Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 15 · Chapter 1240

قبائل سے روایات

حضرت اسماء بنت یزید کی حدیثیں

30 hadiths in this chapter

27560

Musnad Ahmad #27560

Zaeef

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , قَالَ أَبِي: وَقُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي حُسَيْنٍ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَسْمَاءَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " لَا تَجْمَعْنَ جُوعًا وَكَذِبًا" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھوک اور جھوٹ کو اکٹھا نہ کرو۔“

27561

Musnad Ahmad #27561

Hasan

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ , سَمِعَ شَهْرًا , يَقُولُ: سَمِعْتُ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ إِحْدَى نِسَاءِ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ , تَقُولُ: مَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي نِسْوَةٍ , فَسَلَّمَ عَلَيْنَا , وَقَالَ:" إِيَّاكُنَّ وَكُفْرَ الْمُنَعَّمِينَ" , فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَمَا كُفْرُ الْمُنَعَّمِينَ؟ قَالَ: " لَعَلَّ إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَطُولَ أَيْمَتُهَا بَيْنَ أَبَوَيْهَا وَتَعْنُسَ , فَيَرْزُقَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ زَوْجًا , وَيَرْزُقَهَا مِنْهُ مَالًا وَوَلَدًا , فَتَغْضَبَ الْغَضْبَةَ , فَرَاحَتْ تَقُولُ: مَا رَأَيْتُ مِنْهُ يَوْمًا خَيْرًا قَطُّ" , وَقَالَ مَرَّةً:" خَيْرًا قَطُّ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا ”جن کا تعلق بنی عبدالاشہل سے ہے“ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے، ہم کچھ عورتوں کے ساتھ تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سلام کیا اور فرمایا: ”احسان کرنے والوں کی ناشکری سے اپنے آپ کو بچاؤ“، ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! احسان کرنے والوں کی ناشکری سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی عورت اپنے ماں باپ کے یہاں طویل عرصے تک رشتے کے انتظار میں بیٹھی رہے، پھر اللہ اسے شوہر عطاء فرما دے اور اس سے اسے مال و دولت بھی عطاء فرما دے اور وہ پھر کسی دن غصے میں آکر یوں کہہ دے کہ میں نے تو تجھ سے کبھی خیر نہیں دیکھی۔“

27562

Musnad Ahmad #27562

Sahih

حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُهَاجِرٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ , قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " لَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ سِرًّا , فَإِنَّ قَتْلَ الْغَيْلِ يُدْرِكُ الْفَارِسَ , فَيُدَعْثِرُهُ عَنْ ظَهْرِ فَرَسِهِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اپنی اولاد کو خفیہ قتل نہ کیا کرو، کیونکہ حالت رضاعت میں بیوی سے قربت کے نتیجے میں دودھ پینے والا بچہ جب بڑا ہوتا ہے تو گھوڑا اسے اپنی پشت سے گرا دیتا ہے (وہ جم کر گھوڑے پر نہیں بیٹھ سکتا)۔

27563

Musnad Ahmad #27563

Zaeef

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ , حَدَّثَنَا دَاوُدُ الْأَوْدِيُّ , عَنْ شَهْرٍ , عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ , قَالَتْ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَايِعَهُ , فَدَنَوْتُ وَعَلَيَّ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ , فَبَصُرَ بِبَصِيصِهِمَا , فَقَالَ: " أَلْقِي السِّوَارَيْنِ يَا أَسْمَاءُ , أَمَا تَخَافِينَ أَنْ يُسَوِّرَكِ اللَّهُ بِسِوَارٍ مِنْ نَارٍ؟" , قَالَتْ: فَأَلْقَيْتُهُمَا , فَمَا أَدْرِي مَنْ أَخَذَهُمَا .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیعت کرنے حاضر ہوئی، جب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میرے ان دو کنگنوں کے اوپر پڑی جو میں نے پہنے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسماء! یہ دونوں کنگن اتار دو، کیا تم اس بات سے نہیں ڈرتیں کہ اللہ ان کے بدلے میں تمہیں آگ کے دو کنگن پہنائے“، چنانچہ میں نے انہیں اتار دیا اور مجھے یاد نہیں کہ انہیں کس نے لے لیا تھا۔

27564

Musnad Ahmad #27564

Zaeef

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ , حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِى ابْنَ يَزِيدَ الْأَوْدِيَّ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَصْلُحُ مِنَ الذَّهَبِ شَيْءٌ وَلَا بَصِيصُهُ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”سونا اور ریشم میں سے کچھ بھی چمک کا فائدہ نہیں دیتے۔“

27565

Musnad Ahmad #27565

Sahih

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَسْمَاءَ , قَالَتْ: " تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جس وقت وفات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ رہن رکھی ہوئی تھی۔

27566

Musnad Ahmad #27566

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ الْفَزَارِيُّ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ , مِثْلَهُ.

