Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 7 · Chapter 252

مکہ والوں کی روایات

حضرت سہل بن حنیف کی مرویات۔

15 hadiths in this chapter

15973

Musnad Ahmad #15973

Hasan

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، قَالَ: كُنْتُ أَلْقَى مِنَ الْمَذْيِ شِدَّةً، فَكُنْتُ أُكْثِرُ الِاغْتِسَالَ مِنْهُ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" إِنَّمَا يُجْزِئُكَ مِنْهُ الْوُضُوءُ"، فَقُلْتُ: كَيْفَ بِمَا يُصِيبُ ثَوْبِي؟ فَقَالَ:" يَكْفِيكَ أَنْ تَأْخُذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ، فَتَمْسَحَ بِهَا مِنْ ثَوْبِكَ، حَيْثُ تَرَى أَنَّهُ أَصَابَ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سہل بن حنیف سے مروی ہے کہ مجھے کثرت سے خروج مذی کا مرض تھا جس کی بناء پر مجھے کثرت سے غسل بھی کرنا پڑتا تھا ایک دن میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا: تو آپ نے فرمایا: تمہارے لئے وضو ہی کافی ہے میں نے پوچھا کہ اس کے جو قطرے کپڑوں کو لگ جائیں فرمایا: اس کے لئے اتناہی کافی ہے کہ ہتھیلی میں پانی بھرو اور جہاں اس کے نشانات دیکھو اس پر چھڑک دو۔

15974

Musnad Ahmad #15974

Sahih

(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ: قَالَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ : اتَّهِمُوا رَأْيَكُمْ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنَا يَوْمَ أَبِي جَنْدَلٍ وَلَوْ نَسْتَطِيعُ أَنْ نَرُدَّ أَمْرَهُ لَرَدَدْنَاهُ، وَاللَّهِ مَا وَضَعْنَا سُيُوفَنَا عَنْ عَوَاتِقِنَا مُنْذُ أَسْلَمْنَا لِأَمْرٍ يُفْظِعُنَا إِلَّا أَسْهَلَ بِنَا إِلَى أَمْرٍ نَعْرِفُهُ، إِلَّا هَذَا الْأَمْرَ مَا سَدَدْنَا خَصْمًا إِلَّا انْفَتَحَ لَنَا خَصْمٌ آخَرُ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سہل بن حنیف سے مروی ہے کہ اپنی رائے کو ہمیشہ صحیح نہ سمجھا کر و میں نے ابوجندل والا دن دیکھا ہے اگر ہم میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی حکم کو ٹالنے کی ہمت ہو تی تو اس دن ٹال دیتے واللہ اسلام قبول کرنے کے بعد جب بھی ہم نے کسی پریشان کن معاملے میں اپنے کندھوں سے تلواریں اتاریں وہ ہمارے لئے آسان ہو گیا سوائے اس معاملے کے کہ جب بھی ہم ایک فریق کا راستہ بند کرتے ہیں تو دوسرے کا راستہ کھل جاتا ہے۔

