطَيْتَ سَائِرَ وَلَدِكَ مِثْلَ هَذَا ، قَالَ : لَا ، قَالَ : فَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ ، قَالَ : فَرَجَعَ فَرَدَّ عَطِيَّتَهُ .

English

Narrated 'Amir: I heard An-Nu`man bin Bashir on the pulpit saying, My father gave me a gift but `Amra bint Rawaha (my mother) said that she would not agree to it unless he made Allah's Apostle as a witness to it. So, my father went to Allah's Apostle and said, 'I have given a gift to my son from `Amra bint Rawaha, but she ordered me to make you as a witness to it, O Allah's Apostle!' Allah's Apostle asked, 'Have you given (the like of it) to everyone of your sons?' He replied in the negative. Allah's Apostle said, 'Be afraid of Allah, and be just to your children.' My father then returned and took back his gift.

اردو ترجمہ · Urdu

وہ منبر پر بیان کر رہے تھے کہ میرے باپ نے مجھے ایک عطیہ دیا، تو عمرہ بنت رواحہ رضی اللہ عنہا ( نعمان کی والدہ ) نے کہا کہ جب تک آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر گواہ نہ بنائیں میں راضی نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ ( حاضر خدمت ہو کر ) انہوں نے عرض کیا کہ عمرہ بنت رواحہ سے اپنے بیٹے کو میں نے ایک عطیہ دیا تو انہوں نے کہا کہ پہلے میں آپ کو اس پر گواہ بنا لوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اسی جیسا عطیہ تم نے اپنی تمام اولاد کو دیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کو قائم رکھو۔ چنانچہ وہ واپس ہوئے اور ہدیہ واپس لے لیا۔