Muwatta Imam Malik #1433
[1433] قَالَ یَحْیَی : قَالَ مَالِکٌ : عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ سُنَیْنٍ أبِی جَمِیلَۃَ رَجُلٌ مِنْ بَنِی سُلَیْمٍ، أَ نَّہُ وَجَدَ مَنْبُوذاً فِی زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ : فَجِئْتُ بِہِ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ : مَا حَمَلَکَ عَلَی أَخْذِ ہَذِہِ النَّسَمَۃِ ؟ فَقَالَ : وَجَدْتُہَا ضَائِعَۃً فَأَخَذْتُہَا. فَقَالَ لَہُ عَرِیفُہُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ إِنَّہُ رَجُلٌ صَالِحٌ. فَقَالَ لَہُ عُمَرُ: أَکَذَلِکَ ؟ قَالَ : نَعَمْ. فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : اذْہَبْ فَہُوَ حُرٌّ، وَلَکَ وَلَاؤُہُ، وَعَلَیْنَا نَفَقَتُہُ۔
اردو ترجمہ · Urdu
سنین ابی جمیلہ رحمہ اللہ جو کہ بنوسلیم میں سے ایک شخص ہیں ، سے روایت ہے کہ انھوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایک پھینکا ہوا بچہ پایا ، وہ کہتے ہیں کہ میں اسے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا تو انھوں نے فرمایا : تمھیں کس چیز نے آمادہ کیا کہ اس ( ننھی سی ) جان کو پکڑ لو ؟ انھوں نے کہا کہ میں نے اسے ضائع ہوتے ہوئے پایا تو اسے پکڑ لیا ۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ان کے عریف ( لوگوں کی جان پہچان رکھنے میں ماہر شخص یا نگران اور ذمہ دار ) نے عرض کیا کہ اے امیرالمؤمنین ! بلاشبہ یہ ایک نیک شخص ہے ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا ( واقعی یہ ) اسی طرح ( ہے ) ؟ اس نے کہا کہ جی ہاں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جاؤ ، یہ آزاد ہے اس کی ولاء تمھارے لیے ہو گی اور اس کا خرچہ ہمارے ذمے ہے ۔