اردو ترجمہ · Urdu

گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

27567

Musnad Ahmad #27567

Zaeef

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ , عَنْ شَهْرٍ , عَنْ أَسْمَاءَ , قَالَتْ: أَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِلَبَنٍ , فَقَالَ:" أَتَشْرَبِينَ؟" , قُلْنَ: لَا نَشْتَهِيهِ , فَقَالَ: " لَا تَجْمَعْنَ كَذِبًا وَجُوعًا" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے، ان کی خدمت میں دودھ پیش کیا گیا، انہوں نے عورتوں سے پوچھا: کیا تم بھی پیو گی؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہمیں اس کی خواہش نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھوک اور جھوٹ کو اکٹھا نہ کرو۔“

27568

Musnad Ahmad #27568

Sahih

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ , قَالَتْ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ , فَقَالَ: " إِذَا كَانَ قَبْلَ خُرُوجِ الدَّجَّالِ بِثَلَاثِ سِنِينَ , حَبَسَتْ السَّمَاءُ ثُلُثَ قَطْرِهَا , وَحَبَسَتْ الْأَرْضُ ثُلُثَ نَبَاتِهَا , فَإِذَا كَانَتْ السَّنَةُ الثَّانِيَةُ , حَبَسَتْ السَّمَاءُ ثُلُثَيْ قَطْرِهَا , وَحَبَسَتْ الْأَرْضُ ثُلُثَيْ نَبَاتِهَا , فَإِذَا كَانَتْ السَّنَةُ الثَّالِثَةُ , حَبَسَتْ السَّمَاءُ قَطْرَهَا كُلَّهُ وَحَبَسَتْ الْأَرْضُ نَبَاتَهَا كُلَّهُ , فَلَا يَبْقَى ذُو خُفٍّ , وَلَا ظِلْفٍ , إِلَّا هَلَكَ , فَيَقُولُ الدَّجَّالُ لِلرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ: أَرَأَيْتَ إِنْ بَعَثْتُ إِبِلَكَ ضِخَامًا ضُرُوعُهَا , عِظَامًا أَسْنِمَتُهَا , أَتَعْلَمُ أَنِّي رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ , فَتَمَثَّلُ لَهُ الشَّيَاطِينُ عَلَى صُورَةِ إِبِلِهِ فَيَتَّبِعُهُ , وَيَقُولُ لِلرَّجُلِ: أَرَأَيْتَ إِنْ بَعَثْتُ أَبَاكَ وَابْنَكَ , وَمَنْ تَعْرِفُ مِنْ أَهْلِكَ , أَتَعْلَمُ أَنِّي رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ , فَيُمَثِّلُ لَهُ الشَّيَاطِينَ عَلَى صُوَرِهِمْ فَيَتَّبِعُهُ" , ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَبَكَى أَهْلُ الْبَيْتِ , ثُمَّ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَبْكِي , فَقَالَ:" مَا يُبْكِيكُمْ؟" , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا ذَكَرْتَ مِنَ الدَّجَّالِ , فَوَاللَّهِ إِنَّ أَمَةَ أَهْلِي لَتَعْجِنُ عَجِينَهَا , فَمَا تَبْلُغُ حَتَّى تَكَادَ تَفَتَّتُ مِنَ الْجُوعِ , فَكَيْفَ نَصْنَعُ يَوْمَئِذٍ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَكْفِي الْمُؤْمِنِينَ عَنِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ يَوْمَئِذٍ التَّكْبِيرُ , وَالتَّسْبِيحُ , وَالتَّحْمِيدُ" , ثُمَّ قَالَ:" لَا تَبْكُوا , فَإِنْ يَخْرُجْ الدَّجَّالُ وَأَنَا فِيكُمْ , فَأَنَا حَجِيجُهُ , وَإِنْ يَخْرُجْ بَعْدِي , فَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کے گھر میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خروج دجال سے تین سال قبل آسمان ایک تہائی بارش اور زمین ایک تہائی نباتات روک لے گی، دوسرے سال آسمان دو تہائی بارش اور زمین دو تہائی پیداوار روک لے گی اور تیسرے سال آسمان اپنی مکمل بارش اور زمین اپنی مکمل پیداوار روک لے گی اور ہر موزے اور کھر والا ذی حیات ہلاک ہو جائے گا، اس موقع پر دجال ایک دیہاتی سے کہے گا یہ بتاؤ کہ اگر میں تمہارے اونٹ زندہ کر دوں، ان کے تھن بھرے اور بڑے ہوں اور ان کے کوہان عظیم ہوں تو کیا تم مجھے اپنا رب یقین کر لو گے؟ وہ کہے گا، ہاں! چنانچہ شیاطین اس کے سامنے اونٹوں کی شکل میں آئیں گے اور وہ دجال کی پیروی کرنے لگے گا۔ اسی طرح دجال ایک اور آدمی سے کہے گا یہ بتاؤ کہ اگر میں تمہارے باپ، تمہارے بیٹے اور تمہارے اہل خانہ میں سے ان تمام لوگوں کو جنہیں تم پہچانتے ہو زندہ کر دوں تو کیا تم یقین کر لو گے کہ میں ہی تمہارا رب ہوں، وہ کہے گا، ہاں! چنانچہ اس کے سامنے شیاطین ان صورتوں میں آ جائیں گے اور وہ دجال کی پیروی کرنے لگے گا“، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور اہل خانہ رونے لگے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے ہم اس وقت رو رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم کیوں رو رہے ہو؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے دجال کا جو ذکر کیا ہے، واللہ! میرے گھر میں جو باندی ہے، وہ آٹا گوندھ رہی ہوتی ہے، ابھی وہ اسے گوندھ کر فارغ نہیں ہونے پاتی کہ میرا کلیجہ بھوک کے مارے پارہ پارہ ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے، تو اس دن ہم کیا کریں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس دن مسلمانوں کے لئے کھانے پینے کی بجائے تکبیر اور تسبیح و تحمید ہی کافی ہو گی“، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مت روؤ، اگر میری موجودگی میں دجال نکل آیا تو میں اس سے مقابلہ کروں گا اور اگر میرے بعد اس کا خروج ہوا تو ہر مسلمان پر اللہ میرا نائب ہے۔“

