Muslim99Muslim99

Sahih Bukhari · Book 14 · Chapter 600

The book of the two eid (prayers and festivals).

بَابُ مَا يُكْرَهُ مِنْ حَمْلِ السِّلاَحِ فِي العِيدِ وَالحَرَمِ

(9) CHAPTER. It is disliked to carry arms on Eid and in the Haram (sanctuary).

عید کے دن اور حرم کے اند ر ہتھیار باندھنا مکروہ ہے

2 hadiths in this chapter

966

Sahih Bukhari #966

Sahih

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى أَبُو السُّكَيْنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ حِينَ أَصَابَهُ سِنَانُ الرُّمْحِ فِي أَخْمَصِ قَدَمِهِ ، فَلَزِقَتْ قَدَمُهُ بِالرِّكَابِ فَنَزَلْتُ فَنَزَعْتُهَا وَذَلِكَ بِمِنًى فَبَلَغَ الْحَجَّاجَ فَجَعَلَ يَعُودُهُ ، فَقَالَ الْحَجَّاجُ : لَوْ نَعْلَمُ مَنْ أَصَابَكَ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : أَنْتَ أَصَبْتَنِي ، قَالَ : وَكَيْفَ ؟ قَالَ : حَمَلْتَ السِّلَاحَ فِي يَوْمٍ لَمْ يَكُنْ يُحْمَلُ فِيهِ ، وَأَدْخَلْتَ السِّلَاحَ الْحَرَمَ وَلَمْ يَكُنِ السِّلَاحُ يُدْخَلُ الْحَرَمَ .

English

Narrated Sa`id bin Jubair: I was with Ibn `Umar when a spear head pierced the sole of his foot and his foot stuck to the paddle of the saddle and I got down and pulled his foot out, and that happened in Mina. Al-Hajjaj got the news and came to inquire about his health and said, Alas! If we could only know the man who wounded you! Ibn `Umar said, You are the one who wounded me. Al-Hajjaj said, How is that? Ibn `Umar said, You have allowed the arms to be carried on a day on which nobody used to carry them and you allowed arms to be carried in the Haram even though it was not allowed before.

اردو ترجمہ · Urdu

میں ( حج کے دن ) ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا جب نیزے کی انی آپ کے تلوے میں چبھ گئی جس کی وجہ سے آپ کا پاؤں رکاب سے چپک گیا۔ تب میں نے اتر کر اسے نکالا۔ یہ واقعہ منیٰ میں پیش آیا تھا۔ جب حجاج کو معلوم ہوا جو اس زمانہ میں ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے قتل کے بعد حجاج کا امیر تھا تو وہ بیمار پرسی کے لیے آیا۔ حجاج نے کہا کہ کاش ہمیں معلوم ہو جاتا کہ کس نے آپ کو زخمی کیا ہے۔ اس پر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تو نے ہی تو مجھ کو نیزہ مارا ہے۔ حجاج نے پوچھا کہ وہ کیسے؟ آپ نے فرمایا کہ تم اس دن ہتھیار اپنے ساتھ لائے جس دن پہلے کبھی ہتھیار ساتھ نہیں لایا جاتا تھا ( عیدین کے دن ) تم ہتھیار حرم میں لائے حالانکہ حرم میں ہتھیار نہیں لایا جاتا تھا۔

967

Sahih Bukhari #967

Sahih

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : دَخَلَ الْحَجَّاجُ عَلَى ابْنِ عُمَرَ وَأَنَا عِنْدَهُ ، فَقَالَ : كَيْفَ هُوَ ؟ فَقَالَ : صَالِحٌ ، فَقَالَ : مَنْ أَصَابَكَ ؟ قَالَ : أَصَابَنِي مَنْ أَمَرَ بِحَمْلِ السِّلَاحِ فِي يَوْمٍ لَا يَحِلُّ فِيهِ حَمْلُهُ يَعْنِي الْحَجَّاجَ .

English

Narrated Sa`id bin `Amr bin Sa`id bin Al-`Aas: Al-Hajjaj went to Ibn `Umar while I was present there. Al-Hajjaj asked Ibn `Umar, How are you? Ibn `Umar replied, I am all right, Al-Hajjaj asked, Who wounded you? Ibn `Umar replied, The person who allowed arms to be carried on the day on which it was forbidden to carry them (he meant Al-Hajjaj).

اردو ترجمہ · Urdu

حجاج عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا میں بھی آپ کی خدمت میں موجود تھا۔ حجاج نے مزاج پوچھا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اچھا ہوں۔ اس نے پوچھا کہ آپ کو یہ برچھا کس نے مارا؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ مجھے اس شخص نے مارا جس نے اس دن ہتھیار ساتھ لے جانے کی اجازت دی جس دن ہتھیار ساتھ نہیں لے جایا جاتا تھا۔ آپ کی مراد حجاج ہی سے تھی۔