Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 13 · Chapter 1068

انصار صحابہ کی روایات

عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کی روایات۔

13 hadiths in this chapter

23779

Musnad Ahmad #23779

Hasan

حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَسُرَيْجٌ ، قَالا: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةً"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قُلْتُ: وَاللَّهِ لَوْ جِئْتُ أَبَا سَعِيدٍ فَسَأَلْتُهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، ثُمَّ خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهِ، فَدَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، فَسَأَلْتُ عَنْهَا، فَقَالَ: خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَأُهْبِطَ إِلَى الْأَرْضِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَقَبَضَهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ، فَهِيَ آخِرُ سَاعَةٍ، وَقَالَ سُرَيْجٌ: فَهِيَ آخِرُ سَاعَتِهِ، فَقُلْتُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" فِي صَلَاةٍ" وَلَيْسَتْ بِسَاعَةِ صَلَاةٍ! قَالَ: أَوَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مُنْتَظِرُ الصَّلَاةِ فِي صَلَاةٍ؟" ، قُلْتُ: بَلَى، قال: هِيَ وَاللَّهِ هِيَ.

اردو ترجمہ · Urdu

ابوسلمہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کرتے تھے کہ جمعہ میں ایک ساعت آتی ہے۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا کہ میں نے سوچا واللہ اگر میں حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو ان سے یہ سوال ضرور پوچھوں گا چناچہ میں وہاں سے نکلا اور حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے یہاں حاضر ہوا اور ان سے اس کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جمعہ کے دن حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اس دن انہیں زمین پر اتارا گیا اسی دن ان کی روح قبض ہوئی اسی دن قیامت قائم ہوگی لہٰذا یہ آخری ساعت ہوئی میں نے عرض کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ ساعت نماز کے وقت ہوتی ہے اور عصر کے بعد نماز کا وقت نہیں ہوتا؟ انہوں نے فرمایا کیا تمہیں یہ بات معلوم نہیں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کا انتظار کرنے والا نماز میں ہی شمار ہوتا ہے؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں واللہ وہی ہے۔

23780

Musnad Ahmad #23780

Sahih

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ خُنَيْسٍ الْغِفَارِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، قَالَ: " مَا بَيْنَ كَدَاءٍ وَأُحُدٍ حَرَامٌ، حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا كُنْتُ لِأَقْطَعَ بِهِ شَجَرَةً، وَلَا أَقْتُلَ بِهِ طَائِرًا" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس جگہ یعنی کداء سے لے کر احد تک کی جگہ " حرم " ہے جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حرم قرار دیا ہے لہٰذا میں یہاں کوئی درخت کاٹ سکتا ہوں اور نہ کسی پرندے کو مار سکتا ہوں۔

23781

Musnad Ahmad #23781

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، قَالَ: قُلْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ: إِنَّا " نَجِدُ فِي كِتَابِ اللَّهِ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ سَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، فَيَسْأَلَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ شَيْئًا، إِلَّا أَعْطَاهُ مَا سَأَلَهُ، فَأَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: بَعْضُ سَاعَةٍ" ، قَالَ: فَقُلْتُ: صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو النَّضْرِ: قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: سَأَلْتُهُ: أَيَّةَ سَاعَةٍ هِيَ؟ قَالَ: آخِرُ سَاعَاتِ النَّهَارِ، فَقُلْتُ: إِنَّهَا لَيْسَتْ بِسَاعَةِ صَلَاةٍ! فَقَالَ: بَلَى، إِنَّ الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ فِي صَلَاتِهِ إِذَا صَلَّى ثُمَّ قَعَدَ فِي مُصَلَّاهُ لَا يَحْبِسُهُ إِلَّا انْتِظَارُ الصَّلَاةِ.

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں میں نے کہا کہ ہم کتاب اللہ میں یہ پاتے ہیں کہ جمعہ کے دن ایک گھڑی ایسی آتی ہے کہ اگر وہ بندہ مسلم کو مل جائے اور وہ نماز پڑھ رہا ہو تو وہ اللہ سے جو سوال بھی کرے گا اسے وہ ضرور عطا فرمائے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ سے فرمایا کہ وہ ساعت بہت مختصر ہوتی ہے میں نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا۔ ابوسلمہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ وہ ساعت کون سی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ دن کی آخری ساعت میں نے عرض کیا کہ کیا وہ نماز کی ساعت نہیں ہوتی؟ انہوں نے فرمایا کیوں نہیں بندہ مسلم جب نماز پڑھ کر اسی جگہ پر بیٹھ کر اگلی نماز کا انتظار کرتا ہے تو وہ نماز ہی میں شمارہوتا ہے۔

23782

Musnad Ahmad #23782

Zaeef

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَي أَبُو مُحَيَّاةَ التَّيْمِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَخِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ اسْمِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ، " فَسَمَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میرا نام عبداللہ بن سلام نہیں تھا میرا نام عبداللہ بن سلام تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھا ہے۔

23783

Musnad Ahmad #23783

Sahih

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ سَمِعَ الْقَوْمَ وَهُمْ يَقُولُونَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَحَجٌّ مَبْرُورٌ"، ثُمَّ سَمِعَ نِدَاءً فِي الْوَادِي، يَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَأَنَا أَشْهَدُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا يَشْهَدَ بِهَا أَحَدٌ إِلَّا بَرِئَ مِنَ الشِّرْكِ" ، قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ..

