Musnad Ahmad #16208
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ وَزَكَرِيَّا ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ مُضَرِّسٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِجَمْعٍ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، جِئْتُكَ مِنْ جَبَلَيْ طَيِّءٍ، أَتْعَبْتُ نَفْسِي وَأَنْصَبْتُ رَاحِلَتِي، وَاللَّهِ مَا تَرَكْتُ مِنْ حَبْلٍ إِلَّا وَقَفْتُ عَلَيْهِ، فَهَلْ لِي مِنْ حَجٍّ؟، فَقَالَ:" مَنْ شَهِدَ مَعَنَا هَذِهِ الصَّلَاةَ يَعْنِي صَلَاةَ الْفَجْرِ بِجَمْعٍ، وَوَقَفَ مَعَنَا حَتَّى نُفِيضَ مِنْهُ، وَقَدْ أَفَاضَ قَبْلَ ذَلِكَ مِنْ عَرَفَاتٍ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا، فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ، وَقَضَى تَفَثَهُ".
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا عروہ بن مضرس سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ حاضر ہوا اس وقت آپ مزدلفہ میں تھے میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں بنوطی کے دو پہاڑوں کے درمیان سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں میں نے اس مقصد کے لئے اپنے آپ کو تھکا دیا اور اپنی سواری کو مشقت میں ڈال دیا ہے واللہ میں نے ریت کا کوئی ایسا لمبا ٹکڑا نہیں چھوڑا جہاں میں ٹھہرا نہ ہوں کیا میرا حج قبول ہو گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے ہمارے ساتھ آج فجر کی نماز میں شرکت کی اور ہمارے ساتھ وقوف کر لیا یہاں تک کہ وہ واپس منیٰ کی طرف چلا گیا اور اس سے پہلے وہ رات یا دن میں وقوف عرفات کر چکا تھا تو اس کا حج مکمل ہو گیا اور اس کی محنت وصولی ہو گئی۔