Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 7 · Chapter 239

مکہ والوں کی روایات

حضرت حارث بن حسان کی حدیثیں۔

3 hadiths in this chapter

15952

Musnad Ahmad #15952

Zaeef

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ حَسَّانَ الْبَكْرِيِّ ، قَالَ:" قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَبِلَالٌ قَائِمٌ بَيْنَ يَدَيْهِ، مُتَقَلِّدٌ السَّيْفَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِذَا رَايَاتٌ سُودٌ، وَسَأَلْتُ: مَا هَذِهِ الرَّايَاتُ؟ فَقَالُوا: عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ قَدِمَ مِنْ غَزَاةٍ".

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا حارث بن حسان سے مروی ہے کہ ہم لوگ مدینہ منورہ حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر موجود تھے اور آپ کے سامنے سیدنا بلال تلوار لٹکائے کھڑے تھے اور کچھ کالے جھنڈے بھی نظر آرہے تھے میں نے ان جھنڈوں کے متعلق پوچھا: تو لوگوں نے بتایا کہ سیدنا عمرو بن عاص ایک غزوے سے واپس آئے ہیں۔

15953

Musnad Ahmad #15953

Hasan

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَّامٌ أَبُو الْمُنْذِرِ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ حَسَّانَ ، قَالَ: مَرَرْتُ بِعَجُوزٍ بِالرَّبَذَةِ مُنْقَطِعٌ بِهَا مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، قَالَ: فَقَالَ: فَقُلْتُ: نُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: فَاحْمِلُونِي مَعَكُمْ، فَإِنَّ لِي إِلَيْهِ حَاجَةً , قَالَ: فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا هُوَ غَاصٌّ بِالنَّاسِ، وَإِذَا رَايَةٌ سَوْدَاءُ تَخْفِقُ، فَقُلْتُ: مَا شَأْنُ النَّاسِ الْيَوْمَ؟ قَالُوا: هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ أَنْ يَبْعَثَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ وَجْهًا , قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَجْعَلَ الدَّهْنَاءَ حِجَازًا بَيْنَنَا وَبَيْنَ بَنِي تَمِيمٍ فَافْعَلْ، فَإِنَّهَا كَانَتْ لَنَا مَرَّةً. قَالَ: فَاسْتَوْفَزَتْ الْعَجُوزُ، وَأَخَذَتْهَا الْحَمِيَّةُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيْنَ تَضْطَرُّ مُضَرَكَ؟ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَمَلْتُ هَذِهِ وَلَا أَشْعُرُ أَنَّهَا كَائِنَةٌ لِي خَصْمًا , قَالَ: قُلْتُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ كَمَا قَالَ الْأَوَّلُ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَمَا قَالَ الْأَوَّلُ؟" , قَالَ: عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ، يَقُولُ سَلَّامٌ: هَذَا أَحْمَقُ يَقُولُ الرَّسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هِيهْ" , يَسْتَطْعِمُهُ الْحَدِيثَ , قَالَ: إِنَّ عَادًا أَرْسَلُوا وَافِدَهُمْ قَيْلًا، فَنَزَلَ عَلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ بَكْرٍ شَهْرًا يَسْقِيهِ الْخَمْرَ وَتُغَنِّيهِ الْجَرَادَتَانِ، فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى عَلَى جِبَالِ مُهْرَةَ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي لَمْ آتِ لِأَسِيرٍ أُفَادِيهِ، وَلَا لِمَرِيضٍ فَأُدَاوِيَهُ، فَاسْقِ عَبْدَكَ مَا كُنْتَ سَاقِيَهُ، وَاسْقِ مُعَاوِيَةَ بْنَ بَكْرٍ شَهْرًا يَشْكُرْ لَهُ الْخَمْرَ الَّتِي شَرِبَهَا عِنْدَهُ، قَالَ: فَمَرَّتْ سَحَابَاتٌ سُودٌ، فَنُودِيَ أَنْ خُذْهَا رَمَادًا رِمْدِدًا، لَا تَذَرْ مِنْ عَادٍ أَحَدًا. قَالَ أَبُو وَائِلٍ: فَبَلَغَنِي أَنَّ مَا أُرْسِلَ عَلَيْهِمْ مِنَ الرِّيحِ كَقَدْرِ مَا يَجْرِي فِي الْخَاتَمِ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا حارث بن حسان سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں مقام ربذہ میں ایک بوڑھی عورت کے پاس سے گزرا جو بنوتمیم سے کٹ چکی تھی اس نے پوچھا کہ تم کہاں جارہے ہو میں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وہ کہنے لگی کہ مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلو مجھے ان سے ایک کام ہے مدینہ پہنچ کر میں مسجد نبوی میں داخل ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں گھرے ہوئے تھے اور اک سیاہ جھنڈا لہرا رہا تھا میں نے لوگوں سے پوچھا کہ آج کوئی خاص بات ہے لوگوں نے بتایا کہ دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عمرو بن عاص کو ایک لشکر دے کر کسی طرف روانہ فرما رہے ہیں میں نے آگے بڑھ کر عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر آپ مناسب سمجھیں تو ہمارے اور بنوتمیم کے درمیان حجاز کو بیان قرار دیدیں کیو کہ کبھی ایسا ہی تھا اس پر وہ بڑھیا کود کر سامنے آئی اور اس کی رگ حمیت نے جوش مارا اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ! اپنے مضر کو آپ کہاں مجبور کر یں گے میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اس بڑھیا کو اٹھا کر لایا ہوں مجھے کیا خبر تھی کہ یہی مجھ سے جھگڑنے لگے گی۔ میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں اس بات سے کہ اس شخص کی طرح ہو جاؤں جیسے پہلوں نے کہا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: پہلوں نے کیا کہا تھا میں نے عرض کیا: کیا آپ نے ایک باخبر آدمی سے پوچھا: لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بیان کر و دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم پوری بات سننا چاہتے تھے۔ میں نے عرض کیا: قوم عاد نے اپنے ایک آدمی کو بطور وفد کے بھیجا وہ ایک مہینے تک معاویہ بن بکر کا مہمان بنا رہا وہ انہیں شراب پلاتا تھا اور ڈومنیوں سے گانے سنواتا تھا ایک دن وہ روانہ ہوا اور جبال مہرہ پر پہنچا اور کہنے لگا کہ اے اللہ میں اس لئے نہیں آیا کہ اس کا بدلہ چکاؤں نہ کسی بیمار کے لئے اس کا علاج کر سکوں لہذا تو اپنے بندوں کو وہ کچھ پلا جو تو پلا سکتا ہے اور معاویہ بن بکر کو ایک ماہ تک پلانے کا انتظام فرما دراصل یہ اس شراب کا شکر یہ تھا جو و وہ اس کے یہاں ایک مہینہ تک پیتارہا تھا اسی اثناء میں سیاہ بادل آ گئے اور کسی نے آواز دے کر کہا کہ یہ خوب بھرے ہوئے تھن والا بادل لے لو اور قوم عاد میں سے کسی ایک شخص کو بھی پیاسا نہ چھوڑو۔