27569

Musnad Ahmad #27569

Hasan

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ ثَابِتٍ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ , قالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ: إِنَّهُ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ وَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ: " يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ , لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ , إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا , وَلَا يُبَالِي , إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ آیت اس طرح پڑھتے ہوئے سنا ہے: «إِنَّهُ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ» اور اس آیت کو اس طرح پڑھتے ہوئے سنا ہے: «يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ , لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ , إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا , وَلَا يُبَالِي , إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» ۔

27570

Musnad Ahmad #27570

Zaeef

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ , أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَخْطُبُ يَقُولُ:" أَيُّهَا النَّاسُ , مَا يَحْمِلُكُمْ عَلَى أَنْ تَتَابَعُوا فِي الْكَذِبِ , كَمَا يَتَتَابَعُ الْفَرَاشُ فِي النَّارِ؟ كُلُّ الْكَذِبِ يُكْتَبُ عَلَى ابْنِ آدَمَ إِلَّا ثَلَاثَ خِصَالٍ: رَجُلٌ كَذَبَ عَلَى امْرَأَتِهِ لِيُرْضِيَهَا , أَوْ رَجُلٌ كَذَبَ فِي خَدِيعَةِ حَرْبٍ , أَوْ رَجُلٌ كَذَبَ بَيْنَ امْرَأَيْنِ مُسْلِمَيْنِ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمَا" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دوران خطبہ یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اے لوگو! تمہیں اس طرح جھوٹ میں گرنے کی ”جیسے پروانے آگ میں گرتے ہیں“ کیا مجبوری ہے؟ ابن آدم کا ہر جھوٹ اس کے خلاف لکھا جاتا ہے، سوائے تین جگہوں کے، ایک تو وہ آدمی جو اپنی بیوی کو خوش رکھنے کے لئے جھوٹ بولے، دوسرے وہ آدمی جو جنگ میں جھوٹ بولے، تیسرے وہ آدمی جو دو مسلمانوں کے درمیان صلح کرانے کے لئے جھوٹ بولے۔

27571

Musnad Ahmad #27571

Zaeef

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ , عَنْ شَهْرِ ابْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَمْكُثُ الدَّجَّالُ فِي الْأَرْضِ أَرْبَعِينَ سَنَةً , السَّنَةُ كَالشَّهْرِ , وَالشَّهْرُ كَالْجُمُعَةِ , وَالْجُمُعَةُ كَالْيَوْمِ , وَالْيَوْمُ كَاضْطِرَامِ السَّعْفَةِ فِي النَّارِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دجال زمین میں چالیس سال تک رہے گا، اس کا ایک سال ایک مہینے کے برابر، ایک مہینہ ایک جمعہ کے برابر، ایک جمعہ ایک دن کی طرح اور ایک دن چنگاری بھڑکنے کی طرح ہو گا۔“

27572

Musnad Ahmad #27572

Sahih

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ هُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ نِسَاءَ الْمُسْلِمِينَ لِلْبَيْعَةِ، فَقَالَتْ لَهُ أَسْمَاءُ: أَلَا تَحْسُرُ لَنَا عَنْ يَدِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَسْتُ أُصَافِحُ النِّسَاءَ، وَلَكِنْ آخُذُ عَلَيْهِنَّ"، وَفِي النِّسَاءِ خَالَةٌ لَهَا , عَلَيْهَا قُلْبَانِ مِنْ ذَهَبٍ وَخَوَاتِيمُ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا هَذِهِ، هَلْ يَسُرُّكِ أَنْ يُحَلِّيَكِ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ جَمْرِ جَهَنَّمَ سِوَارَيْنِ وَخَوَاتِيمَ؟"، فَقَالَتْ: أَعُوذُ بِاللَّهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا خَالَتِي، اطْرَحِي مَا عَلَيْكِ، فَطَرَحَتْهُ، فَحَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ: وَاللَّهِ يَا بُنَيَّ لَقَدْ طَرَحَتْهُ، فَمَا أَدْرِي مَنْ لَقَطَهُ مِنْ مَكَانِهِ؟، وَلَا الْتَفَتَ مِنَّا أَحَدٌ إِلَيْهِ، قَالَتْ أَسْمَاءُ: فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّ إِحْدَاهُنَّ تَصْلَفُ عِنْدَ زَوْجِهَا إِذَا لَمْ تُمَلَّحْ لَهُ، أَوْ تَحَلَّى لَهُ، قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا عَلَى إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَتَّخِذَ قُرْطَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ، وَتَتَّخِذَ لَهَا جُمَانَتَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ، فَتُدْرِجَهُ بَيْنَ أَنَامِلِهَا بِشَيْءٍ مِنْ زَعْفَرَانٍ، فَإِذَا هُوَ كَالذَّهَبِ يَبْرُقُ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمان خواتین کو بیعت کے لئے جمع فرمایا، تو اسماء رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ ہمارے لئے اپنا ہاتھ آگے کیوں نہیں بڑھاتے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا، البتہ زبانی بیعت لے لیتا ہوں“، ان عورتوں میں اسماء رضی اللہ عنہا کی ایک خالہ بھی تھیں جنہوں نے سونے کے کنگن اور سونے کی انگوٹھیاں پہن رکھی تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے خاتون! کیا تم اس بات کو پسند کرتی ہو کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمہیں آگ کی چنگاریوں کے کنگن اور انگوٹھیان پہنائے؟“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میں اس بات سے اللہ کی پناہ میں آتی ہوں، میں نے اپنی خالہ سے کہا: خالہ! اسے اتار کر پھینک دو، چنانچہ انہوں نے وہ چیزیں اتار پھینکیں۔ حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں، واللہ! جب انہوں نے وہ چیزیں اتار پھینکیں تو مجھے نہیں یاد پڑتا کہ کسی نے انہیں ان کی جگہ سے اٹھایا ہو اور نہ ہی ہم میں سے کسی نے اس کی طرف کن اکھیوں سے دیکھا، پھر میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! اگر کوئی عورت زیور سے آراستہ نہیں ہوتی تو وہ اپنے شوہر کی نگاہوں میں بےوقعت ہو جاتی ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم پر اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ تم چاندی کی بالیاں بنا لو اور ان پر موتی لگوا لو اور ان کے سوراخوں میں تھوڑا سا زعفران بھر دو، جس سے وہ سونے کی طرح چمکنے لگے گا۔“

