Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 40 · Chapter 469

وراثت کے مسائل کی کتاب

جَدّہ ( دادی ، نانی ) کی وراثت کا بیان

3 hadiths in this chapter

1480

Muwatta Imam Malik #1480

Zaeef

[1480] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خَرَشَۃَ، عَنْ قَبِیصَۃَ بْنِ ذُؤَیْبٍ، أَ نَّہُ قَالَ : جَائَ تِ الْجَدَّۃُ إِلَی أبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ تَسْأَلُہُ مِیرَاثَہَا، فَقَالَ لَہَا أَبُو بَکْرٍ : مَا لَکِ فِی کِتَابِ اللّٰہِ شَیْئٌ، وَمَا عَلِمْتُ لَکِ فِی سُنَّۃِ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ شَیْئاً، فَارْجِعِی حَتَّی أَسْأَلَ النَّاسَ، فَسَأَلَ النَّاسَ، فَقَالَ الْمُغِیرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ : حَضَرْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ أَعْطَاہَا السُّدُسَ، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : ہَلْ مَعَکَ غَیْرُکَ ؟ فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ الْأَنْصَارِیُّ، فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ الْمُغِیرَۃُ، فَأَنْفَذَہُ لَہَا أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّیقُ، ثُمَّ جَائَ تِ الْجَدَّۃُ الأُخْرَی إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ تَسْأَلُہُ مِیرَاثَہَا، فَقَالَ لَہَا : مَا لَکِ فِی کِتَابِ اللّٰہِ شَیْئٌ، وَمَا کَانَ الْقَضَائُ الَّذِی قُضِیَ بِہِ إِلاَّ لِغَیْرِکِ، وَمَا أَنَا بِزَائِدٍ فِی الْفَرَائِضِ شَیْئاً، وَلَکِنَّہُ ذَلِکَ السُّدُسُ، فَإِنِ اجْتَمَعْتُمَا فَہُوَ بَیْنَکُمَا، وَأَیَّتُکُمَا خَلَتْ بِہِ فَہُوَ لَہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

قبیصہ بن ذؤیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک جدہ ( ماں کی ماں یعنی نانی ) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئی ، وہ ان سے اپنی وراثت مانگ رہی تھی ( کہ اسے دلائی جائے ) تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : تیرے لیے اللہ کی کتاب میں تو کچھ ( بھی مذکور اور مقرر ) نہیں ہے اور نہ ہی مجھے اللہ کے رسول ﷺ کی سنت میں تیرے لیے ( وراثت کی ) کسی چیز کا حکم ہے ۔ لہٰذا ( فی الحال ) واپس چلی جاؤ ، یہاں تک کہ میں لوگوں سے ( اس بارے میں ) پوچھوں گا ، ( شاید کوئی حدیث مل جائے یا مشورے میں کسی دلیل کی رو سے تیرے لیے کچھ طے پا جائے ) ۔ چنانچہ انھوں نے ( نماز ظہر کے بعد ) لوگوں سے پوچھا تو حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہ : میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر تھا ، ( اس وقت ایک میت کی نانی آئی تو ) آپ ﷺ نے اسے چھٹا حصہ ( لے لینے کا حقدار قرار ) دیا تھا ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ( مزید تصدیق اور تسلی کے لیے ) فرمانے لگے : کیا تمھارے ساتھ کوئی اور بھی ( اس واقعے سے واقف ) ہے ؟ تو حضرت محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انھوں نے بھی اسی طرح کہا جیسے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا تھا ، تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس ( نانی ) کے لیے اس ( چھٹے حصے ) کو نافذ ( اور جاری ) کر دیا ، پھر ( اس میت کے معاملے میں عہد فاروقی میں ) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک دوسری جدہ ( دادی ) آئی ، وہ بھی ان سے اپنی وراثت کا سوال کر رہی تھی تو انھوں نے اس سے فرمایا : تیرے لیے اللہ کی کتاب میں تو کچھ ( بھی ثابت ) نہیں ہے اور وہ فیصلہ جو ( سنتِ نبوی ﷺ میں ) کیا گیا تھا ، وہ بھی تیرے علاوہ کسی اور کے لیے ( یعنی نانی کے لیے ) کیا گیا تھا ، اور نہ ہی میں وراثت کے مقرر حصوں میں ( اپنی طرف سے ) کچھ اضافہ کرنے والا ہوں ، اور البتہ وہی چھٹا حصہ ہے ۔ ( جو جدہ کو ملتا ہے اور جدہ سے جس طرح نانی مراد ہے اسی طرح دادی پر بھی بولا جاتا ہے لہٰذا ) پھر اگر تم دونوں اس ( چھٹے حصے میں اکٹھی ہو جاؤ تو وہ تم دونوں کے درمیان ( برابر برابر تقسیم ) ہو گا ، اور تم میں سے جو اس کے لیے اکیلی رہ جائے ( یعنی صرف دادی زندہ ہو یا اکیلی نانی ) تو وہ ( سارا چھٹا حصہ ) اسی کا ہو گا ۔

1481

Muwatta Imam Malik #1481

Zaeef

[1481] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَ نَّہُ قَالَ : أَتَتِ الْجَدَّتَانِ إِلَی أبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ، فَأَرَادَ أَنْ یَجْعَلَ السُّدُسَ لِلَّتِی مِنْ قِبَلِ الأُمِّ، فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : أَمَا إِنَّکَ تَتْرُکُ الَّتِی لَوْ مَاتَتْ وَہُوَ حَیٌّ کَانَ إِیَّاہَا یَرِثُ، فَجَعَلَ أَبُو بَکْرٍ السُّدُسَ بَیْنَہُمَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

قاسم بن محمد رحمہ اللہ ( بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہ ) سے روایت ہے کہ دو جدہ ( نانی اور دادی ) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں ، سو انھوں نے یہ ارادہ کیا کہ چھٹا حصہ صرف اس ( جدہ ) کے لیے متعین کر دیں جو ماں کی طرف سے ہے ( یعنی صرف ماں کی ماں ( نانی ) کو حقدار ٹھہرائیں اور دادی کو محروم کر دیں ) تو انصار میں سے ایک شخص ( حضرت عبدالرحمن بن سہل رضی اللہ عنہ جو بنوحارثہ میں سے تھے ) کہنے لگے کہ ( اے امیر المؤمنین ) آگاہ رہیے ، بے شک آپ اس ( عورت یعنی دادی ) کو چھوڑ رہے ہیں کہ اگر یہ مر جاتی اور وہ ( مرنے والا یعنی اس کا پوتا ) زندہ ہوتا تو وہ اس کا وارث بن جاتا ، تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے چھٹا حصہ دونوں کے درمیان ( مشترکہ ) کر دیا ۔

1482

Muwatta Imam Malik #1482

Zaeef

[1482] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ رَبِّہِ بْنِ سَعِیدٍ، أَنَّ أَبَا بَکْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ ہِشَامٍ، کَانَ لَا یَفْرِضُ إِلاَّ لِلْجَدَّتَیْنِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عبدربہ بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام رحمہ اللہ ( جو کہ فقہائے سبعہ میں سے تھے ) دو جدہ ( دادی ، نانی ) کے سوا کسی اور ( جدہ ) کو وراثت نہ دیتے تھے ۔