حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ , أَخبرنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ , أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ , أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ فِي مَجْلِسِ اللَّيْثِيِّينَ يَذْكُرُونَ , أَنَّ سُفْيَانَ أَخْبَرَهُمْ , أَنَّ فَرَسَهُ أَعْيَتْ بِالْعَقِيقِ وَهُوَ فِي بَعْثٍ بَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَرَجَعَ إِلَيْهِ يَسْتَحْمِلُهُ , فَزَعَمَ سُفْيَانُ كَمَا ذَكَرُوا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مَعَهُ يَبْتَغِي لَهُ بَعِيرًا , فَلَمْ يَجِدْه إِلَّا عِنْدَ أَبِي جَهْمِ بْنِ حُذَيْفَةَ الْعَدَوِيِّ , فَسَامَهُ لَهُ , فَقَالَ لَهُ أَبُو جَهْمٍ: لَا أَبِيعُكَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَلَكِنْ خُذْهُ فَاحْمِلْ عَلَيْهِ مَنْ شِئْتَ , فَزَعَمَ أَنَّهُ أَخَذَهُ مِنْهُ , ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى إِذَا بَلَغَ بِئْرَ الْإِهَابِ , زَعَمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يُوشِكُ الْبُنْيَانُ أَنْ يَأْتِيَ هَذَا الْمَكَانَ , وَيُوشِكُ الشَّامُ أَنْ يُفْتَتَحَ , فَيَأْتِيَهُ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ هَذَا الْبَلَدِ , فَيُعْجِبَهُمْ رِيفُهُ وَرَخَاؤُهُ , وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ , ثُمَّ يُفْتَحُ الْعِرَاقُ , فَيَأْتِي قَوْمٌ يَبُسُّونَ , فَيَتَحَمَّلُونَ بِأَهْلِيهِمْ وَمَنْ أَطَاعَهُمْ , وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ , إِنَّ إِبْرَاهِيمَ دَعَا لِأَهْلِ مَكَّةَ , وَإِنِّي أَسْأَلُ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْ يُبَارِكَ لَنَا فِي صَاعِنَا , وَأَنْ يُبَارِكَ لَنَا فِي مُدِّنَا , مِثْلَ مَا بَارَكَ لِأَهْلِ مَكَّةَ" .
اردو ترجمہ · Urdu
حضرت سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وادی عقیق میں پہنچ کر ایک مرتبہ ان کا گھوڑا چلنے پھرنے سے عاجز ہوگیا وہ اس لشکر میں شامل تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ فرمایا تھا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سواری کی درخواست لے کر واپس آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ اونٹ کی تلاش میں نکلے لیکن کہیں سے اونٹ نہ مل سکا، البتہ ابو جہم بن حذیفہ عدوی کے پاس ایک اونٹ نظر آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بھاؤ تاؤ کیا لیکن ابوجہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں اسے آپ کے ہاتھ فروخت تو نہیں کرتا البتہ آپ اسے لے جائیے اور جسے چاہیں اس پر سوار ہونے کی اجازت دے دیں ان کے بقول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اونٹ ابوجہم سے لے لیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے نکلے، جب بئر اہاب پر پہنچے تو ان کے بقول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عنقریب بلند وبالا عمارتیں اس جگہ تک بھی پہنچ جائیں گی اور شام فتح ہوجائے گا اس شہر کے کچھ لوگ وہاں جائیں گے تو انہیں وہاں کی شادابی اور آب وہوا خوب پسند آئے گی، حالانکہ اگر انہیں پتہ ہوتا تو مدینہ ہی ان کے لئے بہتر تھا، پھر عراق بھی فتح ہوجائے گا اور ایک قوم پھیل جائے گی وہ اپنے اہل خانہ اور اپنی بات ماننے والوں کو لے کر سوار ہوجائیں گے حالانکہ اگر انہیں پتہ ہوتا تو مدینہ ہی ان کے لئے بہتر تھا، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ میں رہنے والوں کے لئے دعاء مانگی تھی اور میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعاء کرتا ہوں کہ وہ ہمارے صاع اور مد میں اسی طرح برکت عطاء فرمائے جیسے اہل مکہ کو عطاء فرمائی ہے۔