Muslim99Muslim99

Muwatta Imam Malik · Book 1 · Chapter 1

اوقاتِ نماز کے متعلق کتاب

اوقاتِ نماز کا بیان

11 hadiths in this chapter

1

Muwatta Imam Malik #1

Sahih

[1] قَالَ : حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ یَحْیَی اللَّیْثِیُّ، عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ أَخَّرَ الصَّلَاۃَ یَوْمًا فَدَخَلَ عَلَیْہِ عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ فَأَخْبَرَہُ أَنَّ الْمُغِیرَۃَ بْنَ شُعْبَۃَ أَخَّرَ الصَّلَاۃَ یَوْمًا وَہُوَ بِالْکُوفَۃِ فَدَخَلَ عَلَیْہِ أَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِیُّ فَقَالَ مَا ہَذَا یَا مُغِیرَۃُ أَلَیْسَ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ جِبْرِیلَ نَزَلَ فَصَلَّی فَصَلَّی رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ ثُمَّ صَلَّی فَصَلَّی رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ ثُمَّ صَلَّی فَصَلَّی رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ ثُمَّ صَلَّی فَصَلَّی رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ ثُمَّ صَلَّی فَصَلَّی رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ ثُمَّ قَالَ: بِہَذَا أُمِرْتُ ۔ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ اعْلَمْ مَا تُحَدِّثُ بِہِ یَا عُرْوَۃُ أَوَ إِنَّ جِبْرِیلَ ہُوَ الَّذِی أَقَامَ لِرَسُولِ اللّٰہِ ﷺ وَقْتَ الصَّلَاۃِ قَالَ عُرْوَۃُ کَذَلِکَ کَانَ بَشِیرُ بْنُ أَبِی مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِیُّ یُحَدِّثُ عَنْ أَبِیہِ ۔ قَالَ عُرْوَۃُ وَلَقَدْ حَدَّثَتْنِی عَائِشَۃُ زَوْجُ النَّبِیِّ ﷺ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ کَانَ یُصَلِّی الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِی حُجْرَتِہَا قَبْلَ أَنْ تَظْہَرَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ابن شہاب ( محمد بن مسلم بن عبید اللہ بن عبداللہ بن شہاب ، المعروف امام زہری رحمہ اللہ ) سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ ( جو اس وقت خلیفہ ولید بن عبدالملک کے دور میں مدینہ منورہ کے امیر تھے ) نے ایک روز ( عصر کی ) نماز ادا کرنے میں ( کچھ ) تاخیر کر دی تو عروہ بن زبیر رحمہ اللہ اُن کے پاس گئے اور انھیں بتایا کہ بلاشبہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ( بھی ) ایک دن ( عصر کی ) نماز میں دیر کر دی اور وہ ( اس وقت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی جانب سے مغیرہ عراق کے شہر ) کوفہ میں ( حاکم ) تھے تو حضرت ابومسعود ( عقبہ بن عمرو ) انصاری رضی اللہ عنہ اُن کے پاس گئے اور فرمایا کہ اے مغیرہ ! یہ ( دیر سے نماز ادا کرنا ) کیا ہے ؟ کیا آپ کو علم نہیں کہ ( واقعۂ معراج کے فوراً بعد اگلے ہی دن ظہر کے وقت ) جبریل علیہ السلام نازل ہوئے تو انھوں نے ( ظہر کی ) نماز ادا کی ، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ( بھی ان کے ساتھ ) نماز ادا فرمائی ، پھر اُنھوں نے ( عصر کی ) نماز پڑھی تو رسول اللہ ﷺ نے بھی نماز پڑھی ، پھر انھوں نے ( مغرب کی ) نماز پڑھی تو رسول اللہ ﷺ نے بھی نماز پڑھی ، پھر انھوں نے ( عشاء کی ) نماز ادا کی تو رسول اللہ ﷺ نے بھی نماز ادا فرمائی ، پھر انھوں نے ( فجر کی ) نماز پڑھی تو رسول اللہ ﷺ نے بھی نماز ادا فرمائی ، پھر جبریل علیہ السلام نے عرض کیا کہ آپ کو ( اور مجھ کو بھی ) اسی کا حکم فرمایا گیا ہے … ( یہ حدیث سن کر ) عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ( عروہ رحمہ اللہ سے ) کہا کہ جان لو ( اور اچھی طرح سوچ سمجھ کر اور سند کا حوالہ دے کر دھیان سے بتاؤ ، وہ خبر ) جو تم بیان کر رہے ہو ، کیا واقعی جبریل علیہ السلام ہی تھے جنھوں نے رسول اللہ ﷺ کے لیے نماز کے وقت مقرر کیے ؟ عروہ رحمہ اللہ نے ( جواب میں سند بیان کرتے ہوئے ) کہا کہ بشیر بن ابی مسعود رحمہ اللہ اسی طرح اپنے والد ( ابومسعود عقبہ بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ ) سے ( یہ واقعہ ) بیان کرتے تھے ( اور ابومسعود رضی اللہ عنہ اسے نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے تھے ) عروہ رحمہ اللہ نے ( ایک اور دلیل دیتے ہوئے ) کہا کہ یقیناً ( میری خالہ ) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے بیان کیا کہ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نماز عصر اس حال میں ادا فرمایا کرتے تھے کہ دھوپ ( اُن کے حجرے یعنی گھر کی دیوار پر ) چڑھنے سے پہلے ابھی حجرے کے اندر ( یعنی گھر کے اندرونی صحن میں ) ہی ہوتی تھی ۔