27573

Musnad Ahmad #27573

Sahih

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: قال ابْنُ جُرَيْجٍ : " إِنَّ مَعْمَرًا شَرِبَ مِنَ الْعِلْمِ بِأَنقَعَ"، قال عبد الله: قَالَ أَبِي: وَمَاتَ مَعْمَرٌ وَلَهُ ثَمَانٍ وَخَمْسُونَ سَنَةً .

اردو ترجمہ · Urdu

عبدالرزاق رحمہ اللہ ابن جریج کا قول نقل کرتے ہیں کہ معمر نے علم کی خالص شراب پی رکھی ہے، امام احمد رحمہ اللہ کے صاحبزادے کہتے ہیں کہ میرے والد نے فرمایا: معمر اٹھاون سال کی عمر میں فوت ہوئے۔

27574

Musnad Ahmad #27574

Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ مَعْقُودٌ أَبَدًا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَمَنْ رَبَطَهَا عُدَّةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَأَنْفَقَ عَلَيْهَا احْتِسَابًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَإِنَّ شِبَعَهَا وَجُوعَهَا , وَرِيَّهَا , وَظَمَأَهَا , وَأَرْوَاثَهَا , وَأَبْوَالَهَا , فَلَاحٌ فِي مَوَازِينِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ رَبَطَهَا رِيَاءً وَسُمْعَةً، وَفَرَحًا وَمَرَحًا، فَإِنَّ شِبَعَهَا وَجُوعَهَا، وَرِيَّهَا وَظَمَأَهَا، وَأَرْوَاثَهَا وَأَبْوَالَهَا خُسْرَانٌ فِي مَوَازِينِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک کے لئے خیر باندھ دی گئی ہے، سو جو شخص ان گھوڑوں کو اللہ کی راہ میں ساز و سامان کے طور پر باندھتا ہے اور ثواب کی نیت سے ان پر خرچ کرتا ہے تو ان کا سیر ہونا اور بھوکا رہنا، سیراب ہونا اور پیاسا رہنا اور ان کا بول و براز تک قیامت کے دن اس کے نامہ اعمال میں کامیابی کا سبب ہوگا اور جو شخص ان گھوڑوں کو نمود و نمائش اور اتراہٹ اور تکبر کے اظہار کے لئے باندھتا ہے تو ان کا پیٹ بھرنا“ اور بھوکا رہنا، سیر ہونا اور پیاسا رہنا اور ان کو بول و براز قیامت کے دن اس کے نامہ اعمال میں خسارے کا سبب ہو گا۔

27575

Musnad Ahmad #27575

Hasan

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، قَالَتْ: " إِنِّي لَآخِذَةٌ بِزِمَامِ الْعَضْبَاءِ نَاقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِذْ أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ الْمَائِدَةُ كُلُّهَا، فَكَادَتْ مِنْ ثِقَلِهَا تَدُقُّ بِعَضُدِ النَّاقَةِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ مائدہ مکمل نازل ہوئی تو ان کی اونٹنی ”عضباء“ کی لگام میں نے پکڑی ہوئی تھی اور وحی کے بوجھ سے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اونٹنی کا بازو ٹوٹ جائے گا۔

27576

Musnad Ahmad #27576

Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا: ثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ شَهْرٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، قَالَتْ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَابٍ، فَدَارَ عَلَى الْقَوْمِ وَفِيهِمْ رَجُلٌ صَائِمٌ، فَلَمَّا بَلَغَهُ، قَالَ لَهُ:" اشْرَبْ"، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ لَيْسَ يُفْطِرُ , وَيَصُومُ الدَّهْرَ، فَقَالَ: يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک مشروب پیش کیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بھی عنایت فرمایا گھومتے گھومتے وہ برتن ایک آدمی تک پہنچا جو روزے سے تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بھی پینے کے لئے فرمایا، کسی نے بتایا یا رسول اللہ! یہ کبھی روزہ نہیں چھوڑتا، ہمیشہ روزہ رکھتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کا کوئی روزہ نہیں ہوتا جو ہمیشہ روزہ رکھتا ہے۔“

