Musnad Ahmad #17238
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ يُحَدِّثُ، أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ وَكَانَ أَحَدَ النُّقَبَاءِ يَوْمَ الْعَقَبَةِ، أَنَّهُ أَخَذَتْهُ الشَّوْكَةُ، فَجَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ، فَقَالَ: " بِئْسَ الْمَيِّتُ لَيَهُودُ" مَرَّتَيْنِ،" سَيَقُولُونَ: لَوْلَا دَفَعَ عَنْ صَاحِبِهِ؟ وَلَا أَمْلِكُ لَهُ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا وَلَأَتَمَحَّلَنَّ لَهُ"، فَأَمَرَ بِهِ، وَكُوِيَ بِخَطَّيْنِ فَوْقَ رَأْسِهِ، فَمَاتَ .
اردو ترجمہ · Urdu
حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ جو بیعت عقبہ کے موقع پر نقباء میں سے ایک نقیب تھے کے حوالے سے مروی ہے کہ انہیں ایک مرتبہ بیماری نے آلیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لئے تشریف لائے اور دو مرتبہ فرمایا بدترین میت یہودیوں کی ہوتی ہے وہ کہہ سکتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھی کی بیماری کو دور کیوں نہ کردیا، میں ان کے لئے کسی نفع و نقصان کا مالک نہیں ہوں، البتہ میں ان کے لئے تدبیر ضرور کرسکتا ہوں، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو ان کے سر کے اوپر دو مرتبہ داغا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے اور فوت ہوگئے۔