15975

Musnad Ahmad #15975

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ سِيَاهٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا وَائِلٍ فِي مَسْجِدِ أَهْلِهِ أَسْأَلُهُ عَنْ هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ الَّذِينَ قَتَلَهُمْ عَلِيٌّ بِالنَّهْرَوَانِ، فَِيمَا اسْتَجَابُوا لَهُ، وَفِيمَا فَارَقُوهُ، وَفِيمَا اسْتَحَلَّ قِتَالَهُمْ، قَالَ: كُنَّا بِصِفِّينَ، فَلَمَّا اسْتَحَرَّ الْقَتْلُ بِأَهْلِ الشَّامِ، اعْتَصَمُوا بِتَلٍّ، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ لِمُعَاوِيَةَ: أَرْسِلْ إِلَى عَلِيٍّ بِمُصْحَفٍ، وَادْعُهُ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ، فَإِنَّهُ لَنْ يَأْبَى عَلَيْكَ , فَجَاءَ بِهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللَّهِ أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَابِ يُدْعَوْنَ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ يَتَوَلَّى فَرِيقٌ مِنْهُمْ وَهُمْ مُعْرِضُونَ , فَقَالَ عَلِيٌّ: نَعَمْ، أَنَا أَوْلَى بِذَلِكَ، بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللَّهِ. قَالَ: فجاءته الخوارج وَنَحْنُ نَدْعُوهُمْ يَوْمَئِذٍ: الْقُرَّاءَ، وَسُيُوفُهُمْ عَلَى عَوَاتِقِهِمْ، فَقَالُوا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَا نَنْتَظِرُ بِهَؤُلَاءِ الْقَوْمِ الَّذِينَ عَلَى التَّلِّ؟ أَلَا نَمْشِي إِلَيْهِمْ بِسُيُوفِنَا حَتَّى يَحْكُمَ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ؟ فَتَكَلَّمَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، اتَّهِمُوا أَنْفُسَكُمْ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنَا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ يَعْنِي الصُّلْحَ الَّذِي كَانَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ وَلَوْ نَرَى قِتَالًا لَقَاتَلْنَا، فَجَاءَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَسْنَا عَلَى الْحَقِّ وَهُمْ عَلَى بَاطِلٍ؟ أَلَيْسَ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ؟ قَالَ:" بَلَى"، قَالَ: فَفِيمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا وَنَرْجِعُ وَلَمَّا يَحْكُمِ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ؟ فَقَالَ:" يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَلَنْ يُضَيِّعَنِي أَبَدًا"، قَالَ: فَرَجَعَ وَهُوَ مُتَغَيِّظٌ , فَلَمْ يَصْبِرْ حَتَّى أَتَى أَبَا بَكْرٍ، فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ، أَلَسْنَا عَلَى حَقٍّ وَهُمْ عَلَى بَاطِلٍ؟ أَلَيْسَ قَتْلَانَا فِي الْجَنَّةِ وَقَتْلَاهُمْ فِي النَّارِ؟ قَالَ: بَلَى , قَالَ: فَفِيمَ نُعْطِي الدَّنِيَّةَ فِي دِينِنَا وَنَرْجِعُ وَلَمَّا يَحْكُمِ اللَّهُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ؟ فَقَالَ: يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَنْ يُضَيِّعَهُ اللَّهُ أَبَدًا , قَالَ: فَنَزَلَتْ سُورَةُ الْفَتْحِ، قَالَ: فَأَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عُمَرَ، فَأَقْرَأَهَا إِيَّاهُ , قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَفَتْحٌ هُوَ؟ قَالَ:" نَعَمْ".

اردو ترجمہ · Urdu

حبیب بن ابی ثابت کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ابو وائل کے پاس ان کے گھر کی مسجد میں آیا تاکہ ان سے ان لوگوں کے متعلق پوچھ سکوں جنہیں سیدنا علی نے نہروان کے مقام پر قتل کیا تھا انہوں نے سیدنا علی کی کون سی بات مانی کس میں اختلاف کیا۔ اور سیدنا علی نے کس بناء پر ان سے قتال کو جائز سمجھا وہ کہنے لگے کہ ہم لوگ صفین میں تھے جب اہل شام کے مقتولین کی تعداد زیادہ بڑھنے لگی تو وہ ایک ٹیلے پر چڑھ گئے اور سیدنا عمرو بن عاص نے سیدنا امیر معاویہ سے کہا کہ آپ سیدنا علی کے پاس قرآن کر یم کا ایک نسخہ بھیجیے اور انہیں کتاب اللہ کی دعوت دیجیے وہ آپ کی بات سے کسی صورت انکار نہیں کر یں گے۔ چنانچہ سیدنا علی کے پاس ایک آدمی یہ پیغام لے کر آیا اور کہنے لگا کہ ہمارے اور تمہارے درمیان کتاب اللہ ثالث ہے اور یہ آیت پڑھی کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا وہ انہیں کتاب اللہ کی طرف دعوت دیتے ہیں تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرنے کا زیادہ حق دارہوں ہمارے اور تمہارے درمیان کتاب اللہ ثالث ہے اس کے بعد خوارج جنہیں ہم اس وقت قراء کہتے تھے سیدنا علی کے پاس اپنے کندھوں پر تلواریں لٹکائے ہوئے آئے اور کہنے لگے کہ اے امیر المومنین یہ لوگ جو ٹیلے پر ہیں ان کے متعلق ہم کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں کیا ہم ان پر اپنی تلواریں لے کر حملہ نہ کر دے یہاں تک کہ اللہ ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ کر دے۔ اس پر سیدنا سہل بن حنیف بولے اور کہنے لگے اے لوگو اپنے آپ کو ہمیشہ صحیح مت سمجھا کر و ہم نے حدیبیہ کا وہ دن بھی دیکھا ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرکین کے درمیان صلح ہوئی تھی اگر ہم جنگ کرنا چاہتے تو کر سکتے تھے اسی دوران سیدنا عمر بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! کیا ہم حق پر ہیں اور وہ باطل پر نہیں ہیں کیا ہمارے مقتول جنت میں اور ان کے مقتول جہنم میں نہیں جائیں گے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں وہ کہنے لگے کہ پھر ہم اپنے دین کے معاملے میں دب کر صلح کیوں کر یں اور اسی طرح واپس لوٹ جائیں کہ اللہ نے ابھی تک ہمارے اور ان کے درمیان کوئی فیصلہ ہی نہیں کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابن خطاب میں اللہ کا پیغمبر ہوں وہ مجھے کبھی بھی ضائع نہیں کر ے گا۔ سیدنا عمر اسی طرح غصے کی حالت میں واپس چلے گئے اور ان سے صبر نہ ہو سکا وہ سیدنا ابوبکر کے پاس پہنچے اور ان سے بھی یہی سوال و جواب ہوئے سیدنا صدیق اکبر نے فرمایا: وہ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ انہیں کبھی بھی ضائع نہیں کر ے گا اس کے بعد سورت فتح نازل ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سیدنا عمر کے پاس بھیجا اور انہیں یہ سورت پڑھ کر سنائی سیدنا عمر کہنے لگے یا رسول اللہ! کیا یہ فتح ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔