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سفر میں تھے دوران سفر کچھ لوگوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سوال پوچھا کہ یا رسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب سے افضل عمل کون سا ہے ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ پر ایمان لانا، اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا اور حج مبرور، پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وادی میں سے کسی کو یہ نداء کرتے ہوئے سنا کہ گواہی دیتا ہوں اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، اللہ کے رسول ہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں بھی اس کی گواہی دیتا ہوں اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ جو شخص بھی اس کی گواہی دے گا وہ شرک سے بری ہوجائے گا۔

23784

Musnad Ahmad #23784

Sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَوْفٍ ، حَدَّثَنَا زُرَارَةُ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ زُرَارَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ انْجَفَلَ النَّاسُ عَلَيْهِ، فَكُنْتُ فِيمَنْ انْجَفَلَ، فَلَمَّا تَبَيَّنْتُ وَجْهَهُ عَرَفْتُ أَنَّ وَجْهَهُ لَيْسَ بِوَجْهِ كَذَّابٍ، فَكَانَ أَوَّلُ شَيْءٍ سَمِعْتُهُ، يَقُولُ: " أَفْشُوا السَّلَامَ، وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَصِلُوا الْأَرْحَامَ، وَصَلُّوا وَالنَّاسُ نِيَامٌ، تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ" .

اردو ترجمہ · Urdu

گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

23785

Musnad Ahmad #23785

Sahih

قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: ثُمَّ لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ : قَدْ عَلِمْتُ أَيَّةَ سَاعَةٍ هِيَ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقُلْتُ لَهُ: فَأَخْبِرْنِي وَلَا تَضِنَّ عَلَيَّ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: كَيْفَ تَكُونُ آخِرَ سَاعَةٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يُصَلِّي" وَتِلْكَ سَاعَةٌ لَا يُصَلَّى فِيهَا؟! قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ : أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا يَنْتَظِرُ فِيهِ الصَّلَاةَ، فَهُوَ فِي الصَّلَاةِ حَتَّى يُصَلِّيَ؟" ، فَقُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَهُوَ ذَاكَ.

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ جوق در جوق ان کی خدمت میں حاضر ہونے لگے میں بھی ان میں شامل ہوگیا میں نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور کو دیکھا تو میں سمجھ گیا کہ یہ کسی جھوٹے آدمی کا چہرہ نہیں ہوسکتا اور وہ سب سے پہلا کلام جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا وہ یہ تھا کہ سلام کو پھیلاؤ، صلہ رحمی کرو اور جس وقت لوگ سو رہے ہوں تم نماز پڑھو اس طرح سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ۔

23786

Musnad Ahmad #23786

Sahih

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ ، فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثِي، وَحَدِيثَ كَعْبٍ فِي قَوْلِهِ فِي كُلِّ سَنَةٍ، قَالَ: كَذَبَ كَعْبٌ، وهُوَ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فِي كُلِّ يَوْمِ جُمُعَةٍ"، قُلْتُ: إِنَّهُ قَدْ رَجَعَ، قَالَ: أَمَا وَالَّذِي نَفْسُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَعْرِفُ تِلْكَ السَّاعَةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ فَأَخْبِرْنِي بِهَا، قَالَ: هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، قَالَ: قُلْتُ: قَالَ:" لَا يُوَافِقُ مُؤْمِنٌ وَهُوَ يُصَلِّي"! قَالَ: أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ انْتَظَرَ صَلَاةً، فَهُوَ فِي صَلَاةٍ حَتَّى يُصَلِّيَ؟" ، قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَهُوَ كَذَلِكَ.

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں کوہ طور کی طرف روانہ ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میری ملاقات حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے انہیں کعب کے ساتھ اپنی نشست کے متعلق بتایا اور جمعہ کے دن کے حوالے سے اپنی بیان کردہ حدیث بھی بتائی اور کہا کہ کعب کہنے لگے ایسا سال بھر میں صرف ایک مرتبہ ہوتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا کعب سے غلطی ہوئی ایسا ہر جمعہ میں ہوتا ہے حضرت ابن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں عبداللہ بن سلام کی جان ہے میں وہ گھڑی جانتا ہوں میں نے ان سے کہا کہ اے عبداللہ! مجھے بھی اس کے متعلق بتا دیجئے انہوں نے فرمایا وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت ہوتی ہے میں نے کہا کہ دوران نماز تو وہ کسی شخص کو نہیں مل سکتی (کیونکہ اس وقت ممنوع ہوتے ہیں) انہوں نے فرمایا کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے وہ نماز پڑھنے تک نماز ہی میں شمار ہوتا ہے؟ میں نے کہا کیوں نہیں، انہوں نے فرمایا پھر وہ یہی ہے۔

