Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 13 · Chapter 938

انصار صحابہ کی روایات

حضرت ابوعبدالرحمن سفینہ (رض) کی احادیث

16 hadiths in this chapter

21919

Musnad Ahmad #21919

Hasan

حَدَّثَنَا بَهْزٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ . ح وعَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنِي حَمَّادٌ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ , عَنْ سَفِينَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الْخِلَافَةُ ثَلَاثُونَ عَامًا , ثُمَّ يَكُونُ بَعْدَ ذَلِكَ الْمُلْكُ" , قَالَ سَفِينَةُ: أَمْسِكْ خِلَافَةَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَنَتَيْنِ , وَخِلَافَةَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَشْرَ سِنِينَ , وَخِلَافَةَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اثْنَيْ عَشْرَ سَنَةً , وَخِلَافَةَ عَلِيٍّ سِتَّ سِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ.

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ خلافت تیس سال تک رہے گی اس کے بعد بادشاہت آجائے گی حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ اسے یوں شمار کراتے ہیں کہ دو سال حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ہوئے دس سال حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بارہ سال حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے اور چھ سال حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے (کل تیس سال ہوگئے)

21920

Musnad Ahmad #21920

Zaeef

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ عَلِيٍّ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ سَفِينَةَ , أَنَّ رَجُلًا أشاطَ نَاقَتَهُ بِجِذْلٍ , فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَأَمَرَهُمْ بِأَكْلِهَا" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے اپنی اونٹنی کو ایک تیز دھار لکڑی سے ذبح کرلیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا حکم دریافت کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے کی اجازت دے دی۔

21921

Musnad Ahmad #21921

Hasan

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ , عَنْ سَفِينَةَ , أَنَّهُ كَانَ يَحْمِلُ شَيْئًا كَثِيرًا , فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْتَ سَفِينَةُ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ چونکہ وہ بہت سا بوجھ اٹھا لیا کرتے تھے اس لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہہ دیا کہ تم تو سفینہ (کشتی) ہو۔

21922

Musnad Ahmad #21922

Hasan

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ , قَالَ: سَمِعْتُ سَفِينَةَ يُحَدِّثُ , أَنَّ رَجُلًا ضَافَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ , فَصَنَعُوا لَهُ طَعَامًا , فَقَالَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: لَوْ دَعْونَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ مَعَنَا , فَأَرْسَلُوا إِلَيْهِ فَجَاءَ , فَأَخَذَ بِعِضَادَتَيْ الْبَابِ , فَإِذَا قِرَامٌ قَدْ ضُرِبَ بِهِ فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ , فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَعَ , فَقَالَتْ فَاطِمَةُ لِعَلِيٍّ: اتْبَعْهُ , فَقُلْ لَهُ: مَا رَجَعَكَ؟ قَالَ: فَتَبِعَهُ , فَقَالَ: مَا رَجَعَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " إِنَّهُ لَيْسَ لِي , أَوْ لَيْسَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتًا مُزَوَّقًا" ..

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے یہاں ایک آدمی مہمان بن کر آیا انہوں نے اس کے لئے کھانا تیار کیا تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہما کہنے لگیں کہ اگر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لیتے تو وہ بھی ہمارے ساتھ کھانا کھالیتے، چنانچہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا بھیجا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دروازے کے کو اڑوں کو پکڑا تو دیکھا کہ گھر کے ایک کونے میں ایک پردہ لٹک رہا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیکھتے ہی واپس چلے گئے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ ان کے پیچھے جائیے اور واپس جانے کی وجہ پوچھئے حضرت علی رضی اللہ عنہ پیچھے پیچھے گئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! آپ واپس کیوں آگئے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے لئے یا کسی نبی کے لئے ایسے گھر میں داخل ہونا ”جو آراستہ و منقش ہو“ مناسب نہیں ہے۔

21923

Musnad Ahmad #21923

Hasan

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , حَدَّثَنِي حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ , حَدَّثَنِي سَفِينَةُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الْخِلَافَةُ ثَلَاثُونَ عَامًا , ثُمَّ الْمُلْكُ" , فَذَكَرَهُ.