15976

Musnad Ahmad #15976

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ يُسَيْرِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَتِيهُ قَوْمٍ قِبَلَ الْمَشْرِقِ مُحَلَّقَةٌ رُءُوسُهُمْ" , وَسُئِلَ عَنِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ:" حَرَامٌ آمِنًا، حَرَامٌ آمِنًا".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سہل بن حنیف سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مشرق کی طرف سے ایک قوم آئے گی جو بھٹکتی پھرے گی اور ان کے سرمنڈے ہوئے ہوں گے کسی نے مدینہ منورہ کے متعلق پوچھا: تو فرمایا کہ وہ حرم ہے اور امن وامان والا ہے۔

15977

Musnad Ahmad #15977

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِزَامُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْعَامِرِيُّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ يُسَيْرِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، فَقُلْتُ: حَدِّثْنِي مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي الْحَرُورِيَّةِ , قَالَ: أُحَدِّثُكَ مَا سَمِعْتُ لَا أَزِيدُكَ عَلَيْهِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ قَوْمًا يَخْرُجُونَ مِنْ هَاهُنَا، وَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْعِرَاقِ" يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ" , قُلْتُ: هَلْ ذَكَرَ لَهُمْ عَلَامَةً؟ قَالَ: هَذَا مَا سَمِعْتُ، لَا أَزِيدُكَ عَلَيْهِ.

اردو ترجمہ · Urdu

یسیر بن عمرو سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں سیدنا سہل بن حنیف کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے عرض کیا: کہ مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیے جو فرقہ حروریہ کے متعلق آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوانہوں نے فرمایا کہ میں تم سے صرف اتنا ہی بیان کرتا ہوں جو میں نے سنا ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں کہتا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک قوم کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے جو یہاں سے نکلے گی اور عراق کی طرف اشارہ کیا وہ لوگ قرآن تو پڑھتے ہوں گے لیکن وہ ان کے گلے سے نیچے نہیں اترے گا وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ راوی کہتے ہیں میں نے ان سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کوئی علامت بھی ذکر فرمائی ہے انہوں نے جواب دیا میں نے جو سنا تھا وہ یہی ہے کہ میں اسے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتا۔

15978

Musnad Ahmad #15978

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي الرَّبَابُ . وَقَالَ يُونُسُ فِي حَدِيثِهِ: قَالَتْ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ يَقُولُ: مَرَرْنَا بِسَيْلٍ، فَدَخَلْتُ فَاغْتَسَلْتُ مِنْهُ، فَخَرَجْتُ مَحْمُومًا، فَنُمِيَ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" مُرُوا أَبَا ثَابِتٍ يَتَعَوَّذُ" , قُلْتُ: يَا سَيِّدِي، وَالرُّقَى صَالِحَةٌ؟ قَالَ:" لَا رُقْيَةَ إِلَّا فِي نَفْسٍ، أَوْ حُمَةٍ , أَوْ لَدْغَةٍ". قَالَ عَفَّانُ:" النَّظْرَةُ , وَاللَّدْغَةُ , وَالْحُمَةُ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سہل بن حنیف سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی علاقے میں پانی کی ندی پر سے ہمارا گزر ہوا میں اس میں غسل کرنے لگا جب نکلا تو بخار چڑھ چکا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا تو فرمایا: ابوثابت سے کہو کہ اپنے اوپر تعوذ پڑھ کر پھونک لیں میں نے عرض کیا: آقا جھاڑ پھونک بھی ہو سکتا ہے فرمایا: جھاڑ پھونک صرف نظر بد سانپ کے ڈسنے یا بچھو کے ڈسنے کی صورت میں ہو سکتا ہے۔

