Muslim99Muslim99

Sahih Bukhari · Book 19 · Chapter 684

The book of abridged or shortened prayers (at-taqsir).

بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّقْصِيرِ وَكَمْ يُقِيمُ حَتَّى يَقْصُرَ

(1) CHAPTER. What is said about the shortened praers and for what period of stay one should offer shortened prayers.

نماز میں قصر کرنے کا بیان اور اقامت کی حالت میں کتنی مدت تک قصر کر سکتا ہے

2 hadiths in this chapter

1080

Sahih Bukhari #1080

Sahih

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، وَحُصَيْنٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَةَ عَشَرَ يَقْصُرُ ، فَنَحْنُ إِذَا سَافَرْنَا تِسْعَةَ عَشَرَ قَصَرْنَا وَإِنْ زِدْنَا أَتْمَمْنَا .

English

Narrated Ibn `Abbas: The Prophet once stayed for nineteen days and prayed shortened prayers. So when we travel led (and stayed) for nineteen days, we used to shorten the prayer but if we traveled (and stayed) for a longer period we used to offer the full prayer.

اردو ترجمہ · Urdu

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( مکہ میں فتح مکہ کے موقع پر ) انیس دن ٹھہرے اور برابر قصر کرتے رہے۔ اس لیے انیس دن کے سفر میں ہم بھی قصر کرتے رہتے ہیں اور اس سے اگر زیادہ ہو جائے تو پوری نماز پڑھتے ہیں۔

1081

Sahih Bukhari #1081

Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسًا ، يَقُولُ : خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ فَكَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ حَتَّى رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ ، قُلْتُ : أَقَمْتُمْ بِمَكَّةَ شَيْئًا ؟ قَالَ : أَقَمْنَا بِهَا عَشْرًا .

English

Narrated Yahya bin 'Is-haq: I heard Anas saying, We traveled with the Prophet from Medina to Mecca and offered two rak`at (for every prayer) till we returned to Medina. I said, Did you stay for a while in Mecca? He replied, We stayed in Mecca for ten days.

اردو ترجمہ · Urdu

ہم مکہ کے ارادہ سے مدینہ سے نکلے تو برابر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو، دو رکعت پڑھتے رہے۔ یہاں تک کہ ہم مدینہ واپس آئے۔ میں نے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مکہ میں کچھ دن قیام بھی رہا تھا؟ تو اس کا جواب انس رضی اللہ عنہ نے یہ دیا کہ دس دن تک ہم وہاں ٹھہرے تھے۔