اردو ترجمہ · Urdu

گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

21924

Musnad Ahmad #21924

Hasan

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ عِمْرَانَ النَّخْلِيِّ , عَنْ مَوْلًى لِأُمِّ سَلَمَةَ , قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ , فَانْتَهَيْنَا إِلَى وَادٍ , قَالَ: فَجَعَلْتُ أَعْبُرُ النَّاسَ أَوْ أَحْمِلُهُمْ , قَالَ: فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا كُنْتَ الْيَوْمَ إِلَّا سَفِينَةً , أَوْ مَا أَنْتَ إِلَّا سَفِينَةٌ" , قِيلَ لِشَرِيكٍ: هُوَ سَفِينَةُ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا؟.

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ کے ایک آزاد کردہ غلام سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھا ہم ایک وادی میں پہنچے، میں لوگوں کا سامان اٹھا کر اسے عبور کرنے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج تو تم سفینہ (کشتی) کا کام دے رہے ہو۔

21925

Musnad Ahmad #21925

Hasan

حَدَّثَنَا عَفَّانُ , أخبرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , أخبرَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ , عَنْ سَفِينَةَ , قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ , فَكُلَّمَا أَعْيَا بَعْضُ الْقَوْمِ أَلْقَى عَلَيَّ سَيْفَهُ , وَتُرْسَهُ , وَرُمْحَهُ , حَتَّى حَمَلْتُ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا كَثِيرًا , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْتَ سَفِينَةُ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے جب کوئی آدمی تھک جاتا تو وہ اپنی تلوار، ڈھال اور نیزہ مجھے پکڑا دیتا، اس طرح میں نے بہت ساری چیزیں اٹھالیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج تو تم سفینہ (کشتی) کا کام دے رہے ہو۔

21926

Musnad Ahmad #21926

Hasan

حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ , حَدَّثَنَا سَفِينَةُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ , أَنَّ رَجُلًا أَضَافَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا , فَقَالَتْ فَاطِمَةُ: لَوْ دَعَوْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَ نَحْو حَدِيثِ أَبِي كَامِلٍ , فَدَعَوْهُ فَجَاءَ , فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى عِضَادَتَيْ الْبَابِ , فَرَأَى قِرَامًا فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ , فَرَجَعَ , فَقَالَتْ فَاطِمَةُ لِعَلِيٍّ: الْحَقْهُ , فَقُلْ لَهُ: لِمَ رَجَعْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: " إِنَّهُ لَيْسَ لِي أَنْ أَدْخُلَ بَيْتًا مُزَوَّقًا" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے یہاں ایک آدمی مہمان بن کر آیا انہوں نے اس کے لئے کھانا تیار کیا تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کہنے لگیں کہ اگر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لیتے تو وہ بھی ہمارے ساتھ کھانا کھالیتے، چنانچہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا بھیجا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دروازے کے کو اڑوں کو پکڑا تو دیکھا کہ گھر کے ایک کونے میں ایک پردہ لٹک رہا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیکھتے ہی واپس چلے گئے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ ان کے پیچھے جائیے اور واپس جانے کی وجہ پوچھئے حضرت علی رضی اللہ عنہ پیچھے پیچھے گئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! آپ واپس کیوں آگئے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے لئے یا کسی نبی کے لئے ایسے گھر میں داخل ہونا " جو آراستہ ومنقش ہو " مناسب نہیں ہے۔

21927

Musnad Ahmad #21927

Hasan

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ , عَنْ سَفِينَةَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قَالَ: " أَعْتَقَتْنِي أُمُّ سَلَمَةَ , وَاشْتَرَطَتْ عَلَيَّ أَنْ أَخْدُمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عَاشَ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے مجھے آزاد کردیا اور یہ شرط لگا دی کہ تا حیات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا رہوں گا۔

