Muwatta Imam Malik #1118
[1118] حَدَّثَنِی مَالِکٌ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، أَنَّہُ بَلَغَہُ : أَنَّ نِسَائً کُنَّ فِی عَہْدِ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ یُسْلِمْنَ بِأَرْضِہِنَّ، وَہُنَّ غَیْرُ مُہَاجِرَاتٍ، وَأَزْوَاجُہُنَّ حِینَ أَسْلَمْنَ کُفَّارٌ، مِنْہُنَّ بِنْتُ الْوَلِیدِ بْنِ الْمُغِیرَۃِ، وَکَانَتْ تَحْتَ صَفْوَانَ بْنِ أُمَیَّۃَ، فَأَسْلَمَتْ یَوْمَ الْفَتْحِ، وَہَرَبَ زَوْجُہَا صَفْوَانُ بْنُ أُمَیَّۃَ مِنَ الإِسْلاَمِ، فَبَعَثَ إِلَیْہِ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ ابْنَ عَمِّہِ وَہْبَ بْنَ عُمَیْرٍ، بِرِدَائِ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ ، أَمَاناً لِصَفْوَانَ بْنِ أُمَیَّۃَ، وَدَعَاہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ إِلَی الإِسْلاَمِ، وَأَنْ یَقْدَمَ عَلَیْہِ، فَإِنْ رَضِیَ أَمْراً قَبِلَہُ، وَإِلاَّ سَیَّرَہُ شَہْرَیْنِ، فَلَمَّا قَدِمَ صَفْوَانُ عَلَی رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ بِرِدَائِہِ، نَادَاہُ عَلَی رُؤُوسِ النَّاسِ فَقَالَ : یَا مُحَمَّدُ، إِنَّ ہَذَا وَہْبَ بْنَ عُمَیْرٍ جَائَ نِی بِرِدَائِکَ، وَزَعَمَ أَ نَّکَ دَعَوْتَنِی إِلَی الْقُدُومِ عَلَیْکَ، فَإِنْ رَضِیتُ أَمْراً قَبِلْتُہُ، وَإِلاَّ سَیَّرْتَنِی شَہْرَیْنِ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : انْزِلْ أَبَا وَہْبٍ فَقَالَ : لاَ وَاللّٰہِ لاَ أَنْزِلُ حَتَّی تُبَیِّنَ لِی۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : بَلْ لَکَ تَسِیرُ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ فَخَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ قِبَلَ ہَوَازِنَ بِحُنَیْنٍ، فَأَرْسَلَ إِلَی صَفْوَانَ بْنِ أُمَیَّۃَ یَسْتَعِیرُہُ أَدَاۃً وَسِلاَحاً عِنْدَہُ، فَقَالَ صَفْوَانُ : أَطَوْعاً أَمْ کَرْہاً ؟ فَقَالَ: بَلْ طَوْعاً فَأَعَارَہُ الأَدَاۃَ وَالسِّلاَحَ الَّتِی عِنْدَہُ، ثُمَّ خَرَجَ صَفْوَانُ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ وَہُوَ کَافِرٌ، فَشَہِدَ حُنَیْناً وَالطَّائِفَ، وَہُوَ کَافِرٌ وَامْرَأَتُہُ مُسْلِمَۃٌ، وَلَمْ یُفَرِّقْ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ بَیْنَہُ وَبَیْنَ امْرَأَتِہِ، حَتَّی أَسْلَمَ صَفْوَانُ، وَاسْتَقَرَّتْ عِنْدَہُ امْرَأَتُہُ بِذَلِکَ النِّکَاحِ۔
اردو ترجمہ · Urdu
ابن شہاب رحمہ اللہ سے مروی ہے ، ان کو یہ خبر پہنچی کہ بے شک رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں کچھ عورتیں اپنے علاقے میں مسلمان ہو گئیں ، انھوں نے ہجرت نہیں کی تھی اور جب وہ مسلمان ہوئیں تو ان کے خاوند کافر ہی تھے ، ان میں سے ایک ولید بن مغیرہ کی بیٹی ( حضرت فاختہ رضی اللہ عنہا ) بھی تھیں ( جو کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی بہن تھیں ) اور وہ حضرت صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں ، انھوں نے فتح مکہ کے دن اسلام قبول کر لیا اور ان کے خاوند حضرت صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ اسلام سے ( بغض رکھتے ہوئے ) بھاگ گئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے چچا زاد بھائی حضرت وہب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو ان کی طرف اپنی چادر مبارک ( بطور نشانی ) دے کر بھیجا ، ( اور یہ سب حضرت ) صفوان ( رضی اللہ عنہ ) کو امان دینے کے لیے تھا ۔ رسول اللہ ﷺ نے ( حضرت وہب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے ذریعے ) ان کو اسلام کی دعوت بھی دی اور ( یہ کہلا بھیجا کہ ) وہ آپ کے پاس آ جائیں پھر اگر ( اسلام کے ) معاملے سے راضی ہو جائیں تو اسے قبول کر لیں ورنہ آپ ﷺ انھیں دو مہینوں کی مہلت دے دیں گے ۔ چنانچہ حضرت صفوان رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آپ کی چادر مبارک لے کر آئے تو انھوں نے لوگوں کے سامنے ( حجت قائم کرنے کے لیے ) پکار کر کہا : اے محمد ( ﷺ ) یقیناً یہ وہب بن عمیر میرے پاس آپ کی چادر لے کر آیا اور اس نے کہا کہ آپ نے مجھے اپنے پاس آنے کی دعوت دی ہے ، پھر اگر میں ( آپ کے لائے ہوئے مذہب کے ) معاملے پر راضی ہو جاؤں تو اسے قبول کر لوں ورنہ آپ نے مجھے دو مہینے کی مہلت دے دی ہے ، تو رسول اللہ ﷺ نے ( انھیں ان کی کنیت سے پکار کر ) فرمایا :’’ اے ابووہب ! ( سواری سے ) نیچے اتر آؤ ۔‘‘ وہ کہنے لگے کہ نہیں ، اللہ کی قسم ! میں نیچے نہیں اتروں گا ، یہاں تک کہ آپ میرے سامنے وضاحت فرما دیں ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ بلکہ تمھارے لیے یہ اجازت ہے کہ چار ماہ تک ( بغیر اسلام قبول کیے ہمارے ساتھ ) چل پھر سکتے ہو ۔ پھر رسول اللہ ﷺ ( فتح مکہ سے فارغ ہو کر ) حنین کے مقام پر بنو ہوازن قبیلے کی طرف ( ان سے لڑنے کے لیے نکلے تو آپ نے حضرت صفوان رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا کہ اپنے ہتھیار وقتی طور پر استعمال کرنے کے لیے دے ۔ صفوان کہنے لگے کہ خوشی سے یا ناخوشی سے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بلکہ خوشی سے ۔‘‘ چنانچہ انھوں نے آپ ﷺ کو اپنا سامان حرب اور اسلحہ عاریتاً دے دیا ، پھر خود بھی رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ( جنگ میں شرکت کے لیے ) حالت کفر ہی میں نکلے ، پھر غزوئہ حنین میں اور غزوئہ طائف میں اس حال میں شرکت کی کہ وہ خود تو کافر تھے اور ان کی بیوی مسلمان تھیں اور رسول اللہ ﷺ نے ان کے اور ان کی بیوی کے درمیان جدائی نہیں ڈالی تھی ، یہاں تک کہ حضرت صفوان رضی اللہ عنہ مسلمان ہو گئے اور ان کی اہلیہ اس پہلے نکاح کے ساتھ ان کے ہاں برقرار رہیں ۔