Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 13 · Chapter 1069

انصار صحابہ کی روایات

ابو طفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ کی روایات۔

15 hadiths in this chapter

23792

Musnad Ahmad #23792

Sahih

حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُمَيْعٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: لَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ أَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ الْعَقَبَةَ، فَلَا يَأْخُذْهَا أَحَدٌ، فَبَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُودُهُ حُذَيْفَةُ وَيَسُوقُ بِهِ عَمَّارٌ إِذْ أَقْبَلَ رَهْطٌ مُتَلَثِّمُونَ عَلَى الرَّوَاحِلِ، غَشَوْا عَمَّارًا وَهُوَ يَسُوقُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَقْبَلَ عَمَّارٌ يَضْرِبُ وُجُوهَ الرَّوَاحِلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُذَيْفَةَ:" قَدْ، قَدْ" حَتَّى هَبَطَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا هَبَطَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ وَرَجَعَ عَمَّارٌ، فَقَالَ: يَا عَمَّارُ، " هَلْ عَرَفْتَ الْقَوْمَ؟" فَقَالَ: قَدْ عَرَفْتُ عَامَّةَ الرَّوَاحِلِ وَالْقَوْمُ مُتَلَثِّمُونَ، قَالَ:" هَلْ تَدْرِي مَا أَرَادُوا؟" قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" أَرَادُوا أَنْ يَنْفِرُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَطْرَحُوهُ" ، قَالَ: فَسَأَلَ عَمَّارٌ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: نَشَدْتُكَ بِاللَّهِ، كَمْ تَعْلَمُ كَانَ أَصْحَابُ الْعَقَبَةِ؟ فَقَالَ: أَرْبَعَةَ عَشَرَ، فَقَالَ: إِنْ كُنْتَ فِيهِمْ فَقَدْ كَانُوا خَمْسَةَ عَشَرَ، فَعَدَّدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ ثَلَاثَةً، قَالُوا: وَاللَّهِ مَا سَمِعْنَا مُنَادِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا عَلِمْنَا مَا أَرَادَ الْقَوْمُ، فَقَالَ عَمَّارٌ: أَشْهَدُ أَنَّ الِاثْنَيْ عَشَرَ الْبَاقِينَ حَرْبٌ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ، قَالَ الْوَلِيدُ: وَذَكَرَ أَبُو الطُّفَيْلِ فِي تِلْكَ الْغَزْوَةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلنَّاسِ، وَذُكِرَ لَهُ أَنَّ فِي الْمَاءِ قِلَّةً، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا فَنَادَى: أَنْ لَا يَرِدَ الْمَاءَ أَحَدٌ قَبْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَرَدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ رَهْطًا وَرَدُوهُ قَبْلَهُ، فَلَعَنَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ.

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ تبوک سے واپس آرہے تھے تو راستے میں منادی کو حکم دیا اس نے یہ اعلان کردیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھاٹی کا راستہ اختیار کیا ہے اس راستے پر کوئی نہ جائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ تھے اور پیچھے حضرت عمار رضی اللہ عنہ تھے کہ اچانک کچھ سواریوں پر ڈھاٹا باندھے ہوئے لوگوں کا ایک گروہ سامنے آگیا جنہوں نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ کو گھیر لیا حضرت عمار رضی اللہ عنہ پیچھے تھے وہ ان سواریوں کے چہروں پر مارنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطرے کا احساس ہوتے ہی حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے سواری روکنے کے لئے کہا اور نیچے اتر آئے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس گھاٹی سے اترنے لگے اسی دوران حضرت عمار رضی اللہ عنہ بھی واپس آگئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا عمار! کیا تم ان لوگوں کو پہچان سکے ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ اکثر سواریوں کو تو میں نے پہچان لیا ہے لیکن لوگوں نے اپنے چہروں پر ڈھاٹا باندھا ہوا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تمہیں ان کا ارادہ معلوم ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کا ارادہ یہ تھا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو لے جائیں اور اوپر سے نیچے دھکیل دیں۔ پھر حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کو سخت سست کہا اور کہا کہ میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس گھاٹی میں کتنے آدمی تھے؟ اس نے کہا چودہ انہوں نے کہا کہ اگر آپ بھی ان میں شامل ہوں تو وہ پندرہ ہوتے ہیں جن میں سے تین کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معذور قرار دیا تھا جن کا کہنا یہ تھا کہ بخدا! ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی کی آواز نہیں سنی تھی اور ہمیں معلوم نہیں تھا کہ ان لوگوں کا کیا ارادہ تھا؟ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ بارہ آدمی جو باقی بچے وہ دنیوی زندگی اور گواہوں کے اٹھنے کے دن دونوں موقعوں پر اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرنے والے ہیں۔ ولید کہتے ہیں کہ حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ نے اسی غزوے کے متعلق بتایا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے " جب پانی کی قلت کا علم ہوا تو " لوگوں سے فرما دیا تھا اور منادی نے یہ اعلان کردیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کوئی شخص پانی پر نہ جائے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب وہاں پہنچے تو کچھ لوگوں کو وہاں موجود پایا جو ان سے پہلے وہاں پہنچ گئے تھے اس دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لعنت ملامت کی۔