15954

Musnad Ahmad #15954

Hasan

(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْمُنْذِرِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمَانَ النَّحْوِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ الْبَكْرِيِّ ، قَالَ: خَرَجْتُ أَشْكُو الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرَرْتُ بِالرَّبَذَةِ، فَإِذَا عَجُوزٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ مُنْقَطِعٌ بِهَا، فَقَالَتْ لِي: يَا عَبْدَ اللَّهِ، إِنَّ لِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَةً، فَهَلْ أَنْتَ مُبَلِّغِي إِلَيْهِ؟ قَالَ: فَحَمَلْتُهَا، فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ، فَإِذَا الْمَسْجِدُ غَاصٌّ بِأَهْلِهِ، وَإِذَا رَايَةٌ سَوْدَاءُ تَخْفِقُ، وَبِلَالٌ مُتَقَلِّدٌ السَّيْفَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: مَا شَأْنُ النَّاسِ؟ قَالُوا: يُرِيدُ أَنْ يَبْعَثَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ وَجْهًا , قَالَ: فَجَلَسْتُ , قَالَ: فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ أَوْ قَالَ رَحْلَهُ فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ، فَأَذِنَ لِي، فَدَخَلْتُ فَسَلَّمْتُ، فَقَالَ:" هَلْ كَانَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ بَنِي تَمِيمٍ شَيْءٌ؟" , قَالَ: فَقُلْتُ: نَعَمْ , قَالَ: وَكَانَتْ لَنَا الدَّبْرَةُ عَلَيْهِمْ، وَمَرَرْتُ بِعَجُوزٍ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ مُنْقَطِعٌ بِهَا، فَسَأَلَتْنِي أَنْ أَحْمِلَهَا إِلَيْكَ، وَهَهِيَ بِالْبَابِ، فَأَذِنَ لَهَا، فَدَخَلَتْ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ رَأَيْتَ أَنْ تَجْعَلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ بَنِي تَمِيمٍ حَاجِزًا، فَاجْعَلْ الدَّهْنَاءَ، فَحَمِيَتْ الْعَجُوزُ، وَاسْتَوْفَزَتْ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِلَى أَيْنَ تَضْطَرُّ مُضَرَكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: إِنَّمَا مَثَلِي مَا قَالَ الْأَوَّلُ: مِعْزَاءُ حَمَلَتْ حَتْفَهَا، حَمَلْتُ هَذِهِ وَلَا أَشْعُرُ أَنَّهَا كَانَتْ لِي خَصْمًا، أَعُوذُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ أَنْ أَكُونَ كَوَافِدِ عَادٍ , قَالَ:" هِيهْ وَمَا وَافِدُ عَادٍ؟" وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْحَدِيثِ مِنْهُ، وَلَكِنْ يَسْتَطْعِمُهُ قُلْتُ: إِنَّ عَادًا قَحَطُوا، فَبَعَثُوا وَافِدًا لَهُمْ يُقَالُ لَهُ: قَيْلٌ، فَمَرَّ بِمُعَاوِيَةَ بْنِ بَكْرٍ، فَأَقَامَ عِنْدَهُ شَهْرًا، يَسْقِيهِ الْخَمْرَ، وَتُغَنِّيهِ جَارِيَتَانِ، يُقَالُ لَهُمَا: الْجَرَادَتَانِ، فَلَمَّا مَضَى الشَّهْرُ خَرَجَ جِبَالَ تِهَامَةَ، فَنَادَى: اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي لَمْ أَجِئْ إِلَى مَرِيضٍ فَأُدَاوِيَهُ، وَلَا إِلَى أَسِيرٍ فَأُفَادِيَهُ، اللَّهُمَّ اسْقِ عَادًا مَا كُنْتَ تَسْقِيهِ، فَمَرَّتْ بِهِ سَحَابَاتٌ سُودٌ، فَنُودِيَ مِنْهَا اخْتَرْ , فَأَوْمَأَ إِلَى سَحَابَةٍ مِنْهَا سَوْدَاءَ، فَنُودِيَ مِنْهَا خُذْهَا رَمَادًا رِمْدِدًا، لَا تُبْقِ مِنْ عَادٍ أَحَدًا , قَالَ: فَمَا بَلَغَنِي أَنَّهُ بُعِثَ عَلَيْهِمْ مِنَ الرِّيحِ إِلَّا قَدْرَ مَا يَجْرِي فِي خَاتِمِي هَذَا حَتَّى هَلَكُوا. قَالَ أَبُو وَائِلٍ: وَصَدَقَ. قَالَ: فَكَانَتْ الْمَرْأَةُ وَالرَّجُلُ إِذَا بَعَثُوا وَافِدًا لَهُمْ قَالُوا: لَا تَكُنْ كَوَافِدِ عَادٍ.