27577

Musnad Ahmad #27577

Zaeef

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَ: ثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ حَدَّثَتْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ تَحَلَّتْ قِلَادَةً مِنْ ذَهَبٍ، جُعِلَ فِي عُنُقِهَا مِثْلُهَا مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ جَعَلَتْ فِي أُذُنِهَا خُرْصَةً مِنْ ذَهَبٍ، جُعِلَ فِي أُذُنِهَا مِثْلُهَا مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" ، قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: ثَنَا مَحْمُودُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ:" وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ جَعَلَتْ فِي أُذُنِهَا خُرْصًا , جُعِلَ فِي أُذُنِهَا مِثْلُهُ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو عورت سونے کا ہار پہنتی ہے، قیامت کے دن اس کے گلے میں ویسا ہی آگ کا ہار پہنایا جائے گا اور جو عورت اپنے کانوں میں سونے کی بالیاں پہنتی ہے، اس کے کانوں میں قیامت کے دن ویسی ہی آگ کی بالیاں ڈالی جائیں گی۔“

27578

Musnad Ahmad #27578

Zaeef

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ السَّرَّاجُ ، قَالَ: سَمِعْتُ شَهْرَ بْنَ حَوْشَبٍ , يُحَدِّثُ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، أَنَّهَا كَانَتْ تَحْضُرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ النِّسَاءِ، فَأَبْصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً عَلَيْهَا سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ لَهَا: " أَيَسُرُّكِ أَنْ يُسَوِّرَكِ اللَّهُ سِوَارَيْنِ مِنْ نَارٍ؟!"، قَالَتْ: فَأَخْرَجَتْهُ، قَالَتْ أَسْمَاءُ: فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي أَهِيَ نَزَعَتْهُ، أَمْ أَنَا نَزَعْتُهُ؟ .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیعت کرنے حاضر ہوئی، جب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میرے ان دو کنگنوں کے اوپر پڑی جو میں نے پہنے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسماء! یہ دونوں کنگن اتار دو، کیا تم اس بات سے نہیں ڈرتیں کہ اللہ ان کے بدلے میں تمہیں آگ کے دو کنگن پہنائے، چنانچہ میں نے انہیں اتار دیا اور مجھے یاد نہیں کہ انہیں کس نے لے لیا تھا۔“

27579

Musnad Ahmad #27579

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّةِ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي، فَذَكَرَ الدَّجَّالَ، فَقَالَ: " إِنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ ثَلَاثَ سِنِينَ، سَنَةٌ تُمْسِكُ السَّمَاءُ ثُلُثَ قَطْرِهَا، وَالْأَرْضُ ثُلُثَ نَبَاتِهَا، وَالثَّانِيَةُ تُمْسِكُ السَّمَاءُ ثُلُثَيْ قَطْرِهَا، وَالْأَرْضُ ثُلُثَيْ نَبَاتِهَا، وَالثَّالِثَةُ تُمْسِكُ السَّمَاءُ قَطْرَهَا كُلَّهُ، وَالْأَرْضُ نَبَاتَهَا كُلَّهُ، فَلَا يَبْقَى ذَاتُ ضِرْسٍ، وَلَا ذَاتُ ظِلْفٍ مِنَ الْبَهَائِمِ إِلَّا هَلَكَتْ، وَإِنَّ أَشَدَّ فِتْنَتِهِ: أَنْ يَأْتِيَ الْأَعْرَابِيَّ، فَيَقُولَ: أَرَأَيْتَ إِنْ أَحْيَيْتُ لَكَ إِبِلَكَ، أَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنِّي رَبُّكَ؟"، قَالَ: فَيَقُولُ:" بَلَى، فَتَمَثَّلَ الشَّيَاطِينُ لَهُ نَحْوَ إِبِلِهِ، كَأَحْسَنِ مَا تَكُونُ ضُرُوعُهَا، وَأَعْظَمِهِ أَسْنِمَةً"، قَالَ:" وَيَأْتِي الرَّجُلَ قَدْ مَاتَ أَخُوهُ وَمَاتَ أَبُوهُ، فَيَقُولُ: أَرَأَيْتَ إِنْ أَحْيَيْتُ لَكَ أَبَاكَ، وَأَحْيَيْتُ لَكَ أَخَاكَ، أَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنِّي رَبُّكَ؟، فَيَقُولُ: بَلَى، فَتَمَثَّلَ لَهُ الشَّيَاطِينُ نَحْوَ أَبِيهِ، وَنَحْوَ أَخِيهِ"، قَالَتْ: ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ، ثُمَّ رَجَعَ، قَالَتْ: وَالْقَوْمُ فِي اهْتِمَامٍ وَغَمٍّ مِمَّا حَدَّثَهُمْ بِهِ، قَالَتْ: فَأَخَذَ بِلُجْمَتَيِ الْبَابِ، وَقَالَ:" مَهْيَمْ أَسْمَاءُ؟"، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ خَلَعْتَ أَفْئِدَتَنَا بِذِكْرِ الدَّجَّالِ، قَالَ:" وَإِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا حَيٌّ، فَأَنَا حَجِيجُهُ، وَإِلَّا فَإِنَّ رَبِّي خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ"، قَالَتْ أَسْمَاءُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا وَاللَّهِ لَنَعْجِنُ عَجِينَتَنَا، فَمَا نَخْتَبِزُهَا حَتَّى نَجُوعَ، فَكَيْفَ بِالْمُؤْمِنِينَ يَوْمَئِذٍ؟، قَالَ:" يَجْزِيهِمْ مَا يَجْزِي أَهْلَ السَّمَاءِ مِنَ التَّسْبِيحِ وَالتَّقْدِيسِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کے گھر میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خروج دجال سے تین سال قبل آسمان ایک تہائی بارش اور زمین ایک تہائی نباتات روک لے گی، دوسرے سال آسمان دو تہائی بارش اور زمین دو تہائی پیداوار روک لے گی اور تیسرے سال آسمان اپنی مکمل بارش اور زمین اپنی مکمل پیداوار روک لے گی اور ہر موزے اور کھر والا ذی حیات ہلاک ہو جائے گا، اس موقع پر دجال ایک دیہاتی سے کہے گا، یہ بتاؤ کہ اگر میں تمہارے اونٹ زندہ کر دوں ان کے تھن بھرے اور بڑے ہوں اور ان کے کوہان عظیم ہوں تو کیا تم مجھے اپنا رب یقین کر لو گے؟ وہ کہے گا، ہاں! چنانچہ شیاطین اس کے سامنے اونٹوں کی شکل میں آئیں گے اور وہ دجال کی پیروی کرنے لگے گا۔ اسی طری دجال ایک اور آدمی سے کہے گا، یہ بتاؤ کہ اگر میں تمہارے باپ، تمہارے بیٹے اور تمہارے اہل خانہ میں سے ان تمام لوگوں کو جنہیں تم پہچانتے ہو زندہ کر دوں تو کیا تم یقین کر لو گے کہ میں ہی تمہارا رب ہوں، وہ کہے گا ہاں! چنانچہ اس کے سامنے شیاطین ان صورتوں میں آ جائیں گے اور وہ دجال کی پیروی کرنے لگے گا“، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور اہل خانہ رونے لگے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے، ہم اس وقت رو رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم کیوں رو رہے ہو؟“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے دجال کا جو ذکر کیا ہے، واللہ ! میرے گھر میں جو باندی ہے، وہ آٹا گوندھ رہی ہوتی ہے، ابھی وہ اسے گوندھ کر فارغ نہیں ہونے پاتی کہ میرا کلیجہ بھوک کے مارے پارہ پارہ ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے تو اس دن ہم کیا کریں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس دن مسلمانوں کے لئے کھانے پینے کے بجائے تکبیر اور تسبیح و تحمید ہی کافی ہو گی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مت روؤ، اگر میری موجودگی میں دجال نکل آیا تو میں اس سے مقابلہ کروں گا اور اگر میرے بعد اس کا خروج ہوا تو ہر مسلمان پر اللہ میرا نائب ہے۔“