23793

Musnad Ahmad #23793

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبِي مِنْ كِتَابِهِ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا رَبَاحُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ حَبِيبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي الطُّفَيْلِ، فَوَجَدْتُهُ طَيِّبَ النَّفْسِ، فَقُلْتُ: لَأَغْتَنِمَنَّ ذَلِكَ مِنْهُ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا الطُّفَيْلِ، النَّفَرُ الَّذِينَ لَعَنَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْ بَيْنِهِمْ، مَنْ هُمْ؟ فَهَمَّ أَنْ يُخْبِرَنِي بِهِمْ، فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ سَوْدةٌ : مَهْ يَا أَبَا الطُّفَيْلِ، أَمَا بَلَغَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَأَيُّمَا عَبْدٍ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ دَعَوْتُ عَلَيْهِ دَعْوَةً، فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَرَحْمَةً" .

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابو الطفیل رضی اللہ عنہ کے گھر میں داخل ہوا تو انہیں خوشگوار موڈ میں پایا میں نے اس موقع کو غنیمت سمجھ کر فائدہ اٹھانے کی سوچی چناچہ میں نے ان سے عرض کیا کہ اے ابوالطفیل! وہ لوگ جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت ملامت کی تھی وہ کون تھے؟ ابھی انہوں نے مجھے ان کے متعلق بتانے کا ارادہ ہی کیا تھا کہ ان کی اہلیہ سودہ نے کہا کہ اے ابوالطفیل! رک جائیے آپ کو معلوم نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اے اللہ! میں بھی ایک انسان ہوں اس لئے اگر کسی مسلمان کو میں نے کوئی بد دعا دی ہو تو اسے اس شخص کے حق میں تزکیہ اور رحمت کا سبب بنا دے۔

23794

Musnad Ahmad #23794

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ:" لَمَّا بُنِيَ الْبَيْتُ كَانَ النَّاسُ يَنْقُلُونَ الْحِجَارَةَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقُلُ مَعَهُمْ، فَأَخَذَ الثَّوْبَ فَوَضَعَهُ عَلَى عَاتِقِهِ، فَنُودِيَ: لَا تَكْشِفْ عَوْرَتَكَ، فَأَلْقَى الْحَجَرَ وَلَبِسَ ثَوْبَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابو الطفیل رضی اللہ عنہ سے (زمانہ جاہلیت میں بناء کعبہ کا تذکرہ کرتے ہوئے) مروی ہے کہ جب بیت اللہ کی تعمیر شروع ہوئی (تو قریش نے پہلے اسے مکمل منہدم کیا اور وادی کے پتھروں سے اس کی تعمیر شروع کردی) لوگ وہ پتھر اٹھا اٹھا کر لا رہے تھے جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی شامل تھے (قریش نے اسے بیس گز لمبا رکھا تھا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونی چادر پہن رکھی تھی لیکن پتھر اٹھانے کے دوران اسے سنبھالنا مشکل ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چادر کو اپنے کندھے پر ڈال لیا اس وقت کسی نے پکار کر کہا کہ اپنا ستر چھپائیے چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پتھر پھینکا اور اپنی چادر اوڑھ لی۔ صلی اللہ علیہ وسلم

23795

Musnad Ahmad #23795

Sahih

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُبَيْدٍ الرَّاسِبِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا نُبُوَّةَ بَعْدِي إِلَّا الْمُبَشِّرَاتِ" قَالَ: قِيلَ: وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ"، أَوْ قَالَ:" الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعد نبوت تو نہیں ہوگی البتہ " مبشرات " ہوں گے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! " مبشرات " سے کیا مراد ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھے خواب۔

