Muslim99Muslim99

Sahih Bukhari · Book 19 · Chapter 689

The book of abridged or shortened prayers (at-taqsir).

بَابُ يُصَلِّي المَغْرِبَ ثَلاَثًا فِي السَّ

(6) CHAPTER. To offer three Raka of Maghrib prayer during a journey.

مغرب کی نماز سفر میں بھی تین ہی رکعت ہیں

2 hadiths in this chapter

1091

Sahih Bukhari #1091

Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَالِمٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَعْجَلَهُ السَّيْرُ فِي السَّفَرِ يُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعِشَاءِ ، قَالَ سَالِمٌ : وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَفْعَلُهُ إِذَا أَعْجَلَهُ السَّيْرُ .

English

Narrated `Abdullah bin `Umar: I saw Allah's Apostle delaying the Maghrib prayer till he offered it along with the `Isha' prayer whenever he was in a hurry during the journey. Salim narrated, Ibn `Umar used to do the same whenever he was in a hurry during the journey. And Salim added, Ibn `Umar used to pray the Maghrib and `Isha' prayers together in Al-Muzdalifa.

اردو ترجمہ · Urdu

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جب سفر میں چلنے کی جلدی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز دیر سے پڑھتے یہاں تک کہ مغرب اور عشاء ایک ساتھ ملا کر پڑھتے۔ سالم نے کہا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو بھی جب سفر میں جلدی ہوتی تو اس طرح کرتے۔

1092

Sahih Bukhari #1092

Sahih

وَزَادَ اللَّيْثُ قَالَ : حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ سَالِمٌ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَجْمَعُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمُزْدَلِفَةِ ، قَال سَالِمٌ : وَأَخَّرَ ابْنُ عُمَرَ الْمَغْرِبَ وَكَانَ اسْتُصْرِخَ عَلَى امْرَأَتِهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ فَقُلْتُ لَهُ : الصَّلَاةَ ، فَقَالَ : سِرْ ، فَقُلْتُ : الصَّلَاةَ ، فَقَالَ : سِرْ ، حَتَّى سَارَ مِيلَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً ، ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى ، ثُمَّ قَالَ : هَكَذَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِذَا أَعْجَلَهُ السَّيْرُ ، وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَعْجَلَهُ السَّيْرُ يُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ فَيُصَلِّيهَا ثَلَاثًا ثُمَّ يُسَلِّمُ ، ثُمَّ قَلَّمَا يَلْبَثُ حَتَّى يُقِيمَ الْعِشَاءَ فَيُصَلِّيهَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يُسَلِّمُ ، وَلَا يُسَبِّحُ بَعْدَ الْعِشَاءِ حَتَّى يَقُومَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ .

English

Salim said, Ibn `Umar delayed the Maghrib prayer because at that time he heard the news of the death of his wife Safiya bint Abi `Ubaid. I said to him, 'The prayer (is due).' He said, 'Go on.' Again I said, 'The prayer (is due).' He said, 'Go on,' till we covered two or three miles. Then he got down, prayed and said, 'I saw the Prophet praying in this way, whenever he was in a hurry during the journey.' `Abdullah (bin `Umar) added, Whenever the Prophet was in a hurry, he used to delay the Maghrib prayer and then offer three rak`at (of the Maghrib) and perform Taslim, and after waiting for a short while, Iqama used to be pronounced for the `Isha' prayer when he would offer two rak`at and perform Taslim. He would never offer any optional prayer till the middle of the night (when he used to pray the Tahajjud).

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مغرب کی نماز اس دن دیر میں پڑھی تھی جب انہیں ان کی بیوی صفیہ بنت ابی عبید کی سخت بیماری کی اطلاع ملی تھی ( چلتے ہوئے ) میں نے کہا کہ نماز! ( یعنی وقت ختم ہوا چاہتا ہے ) لیکن آپ نے فرمایا کہ چلے چلو پھر دوبارہ میں نے کہا کہ نماز! آپ نے پھر فرمایا کہ چلے چلو اس طرح جب ہم دو یا تین میل نکل گئے تو آپ اترے اور نماز پڑھی پھر فرمایا کہ میں نے خود دیکھا ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں تیزی کے ساتھ چلنا چاہتے تو اسی طرح کرتے تھے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ بھی فرمایا کہ میں نے خود دیکھا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( منزل مقصود تک ) جلدی پہنچنا چاہتے تو پہلے مغرب کی تکبیر کہلواتے اور آپ اس کی تین رکعت پڑھا کر سلام پھیرتے۔ پھر تھوڑی دیر ٹھہر کر عشاء پڑھاتے اور اس کی دو ہی رکعت پر سلام پھیرتے۔ عشاء کے فرض کے بعد آپ سنتیں وغیرہ نہیں پڑھتے تھے آدھی رات کے بعد کھڑے ہو کر نماز پڑھتے۔