27580

Musnad Ahmad #27580

Sahih

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، قَالَ: ثَنَا شَهْرٌ ، قَالَ: وَحَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ مَجْلِسًا مَرَّةً يُحَدِّثُهُمْ، عَنْ أَعْوَرِ الدَّجَّالِ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَزَادَ فِيهِ، فَقَالَ:" مَهْيَمْ"، وَكَانَتْ كَلِمَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ، يَقُولُ:" مَهْيَمْ"، وَزَادَ فِيهِ:" فَمَنْ حَضَرَ مَجْلِسِي وَسَمِعَ قَوْلِي، فَلْيُبَلِّغْ الشَّاهِدُ مِنْكُمْ الْغَائِبَ، وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ صَحِيحٌ لَيْسَ بِأَعْوَرَ، وَأَنَّ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ، مَمْسُوحُ الْعَيْنِ، بَيْنَ عَيْنَيْهِ مَكْتُوبٌ كَافِرٌ، يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ كَاتِبٍ وَغَيْرِ كَاتِبٍ".

اردو ترجمہ · Urdu

گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے، البتہ اس میں یہ اضافہ بھی موجود ہے کہ جو شخص میری مجلس میں حاضر ہو اور میری باتیں سنے، تو تم میں سے حاضرین کو غائبین تک یہ باتیں پہنچا دینی چاہئیں اور یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ صحیح سالم ہیں، وہ کانے نہیں ہیں، جبکہ دجال ایک آنکھ سے کانا ہو گا اور ایک آنکھ پونچھ دی گئی ہو گی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہو گا، جسے مومن ”خواہ وہ لکھنا پڑھنا جانتا ہو یا نہیں“ پڑھ لے گا۔

27581

Musnad Ahmad #27581

Zaeef

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنِ امْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، يُقَالُ لَهَا: أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ بْنِ سَكَنٍ ، قَالَتْ: لَمَّا تُوُفِّيَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، صَاحَتْ أُمُّهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا يَرْفَأُ دَمْعُكِ , وَيَذْهَبُ حُزْنُكِ؟، فَإِنَّ ابْنَكِ أَوَّلُ مَنْ ضَحِكَ اللَّهُ لَهُ، وَاهْتَزَّ لَهُ الْعَرْشُ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کی والدہ رونے چلانے لگیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تمہارے آنسو تھم کیوں نہیں رہے اور تمہارا غم دور کیوں نہیں ہو رہا جبکہ تمہارا بیٹا وہ پہلا آدمی ہے جسے دیکھ کر اللہ کو ہنسی آئی ہے اور اس کا عرش ہل رہا ہے۔“

