Muwatta Imam Malik #248
[248] حَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِیِّ، أَنَّہُ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِی رَمَضَانَ إِلَی الْمَسْجِدِ فَإِذَا النَّاسُ أَوْزَاعٌ مُتَفَرِّقُونَ یُصَلِّی الرَّجُلُ لِنَفْسِہِ وَیُصَلِّی الرَّجُلُ فَیُصَلِّی بِصَلَاتِہِ الرَّہْطُ فَقَالَ عُمَرُ وَاللّٰہ إِنِّی لأَرَانِی لَوْ جَمَعْتُ ہَؤُلَائِ عَلَی قَارِیٍٔ وَاحِدٍ لَکَانَ أَمْثَلَ ۔ فَجَمَعَہُمْ عَلَی أُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ - قَالَ - ثُمَّ خَرَجْتُ مَعَہُ لَیْلَۃً أُخْرَی وَالنَّاسُ یُصَلُّونَ بِصَلَاۃِ قَارِئِہِمْ فَقَالَ عُمَرُ نِعْمَتِ الْبِدْعَۃُ ہَذِہِ وَالَّتِی تَنَامُونَ عَنْہَا أَفْضَلُ مِنَ الَّتِی تَقُومُونَ ۔ یَعْنِی آخِرَ اللَّیْلِ وَکَانَ النَّاسُ یَقُومُونَ أَوَّلَہُ۔
اردو ترجمہ · Urdu
عبدالرحمن بن عبد رحمہ اللہ جو قارہ قبیلے کی طرف منسوب ہیں ، سے روایت ہے ، کہتے ہیں کہ میں ماہِ رمضان میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ہمراہ مسجد کی طرف نکلا تو اچانک لوگ ( دیکھے جو ) جدا جدا اور متفرق تھے ، کوئی آدمی اپنے لیے ( اکیلا ہی ) نماز پڑھ رہا تھا اور کوئی شخص نماز ( جماعت سے ) پڑھا رہا تھا اور ( آٹھ دس آدمیوں کا ) گروہ اس کی نماز کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے : اللہ کی قسم ! بے شک میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر ان تمام کو ایک ہی قاری پر ( یعنی اس کے پیچھے ) جمع کر دوں تو یہ بہت ہی بہتر ہو گا ، چنانچہ انھوں نے لوگوں کو حضرت اُبیّ بن کعب رضی اللہ عنہ پر جمع کر دیا ، عبدالرحمٰن بن عبد قاری ّ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ پھر ایک رات میں اُن کے ہمراہ نکلا تو لوگ اپنے قاری کے پیچھے نماز ( تراویح ) پڑھ رہے تھے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ یہ نیا کام کتنا اچھا ہے اور ( لیکن ) وہ ( اخیر رات کا ) وقت جس سے یہ لوگ سوئے رہتے ہیں ، وہ افضل ہے اس سے جس میں یہ نماز ادا کر رہے ہیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ رات کا آخری حصہ مراد لے رہے تھے جبکہ لوگ رات کے شروع میں ہی قیام ( نماز تراویح ادا ) کر لیتے تھے ۔