21928

Musnad Ahmad #21928

Hasan

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ , حَدَّثَنَا حَشْرَجُ ابْنُ نُبَاتَةَ الْعَبْسِيُّ كُوفِيٌّ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ , حَدَّثَنِي سَفِينَةُ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْخِلَافَةُ فِي أُمَّتِي ثَلَاثُونَ سَنَةً , ثُمَّ مُلْكًا بَعْدَ ذَلِكَ" , ثُمَّ قَالَ لِي سَفِينَةُ: أَمْسِكْ خِلَافَةَ أَبِي بَكْرٍ , وَخِلَافَةَ عُمَرَ , وَخِلَافَةَ عُثْمَانَ , وَأَمْسِكْ خِلَافَةَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ , قَالَ: فَوَجَدْنَاهَا ثَلَاثِينَ سَنَةً , ثُمَّ نَظَرْتُ بَعْدَ ذَلِكَ فِي الْخُلَفَاءِ فَلَمْ أَجِدْهُ يَتَّفِقُ لَهُمْ ثَلَاثُونَ , فَقُلْتُ لِسَعِيدٍ: أَيْنَ لَقِيتَ سَفِينَةَ؟ قَالَ: لَقِيتُهُ بِبَطْنِ نَخْلٍ فِي زَمَنِ الْحَجَّاجِ , فَأَقَمْتُ عِنْدَهُ ثَمَانِ لَيَالٍ أَسْأَلُهُ عَنْ أَحَادِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: قُلْتُ لَهُ: مَا اسْمُكَ؟ قَالَ: مَا أَنَا بِمُخْبِرِكَ , سَمَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَفِينَةَ , قُلْتُ: وَلِمَ سَمَّاكَ سَفِينَةَ؟ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ , فَثَقُلَ عَلَيْهِمْ مَتَاعُهُمْ , فَقَالَ لِي:" ابْسُطْ كِسَاءَكَ" , فَبَسَطْتُهُ , فَجَعَلُوا فِيهِ مَتَاعَهُمْ , ثُمَّ حَمَلُوهُ عَلَيَّ , فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" احْمِلْ , فَإِنَّمَا أَنْتَ سَفِينَةُ" , فَلَوْ حَمَلْتُ يَوْمَئِذٍ وِقْرَ بَعِيرٍ , أَوْ بَعِيرَيْنِ , أَوْ ثَلَاثَةٍ , أَوْ أَرْبَعَةٍ , أَوْ خَمْسَةٍ , أَوْ سِتَّةٍ , أَوْ سَبْعَةٍ , مَا ثَقُلَ عَلَيَّ إِلَّا أَنْ يَجْفُوا .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ خلافت تیس سال تک رہے گی اس کے بعد بادشاہت آجائے گی حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ اسے یوں شمار کراتے ہیں کہ دو سال حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ہوئے دس سال حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بارہ سال حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے اور چھ سال حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے (کل تیس سال ہوگئے) راوی حدیث کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن جمہان سے پوچھا کہ حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سے آپ کی ملاقات کہاں ہوئی تھی؟ انہوں نے کہا حجاج بن یوسف کے زمانے میں بطن نخلہ میں میری ان سے ملاقات ہوئی تھی اور میں آٹھ راتیں ان کے یہاں مقیم رہا تھا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث پوچھتا رہا تھا، میں نے ان سے ان کا نام بھی پوچھا لیکن انہوں نے فرمایا کہ یہ میں نہیں بتاسکتا، بس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام سفینہ ہی رکھا تھا، میں نے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کا نام سفینہ کیوں رکھا تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ روانہ ہوئے، ان کا سامان اس رکھا اور وہ گٹھڑی میرے اوپر لاد دی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اسے اٹھا لو کہ تم نے سفینہ (کشتی) ہی ہو اس دن اگر مجھ پر ایک دو نہیں، سات اونٹوں کا بوجھ بھی لاد دیا جاتا تو مجھے کچھ بوجھ محسوس نہ ہوتا الاّ یہ کہ وہ مجھ پر زیادتی کرتے۔