2

Muwatta Imam Malik #2

Sahih

[2] وَحَدَّثَنِی یَحْیَی ، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ أَنَّہُ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی رَسُولِ اللّٰہِ ﷺ فَسَأَلَہُ عَنْ وَقْتِ صَلَاۃِ الصُّبْحِ قَالَ فَسَکَتَ عَنْہُ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ حَتَّی إِذَا کَانَ مِنَ الْغَدِ صَلَّی الصُّبْحَ حِینَ طَلَعَ الْفَجْرُ ثُمَّ صَلَّی الصُّبْحَ مِنَ الْغَدِ بَعْدَ أَنْ أَسْفَرَ ثُمَّ قَالَ: أَیْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاۃِ۔ قَالَ ہَا أَنَا ذَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ ۔ فَقَالَ مَا بَیْنَ ہَذَیْنِ وَقْتٌ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا ، اس نے آپ ﷺ سے نمازِ فجر کے وقت کے متعلق سوال کیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس ( کے جواب ) سے خاموشی اختیار کی ، یہاں تک کہ جب اگلا دن آیا تو آپ ﷺ نے صبح کی نماز اُسی وقت ادا فرما لی جب فجر ( صبح صادق ) طلوع ہوئی ، پھر اس سے اگلے دن آپ ﷺ نے صبح کی نماز خوب روشنی ہو جانے کے بعد ادا فرمائی ، پھر فرمایا :’’ نمازِ ( فجر ) کے وقت کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے ؟‘‘ اس ( سائل ) نے عرض کیا کہ میں یہ ہوں ، اے اللہ کے رسول ! تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ان دونوں ( وقتوں ) کے درمیان میں ( نمازِ فجر کا ) وقت ہے ۔‘‘

3

Muwatta Imam Malik #3

Sahih

[3] وَحَدَّثَنِی یَحْیَی، عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، عَنْ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ أَنَّہَا قَالَتْ إِنْ کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ﷺ لَیُصَلِّی الصُّبْحَ فَیَنْصَرِفُ النِّسَائُ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِہِنَّ مَا یُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا زوجۂ پیغمبر ﷺ روایت کرتی ہیں کہ بلاشبہ رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز پڑھتے ، پھر عورتیں ( جماعت سے فارغ ہو کر ) اپنی چادریں لپیٹے ہوئے ( گھروں کو ) واپس لوٹتیں تو اندھیرے کی وجہ سے پہچانی نہ جاتی تھیں ۔

