Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 8 · Chapter 296

مدینہ والوں کی روایات

حضرت ابورزین لقیط بن عامر کی مرویات۔

1 hadith in this chapter

16207

Musnad Ahmad #16207

Zaeef

(حديث قدسي) قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ النَّاجِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنٌ لِكِنَانَةَ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ مِرْدَاسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ أَبَاهُ الْعَبَّاسَ بْنَ مِرْدَاسٍ ، حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا عَشِيَّةَ عَرَفَةَ لِأُمَّتِهِ بِالْمَغْفِرَةِ وَالرَّحْمَةِ، فَأَكْثَرَ الدُّعَاءَ، فَأَجَابَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ قَدْ فَعَلْتُ، وَغَفَرْتُ لِأُمَّتِكَ إِلَّا مَنْ ظَلَمَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، فَقَالَ:" يَا رَبِّ، إِنَّكَ قَادِرٌ أَنْ تَغْفِرَ لِلظَّالِمِ وَتُثِيبَ الْمَظْلُومَ خَيْرًا مِنْ مَظْلَمَتِهِ" فَلَمْ يَكُنْ فِي تِلْكَ الْعَشِيَّةِ إِلَّا ذَا، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ، دَعَا غَدَاةَ الْمُزْدَلِفَةِ، فَعَادَ يَدْعُو لِأُمَّتِهِ، فَلَمْ يَلْبَثْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَبَسَّمَ، فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ضَحِكْتَ فِي سَاعَةٍ لَمْ تَكُنْ تَضْحَكُ فِيهَا، فَمَا أَضْحَكَكَ، أَضْحَكَ اللَّهُ سِنَّكَ؟ قَالَ:" تَبَسَّمْتُ مِنْ عَدُوِّ اللَّهِ إِبْلِيسَ حِينَ عَلِمَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ اسْتَجَابَ لِي فِي أُمَّتِي وَغَفَرَ لِلظَّالِمِ، أَهْوَى يَدْعُو بِالثُّبُورِ وَالْوَيْلِ، وَيَحْثُو التُّرَابَ عَلَى رَأْسِهِ، فَتَبَسَّمْتُ مِمَّا يَصْنَعُ جَزَعُهُ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابن مرداس سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شب عرفہ اپنی امت کے لئے بڑی کثرت سے مغفرت اور رحمت کی دعا کی اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دیا کہ میں نے آپ کی دعاقبول کر لی اور آپ کی امت کو بخش دیا لیکن ایک دوسرے پر ظلم کرنے والوں کو معاف نہیں کر وں گا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پروردگار تو اس بات پر قادر ہے کہ ظالم کو معاف فرمادے اور مظلوم کو اس پر ہو نے والے ظلم کا بہترین بدلہ عطا فرمادے گا اس رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہی دعا فرماتے رہے۔ اگلے دن جب آپ مزدلفہ میں صبح کے وقت دعا کرنے لگے تو پھر یہی دعا فرمائی کچھ ہی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکرانے لگے کسی صحابی نے پوچھا: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اس وقت آپ عام طور پر ہنستے نہیں ہیں اللہ آپ کو ہنساتا رکھے آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ کے دشمن ابلیس کو دیکھ کر مسکرا رہا ہوں کہ جب اسے یہ معلوم ہوا کہ اللہ نے میری امت کے بارے میں میری دعا قبول فرمالی اور ظالم کو بھی بخشنے کا وعدہ کر لیا تو وہ ہلاکت بربادی پکارتا ہوا اور سر پر خاک اڑاتا ہوا بھاگ گیا مجھے اس کی یہ حالت دیکھ کر ہنسی آگئی۔