23796

Musnad Ahmad #23796

Zaeef

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ عِمْرَانَ الْمَازِنِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ ، وَسُئِلَ: هَلْ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قِيلَ: فَهَلْ كَلَّمْتَهُ؟ قَالَ: لَا، وَلَكِنْ رَأَيْتُهُ انْطَلَقَ مَكَانَ كَذَا وَكَذَا، وَمَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَأُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، حَتَّى أَتَى دَارَ قَوْرَاءَ، فَقَالَ: " افْتَحُوا هَذَا الْبَابَ"، فَفُتِحَ وَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَخَلْتُ مَعَهُ، فَإِذَا قَطِيفَةٌ فِي وَسَطِ الْبَيْتِ، فَقَالَ:" ارْفَعُوا هَذِهِ الْقَطِيفَةَ"، فَرَفَعُوا الْقَطِيفَةَ، فَإِذَا غُلَامٌ أَعْوَرُ تَحْتَ الْقَطِيفَةِ، فَقَالَ:" قُمْ يَا غُلَامُ"، فَقَامَ الْغُلَامُ، فَقَالَ: يَا غُلَامُ،" أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟"، قَالَ الْغُلَامُ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالَ:" أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟" قَالَ الْغُلَامُ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ هَذَا" مَرَّتَيْنِ .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں! سائل نے پوچھا کہ کیا بات بھی کی ہے؟ انہوں نے فرمایا نہیں البتہ میں نے فلاں جگہ جاتے ہوئے دیکھا تھا اس وقت ان کے ہمراہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہ تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک کشادہ مکان پر پہنچے اور دروازہ کھلوایا جب دروازہ کھلا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اندر داخل ہوگئے میں بھی ان کے ساتھ ہی اندر چلا گیا وہاں گھر کے درمیان میں ایک چادر تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ چادر اٹھاؤ صحابہ رضی اللہ عنہ نے چادر اٹھائی تو اس کے نیچے سے ایک کانا لڑکا نکلا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے لڑکے! کھڑا ہوجا وہ لڑکا کھڑا ہوگیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا اے لڑکے! کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس لڑکے نے کہا کیا آپ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ دو مرتبہ یہی سوال جواب ہوئے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو۔

23797

Musnad Ahmad #23797

Sahih

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أخبرنا الْجُرَيْرِيُّ ، قَالَ: كُنْتُ أَطُوفُ مَعَ أَبِي الطُّفَيْلِ ، فَقَالَ: مَا بَقِيَ أَحَدٌ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرِي، قَالَ: قُلْتُ: وَرَأَيْتَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ كَانَ صِفَتُهُ؟ قَالَ:" كَانَ أَبْيَضَ مَلِيحًا مُقْصِدًا" .

اردو ترجمہ · Urdu

جریری کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ کے ہمراہ طواف کر رہا تھا کہ وہ کہنے لگے اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرنے والا میرے علاوہ کوئی شخص باقی نہیں بچا میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں میں نے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ کیسا تھا؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ گورا خوبصورت اور جسم معتدل تھا۔

23798

Musnad Ahmad #23798

Sahih

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مَعْرُوفٌ الْمَكِّيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ عَامِرَ بْنَ وَاثِلَةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ، " يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عَلَى رَاحِلَتِهِ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِمِحْجَنِهِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے اس وقت میں بالکل نوجوان تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے اور اپنی چھڑی سے حجر اسود کا استلام کر رہے تھے۔

23799

Musnad Ahmad #23799

Hasan

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُمَيْعٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: قَالَ لِي أَبُو الطُّفَيْلِ : " أَدْرَكْتُ ثَمَانِ سِنِينَ مِنْ حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَوُلِدْتُ عَامَ أُحُدٍ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کے آٹھ سال پائے ہیں اور میں غزوہ احد کے سال پیدا ہوا تھا۔

