Muslim99Muslim99

Sahih Bukhari · Book 31 · Chapter 1218

The book of as-saum (the fasting).

بَابُ صَوْمِ يَوْمِ النَّحْرِ

(67) CHAPTER. Observing Saum (fast) on the day of Nahr (i.e., first day of Eid-ul-Adha).

عیدالاضحی کے دن کا روزہ رکھنا

3 hadiths in this chapter

1993

Sahih Bukhari #1993

Sahih

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَا ، قَالَ : سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : يُنْهَى عَنْ صِيَامَيْنِ وَبَيْعَتَيْنِ : الْفِطْرِ وَالنَّحْرِ ، وَالْمُلَامَسَةِ ، وَالْمُنَابَذَةِ .

English

Narrated Abu Huraira: Two fasts and two kinds of sale are forbidden: fasting on the day of `Id ul Fitr and `Id-ul-Adha and the kinds of sale called Mulamasa and Munabadha. (These two kinds of sale used to be practiced in the days of Pre-Islamic period of ignorance; Mulamasa means when you touch something displayed for sale you have to buy it; Munabadha means when the seller throws something to you, you have to buy it.)

اردو ترجمہ · Urdu

آپ نے فرمایا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو روزے اور دو قسم کی خرید و فروخت سے منع فرمایا ہے۔ عیدالفطر اور عید الاضحی کے روزے سے۔ اور ملامست اور منابذت کے ساتھ خرید و فروخت کرنے سے۔

1994

Sahih Bukhari #1994

Sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، فَقَالَ رَجُلٌ : نَذَرَ أَنْ يَصُومَ يَوْمًا ، قَالَ : أَظُنُّهُ قَال : الِاثْنَيْنِ ، فَوَافَقَ ذَلِكَ يَوْمَ عِيدٍ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : أَمَرَ اللَّهُ بِوَفَاءِ النَّذْرِ ، وَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ هَذَا الْيَوْمِ .

English

Narrated Ziyad bin Jubair: A man went to Ibn `Umar I. and said, A man vowed to fast one day (the sub-narrator thinks that he said that the day was Monday), and that day happened to be `Id day. Ibn `Umar said, Allah orders vows to be fulfilled and the Prophet forbade the fasting on this day (i.e. Id).

اردو ترجمہ · Urdu

ایک شخص ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ ایک شخص نے ایک دن کے روزے کے نذر مانی۔ پھر کہا کہ میرا خیال ہے کہ وہ پیر کا دن ہے اور اتفاق سے وہی عید کا دن پڑ گیا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تو نذر پوری کرنے کا حکم دیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھنے سے ( اللہ کے حکم سے ) منع فرمایا ہے۔ ( گویا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کوئی قطعی فیصلہ نہیں دیا ) ۔

1995

Sahih Bukhari #1995

Sahih

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ قَزَعَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَكَانَ غَزَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ غَزْوَةً ، قَالَ : سَمِعْتُ أَرْبَعًا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْجَبْنَنِي ، قَالَ : لَا تُسَافِرِ الْمَرْأَةُ مَسِيرَةَ يَوْمَيْنِ إِلَّا وَمَعَهَا زَوْجُهَا ، أَوْ ذُو مَحْرَمٍ ، وَلَا صَوْمَ فِي يَوْمَيْنِ الْفِطْرِ وَالْأَضْحَى ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَلَا بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ ، وَلَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ : مَسْجِدِ الْحَرَامِ ، وَمَسْجِدِ الْأَقْصَى ، وَمَسْجِدِي هَذَا .

English

Narrated Abu Sa`id Al-Khudri: (who fought in twelve Ghazawat in the company of the Prophet). I heard four things from the Prophet and they won my admiration. He said; -1. No lady should travel on a journey of two days except with her husband or a Dhi-Mahram; -2. No fasting is permissible on the two days of Id-ul-Fitr and `Id-ul-Adha; -3. No prayer (may be offered) after the morning compulsory prayer until the sun rises; and no prayer after the `Asr prayer till the sun sets; -4. One should travel only for visiting three Masjid (Mosques): Masjid-al-Haram (Mecca), Masjid-al- Aqsa (Jerusalem), and this (my) Mosque (at Medina).

اردو ترجمہ · Urdu

میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بارہ جہادوں میں شریک رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے چار باتیں سنی ہیں جو مجھے بہت ہی پسند آئیں۔ آپ نے فرمایا کہ کوئی عورت دو دن ( یا اس سے زیادہ ) کے اندازے کا سفر اس وقت تک نہ کرے جب تک اس کے ساتھ اس کا شوہر یا کوئی اور محرم نہ ہو۔ اور عیدالفطر اور عید الاضحی کے دنوں میں روزہ رکھنا جائز نہیں ہے اور صبح کی نماز کے بعد سورج نکلنے تک اور عصر کی نماز کے بعد سورج ڈوبنے تک کوئی نماز جائز نہیں اور چوتھی بات یہ کہ تین مساجد کے سوا اور کسی جگہ کے لیے «شد الرحال» سفر نہ کیا جائے، ”مسجد الحرام، مسجد الاقصیٰ اور میری یہ مسجد ( مسجد نبوی ) ۔