Muwatta Imam Malik #1480
[1480] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ خَرَشَۃَ، عَنْ قَبِیصَۃَ بْنِ ذُؤَیْبٍ، أَ نَّہُ قَالَ : جَائَ تِ الْجَدَّۃُ إِلَی أبِی بَکْرٍ الصِّدِّیقِ تَسْأَلُہُ مِیرَاثَہَا، فَقَالَ لَہَا أَبُو بَکْرٍ : مَا لَکِ فِی کِتَابِ اللّٰہِ شَیْئٌ، وَمَا عَلِمْتُ لَکِ فِی سُنَّۃِ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ شَیْئاً، فَارْجِعِی حَتَّی أَسْأَلَ النَّاسَ، فَسَأَلَ النَّاسَ، فَقَالَ الْمُغِیرَۃُ بْنُ شُعْبَۃَ : حَضَرْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ أَعْطَاہَا السُّدُسَ، فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ : ہَلْ مَعَکَ غَیْرُکَ ؟ فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ الْأَنْصَارِیُّ، فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ الْمُغِیرَۃُ، فَأَنْفَذَہُ لَہَا أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّیقُ، ثُمَّ جَائَ تِ الْجَدَّۃُ الأُخْرَی إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ تَسْأَلُہُ مِیرَاثَہَا، فَقَالَ لَہَا : مَا لَکِ فِی کِتَابِ اللّٰہِ شَیْئٌ، وَمَا کَانَ الْقَضَائُ الَّذِی قُضِیَ بِہِ إِلاَّ لِغَیْرِکِ، وَمَا أَنَا بِزَائِدٍ فِی الْفَرَائِضِ شَیْئاً، وَلَکِنَّہُ ذَلِکَ السُّدُسُ، فَإِنِ اجْتَمَعْتُمَا فَہُوَ بَیْنَکُمَا، وَأَیَّتُکُمَا خَلَتْ بِہِ فَہُوَ لَہَا۔
اردو ترجمہ · Urdu
قبیصہ بن ذؤیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک جدہ ( ماں کی ماں یعنی نانی ) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئی ، وہ ان سے اپنی وراثت مانگ رہی تھی ( کہ اسے دلائی جائے ) تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : تیرے لیے اللہ کی کتاب میں تو کچھ ( بھی مذکور اور مقرر ) نہیں ہے اور نہ ہی مجھے اللہ کے رسول ﷺ کی سنت میں تیرے لیے ( وراثت کی ) کسی چیز کا حکم ہے ۔ لہٰذا ( فی الحال ) واپس چلی جاؤ ، یہاں تک کہ میں لوگوں سے ( اس بارے میں ) پوچھوں گا ، ( شاید کوئی حدیث مل جائے یا مشورے میں کسی دلیل کی رو سے تیرے لیے کچھ طے پا جائے ) ۔ چنانچہ انھوں نے ( نماز ظہر کے بعد ) لوگوں سے پوچھا تو حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہ : میں رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر تھا ، ( اس وقت ایک میت کی نانی آئی تو ) آپ ﷺ نے اسے چھٹا حصہ ( لے لینے کا حقدار قرار ) دیا تھا ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ( مزید تصدیق اور تسلی کے لیے ) فرمانے لگے : کیا تمھارے ساتھ کوئی اور بھی ( اس واقعے سے واقف ) ہے ؟ تو حضرت محمد بن مسلمہ انصاری رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انھوں نے بھی اسی طرح کہا جیسے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا تھا ، تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس ( نانی ) کے لیے اس ( چھٹے حصے ) کو نافذ ( اور جاری ) کر دیا ، پھر ( اس میت کے معاملے میں عہد فاروقی میں ) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک دوسری جدہ ( دادی ) آئی ، وہ بھی ان سے اپنی وراثت کا سوال کر رہی تھی تو انھوں نے اس سے فرمایا : تیرے لیے اللہ کی کتاب میں تو کچھ ( بھی ثابت ) نہیں ہے اور وہ فیصلہ جو ( سنتِ نبوی ﷺ میں ) کیا گیا تھا ، وہ بھی تیرے علاوہ کسی اور کے لیے ( یعنی نانی کے لیے ) کیا گیا تھا ، اور نہ ہی میں وراثت کے مقرر حصوں میں ( اپنی طرف سے ) کچھ اضافہ کرنے والا ہوں ، اور البتہ وہی چھٹا حصہ ہے ۔ ( جو جدہ کو ملتا ہے اور جدہ سے جس طرح نانی مراد ہے اسی طرح دادی پر بھی بولا جاتا ہے لہٰذا ) پھر اگر تم دونوں اس ( چھٹے حصے میں اکٹھی ہو جاؤ تو وہ تم دونوں کے درمیان ( برابر برابر تقسیم ) ہو گا ، اور تم میں سے جو اس کے لیے اکیلی رہ جائے ( یعنی صرف دادی زندہ ہو یا اکیلی نانی ) تو وہ ( سارا چھٹا حصہ ) اسی کا ہو گا ۔