4

Muwatta Imam Malik #4

Sahih

[4] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ وَعَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِیدٍ وَعَنِ الأَعْرَجِ، کُلُّہُمْ یُحَدِّثُونَہُ، عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ: مَنْ أَدْرَکَ رَکْعَۃً مِنَ الصُّبْحِ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَکَ الصُّبْحَ وَمَنْ أَدْرَکَ رَکْعَۃً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَقَدْ أَدْرَکَ الْعَصْرَ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جس نے سورج طلوع ہونے سے پہلے صبح کی نماز میں سے ایک رکعت پا لی تو یقیناً اس نے صبح ( کی مکمل نماز ) کو پا لیا اور جس نے سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے نمازِ عصر میں سے ایک رکعت پا لی تو بلاشبہ اس نے عصر ( کی مکمل نماز ) کو پا لیا ۔‘‘

5

Muwatta Imam Malik #5

Zaeef

[5] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَتَبَ إِلَی عُمَّالِہِ إِنَّ أَہَمَّ أَمْرِکُمْ عِنْدِی الصَّلَاۃُ فَمَنْ حَفِظَہَا وَحَافَظَ عَلَیْہَا حَفِظَ دِینَہُ وَمَنْ ضَیَّعَہَا فَہُوَ لِمَا سِوَاہَا أَضْیَعُ ۔ ثُمَّ کَتَبَ أَنْ صَلُّوا الظُّہْرَ إِذَا کَانَ الْفَیْئُ ذِرَاعًا إِلَی أَنْ یَکُونَ ظِلُّ أَحَدِکُمْ مِثْلَہُ وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ بَیْضَائُ نَقِیَّۃٌ قَدْرَ مَا یَسِیرُ الرَّاکِبُ فَرْسَخَیْنِ أَوْ ثَلَاثَۃً قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ وَالْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَالْعِشَائَ إِذَا غَابَ الشَّفَقُ إِلَی ثُلُثِ اللَّیْلِ فَمَنْ نَامَ فَلَا نَامَتْ عَیْنُہُ فَمَنْ نَامَ فَلَا نَامَتْ عَیْنُہُ فَمَنْ نَامَ فَلَا نَامَتْ عَیْنُہُ وَالصُّبْحَ وَالنُّجُومُ بَادِیَۃٌ مُشْتَبِکَۃٌ ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے عاملوں ( حکومتی کارندوں ) کو لکھا کہ بے شک میرے نزدیک تمھارے تمام معاملات میں سب سے اہم نماز ہے ، چنانچہ جس نے نماز ( کے ارکان و آداب اور شرائط وغیرہ ) کی حفاظت کی ( اور انھیں یاد بھی رکھا ) اور اس پر پابندی کی تو اس نے اپنے پورے دین کو محفوظ کر لیا اور جس نے نماز کو ضائع کر دیا ( خواہ بالکل ادا نہ کی یا صحیح طریقے سے ادا نہ کی ) تو وہ اس کے علاوہ باقی تمام معاملات کو زیادہ ضائع کرنے والا ہے ، پھر انھوں نے ( یہ بھی ) لکھا : ظہر کی نماز اس وقت پڑھو جب ( آفتاب ڈھلنے کے بعد ) سایہ ایک ہاتھ کے برابر ( لمبا ) ہو جائے ( اور یہ ظہر کا وقت جاری رہتا ہے ) یہاں تک کہ تم میں سے کسی کا سایہ اس کے برابر ( ایک مثل ) ہو جائے ، اور نمازِ عصر اس حال میں ادا کرو کہ سورج بلند ، سفید اور ( زردی سے ) صاف ہو ، اس اندازے کے مطابق کہ کوئی شُتر سوار ( نمازِ عصر کے بعد ) چھ میل یا نو میل ( تقریباً ساڑھے چودہ یا ساڑھے اکیس کلو میٹر ) سفر کر سکے اور نمازِ مغرب اس وقت پڑھو جب سورج غروب ہو جائے اور عشاء کی نماز اس وقت ادا کرو جب شفق ( غروبِ آفتاب کے بعد آسمان پر نظر آنے والی سرخی ) غائب ہو جائے ( اور عشاء کا وقت ) تہائی رات تک ہے ، پھر جو شخص ( نمازِ عشاء سے پہلے ) سو جائے تو ( اللہ کرے کہ ) اس کی آنکھ نہ سو سکے ۔ ( اُسے نیند کا مقصد یعنی سکون و آرام اور استراحت حاصل نہ ہو ، پھر دوبار مزید فرمایا : ) جو سو جائے اُس کی آنکھ نہ سوئے ، جو سو جائے اُس کی آنکھ نہ لگے ، اور صبح کی نماز اس حال میں پڑھو کہ تارے ظاہر ہوں اور باہم ملے جلے ہوں ۔

