Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 21 · Chapter 292

جہاد کی کتاب

گھوڑوں اور گھڑ دوڑ نیز جہاد میں مال خرچ کرنے کا بیان

6 hadiths in this chapter

1001

Muwatta Imam Malik #1001

Sahih

[1001] حَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : الْخَیْلُ فِی نَوَاصِیہَا الْخَیْرُ إِلَی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ گھوڑوں کے پیشانی کے بالوں میں قیامت تک کے لیے خیر باندھ دی گئی ہے ۔‘‘

1002

Muwatta Imam Malik #1002

Sahih

[1002] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ سَابَقَ بَیْنَ الْخَیْلِ الَّتِی قَدْ أُضْمِرَتْ، مِنَ الْحَفْیَائِ، وَکَانَ أَمَدُہَا ثَنِیَّۃَ الْوَدَاعِ، وَسَابَقَ بَیْنَ الْخَیْلِ الَّتِی لَمْ تُضَمَّرْ مِنَ الثَّنِیَّۃِ، إِلَی مَسْجِدِ بَنِی زُرَیْقٍ، وَأَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ مِمَّنْ سَابَقَ بِہَا۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے ان گھوڑوں کی دوڑ لگوائی جو ( تضمیر شدہ تھے اور ) گھڑ دوڑ کے لیے تیار کیے گئے تھے ۔ ( یہ دوڑ ) حفیا نامی جگہ سے ( شروع ہوئی ) اور اس کی انتہا ’’ ثَنِیَّۃُ الْوداع ‘‘ گھاٹی پر ہوئی اور جو گھوڑے گھڑ دوڑ کے لیے تیار نہ کیے گئے تھے ان کی دوڑ ’’ ثَنِیَّۃُ الْوداع ‘‘ جگہ سے مسجد بنی زُریق تک لگوائی اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بھی ان لوگوں میں شامل تھے جنھوں نے ( یہ دوسری ) دوڑ لگائی ۔

1003

Muwatta Imam Malik #1003

Sahih

[1003] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، أَ نَّہُ سَمِعَ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ یَقُولُ : لَیْسَ بِرِہَانِ الْخَیْلِ بَأْسٌ إِذَا دَخَلَ فِیہَا مُحَلِّلٌ، فَإِنْ سَبَقَ أَخَذَ السَّبَقَ، وَإِنْ سُبِقَ لَمْ یَکُنْ عَلَیْہِ شَیْئٌ۔

اردو ترجمہ · Urdu

یحیی بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے ، انھوں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ گھڑ دوڑ کی شرط ( اور بازی ) لگانے میں کوئی حرج نہیں جب محلل ( اس دوڑ کے حلال ہونے کا باعث بننے والا ) گھوڑا ان میں شامل ہو جائے ، پھر اگر وہ سبقت لے جائے تو انعام وصول کر لے اور اگر ہار جائے ( اس سے سبقت کر لی جائے ) تو اس پر کچھ ( چٹی و جرمانہ وغیرہ ) لازم نہیں ۔

1004

Muwatta Imam Malik #1004

Sahih

[1004] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ رُئِیَ وَہُوَ یَمْسَحُ وَجْہَ فَرَسِہِ بِرِدَائِہِ، فَسُئِلَ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ : إنِّی عُوتِبْتُ اللَّیْلَۃَ فِی الْخَیْلِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

یحیی بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ کو اس حال میں دیکھا گیا کہ آپ ﷺ اپنے گھوڑے کے چہرے کو اپنی چادر مبارک سے صاف فرما رہے تھے ، چنانچہ آپ ﷺ سے اس بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا :’’ یقیناً آج رات ( خواب میں یا بیداری میں ) گھوڑوں کے متعلق ( خبرگیری نہ کر سکنے پر ) میری فہمائش کی گئی تھی ۔