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا حارث بن حسان سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں مقام ربذہ میں ایک بوڑھی عورت کے پاس سے گزرا جو بنوتمیم سے کٹ چکی تھی اس نے پوچھا کہ تم کہاں جارہے ہو میں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وہ کہنے لگی کہ مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلو مجھے ان سے ایک کام ہے مدینہ پہنچ کر میں مسجد نبوی میں داخل ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں گھرے ہوئے تھے اور اک سیاہ جھنڈا لہرا رہا تھا میں نے لوگوں سے پوچھا کہ آج کوئی خاص بات ہے لوگوں نے بتایا کہ دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عمرو بن عاص کو ایک لشکر دے کر کسی طرف روانہ فرما رہے ہیں میں نے آگے بڑھ کر عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر آپ مناسب سمجھیں تو ہمارے اور بنوتمیم کے درمیان حجاز کو بیان قرار دیدیں کیو کہ کبھی ایسا ہی تھا اس پر وہ بڑھیا کود کر سامنے آئی اور اس کی رگ حمیت نے جوش مارا اور کہنے لگی کہ یا رسول اللہ! اپنے مضر کو آپ کہاں مجبور کر یں گے میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں اس بڑھیا کو اٹھا کر لایا ہوں مجھے کیا خبر تھی کہ یہی مجھ سے جھگڑنے لگے گی۔ میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں اس بات سے کہ اس شخص کی طرح ہو جاؤں جیسے پہلوں نے کہا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: پہلوں نے کیا کہا تھا میں نے عرض کیا: کیا آپ نے ایک باخبر آدمی سے پوچھا: لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم بیان کر و دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم پوری بات سننا چاہتے تھے۔ میں نے عرض کیا: قوم عاد نے اپنے ایک آدمی کو بطور وفد کے بھیجا وہ ایک مہینے تک معاویہ بن بکر کا مہمان بنا رہا وہ انہیں شراب پلاتا تھا اور ڈومنیوں سے گانے سنواتا تھا ایک دن وہ روانہ ہوا اور جبال مہرہ پر پہنچا اور کہنے لگا کہ اے اللہ میں اس لئے نہیں آیا کہ اس کا بدلہ چکاؤں نہ کسی بیمار کے لئے اس کا علاج کر سکوں لہذا تو اپنے بندوں کو وہ کچھ پلا جو تو پلا سکتا ہے اور معاویہ بن بکر کو ایک ماہ تک پلانے کا انتظام فرما دراصل یہ اس شراب کا شکر یہ تھا جو و وہ اس کے یہاں ایک مہینہ تک پیتارہا تھا اسی اثناء میں سیاہ بادل آ گئے اور کسی نے آواز دے کر کہا کہ یہ خوب بھرے ہوئے تھن والا بادل لے لو اور قوم عاد میں سے کسی ایک شخص کو بھی پیاسا نہ چھوڑو۔