6

Muwatta Imam Malik #6

Sahih

[6] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ عَمِّہِ أَبِی سُہَیْلِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِیہِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، کَتَبَ إِلَی أَبِی مُوسَی أَنْ صَلِّ الظُّہْرَ، إِذَا زَاغَتِ الشَّمْسُ وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَیْضَائُ نَقِیَّۃٌ قَبْلَ أَنْ یَدْخُلَہَا صُفْرَۃٌ وَالْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَأَخِّرِ الْعِشَائَ مَا لَمْ تَنَمْ وَصَلِّ الصُّبْحَ وَالنُّجُومُ بَادِیَۃٌ مُشْتَبِکَۃٌ وَاقْرَأْ فِیہَا بِسُورَتَیْنِ طَوِیلَتَیْنِ مِنَ الْمُفَصَّلِ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ابو سہیل ( نافع ) بن مالک اپنے والد ( مالک بن ابی عامر اصبحی ) سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ ظہر کی نماز پڑھو جب سورج ڈھل جائے اور نمازِ عصر اس حال میں پڑھو کہ سورج سفید اور صاف ہو ، اس سے پہلے پہلے کہ اس میں زردی داخل ہو ، اور مغرب کی نماز پڑھو جب سورج غروب ہو جائے ، اور عشاء کو مؤخر کر دو جب تک تمھیں نیند نہ آئے اور صبح کی نماز پڑھو اس حال میں کہ تارے ظاہر اور آپس میں ملے جلے ہوں اور نماز فجر میں ’’ مفصل ‘‘ میں سے دو لمبی سورتوں کی تلاوت کیا کرو ۔

7

Muwatta Imam Malik #7

Zaeef

[7] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَتَبَ إِلَی أَبِی مُوسَی الأَشْعَرِیِّ أَنْ صَلِّ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَیْضَائُ نَقِیَّۃٌ قَدْرَ مَا یَسِیرُ الرَّاکِبُ ثَلَاثَۃَ فَرَاسِخَ وَأَنْ صَلِّ الْعِشَائَ مَا بَیْنَکَ وَبَیْنَ ثُلُثِ اللَّیْلِ فَإِنْ أَخَّرْتَ فَإِلَی شَطْرِ اللَّیْلِ وَلَا تَکُنْ مِنَ الْغَافِلِینَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے باب عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ نمازِ عصر اس حال میں ادا کرو کہ سورج سفید اور صاف ہو ، اتنا وقت ہو کہ ( اس کے بعد غروبِ آفتاب سے قبل ) اونٹ کا سوار تین فرسخ ( نو میل یعنی تقریباً ساڑھے اکیس کلومیٹر ) سفر کر سکے اور نمازِ عشاء ( آغازِ وقت سے لے کر ) تہائی رات تک کے درمیان میں پڑھ لو ، پھر اگر اس سے بھی تاخیر کرنا چاہو تو نصف رات تک کر سکتے ہو اور غافلوں میں سے مت ہو جاؤ ۔ Muwatta Imam Malik#7 اوقاتِ نماز کے متعلق کتاب Status: ضعیف www.theislam360.com