21929

Musnad Ahmad #21929

Zaeef

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ , حَدَّثَنَا حَشْرَجٌ , حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ , عَنْ سَفِينَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَلَا إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ قَبْلِي إِلَّا قَدْ حَذَّرَ الدَّجَّالَ أُمَّتَهُ , هُوَ أَعْوَرُ عَيْنِهِ الْيُسْرَى , بِعَيْنِهِ الْيُمْنَى ظُفْرَةٌ غَلِيظَةٌ , مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ , يَخْرُجُ مَعَهُ وَادِيَانِ أَحَدُهُمَا جَنَّةٌ , وَالْآخَرُ نَارٌ , فَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ , مَعَهُ مَلَكَانِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ يُشْبِهَانِ نَبِيَّيْنِ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ , لَوْ شِئْتُ سَمَّيْتُهُمَا بِأَسْمَائِهِمَا وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمَا , وَاحِدٌ مِنْهُمَا عَنْ يَمِينِهِ , وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ , وَذَلِكَ فِتْنَةٌ , فَيَقُولُ الدَّجَّالُ: أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ , أَلَسْتُ أُحْيِ وَأُمِيتُ؟ فَيَقُولُ لَهُ أَحَدُ الْمَلَكَيْنِ: كَذَبْتَ , مَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ , إِلَّا صَاحِبُهُ , فَيَقُولُ لَهُ: صَدَقْتَ , فَيَسْمَعُهُ النَّاسُ , فَيَظُنُّونَ إِنَّمَا يُصَدِّقُ الدَّجَّالَ , وَذَلِكَ فِتْنَةٌ , ثُمَّ يَسِيرُ حَتَّى يَأْتِيَ الْمَدِينَةَ , فَلَا يُؤْذَنُ لَهُ فِيهَا , فَيَقُولُ: هَذِهِ قَرْيَةُ ذَلِكَ الرَّجُلِ , ثُمَّ يَسِيرُ حَتَّى يَأْتِيَ الشَّامَ فَيُهْلِكُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ عَقَبَةِ أَفِيقَ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا مجھ سے پہلے کوئی نبی ایسا نہیں گذرا جس نے اپنی امت کو دجال سے نہ ڈرایا ہو یاد رکھو! اس کی بائیں آنکھ کانی ہوگی اور اس کی دائیں آنکھ پر ایک موٹی پھلی ہوگی، اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا، اس کے پاس جنت اور جہنم کی تمثیلی دو وادیاں ہوں گے، اگر میں چاہوں تو ان دو نبیوں اور ان کے آباؤ اجداد کا نام بھی بتاسکتا ہوں، ان میں سے ایک اس کی دائیں جانب ہوگا اور دوسرا بائیں جانب اور یہ ایک آزمائش ہوگی۔ پھر دجال کہے گا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ کیا میں زندگی اور موت نہیں دیتا؟ ان میں سے ایک فرشتہ کہے گا تو جھوٹ بولتا ہے لیکن یہ بات اس کے ساتھی فرشتے کے علاوہ کوئی انسان نہ سن سکے گا، اس کا ساتھی اس سے کہے گا کہ تم نے سچ کہا، اس کی آواز لوگ سن لیں گے اور یہ سمجھیں گے کہ وہ دجال کی تصدیق کر رہا ہے حالانکہ یہ ایک آزمائش ہوگی، پھر وہ روانہ ہوگا یہاں تک کہ مدینہ منورہ جا پہنچے گا لیکن اسے وہاں داخل ہونے کی اجازت نہیں ملے گی اور وہ کہے گا کہ یہ اس آدمی کا شہر ہے پھر وہ وہاں سے چل کر شام پہنچے گا اور اللہ تعالیٰ اسے " افیق " نامی گھاٹی کے قریب ہلاک کروا دے گا۔