27582

Musnad Ahmad #27582

Sahih

حَدَّثَنَا هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الْعَجْلَانِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " الْعَقِيقَةُ عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ، وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لڑکے کی طرف سے عقیقہ میں دو بکریاں کی جائیں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری۔“

27583

Musnad Ahmad #27583

Zaeef

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: ثَنَا حَفْصٌ السَّرَّاجُ ، قَالَ: سَمِعْتُ شَهْرًا ، يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ ، أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ قُعُودٌ عِنْدَهُ، فَقَالَ:" لَعَلَّ رَجُلًا يَقُولُ مَا يَفْعَلُ بِأَهْلِهِ، وَلَعَلَّ امْرَأَةً تُخْبِرُ بِمَا فَعَلَتْ مَعَ زَوْجِهَا"، فَأَرَمَّ الْقَوْمُ، فَقُلْتُ: إِي وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُنَّ لَيَقُلْنَ , وَإِنَّهُمْ لَيَفْعَلُونَ، قَالَ:" فَلَا تَفْعَلُوا، فَإِنَّمَا ذَلِكَ مِثْلُ الشَّيْطَانِ، لَقِيَ شَيْطَانَةً فِي طَرِيقٍ، فَغَشِيَهَا وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت بہت سے مرد اور عورت جمع تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہو سکتا ہے کہ ایک زمانے میں مرد یہ بتانے لگے کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ کیا کرتا ہے اور عورت یہ بتانے لگے کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ کیا کرتی ہے؟“ لوگ اس پر خاموش رہے، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! یہ باتیں تو عورتیں کہتی ہیں اور مرد بیان کرتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لیکن تم ایسا نہ کرو، کیونکہ اس کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی شیطان کسی شیطانیہ سے راستے میں ملے اور لوگوں کے سامنے ہی اس سے بدکاری کرنے لگے۔“

27584

Musnad Ahmad #27584

Zaeef

حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ: ثَنَا هِشَامٌ ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ حَدَّثَتْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ تَحَلَّتْ قِلَادَةً مِنْ ذَهَبٍ، جُعِلَ فِي عُنُقِهَا مِثْلُهَا مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ جَعَلَتْ فِي أُذُنِهَا خُرْصًا مِنْ ذَهَبٍ، جُعِلَ فِي أُذُنِهَا مِثْلُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو عورت سونے کا ہار پہنتی ہے، قیامت کے دن اس کے گلے میں ویسا ہی آگ کا ہار پہنایا جائے گا اور جو عورت اپنے کانوں میں سونے کی بالیاں پہنتی ہے، اس کے کانوں میں قیامت کے دن ویسی ہی آگ کی بالیاں ڈالی جائیں گی۔“

27585

Musnad Ahmad #27585

Sahih

حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: ثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِى ابْنَ صَالِحٍ ، عَنِ الْمُهَاجِرِ مَوْلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّةِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ ، تَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " لَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ سِرًّا، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , إِنَّهُ لَيُدْرِكُ الْفَارِسَ فَيُدَعْثِرُهُ"، قَال: قُلْتُ: مَا يَعْنِي؟ قَالَ: الْغِيلَةُ، يَأْتِي الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ وَهِيَ تُرْضِعُ .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت اسماءبنت یزید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اپنی اولاد کو خفیہ قتل نہ کیا کرو، کیونکہ حالت رضاعت میں بیوی سے قربت کے نتیجے میں دودھ پینے والا بچہ جب بڑا ہوتا ہے تو گھوڑا اسے اپنی پشت سے گرا دیتا ہے (وہ جم کر گھوڑے پر نہیں بیٹھ سکتا)۔

27586

Musnad Ahmad #27586

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، قال: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ حَمَّادَ بْنَ زَيْدٍ ، وَذَكَرَ الْجَهْمِيَّةَ، فقال: " إِنَّمَا يُحَاوِلُونَ أَنْ لَيْسَ فِي السَّمَاءِ شَيْءٌ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حماد بن زید نے ایک مرتبہ فرقہ جہمیہ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ آپس میں یہ باتیں کرتے ہیں کہ آسمان میں کچھ نہیں ہے۔

27587

Musnad Ahmad #27587

Sahih

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تُوُفِّيَ يَوْمَ تُوُفِّيَ، وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ عِنْدَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ بِوَسْقٍ مِنْ شَعِيرٍ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جس وقت وفات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر ایک یہودی کے پاس ایک وسق جَو کے عوض رہن رکھی ہوئی تھی۔