8

Muwatta Imam Malik #8

Sahih

[8] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ زِیَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ رَافِعٍ، مَوْلَی أُمِّ سَلَمَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ﷺ أَنَّہُ سَأَلَ أَبَا ہُرَیْرَۃَ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاۃِ فَقَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ أَنَا أُخْبِرُکَ صَلِّ الظُّہْرَ إِذَا کَانَ ظِلُّکَ مِثْلَکَ وَالْعَصْرَ إِذَا کَانَ ظِلُّکَ مِثْلَیْکَ وَالْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَالْعِشَائَ مَا بَیْنَکَ وَبَیْنَ ثُلُثِ اللَّیْلِ وَصَلِّ الصُّبْحَ بِغَبَشٍ ۔ یَعْنِی الْغَلَسَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن رافع رحمہ اللہ جو زوجۂ پیغمبر ﷺ سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ہیں ، نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نماز کے وقت کے متعلق سوال کیا تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ میں تمھیں ( اس کی ) خبر دے دیتا ہوں ، تو نمازِ ظہر پڑھ جب تیرا سایہ تیرے برابر یعنی ایک مثل ہو جائے اور نمازِ عصر پڑھ جب تیرا سایہ تجھ سے دوگنا یعنی دو مثل ہو جائے اور مغرب کو ادا کر جب سورج ڈوب جائے اور عشاء کو رات کے تہائی حصے تک کے درمیان میں ادا کر اور صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھ لیا کر ۔

9

Muwatta Imam Malik #9

Sahih

[9] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّہُ قَالَ کُنَّا نُصَلِّی الْعَصْرَ ثُمَّ یَخْرُجُ الإِنْسَانُ إِلَی بَنِی عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَیَجِدُہُمْ یُصَلُّونَ الْعَصْرَ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے فرمایا کہ ہم ( مدینہ منورہ میں نبی مکرم ﷺ کے ہمراہ ) نمازِ عصر ادا کرتے تھے ، پھر ( ہم میں سے ) کوئی شخص بنو عمرو بن عوف کے محلے کی طرف جاتا تو ان کو ( ابھی ) نماز عصر ادا کرتے ہوئے پا لیتا تھا ۔

10

Muwatta Imam Malik #10

Sahih

[10] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، أَنَّہُ قَالَ کُنَّا نُصَلِّی الْعَصْرَ ثُمَّ یَذْہَبُ الذَّاہِبُ إِلَی قُبَائٍ فَیَأْتِیہِمْ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ۔

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم ( معیتِ رسول ﷺ میں ) نمازِ عصر ادا کرتے ، پھر کوئی جانے والا قبا کی طرف جاتا تو وہ ان کے پاس اس حالت میں پہنچ جاتا تھا کہ سورج ابھی بلند ہی ہوتا تھا ۔

11

Muwatta Imam Malik #11

Sahih

[11] وَحَدَّثَنِی عَنْ مَالِکٍ، عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ أبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّہُ قَالَ مَا أَدْرَکْتُ النَّاسَ إِلاَّ وَہُمْ یُصَلُّونَ الظُّہْرَ بِعَشِیٍّ۔

اردو ترجمہ · Urdu

قاسم بن محمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے لوگوں ( صحابہ رضی اللہ عنہم و تابعین رحمہم اللہ ) کو صرف اور صرف ایسا ( ہی کرتے ) پایا کہ وہ ظہر کی نماز کو ٹھنڈے وقت میں ادا کرتے تھے ۔