Muslim99Muslim99

Sahih Bukhari · Book 31 · Chapter 1183

The book of as-saum (the fasting).

بَابُ المُجَامِعِ فِي رَمَضَانَ، هَلْ يُطْعِمُ أَهْلَهُ مِنَ الكَفَّارَةِ إِذَا كَانُوا مَحَاوِيجَ

(31) CHAPTER. Can a person who has had sexual intercourse (with his wife) in Ramadan feed his family from things given as expiation of his sin if they are needy?

رمضان میں اپنی بیوی کے ساتھ قصداً ہمبستر ہونے والا شخص کیا کرے ؟

1 hadith in this chapter

1937

Sahih Bukhari #1937

Sahih

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ الْأَخِرَ وَقَعَ عَلَى امْرَأَتِهِ فِي رَمَضَانَ ، فَقَالَ : أَتَجِدُ مَا تُحَرِّرُ رَقَبَةً ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : فَتَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : أَفَتَجِدُ مَا تُطْعِمُ بِهِ سِتِّينَ مِسْكِينًا ؟ قَالَ : لَا ، قَالَ : فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ وَهُوَ الزَّبِيلُ ، قَالَ : أَطْعِمْ هَذَا عَنْكَ ، قَالَ : عَلَى أَحْوَجَ مِنَّا مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا ، أَهْلُ بَيْتٍ أَحْوَجُ مِنَّا ، قَالَ : فَأَطْعِمْهُ أَهْلَكَ .

English

Narrated Abu Huraira: A man came to the Prophet and said, I had sexual intercourse with my wife on Ramadan (while fasting). The Prophet asked him, Can you afford to manumit a slave? He replied in the negative. The Prophet asked him, Can you fast for two successive months? He replied in the negative. He asked him, Can you afford to feed sixty poor persons? He replied in the negative. (Abu Huraira added): Then a basket full of dates was brought to the Prophet and he said (to that man), Feed (poor people) with this by way of atonement. He said, (Should I feed it) to poorer people than we? There is no poorer house than ours between its (Medina's) mountains. The Prophet said, Then feed your family with it.

اردو ترجمہ · Urdu

ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ یہ بدنصیب رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس اتنی طاقت نہیں ہے کہ ایک غلام آزاد کر سکو؟ اس نے کہا کہ نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دریافت فرمایا کیا تم پے در پے دو مہینے کے روزے رکھ سکتے ہو؟ اس نے کہا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دریافت فرمایا کہ کیا تمہارے اندر اتنی طاقت ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکو؟ اب بھی اس کا جواب نفی میں تھا۔ راوی نے بیان کیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک تھیلا لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں «عرق» زنبیل کو کہتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے لے جا اور اپنی طرف سے ( محتاجوں کو ) کھلا دے، اس شخص نے کہا میں اپنے سے بھی زیادہ محتاج کو حالانکہ دو میدانوں کے درمیان کوئی گھرانہ ہم سے زیادہ محتاج نہیں آپ نے فرمایا کہ پھر جا اپنے گھر والوں ہی کو کھلا دے۔