15979

Musnad Ahmad #15979

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ يَعُودُهُ، قَالَ: فَوَجَدْنَا عِنْدَهُ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ، قَالَ: فَدَعَا أَبُو طَلْحَةَ إِنْسَانًا، فَنَزَعَ نَمَطًا تَحْتَهُ، فَقَالَ لَهُ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ: لِمَ تَنْزِعُهُ؟ قَالَ: لِأَنَّ فِيهِ تَصَاوِيرَ، وَقَدْ قَالَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَدْ عَلِمْتَ , قَالَ سَهْلٌ : أَوَلَمْ يَقُلْ:" إِلَّا مَا كَانَ رَقْمًا فِي ثَوْبٍ؟" , قَالَ: بَلَى، وَلَكِنَّهُ أَطْيَبُ لِنَفْسِي.

اردو ترجمہ · Urdu

عبیداللہ بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ سیدنا ابوطلحہ انصاری کے پاس ان کی عیادت کے لئے گئے تو وہاں سیدنا سہل بن حنیف بھی آئے ہوئے تھے اسی دوران سیدنا ابوطلحہ نے ایک آدمی کو بلایا جس نے ان کے حکم پر ان کے نیچے بچھا ہوا نمطہ نکال لیا سیدنا سہل نے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ اس پر تصویریں ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق جو فرمایا ہے وہ آپ بھی جانتے ہیں سیدنا سہل نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑوں میں بنے ہوئے نقش کو مستثنی نہیں کیا انہوں نے فرمایا: کیوں نہیں لیکن مجھے اسی میں اپنے لئے راحت محسوس ہو تی ہے۔

15980

Musnad Ahmad #15980

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ وَسَارُوا مَعَهُ نَحْوَ مَكَّةَ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِشِعْبِ الْخَزَّارِ مِنَ الْجُحْفَةِ، اغْتَسَلَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ، وَكَانَ رَجُلًا أَبْيَضَ، حَسَنَ الْجِسْمِ وَالْجِلْدِ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ أَخُو بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ وَهُوَ يَغْتَسِلُ، فَقَالَ: مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ وَلَا جِلْدَ مُخَبَّأَةٍ، فَلُبِطَ سَهْلٌ، فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لَكَ فِي سَهْلٍ , وَاللَّهِ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ وَمَا يُفِيقُ , قَالَ:" هَلْ تَتَّهِمُونَ فِيهِ مِنْ أَحَدٍ؟" , قَالُوا: نَظَرَ إِلَيْهِ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ , فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامِرًا، فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ، وَقَالَ:" عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ؟ هَلَّا إِذَا رَأَيْتَ مَا يُعْجِبُكَ بَرَّكْتَ؟" , ثُمَّ قَالَ لَهُ:" اغْتَسِلْ لَهُ" , فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، وَمِرْفَقَيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ، وَأَطْرَافَ رِجْلَيْهِ، وَدَاخِلَةَ إِزَارِهِ فِي قَدَحٍ، ثُمَّ صُبَّ ذَلِكَ الْمَاءُ عَلَيْهِ، يَصُبُّهُ رَجُلٌ عَلَى رَأْسِهِ وَظَهْرِهِ مِنْ خَلْفِهِ، ثُمَّ يُكْفِئُ الْقَدَحَ وَرَاءَهُ، فَفَعَلَ بِهِ ذَلِكَ، فَرَاحَ سَهْلٌ مَعَ النَّاسِ، لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سہل سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو ساتھ لے کر مکہ مکر مہ کی طرف روانہ ہوئے جب حجفہ میں شعب خرار میں پہنچے تو سیدنا سہل بن حنیف غسل کے ارادے سے نکلے وہ بڑے حسین و جمیل جسم کے مالک تھے دوران غسل عامر بن ربیعہ کی نظر ان کے جسم پر پڑی اور وہ کہنے لگے کہ میں نے آج تک ایسی حسین جلد نہیں دیکھی یہ کہنے کی دیر تھی کہ سیدنا سہل گرپڑے ایک آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! سہل کا کچھ کیجیے واللہ وہ تو سر اٹھارہا ہے اور نہ اسے ہو ش ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کس پر اس کا الزام لگاتے ہو لوگوں نے بتایا کہ انہیں عامر بن ربیعہ نے دیکھا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عامر کو بلا کر انہیں سخت سست کہا اور فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو کیوں قتل کرتا ہے جب اسے کوئی تعجب خیز چیز نظر آتی ہے تو وہ اس کے لئے برکت کی دعا کیوں نہیں کرتا پھر ان سے اپنے اعضاء دھونے کے لئے فرمایا: انہوں نے ایک پیالے میں اپنا چہرہ ہاتھ کہنیاں گھٹنے پاؤں کے حصے اور تہبند کے اندر سے دھویا پھر حکم دیا کہ یہ پانی سہل پر بہایا جائے وہ اس طرح کہ ایک آدمی اس کے سر پر پانی ڈالے اور پیچھے سے کمر پر ڈالے اس کے بعد پورا پیالہ اس پر انڈیل دے جب اس کے مطابق کیا گیا تو سیدنا سہل لوگوں کے ساتھ اس طرح چلنے لگے جیسے انہیں کوئی تکلیف تھی ہی نہیں۔