23800

Musnad Ahmad #23800

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أخبر مَعْمَرٌ ، عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، وَذَكَرَ بِنَاءَ الْكَعْبَةِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَ:" فَهَدَمَتْهَا قُرَيْشٌ، وَجَعَلُوا يَبْنُونَهَا بِحِجَارَةِ الْوَادِي تَحْمِلُهَا قُرَيْشٌ عَلَى رِقَابِهَا، فَرَفَعُوهَا فِي السَّمَاءِ عِشْرِينَ ذِرَاعًا، فَبَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُ حِجَارَةً مِنْ أَجْيَادٍ وَعَلَيْهِ نَمِرَةٌ، فَضَاقَتْ عَلَيْهِ النَّمِرَةُ، فَذَهَبَ يَضَعُ النَّمِرَةَ عَلَى عَاتِقِهِ، فَيُرَى عَوْرَتُهُ مِنْ صِغَرِ النَّمِرَةِ، فَنُودِيَ: يَا مُحَمَّدُ، خَمِّرْ عَوْرَتَكَ، فَلَمْ يُرَى عُرْيَانًا بَعْدَ ذَلِكَ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ سے (زمانہ جاہلیت میں بناء کعبہ کا تذکرہ کرتے ہوئے) مروی ہے کہ جب بیت اللہ کی تعمیر شروع ہوئی (تو قریش نے پہلے اسے مکمل منہدم کیا اور وادی کے پتھروں سے اس کی تعمیر شروع کردی) لوگ وہ پتھر اٹھا اٹھا کر لارہے تھے جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی شامل تھے (قریش نے اسے بیس گز لمبا رکھا تھا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اونی چادر پہن رکھی تھی لیکن پتھر اٹھانے کے دوران اسے سنبھالنا مشکل ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس چادر کو اپنے کندھے پر ڈال لیا اس وقت کسی نے پکار کر کہا کہ اپنا ستر چھپائیے چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پتھر پھینکا اور اپنی چادراوڑھ لی۔ صلی اللہ علیہ وسلم

23801

Musnad Ahmad #23801

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنِّي أَنْزِعُ أَرْضًا، وَرَدَتْ عَلَيَّ وَغَنَمٌ سُودٌ وَغَنَمٌ عُفْرٌ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ وَفِيهِمَا ضَعْفٌ، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ فَنَزَعَ فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا فَمَلَأَ الْحَوْضَ وَأَرْوَى الْوَارِدَةَ، فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا أَحْسَنَ نَزْعًا مِنْ عُمَرَ، فَأَوَّلْتُ أَنَّ السُّودَ الْعَرَبُ، وَأَنَّ الْعُفْرَ الْعَجَمُ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے میں ایک علاقے میں ہوں اور میرے پاس کچھ سیاہ اور کچھ سفید بکریاں آئی ہیں تھوڑی دیر بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور انہوں نے ایک دو ڈول کھینچے جن میں کچھ کمزوری تھی اللہ انہیں معاف کر دے پھر عمر رضی اللہ عنہ آئے اور وہ ان کے ہاتھ میں ڈول بن گیا اور انہوں نے حوض بھر دیا اور آنے والوں کو سیراب کردیا میں نے عمر سے زیادہ اچھا ڈول کھینچنے والا کوئی عقبری آدمی نہیں دیکھا اور میں نے اس خواب کی تعبیر یہ لی ہے کہ سیاہ بکریوں سے مراد عرب ہیں اور سفید بکریوں سے مراد اہل عجم ہیں۔

23802

Musnad Ahmad #23802

Sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَمَلَ مِنَ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود سے حجر اسود تک تین چکروں میں رمل کیا تھا۔

