Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 39 · Chapter 447

گروی رکھنے کے بیان کے متعلق کتاب

اس شخص کے متعلق فیصلے کا بیان جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی آدمی کو پا لے

2 hadiths in this chapter

1431

Muwatta Imam Malik #1431

Sahih

[1431] حَدَّثَنَا یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ سُہَیْلِ بْنِ أبِی صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ أبِی ہُرَیْرَۃَ : أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَۃَ قَالَ لِرَسُولِ اللّٰہِ ﷺ : أَرَأَیْتَ إِنْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِی رَجُلاً، أَأُمْہِلُہُ حَتَّی آتِیَ بِأَرْبَعَۃِ شُہَدَائَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : نَعَمْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بیشک حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے اس بارے میں خبر دیجیے کہ اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی آدمی کو پا لوں تو کیا اسے مہلت دوں یہاں تک کہ چار گواہ لے کر آؤں ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں ‘‘۔

1432

Muwatta Imam Malik #1432

Sahih

[1432] وَحَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ، أَنَّ رَجُلاً مِنْ أَہْلِ الشَّامِ - یُقَالُ لَہُ ابْنُ خَیْبَرِیٍّ - وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِہِ رَجُلاً فَقَتَلَہُ، أَوْ قَتَلَہُمَا مَعاً، فَأَشْکَلَ عَلَی مُعَاوِیَۃَ بْنِ أبِی سُفْیَانَ الْقَضَائُ فِیہِ، فَکَتَبَ إِلَی أبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ یَسْأَلُ لَہُ عَلِیَّ بْنَ أبِی طَالِبٍ عَنْ ذَلِکَ، فَسَأَلَ أَبُو مُوسَی عَنْ ذَلِکَ عَلِیَّ بْنَ أبِی طَالِبٍ، فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ : إِنَّ ہَذَا الشَّیْئَ مَا ہُوَ بِأَرْضِی، عَزَمْتُ عَلَیْکَ لَتُخْبِرَنِّی. فَقَالَ لَہُ أَبُو مُوسَی : کَتَبَ إِلَیَّ مُعَاوِیَۃُ بْنُ أبِی سُفْیَانَ أَنْ أَسْأَلَکَ عَنْ ذَلِکَ. فَقَالَ عَلِیٌّ: أَنَا أَبُو حَسَنٍ إِنْ لَمْ یَأْتِ بِأَرْبَعَۃِ شُہَدَائَ فَلْیُعْطَ بِرُمَّتِہِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے ( کہتے ہیں ) کہ اہلِ شام میں سے ایک آدمی جسے ابن خیبری رحمہ اللہ کہا جاتا تھا ، نے مجھے خبر دی کہ اس نے اپنی بیوی کے ساتھ ایک آدمی کو پا لیا تو اسے یا دونوں کو ایک ساتھ قتل کر ڈالا ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما پر فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا تو انھوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی طرف ( یہ پیغام ) لکھا کہ وہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں سوال کریں ۔ چنانچہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں پوچھا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا ، یقیناً یہ چیز میرے علاقے ( عراق ) میں تو نہیں ہے ، میں تمھیں قسم دیتا ہوں کہ مجھے اس کے متعلق ( تفصیل سے ) بتاؤ ، تو حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے میری طرف لکھا تھا کہ میں آپ سے اس بارے میں پوچھوں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ( واقعی ) میں ابوالحسن ہوں ، ( فیصلہ یہ ہے کہ ) اگر وہ ( قاتل شوہر اس زنا کے دعوے پر ) چار گواہ نہ لا سکے تو اس کی رسّی ( مقتول کے ورثاء کے ہاتھوں میں ) دے دی جائے ۔