1005

Muwatta Imam Malik #1005

Sahih

[1005] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ حُمَیْدٍ الطَّوِیلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ : أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ حِینَ خَرَجَ إِلَی خَیْبَرَ أَتَاہَا لَیْلاً، وَکَانَ إِذَا أَتَی قَوْماً بِلَیْلٍ، لَمْ یُغِرْ حَتَّی یُصْبِحَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ خَرَجَتْ یَہُودُ بِمَسَاحِیہِمْ وَمَکَاتِلِہِمْ، فَلَمَّا رَأَوْہُ قَالُوا : مُحَمَّدٌ وَاللّٰہِ مُحَمَّدٌ وَالْخَمِیسُ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ : اللّٰہُ أَکْبَرُ، خَرِبَتْ خَیْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَۃِ قَوْمٍ فَسَائَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِینَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ جب ( 6 ھ میں یہودیوں کے گڑھ ) خیبر کی طرف ( غزوہ کے لیے ) نکلے تو رات کے وقت اس کے پاس پہنچے ، اور آپ ﷺ جب کسی قوم کے پاس رات کے وقت پہنچتے تو حملہ نہیں کرتے تھے ، یہاں تک کہ صبح میں داخل ہو جاتے ، چنانچہ ( صبح کے وقت ) یہودی اپنی کسیاں ( بیلچے اور پھاؤڑے ) اور اپنے ٹوکرے لے کر نکلے ، سو جب انھوں نے آپ ﷺ کو دیکھا تو کہنے لگے کہ ( یہ تو ) محمد ( ﷺ ہیں ) اللہ کی قسم ! محمد اور پورا لشکر ( بھی ساتھ ) ہے ، تو رسول اللہ ﷺ فرمانے لگے :’’ اَللّٰہُ اَکْبَرُ ، ( اللہ ہی سب سے بڑا ہے ، اب تو ) خیبر خراب ہو گیا ، یقیناً ہم کسی ( قوم کے ) صحن میں ( حملے کے لیے ) پڑاؤ ڈالتے ہیں تو ڈرائے جانے والے ( کافر ) لوگوں کی صبح بری ہو جاتی ہے ۔‘‘

1006

Muwatta Imam Malik #1006

Sahih

[1006] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَیْنِ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ نُودِیَ فِی الْجَنَّۃِ : یَا عَبْدَ اللّٰہِ ہَذَا خَیْرٌ، فَمَنْ کَانَ مِنْ أَہْلِ الصَّلاَۃِ، دُعِیَ مِنْ بَابِ الصَّلاَۃِ، وَمَنْ کَانَ مِنْ أَہْلِ الْجِہَادِ، دُعِیَ مِنْ بَابِ الْجِہَادِ، وَمَنْ کَانَ مِنْ أَہْلِ الصَّدَقَۃِ، دُعِیَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَۃِ، وَمَنْ کَانَ مِنْ أَہْلِ الصِّیَامِ، دُعِیَ مِنْ بَابِ الرَّیَّانِ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّیقُ : یَا رَسُولَ اللّٰہِ، مَا عَلَی مَنْ یُدْعَی مِنْ ہَذِہِ الْأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَۃٍ، فَہَلْ یُدْعَی أَحَدٌ مِنْ ہَذِہِ الْأَبْوَابِ کُلِّہَا ؟ قَالَ : نَعَمْ، وَأَرْجُو أَنْ تَکُونَ مِنْہُمْ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس شخص نے اللہ کی راہ میں ایک جوڑا خرچ کیا ( مثلاً دو گھوڑے ، دو اونٹ ، دو برتن ، دو سکے وغیرہ ) تو اسے جنت ( کے دروازے ) میں ( سے یہ ) آواز دی جائے گی کہ اے اللہ کے بندے ! یہ ( دروازہ تیرے حق میں ) خیر ہے ( لہٰذا اپنا اجر و ثواب پانے کے لیے ادھر آ جاؤ ) پھر جو کوئی نماز والوں میں سے ہو گا اسے باب صلاۃ ( نماز کے دروازے ) سے پکارا جائے گا اور جو کوئی اہل جہاد میں سے ہو گا اسے باب جہاد ( جہاد کے دروازے ) سے بلایا جائے گا اور جو کوئی صدقہ ( زکاۃ ) دینے والوں میں سے ہو گا اسے باب صدقہ سے آواز دی جائے گی اور جو کوئی روزے رکھنے والوں میں سے ہو گا اسے ’’ باب الریان ‘‘ سے آواز دی جائے گی ، تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ عرض کرنے لگے کہ اے اللہ کے رسول ! جس شخص کو ( اپنے تمام اعمال کی وجہ سے ) ان سب دروازوں سے بلایا جائے گا تو اس کی ضرورت تو نہیں ہے ( کیونکہ جنت میں داخل ہونے کے لیے تو ایک دروازہ ہی کافی ہے البتہ یہ ایک مقام و مرتبہ ، شرف و منزلت اور اعزاز و اکرام ضرور ہے ) تو کیا کسی شخص کو ان تمام دروازوں سے بلایا جائے گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہاں اور میں امید رکھتا ہوں کہ آپ انھیں میں سے ہیں ۔‘‘