23803

Musnad Ahmad #23803

Zaeef

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ مُظَفَّرُ بْنُ مُدْرِكٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ ، أَنَّ رَجُلًا مَرَّ عَلَى قَوْمٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، فَرَدُّوا عَلَيْهِ السَّلَامَ، فَلَمَّا جَاوَزَهُمْ، قَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأُبْغِضُ هَذَا فِي اللَّهِ، فَقَالَ أَهْلُ الْمَجْلِسِ: بِئْسَ وَاللَّهِ مَا قُلْتَ، أَمَا وَاللَّهِ لَنُنَبِّئَنَّهُ، قُمْ يَا فُلَانُ رَجُلًا مِنْهُمْ فَأَخْبِرْهُ، قَالَ: فَأَدْرَكَهُ رَسُولُهُمْ، فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَ، فَانْصَرَفَ الرَّجُلُ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَرَرْتُ بِمَجْلِسٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فِيهِمْ فُلَانٌ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِمْ فَرَدُّوا السَّلَامَ، فَلَمَّا جَاوَزْتُهُمْ أَدْرَكَنِي رَجُلٌ مِنْهُمْ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ فُلَانًا، قَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأُبْغِضُ هَذَا الرَّجُلَ فِي اللَّهِ، فَادْعُهُ فَسَلْهُ عَلَى مَا يُبْغِضُنِي؟ فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَمَّا أَخْبَرَهُ الرَّجُلُ، فَاعْتَرَفَ بِذَلِكَ، وَقَالَ: قَدْ قُلْتُ لَهُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَلِمَ تُبْغِضُهُ؟" قَالَ: أَنَا جَارُهُ وَأَنَا بِهِ خَابِرٌ، وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُهُ يُصَلِّي صَلَاةً قَطُّ إِلَّا هَذِهِ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ الَّتِي يُصَلِّيهَا الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ، قَالَ الرَّجُلُ: سَلْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ: هَلْ رَآنِي قَطُّ أَخَّرْتُهَا عَنْ وَقْتِهَا، أَوْ أَسَأْتُ الْوُضُوءَ لَهَا، أَوْ أَسَأْتُ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فِيهَا؟ فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: لَا، ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُهُ يَصُومُ قَطُّ إِلَّا هَذَا الشَّهْرَ الَّذِي يَصُومُهُ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ رَآنِي قَطُّ أَفْطَرْتُ فِيهِ، أَوْ انْتَقَصْتُ مِنْ حَقِّهِ شَيْئًا؟ فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَا، ثُمَّ قَالَ: وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُهُ يُعْطِي سَائِلًا قَطُّ، وَلَا رَأَيْتُهُ يُنْفِقُ مِنْ مَالِهِ شَيْئًا فِي شَيْءٍ مِنْ سَبِيلِ اللَّهِ بِخَيْرٍ إِلَّا هَذِهِ الصَّدَقَةَ الَّتِي يُؤَدِّيهَا الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ، قَالَ: فَسَلْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ: هَلْ كَتَمْتُ مِنَ الزَّكَاةِ شَيْئًا قَطُّ، أَوْ مَاكَسْتُ فِيهَا طَالِبَهَا؟ قَالَ: فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: لَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُمْ، إِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ خَيْرٌ مِنْكَ" ..

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی کچھ لوگوں کے پاس سے گذرا اس نے انہیں سلام کیا لوگوں نے اس کے سلام کا جواب دیا جب وہ آدمی آگے بڑھ گیا تو ان لوگوں میں سے ایک نے کہا کہ بخدا! میں اللہ کی راہ میں اس سے بغض رکھتا ہوں اہل مجلس نے اس سے کہا کہ تم نے بہت بری بات کی ہے بخدا! ہم اسے یہ بات ضروربتائیں گے، پھر ایک آدمی سے کہا کہ اے فلاں! کھڑا ہو اور جا کر اسے یہ بات بتادے چناچہ قاصد نے اسے جالیا اور یہ بات بتادی وہ آدمی وہاں سے پلٹ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! مسلمانوں کی ایک مجلس پر میرا گذر ہوا میں نے انہیں سلام کیا ان میں فلاں آدمی بھی تھا ان سب نے میرے سلام کا جواب دیا جب میں آگے بڑھ گیا تو ان میں سے ایک آدمی میرے پاس آیا اور اس نے مجھے بتایا کہ فلاں آدمی کا یہ کہنا ہے کہ میں اس سے بغض فی اللہ رکھتا ہوں آپ اسے بلا کر پوچھئے کہ وہ مجھ سے کس بنا پر بغض رکھتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور اس بات کے متعلق دریافت فرمایا اس نے اپنی بات کا اعتراف کرلیا اور کہا کہ یا رسول اللہ! میں نے یہ بات کہی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس سے بغض کیوں رکھتے ہو؟ اس نے کہا کہ میں اس کا پڑوسی ہوں اور اس کے حالات سے باخبر ہوں بخدا! میں نے اسے اس فرض نماز جسے نیک اور فاجر لوگ ہی پڑھتے ہیں کے علاوہ کبھی کوئی نماز نہیں پڑھتے ہوئے دیکھا اس شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس سے پوچھئے کہ کیا اس نے مجھے کبھی بھی نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ وضو غلط کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ یا رکوع و سجود میں کبھی غلطی کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پوچھنے پر اس نے کہا نہیں پھر کہنے لگا میں نے اسے کبھی روزہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھا سوائے اس مہینے کے جس کا روزہ نیک اور فاجر ہی رکھتے ہیں اس نے کہا یا رسول اللہ! اس سے پوچھئے کہ کیا کبھی اس نے مجھے اس مہینے میں کسی دن روزے کا ناغہ کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ یا میں نے اس کے حق میں کوئی کمی کی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا نہیں۔ پھر اس نے کہا کہ واللہ میں نے اسے کبھی کسی سائل کو کچھ دیتے ہوئے نہیں دیکھا اور میں نے اسے اپنے مال میں سے اللہ کے راستہ میں کچھ خرچ کرتے ہوئے نہیں دیکھا سوائے اس زکوٰۃ کے جو نیک اور فاجر ہی ادا کرتے ہیں اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ اس سے پوچھئے کہ کی میں نے زکوٰۃ کا مال چھپایا ہے؟ یا اسے طلب کرنے والے کو کم دیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پوچھنے پر اس نے کہا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معترض سے فرمایا کہ اٹھ جاؤ میں نہیں جانتا شاید یہی تم سے بہتر ہو۔

