Musnad Ahmad #15952
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ حَسَّانَ الْبَكْرِيِّ ، قَالَ:" قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَبِلَالٌ قَائِمٌ بَيْنَ يَدَيْهِ، مُتَقَلِّدٌ السَّيْفَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِذَا رَايَاتٌ سُودٌ، وَسَأَلْتُ: مَا هَذِهِ الرَّايَاتُ؟ فَقَالُوا: عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ قَدِمَ مِنْ غَزَاةٍ".
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا حارث بن حسان سے مروی ہے کہ ہم لوگ مدینہ منورہ حاضر ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر موجود تھے اور آپ کے سامنے سیدنا بلال تلوار لٹکائے کھڑے تھے اور کچھ کالے جھنڈے بھی نظر آرہے تھے میں نے ان جھنڈوں کے متعلق پوچھا: تو لوگوں نے بتایا کہ سیدنا عمرو بن عاص ایک غزوے سے واپس آئے ہیں۔