Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 28 · Chapter 355

طلاق کے مسائل کی کتاب

غلام کی طلاق کا بیان

5 hadiths in this chapter

1185

Muwatta Imam Malik #1185

Sahih

[1185] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ أبِی الزِّنَادِ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ: أَنَّ نُفَیْعاً مُکَاتَباً کَانَ لأُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ ، أَوْ عَبْداً لَہَا، کَانَتْ تَحْتَہُ امْرَأَۃٌ حُرَّۃٌ, فَطَلَّقَہَا اثْنَتَیْنِ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ یُرَاجِعَہَا، فَأَمَرَہُ أَزْوَاجُ النَّبِیِّ ﷺ أَنْ یَأْتِیَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ، فَیَسْأَلَہُ عَنْ ذَلِکَ، فَلَقِیَہُ عِنْدَ الدَّرَجِ آخِذاً بِیَدِ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ، فَسَأَلَہُمَا، فَابْتَدَرَاہُ جَمِیعاً فَقَالاَ : حَرُمَتْ عَلَیْکَ، حَرُمَتْ عَلَیْکَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ نفیع جو کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا زوجہ رسول اللہ ﷺ کا مکاتب غلام تھا ( یعنی ایسا غلام تھا کہ جس کے ساتھ چند سالوں میں متعین رقم ادا کر کے آزاد ہونا طے کر لیا اور لکھ لیا جاتا ہے ) یا وہ ( عام قسم کا ) غلام تھا ، اس کے نکاح میں ایک آزاد عورت تھی ، اس نے اسے دو طلاقیں دے دیں ، پھر ارادہ کیا کہ اس سے رجوع کر لے تو نبی کریم ﷺ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہا نے اسے حکم دیا کہ وہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس جائے اور اس بارے میں ان سے پوچھ لے ۔ چنانچہ وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اس حال میں ملا کہ وہ ’’ درج ‘‘ نامی جگہ پر حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھامے ہوئے تھے ، اس نے ان دونوں سے یہ سوال کیا تو ان دونوں نے اکٹھے ہی جلدی سے جواب دیا کہ وہ تجھ پر حرام ہو گئی ہے ، وہ تجھ پر حرام ہو گئی ہے ۔

1186

Muwatta Imam Malik #1186

Sahih

[1186] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ : أَنَّ نُفَیْعاً مُکَاتَباً کَانَ لأُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ ، طَلَّقَ امْرَأَۃً حُرَّۃً تَطْلِیقَتَیْنِ، فَاسْتَفْتَی عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَقَالَ : حَرُمَتْ عَلَیْکَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ نفیع جو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا زوجہ رسول ﷺ کا مکاتب غلام تھا ، نے ایک آزاد بیوی کو دو طلاقیں دے دیں ، پھر اس نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے فتویٰ طلب کیا تو انھوں نے فرمایا کہ وہ تجھ پر حرام ہو گئی ہے ۔

1187

Muwatta Imam Malik #1187

Zaeef

[1187] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَبْدِ رَبِّہِ بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّیْمِیِّ : أَنَّ نُفَیْعاً مُکَاتَباً کَانَ لأُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ ، اسْتَفْتَی زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَقَالَ : إنِّی طَلَّقْتُ امْرَأَۃً حُرَّۃً تَطْلِیقَتَیْنِ۔ فَقَالَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ : حَرُمَتْ عَلَیْکَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی سے روایت ہے کہ بے شک نفیع جو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا زوجہ پیغمبر ﷺ کا مکاتب غلام تھا ، اس نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فتویٰ طلب کیا ، چنانچہ کہنے لگا کہ یقیناً میں نے ایک آزاد عورت کو دو طلاقیں دے دی ہیں تو حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وہ تجھ پر حرام ہو گئی ہے ۔

1188

Muwatta Imam Malik #1188

Sahih

[1188] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ یَقُولُ : إِذَا طَلَّقَ الْعَبْدُ امْرَأَتَہُ تَطْلِیقَتَیْنِ، فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَیْہِ، حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجاً غَیْرَہُ، حُرَّۃً کَانَتْ أَوْ أَمَۃً، وَعِدَّۃُ الْحُرَّۃِ ثَلاَثُ حِیَضٍ، وَعِدَّۃُ الأَمَۃِ حَیْضَتَانِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

نافع سے روایت ہے کہ بے شک حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے کہ جب غلام اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دے تو یقیناً وہ اس پر حرام ہو گئی ( اور حرام ہی رہے گی ) یہاں تک کہ وہ اس کے علاوہ کسی اور خاوند سے نکاح کر لے ، خواہ ( وہ بیوی ) آزاد ہو یا لونڈی اور آزاد عورت کی عدت تین حیض ہے اور لونڈی کی دو حیض ہے ۔

1189

Muwatta Imam Malik #1189

Sahih

[1189] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ : أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ یَقُولُ : مَنْ أَذِنَ لِعَبْدِہِ أَنْ یَنْکِحَ، فَالطَّلاَقُ بِیَدِ الْعَبْدِ، لَیْسَ بِیَدِ غَیْرِہِ مِنْ طَلاَقِہِ شَیْئٌ، فَأَمَّا أَنْ یَأْخُذَ الرَّجُلُ أَمَۃَ غُلاَمِہِ، أَوْ أَمَۃَ وَلِیدَتِہِ فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْہِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

نافع سے روایت ہے کہ بے شک حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے ، جس شخص نے اپنے غلام کو یہ اجازت دی کہ وہ نکاح کر لے تو طلاق ( کا اختیار ) غلام کے ہاتھ میں ہے ، اس کی طلاق ( کے اختیار ) میں سے کچھ بھی کسی اور کے ہاتھ میں نہیں ہے ، رہی یہ صورت کہ آدمی اپنے غلام کی لونڈی لے لے یا اپنی لونڈی کی لونڈی کو پکڑ لے ( اور اس سے مباشرت کر لے ) تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے ۔