Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 19 · Chapter 186

زکاۃ کے مسائل کی کتاب

چوپایوں کی زکاۃ کا بیان

1 hadith in this chapter

672

Muwatta Imam Malik #672

Sahih

[672] حَدَّثَنِیْ یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ: أَ نَّہُ قَرَأَ کِتَابَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِی الصَّدَقَۃِ قَالَ فَوَجَدْتُ فِیہِ : بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ۔ کِتَابُ الصَّدَقَۃِ : فِی أَرْبَعٍ وَعِشْرِینَ مِنَ الإِبِلِ، فَدُونَہَا الْغَنَمُ فِی کُلِّ خَمْسٍ شَاۃٌ، وَفِیمَا فَوْقَ ذَلِکَ إِلَی خَمْسٍ وَثَـلَاثِینَ ابْنَۃُ مَخَاضٍ، فَإِنْ لَمْ تَکُنِ ابْنَۃُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَکَرٌ، وَفِیمَا فَوْقَ ذَلِکَ إِلَی خَمْسٍ وَأَرْبَعِینَ بِنْتُ لَبُونٍ، وَفِیمَا فَوْقَ ذَلِکَ إِلَی سِتِّینَ، حِقَّۃٌ طَرُوقَۃُ الْفَحْلِ، وَفِیمَا فَوْقَ ذَلِکَ إِلَی خَمْسٍ وَسَبْعِینَ جَذَعَۃٌ، وَفِیمَا فَوْقَ ذَلِکَ إِلَی تِسْعِینَ ابْنَتَا لَبُونٍ، وَفِیمَا فَوْقَ ذَلِکَ إِلَی عِشْرِینَ وَمِئَۃٍ حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْفَحْلِ، فَمَا زَادَ عَلَی ذَلِکَ مِنَ الإِبِلِ، فَفِی کُلِّ أَرْبَعِینَ بِنْتُ لَبُونٍ، وَفِی کُلِّ خَمْسِینَ حِقَّۃٌ، وَفِی سَائِمَۃِ الْغَنَمِ، إِذَا بَلَغَتْ أَرْبَعِینَ إِلَی عِشْرِینَ وَمِئَۃٍ شَاۃٌ، وَفِیمَا فَوْقَ ذَلِکَ إِلَی مِئَتَیْنِ شَاتَانِ، وَفِیمَا فَوْقَ ذَلِکَ إِلَی ثَـلَاثِ مِئَۃٍ، ثَـلَاثُ شِیَاہٍ، فَمَا زَادَ عَلَی ذَلِکَ، فَفِی کُلِّ مِئَۃٍ شَاۃٌ، وَلَا یُخْرَجُ فِی الصَّدَقَۃِ تَیْسٌ، وَلَا ہَرِمَۃٌ، وَلَا ذَاتُ عَوَارٍ، إِلاَّ مَا شَائَ الْمُصَّدِّقُ، وَلَا یُجْمَعُ بَیْنَ مُفْتَرِقٍ، وَلَا یُفَرَّقُ بَیْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْیَۃَ الصَّدَقَۃِ، وَمَا کَانَ مِنْ خَلِیطَیْنِ، فَإِنَّہُمَا یَتَرَاجَعَانِ بَیْنَہُمَا بِالسَّوِیَّۃِ، وَفِی الرِّقَۃِ إِذَا بَلَغَتْ خَمْسَ أَوَاق، رُبُعُ الْعُشْرِ

اردو ترجمہ · Urdu

امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ انھوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی وہ تحریر پڑھی جو زکاۃ کے متعلق تھی ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے اس میں ( یوں لکھا ہوا ) پایا ۔ بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم یہ زکاۃ کی تحریر ہے ، چوبیس یا اس سے کم اونٹوں میں بکریاں ( زکاۃ کے طور پر دی جاتی ) ہیں ، ہر پانچ اونٹوں میں ایک بکری لازم ہے اور اس سے زیادہ میں ( پچیس سے لے کر ) پینتیس تک ایک سال کی اونٹنی ( زکاۃ ) ہے ، اگر ایک سالہ اونٹنی نہ ہو تو دو برس کا نر اونٹ ( کفایت کر جائے گا ) ، اور اس سے زیادہ میں پینتالیس تک دو سالہ اونٹنی ہے ، اور اس سے زیادہ میں ساٹھ تک تین برس کی اونٹنی ہے جو نر اونٹ کی جفتی کے قابل ہو اور اس سے زیادہ میں پچھتر تک چار سالہ اونٹنی ہے اور اس سے زیادہ میں نوے تک دو عدد دو سالہ اونٹنیاں ہیں اور اس سے زیادہ میں ایک سو بیس تک دو عدد تین سالہ اونٹنیاں ہیں جو نر کی جفتی کے قابل ہوں ، پھر اونٹوں میں سے جو اس سے بھی بڑھ جائیں تو ( ان کے چالیس چالیس اور پچاس پچاس کے گروپ بنائے جائیں گے اور ) ہر چالیس میں ایک عدد دو سالہ اونٹنی اور ہر پچاس میں ایک عدد تین سالہ اونٹنی ہے ۔ اور ( جنگل ، پہاڑ وغیرہ میں مفت گھاس ) چرنے والی بکریاں جب چالیس کو پہنچ جائیں تو ان میں ( چالیس سے لے کر ) ایک سو بیس تک کی ایک بکری ( زکاۃ ) ہے اور اس سے زیادہ میں دو سو تک دو بکریاں ہیں اور اس سے زیادہ میں تین سو تک تین بکریاں ہیں ، پھر جو بکریاں اس سے بھی زیادہ ہوں تو ہر سو میں ایک بکری ہے اور زکاۃ میں نہ سانڈ دیا جائے گا نہ بوڑھا جانور اور نہ عیب والا ، الا یہ کہ زکاۃ اکٹھی کرنے والا چاہے ( تو کسی ضرورت کے تحت ان کو بطور زکاۃ لے سکتا ہے ) اور زکاۃ کے خوف سے جدا جدا مالوں کو جمع نہ کیا جائے اور جمع شدہ مال کو الگ الگ نہ کیا جائے اور جو دو آدمی ( باہم ) شریک ہوں تو وہ برابری کے ساتھ آپس میں رجوع کریں گے اور چاندی میں جب کہ وہ پانچ اوقیہ ( دو سو درہم ) کو پہنچ جائے ، تو اس میں چالیسواں حصہ لازم ہے ۔