Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 7 · Chapter 251

مکہ والوں کی روایات

حضرت حارث بن عمرو کی حدیث۔

1 hadith in this chapter

15972

Musnad Ahmad #15972

Hasan

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زُرَارَةَ السَّهْمِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي الْحَارِثِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّهُ لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَغْفِرْ لِي , قَالَ:" غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ" , قَالَ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْعَضْبَاءِ , قَالَ: فَاسْتَدَرْتُ لَهُ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ أَرْجُو أَنْ يَخُصَّنِي دُونَ الْقَوْمِ، فَقُلْتُ: اسْتَغْفِرْ لِي , قَالَ:" غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ" , قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْفَرَائِعُ وَالْعَتَائِرُ؟ قَالَ:" مَنْ شَاءَ فَرَّعَ، وَمَنْ شَاءَ لَمْ يُفَرِّعْ، وَمَنْ شَاءَ عَتَرَ، وَمَنْ شَاءَ لَمْ يَعْتِرْ، فِي الْغَنَمِ أُضْحِيَّةٌ"، ثُمَّ قَالَ:" أَلَا إِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا". وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ زُرَارَةَ السَّهْمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّهِ الْحَارِثِ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا حارث بن عمرو سے مروی ہے کہ حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے باپ آپ پر قربان ہوں میرے لئے بخشش کی دعا فرمادیجیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تم سب کی بخشش فرمائے اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم عضباء نامی اونٹنی پر سوار تھے میں گھوم کر دوسری جانب آیا اس امید پر کہ شاید نبی صلی اللہ علیہ وسلم خصوصیت کے ساتھ میرے لئے دعا فرمائیں اور دوبارہ عرض کیا: کہ میرے لئے بخشش کی دعا فرما دیجیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی فرمایا کہ اللہ تم سب کی بخشش فرمائے۔ اسی دوران ایک آدمی نے پوچھا: یا رسول اللہ! جانور کا پہلا بچہ ذبح کرنے یارجب کے مہینے میں قربانی کرنے کا کیا حکم ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو جانور کا پہلابچہ ذبح کرنا چاہے وہ کر لے اور جو نہ چاہے وہ نہ کر ے اسی طرح جو شخص ماہ رجب میں قربانی کرنا چاہے کر لے اور جو نہ چاہے وہ نہ کر ے البتہ بکری میں بھی قربانی ہو تی ہے پھر فرمایا کہ یاد رکھو تمہاری جان مال ایک دوسرے کے لئے اسی طرح قابل احترام ہیں جیسے اس شہر میں اس دن کی حرمت ہے۔