15981

Musnad Ahmad #15981

Hasan

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنِي مُجَمِّعُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَنْصَارِيُّ بِقُبَاءٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْكَرْمَانِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ , يَقُولُ: قَالَ أَبِي : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ خَرَجَ حَتَّى يَأْتِيَ هَذَا الْمَسْجِدَ يَعْنِي مَسْجِدَ قُبَاءٍ فَيُصَلِّيَ فِيهِ، كَانَ كَعَدْلِ عُمْرَةٍ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سہل سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص مسجد قباء میں آ کر دو رکعتیں پڑھ لے تو یہ ایک عمرہ کرنے کے برابر ہے۔

15982

Musnad Ahmad #15982

Sahih

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُجَمِّعُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْكَرْمَانِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.

اردو ترجمہ · Urdu

گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

15983

Musnad Ahmad #15983

Sahih

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَاتِمٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْكَرْمَانِيُّ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.

اردو ترجمہ · Urdu

گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

15984

Musnad Ahmad #15984

Sahih

قَالَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ مَالِكِ بْنِ عَبْدِ الْقَيْسِ أَخْبَرَهُ وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ سَهْلًا أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ قَالَ أَنْتَ رَسُولِي إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ قُلْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَنِي يَقْرَأُ عَلَيْكُمْ السَّلَامَ وَيَأْمُرُكُمْ بِثَلَاثٍ لَا تَحْلِفُوا بِغَيْرِ اللَّهِ وَإِذَا تَخَلَّيْتُمْ فَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ وَلَا تَسْتَدْبِرُوهَا وَلَا تَسْتَنْجُوا بِعَظْمٍ وَلَا بِبَعْرَةٍ

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سہل سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں روانہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تم اہل مکہ کی طرف میرے قاصد ہوانہیں جا کر یہ پیغام پہنچادو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تمہاری طرف بھیجا ہے وہ تمہیں سلام کہتے ہیں اور تین چیزوں کا حکم دیتے ہیں اللہ کے علاوہ کسی اور کی قسم نہ کھاؤ قضاء حاجت کر و تو قبلہ کی طرف منہ یا پشت نہ کر و اور ہڈی یا مینگنی سے اسنتجاء نہ کر و۔

15985

Musnad Ahmad #15985

Zaeef

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ أُذِلَّ عِنْدَهُ مُؤْمِنٌ، فَلَمْ يَنْصُرْهُ وَهُوَ يقْدِرٌ عَلَى أَنْ يَنْصُرَهُ، أَذَلَّهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سہل سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص کی موجودگی میں کسی مومن کو ذلیل کیا جارہا ہواور وہ قوت کے باوجود اس کی مدد نہ کر ے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ساری مخلوق کے سامنے ذلیل کر یں گے۔

15986

Musnad Ahmad #15986

Zaeef

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَعَانَ مُجَاهِدًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ مُكَاتَبًا فِي رَقَبَتِهِ، أَظَلَّهُ اللَّهُ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سہل سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کسی مجاہد کے ساتھ یا کسی عبد مکاتب کو آزاد کرانے میں اس کی مدد کرتا ہے اللہ اسے اپنے عرش کے سائے میں اس دن جگہ عطا فرمائے گا جس دن کہیں سایہ نہ ہو گا۔

15987

Musnad Ahmad #15987

Sahih

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، أَنَّ سَهْلًا حَدَّثَهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ أَعَانَ مُجَاهِدًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ غَارِمًا فِي عُسْرَتِهِ، أَوْ مُكَاتَبًا فِي رَقَبَتِهِ، أَظَلَّهُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سہل سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کسی مجاہد کے ساتھ یا کسی عبد مکاتب کو آزاد کرانے میں اس کی مدد کرتا ہے اللہ اسے اپنے عرش کے سائے میں اس دن جگہ عطا فرمائے گا جس دن کہیں سایہ نہ ہو گا۔