27588

Musnad Ahmad #27588

Sahih

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، قَالَ: ثَنَا شَهْرٌ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ ، أَنَّ أَبَا ذَرٍّ الْغِفَارِيَّ كَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْ خِدْمَتِهِ , آوَى إِلَى الْمَسْجِدِ، فَكَانَ هُوَ بَيْتُهُ، يَضْطَجِعُ فِيهِ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ لَيْلَةً، فَوَجَدَ أَبَا ذَرٍّ نَائِمًا مُنْجَدِلًا فِي الْمَسْجِدِ، فَنَكَتَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرِجْلِهِ حَتَّى اسْتَوَى جَالِسًا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا أَرَاكَ نَائِمًا؟"، قَالَ أَبُو ذَرٍّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَيْنَ أَنَامُ، هَلْ لِي مِنْ بَيْتٍ غَيْرُهُ؟، فَجَلَسَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ لَهُ:" كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَخْرَجُوكَ مِنْهُ؟"، قَالَ: إِذَنْ أَلْحَقَ بِالشَّامِ، فَإِنَّ الشَّامَ أَرْضُ الْهِجْرَةِ، وَأَرْضُ الْمَحْشَرِ، وَأَرْضُ الْأَنْبِيَاءِ، فَأَكُونُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِهَا، قَالَ لَهُ:" كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَخْرَجُوكَ مِنَ الشَّامِ؟"، قَالَ: إِذَنْ أَرْجِعَ إِلَيْهِ، فَيَكُونَ هُوَ بَيْتِي وَمَنْزِلِي، قَالَ لَهُ:" كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَخْرَجُوكَ مِنْهُ الثَّانِيَةَ؟"، قَالَ: إِذَنْ آخُذَ سَيْفِي , فَأُقَاتِلَ عَنِّي حَتَّى أَمُوتَ، قَالَ: فَكَشَّرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَثْبَتَهُ بِيَدِهِ، قَالَ:" أَدُلُّكَ عَلَى خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ؟"، قَالَ: بَلَى، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَنْقَادُ لَهُمْ حَيْثُ قَادُوكَ، وَتَنْسَاقُ لَهُمْ حَيْثُ سَاقُوكَ، حَتَّى تَلْقَانِي، وَأَنْتَ عَلَى ذَلِكَ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے بحوالہ ابوذر رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا تھا، جب اپنے کام سے فارغ ہوتا تو مسجد میں آ کر لیٹ جاتا، ایک دن میں لیٹا ہوا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور مجھے اپنے مبارک پاؤں سے ہلایا، میں سیدھا ہو کر اٹھ بیٹھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر! تم اس وقت کیا کرو گے جب تم مدینہ سے نکال دیئے جاؤ گے؟“ عرض کیا: میں مسجد نبوی اور اپنے گھر لوٹ جاؤں گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور جب تمہیں یہاں سے بھی نکال دیا جائے گا تو کیا کرو گے؟“ میں نے عرض کیا کہ میں شام چلا جاؤں گا جو ارض ہجرت اور ارض محشر اور ارض انبیاء ہے، میں اس کی رہائش اختیار کر لوں گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! ”اگر تمہیں وہاں سے بھی نکال دیا گیا تو کیا کرو گے؟“ عرض کیا: میں دوبارہ وہاں چلا جاؤں گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اگر دوبارہ وہاں سے نکال دیا گیا؟“ میں نے عرض کیا کہ اس وقت میں اپنی تلوار پکڑوں گا اور جو مجھے نکالنے کی کوشش کرے گا اسے اپنی تلوار سے ماروں گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر اپنا دست مبارک میرے کندھے پر رکھا اور تین مرتبہ فرمایا: ”ابوذر! درگزر سے کام لو، وہ تمہیں جہاں لے جائیں وہاں چلے جانا اگرچہ تمہارا حکمران کوئی حبشی غلام ہی ہو، یہاں تک کہ تم اس حال میں مجھ سے آ ملو۔“

27589

Musnad Ahmad #27589

Hasan

حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ: حدثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَهْرٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّةَ ، تُحَدِّثُ، زَعَمَتْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ فِي الْمَسْجِدِ يَوْمًا، وَعُصْبَةٌ مِنَ النِّسَاءِ قُعُودٌ، فَأَلْوَى بِيَدِهِ إِلَيْهِنَّ بِالسَّلَامِ، قَالَ:" إِيَّاكُنَّ وَكُفْرَانَ الْمُنَعَّمِينَ، إِيَّاكُنَّ وَكُفْرَانَ الْمُنَعَّمِينَ"، قَالَتْ إِحْدَاهُنَّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعُوذُ بِاللَّهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مِنْ كُفْرَانِ اللَّهِ، قَالَ: " بَلَى، إِنَّ إِحْدَاكُنَّ تَطُولُ أَيْمَتُهَا، وَيَطُولُ تَعْنِيسُهَا، ثُمَّ يُزَوِّجُهَا اللَّهُ الْبَعْلَ، وَيُفِيدُهَا الْوَلَدَ، وَقُرَّةَ الْعَيْنِ، ثُمَّ تَغْضَبُ الْغَضْبَةَ، فَتُقْسِمُ بِاللَّهِ مَا رَأَتْ مِنْهُ سَاعَةَ خَيْرٍ قَطُّ، فَذَلِكَ مِنْ كُفْرَانِ نِعَمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَذَلِكَ مِنْ كُفْرَانِ الْمُنَعَّمِينَ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا ”جن کا تعلق بنی عبدالاشہل سے ہے“ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس سے گزرے، ہم کچھ عورتوں کے ساتھ تھے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سلام کیا اور فرمایا: ”احسان کرنے والوں کی ناشکری سے اپنے آپ کو بچاؤ“، ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! احسان کرنے والوں کی ناشکری سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کوئی عورت اپنے ماں باپ کے یہاں طویل عرصے تک رشتے کے انتظار میں بیٹھی رہے، پھر اللہ اسے شوہر عطاء فرما دے اور اس سے اسے مال و دولت بھی عطاء فرما دے اور وہ پھر کسی دن غصے میں آکر یوں کہہ دے کہ میں نے تو تجھ سے کبھی خیر نہیں دیکھی۔“