Musnad Ahmad #17237
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ، أَنَّهُ قَالَتْ لَهُ أُمُّهُ: أَلَا تَنْطَلِقُ فَتَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا يَسْأَلُهُ النَّاسُ، فَانْطَلَقْتُ أَسْأَلُهُ، فَوَجَدْتُهُ قَائِمًا يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ: " مَنْ اسْتَعَفَّ أَعَفَّهُ اللَّهُ، وَمَنْ اسْتَغْنَى أَغْنَاهُ اللَّهُ، وَمَنْ سَأَلَ النَّاسَ وَلَهُ عِدْلُ خَمْسِ أَوَاقٍ فَقَدْ سَأَلَ إِلْحَافًا" ، فَقُلْتُ بَيْنِي وَبَيْنَ نَفْسِي لَنَاقَةٌ لَهُ هِيَ خَيْرٌ مِنْ خَمْسِ أَوَاقٍ، وَلِغُلَامِهِ نَاقَةٌ أُخْرَى هِيَ خَيْرٌ مِنْ خَمْسِ أَوَاقٍ، فَرَجَعْتُ، وَلَمْ أَسْأَلْهُ.
اردو ترجمہ · Urdu
ایک مزنی صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان سے ان کی والدہ نے کہا کہ تم بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر دوسرے لوگوں کی طرح سوال کیوں نہیں کرتے؟ چنانچہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سوال کے لئے روانہ ہو، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے خطبہ دے رہے ہیں اور فرما رہے ہیں جو شخص عفت طلب کرتا ہے، اللہ اسے عفت عطاء فرما دیتا ہے اور جو شخص غناء طلب کرتا ہے اللہ اسے غناء عطاء فرما دیتا ہے اور جو شخص پانچ اوقیہ چاندی کے برابر رقم ہونے کے باوجود لوگوں سے مانگتا پھرتا ہے، وہ الحاف کے ساتھ سوال کرتا ہے، میں نے اپنے دل میں اپنی اونٹنی کے متعلق سوچا کہ وہ تو پانچ اوقیہ سے بہتر ہے میرے غلام کے پاس بھی ایک اونٹنی ہے اور وہ بھی پانچ اوقیہ سے بہتر ہے، چنانچہ میں واپس آگیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے متعلق سوال نہیں کیا۔