21930

Musnad Ahmad #21930

Sahih

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ , حَدَّثَنِي أَبُو رَيْحَانَةَ , قَالَ أَبِي: وَسَمَّاهُ عَلِيٌّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَطَرٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي سَفِينَةُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ يُوَضِّئُهُ الْمُدُّ , وَيَغْسِلُهُ الصَّاعُ مِنَ الْجَنَابَةِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے لئے ایک مد پانی رکھتے تھے اور غسل جنابت کے لئے ایک صاع پانی رکھتے تھے۔

21931

Musnad Ahmad #21931

Sahih

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , حَدَّثَنَا أَبُو رَيْحَانَةَ , عَنْ سَفِينَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ , وَيَتَطَهَّرُ بِالْمُدِّ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک صاع پانی سے غسل اور ایک مد پانی سے وضو فرما لیا کرتے تھے۔

21932

Musnad Ahmad #21932

Hasan

حَدَّثَنَا بَهْزٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ , عَنْ سَفِينَةَ , قَالَ: كُنَّا فِي سَفَرٍ , قَالَ: فَكَانَ كُلَّمَا أَعْيَا رَجُلٌ أَلْقَى عَلَيَّ ثِيَابَهُ تُرْسًا , أَوْ سَيْفًا , حَتَّى حَمَلْتُ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا كَثِيرًا , قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْتَ سَفِينَةُ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے جب کوئی آدمی تھک جاتا تو وہ اپنی تلوار، ڈھال اور نیزہ مجھے پکڑا دیتا، اس طرح میں نے بہت ساری چیزیں اٹھا لیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج تو تم سفینہ (کشتی) کا کام دے رہے ہو۔

21933

Musnad Ahmad #21933

Hasan

حَدَّثَنَا بَهْزٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , أخبرَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ , حَدَّثَنِا سَفِينَةُ , أَنَّ رَجُلًا ضَافَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا , فَقَالَتْ فَاطِمَةُ لِعَلِيٍّ: لَوْ دَعَوْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ مَعَنَا , فَدَعَوْنَاهُ فَجَاءَ , فَأَخَذَ بِعِضَادَتَيْ الْبَابِ وَقَدْ ضَرَبْنَا قِرَامًا فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ , فَلَمَّا رَآهُ رَجَعَ , قَالَتْ فَاطِمَةُ لِعَلِيٍّ: الْحَقْهُ فَانْظُرْ مَا رَجَعَهُ؟ قَالَ: مَا رَدَّكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ: " لَيْسَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتًا مُزَوَّقًا" ..

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے یہاں ایک آدمی مہمان بن کر آیا انہوں نے اس کے لئے کھانا تیار کیا تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کہنے لگیں کہ اگر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لیتے تو وہ بھی ہمارے ساتھ کھانا کھالیتے، چنانچہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا بھیجا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دروازے کے کو اڑوں کو پکڑا تو دیکھا کہ گھر کے ایک کونے میں ایک پردہ لٹک رہا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیکھتے ہی واپس چلے گئے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ ان کے پیچھے جائیے اور واپس جانے کی وجہ پوچھئے حضرت علی رضی اللہ عنہ پیچھے پیچھے گئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ! آپ واپس کیوں آگئے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے لئے یا کسی نبی کے لئے ایسے گھر میں داخل ہونا " جو آراستہ و منقش ہو " مناسب نہیں ہے۔

21934

Musnad Ahmad #21934

Hasan

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ بِمَعْنَاهُ , قَالَ:" إِنَّهُ لَيْسَ لِي , أَوْ قَالَ: لَيْسَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَدْخُلَ بَيْتًا مُزَوَّقًا".

اردو ترجمہ · Urdu

گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