Muslim99Muslim99

Sahih Bukhari · Book 26 · Chapter 1039

The book of hajj.

بَابٌ

(102) CHAPTER. ... And whosoever perfoms the Umra in the months of Hajj before the Hajj ...

سورۃ البقرہ کی اس آیت کی تفسیر میں پس جو شخص تمتع کرے حج کے ساتھ عمرہ کا یعنی حج تمتع

1 hadith in this chapter

1688

Sahih Bukhari #1688

Sahih

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ الْمُتْعَةِ ، فَأَمَرَنِي بِهَا ، وَسَأَلْتُهُ عَنِ الْهَدْيِ ، فَقَالَ : فِيهَا جَزُورٌ أَوْ بَقَرَةٌ أَوْ شَاةٌ أَوْ شِرْكٌ فِي دَمٍ ، قَالَ : وَكَأَنَّ نَاسًا كَرِهُوهَا فَنِمْتُ ، فَرَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ إِنْسَانًا يُنَادِي حَجٌّ مَبْرُورٌ وَمُتْعَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ ، فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَحَدَّثْتُهُ ، فَقَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : وَقَالَ آدَمُ وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ وَغُنْدَرٌ : عَنْ شُعْبَةَ ، عُمْرَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ وَحَجٌّ مَبْرُورٌ .

English

Narrated Abu Jamra: I asked Ibn `Abbas about Hajj-at-Tamattu`. He ordered me to perform it. I asked him about the Hadi (sacrifice). He said, You have to slaughter a camel, a cow or a sheep, or you may share the Hadi with the others. It seemed that some people disliked it (Hajj-at-Tamattu`). I slept and dreamt as if a person was announcing: Hajj Mabrur and accepted Mut'ah (Hajj-at-Tamattu`) I went to Ibn `Abbas and narrated it to him. He said, Allah is Greater. (That was) the tradition of Abu Al-Qasim (i.e. Prophet). Narrated Shu`ba that the call in the dream was. An accepted `Umra and Hajj-Mabrur.

اردو ترجمہ · Urdu

میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے تمتع کے بارے میں پوچھا تو آپ نے مجھے اس کے کرنے کا حکم دیا، پھر میں نے قربانی کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ تمتع میں ایک اونٹ، یا ایک گائے یا ایک بکری ( کی قربانی واجب ہے ) یا کسی قربانی ( اونٹ، یا گائے بھینس کی ) میں شریک ہو جائے، ابوجمرہ نے کہا کہ بعض لوگ تمتع کو ناپسندیدہ قرار دیتے تھے۔ پھر میں سویا تو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص پکار رہا ہے یہ حج مبرور ہے اور یہ مقبول تمتع ہے۔ اب میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے خواب کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا: اللہ اکبر! یہ تو ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ کہا کہ وہب بن جریر اور غندر نے شعبہ کے حوالہ سے یوں نقل کیا ہے «عمرة متقبلة،‏‏‏‏ وحج مبرور‏» ( اس میں عمرہ کا ذکر پہلے ہے یعنی یہ عمرہ مقبول اور حج مبرور ہے ) ۔