23804

Musnad Ahmad #23804

Zaeef

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَجُلًا فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى قَوْمٍ. وَلَمْ يَذْكُرْ أَبَا الطُّفَيْلِ، قَالَ عَبْد اللَّهِ: بَلَغَنِي أَنَّ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدٍ حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ مِنْ حِفْظِهِ، وَقَالَ: عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، حَدَّثَ بِهِ ابْنُهُ يَعْقُوبُ، عَنْ أَبِيهِ فَلَمْ يَذْكُرْ أَبَا الطُّفَيْلِ، فَأَحْسِبُهُ وَهِمَ، وَالصَّحِيحُ رِوَايَةُ يَعْقُوبَ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

اردو ترجمہ · Urdu

گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

23805

Musnad Ahmad #23805

Zaeef

حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ ، أَنَّ رَجُلًا وُلِدَ لَهُ غُلَامٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَأَخَذَ بِبَشَرَةِ وَجْهِهِ وَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ"، قَالَ: فَنَبَتَتْ شَعَرَةٌ فِي جَبْهَتِهِ كَهَيْئَةِ الْقَوْسِ، وَشَبَّ الْغُلَامُ، فَلَمَّا كَانَ زَمَنُ الْخَوَارِجِ أَحَبَّهُمْ، فَسَقَطَتْ الشَّعَرَةُ عَنْ جَبْهَتِهِ، فَأَخَذَهُ أَبُوهُ فَقَيَّدَهُ وَحَبَسَهُ مَخَافَةَ أَنْ يَلْحَقَ بِهِمْ، قَالَ: فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَوَعَظْنَاهُ، وَقُلْنَا لَهُ فِيمَا نَقُولُ: أَلَمْ تَرَ أَنَّ بَرَكَةَ دَعْوَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ وَقَعَتْ عَنْ جَبْهَتِكَ؟ فَمَا زِلْنَا بِهِ حَتَّى رَجَعَ عَنْ رَأْيِهِمْ، فَرَدَّ اللَّهُ عَلَيْهِ الشَّعَرَةَ بَعْدُ فِي جَبْهَتِهِ وَتَابَ .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عہد نبوت میں ایک آدمی کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا وہ شخص اپنے بچے کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پیشانی پر ہاتھ پھیرا اور اس کے لئے برکت کی دعا کی چناچہ اس بچے کی پیشانی پر کمان کی طرح ایک بال اگ آیا وہ لڑکا جوان ہوگیا جب خوارج کا زمانہ آیا تو وہ خوراج سے محبت رکھنے لگا جس کی نحوست یہ ہوئی کہ اس کی پیشانی کا وہ بال جھڑ گیا اس کے باپ نے اسے پکڑ کر اسے پاؤں میں بیڑی ڈال کر بند کردیا تاکہ وہ خوارج کے ساتھ ہی جا نہ ملے ایک دن ہم لوگ اس کے پاس گئے اور اسے سمجھایا اور بہت ساری باتوں کے علاوہ اس سے یہ بھی کہا کہ تم یہ نہیں دیکھ رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی برکت تمہاری پیشانی سے جھڑگئی ہے ہم اسے مسلسل سمجھاتے رہے حتٰی کہ وہ ان کی رائے سے باز آگیا اور کچھ عرصے بعد اللہ نے اس کی پیشانی پر دوبارہ وہ بال اگا دیا اور اس نے توبہ کرلی۔

23806

Musnad Ahmad #23806

Sahih

حَدَّثَنَا يَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَمَلَ ثَلَاثًا مِنَ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوالطفیل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود سے حجر اسود تک تین چکروں میں رمل کیا تھا۔