Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 15 · Chapter 1239

قبائل سے روایات

حضرت ام درداء کی حد یثیں

2 hadiths in this chapter

27558

Musnad Ahmad #27558

Sahih

حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ يَعْنِي ابْنَ غَزْوَانَ , قَالَ: سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَرِيزٍ , قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ الدَّرْدَاءِ , قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ , يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: " إِنَّهُ يُسْتَجَابُ لِلْمَرْءِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ لِأَخِيهِ , فَمَا دَعَا لِأَخِيهِ , بِدَعْوَةٍ إِلَّا قَالَ الْمَلَكُ: وَلَكَ بِمِثْلٍ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ام درداء بحوالہ ابودرداء نقل کرتی ہیں کہ میں نے نبی کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمان اپنے بھائی کی غیرموجودگی میں اس کی پیٹھ پیچھے جو دعاء کرتا ہے وہ قبول ہوتی ہے اور اس کے سر کے پاس ایک فرشتہ اس مقصد کے لئے مقرر ہوتا ہے جب بھی وہ اپنے بھائی کے لئے خیر کی دعاء مانگے تو وہ اس پر آمین کہتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ تہ میں بھی یہی نصیب ہو۔

27559

Musnad Ahmad #27559

Sahih

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَكَانَتْ تَحْتَهُ الدَّرْدَاءِ , فَأَتَاهُمْ , فَوَجَدَ أُمَّ الدَّرْدَاءِ , فَقَالَتْ لَهُ: أَتُرِيدُ الْحَجَّ الْعَامَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ , قَالَتْ: فَادْعُ لَنَا بِخَيْرٍ , فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ يَقُولُ: " إِنَّ دَعْوَةَ الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ مُسْتَجَابَةٌ لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ , عِنْدَ رَأْسِهِ مَلَكٌ مُوَكَّلٌ بِهِ , كُلَّمَا دَعَا لِأَخِيهِ بِخَيْرٍ , قَالَ: آمِينَ , وَلَكَ بِمِثْلٍ" , قَالَ: فَخَرَجْتُ إِلَى السُّوقِ , فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ , فَحَدَّثَنِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ ذَلِكَ.

اردو ترجمہ · Urdu

صفوان بن عبداللہ " جن کے نکاح میں " درداء " تھیں کہتے ہیں کی ایک مرتبہ میں شام آیا اور حضرت ابودردا رضی اللہ عنہء کی خدمت میں حاضر ہوا لیکن وہ گھر پر نہیں لے البتہ ان کی اہلیہ موجود تھیں، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا اس سال تمہارا حج کا ارداہ ہے؟ میں نے اثبات میں جواب دیا، انہوں نے فرمایا کہ ہمارے لئے بھی خیر کی دعاء کرنا کیونکہ نبی فرمایا کرتے تھے کہ مسلمان اپنے بھائی کی غیرموجودگی میں اس کی پیٹھ پیچھے جو دعاء کرتا ہے وہ قبول ہوتی ہے اور سکے سر کے پاس ایک فرشتہ اس مقصد کے لئے مقرر ہوتا ہے جب بھی وہ اپنے بھائی کے لئے خیر کی دعاء مانگے تو وہ اس پر آمین کہتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ تہ میں بھی یہی نصیب ہو۔ پھر میں بازار کی طرف نکلا تو حضرت ابودردا رضی اللہ عنہء سے بھی ملاقات ہوگئی، انہوں نے بھی مجھ سے یہی کہا اور یہی حدیث انہوں نے بھی نبی کے حوالے سے سنائی۔