23787

Musnad Ahmad #23787

Sahih

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ ، قَالَ: كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَجَاءَ رَجُلٌ فِي وَجْهِهِ أَثَرٌ مِنْ خُشُوعٍ، فَدَخَلَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَأَوْجَزَ فِيهمَا، فَقَالَ الْقَوْمُ: هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَلَمَّا خَرَجَ اتَّبَعْتُهُ حَتَّى دَخَلَ مَنْزِلَهُ فَدَخَلْتُ مَعَهُ، فَحَدَّثْتُهُ فَلَمَّا اسْتَأْنَسَ، قُلْتُ لَهُ: إِنَّ الْقَوْمَ لَمَّا دَخَلْتَ قَبْلُ الْمَسْجِدَ، قَالُوا: كَذَا وَكَذَا، قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، مَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ مَا لَا يَعْلَمُ، وَسَأُحَدِّثُكَ لِمَ؟ إِنِّي رَأَيْتُ رُؤْيَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهِ، رَأَيْتُ كَأَنِّي فِي رَوْضَةٍ خَضْرَاءَ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: فَذَكَرَ مِنْ خُضْرَتِهَا وَسَعَتِهَا، وَسْطُهَا عَمُودُ حَدِيدٍ أَسْفَلُهُ فِي الْأَرْضِ وَأَعْلَاهُ فِي السَّمَاءِ، فِي أَعْلَاهُ عُرْوَةٌ، فَقِيلَ لِيَ: اصْعَدْ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: لَا أَسْتَطِيعُ، فَجَاءَنِي مِنْصَفٌ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: هُوَ الْوَصِيفُ، فَرَفَعَ ثِيَابِي مِنْ خَلْفِي، فَقَالَ: اصْعَدْ عَلَيْهِ، فَصَعِدْتُ حَتَّى أَخَذْتُ بِالْعُرْوَةِ، فَقَالَ: اسْتَمْسِكْ بِالْعُرْوَةِ، فَاسْتَيْقَظْتُ وَإِنَّهَا لَفِي يَدِي، قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ: " أَمَّا الرَّوْضَةُ فَرَوْضَةُ الْإِسْلَامِ، وَأَمَّا الْعَمُودُ فَعَمُودُ الْإِسْلَامِ، وَأَمَّا الْعُرْوَةُ فَهِيَ الْعُرْوَةُ الْوُثْقَى، أَنْتَ عَلَى الْإِسْلَامِ حَتَّى تَمُوتَ" ، قَالَ: وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ .

اردو ترجمہ · Urdu

قیس بن عباد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مسجد میں تھا کہ ایک آدمی آیا جس کے چہرے پر خشوع کے آثار واضح تھے اس نے مختصر طور پر دو رکعتیں پڑھیں لوگ کہنے لگے کہ یہ شخص اہل جنت میں سے ہے جب وہ چلا گیا تو میں بھی اس کے پیچھے روانہ ہوگیا حتیٰ کہ وہ آدمی اپنے گھر میں داخل ہوگیا میں بھی اس کے ساتھ اس کے گھر میں چلا گیا اور اس سے باتیں کرتا رہا جب وہ مجھ سے مانوس ہوگیا تو میں نے اس سے کہا کہ جب آپ مسجد میں داخل ہوئے تھے تو لوگوں نے آپ کے متعلق اس اس طرح کہا تھا اس نے کہا سبحان اللہ! انسان کو ایسی بات نہیں کہنی چاہئے جو وہ جانتا نہ ہو اور میں تمہیں اس کی وجہ بتاتا ہوں۔ میں نے عہد نبوت میں ایک خواب دیکھا تھا جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کردیا اس خواب میں میں نے دیکھا کہ میں ایک سرسبز و شاداب باغ میں ہوں جس کے درمیان میں لوہے کا ایک ستون ہے جس کا نچلا سرا زمین میں ہے اور اوپر والا سرا آسمان میں ہے اور اس کے اوپر ایک رسی ہے مجھے کسی نے کہا کہ اس پر چڑھ جاؤ میں نے کہا کہ اب چڑھو میں اس پر چڑھنے لگا حتیٰ کہ اس رسی کو پکڑ لیا اس نے مجھ سے کہا کہ اس رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنا میں جب بیدار ہوا تو یوں محسوس ہوا کہ وہ رسی اب تک میرے ہاتھ میں ہے پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ خواب بیان کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ باغ اسلام کا تھا ستون اسلام کا تھا اور وہ رسی مضبوط رسی تھی جس کا مطلب یہ ہے کہ تم مسلمان ہو اور موت تک اس پر قائم رہو گے قیس کہتے ہیں کہ پھر معلوم ہوا کہ وہ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ تھے۔

23788

Musnad Ahmad #23788

Sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، قَالَ: تَذَاكَرْنَا أَيُّكُمْ يَأْتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَسْأَلَهُ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى؟ فَلَمْ يَقُمْ أَحَدٌ مِنَّا، " فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا فَجَمَعَنَا، فَقَرَأَ عَلَيْنَا هَذِهِ السُّورَةَ، يَعْنِي سُورَةَ الصَّفِّ كُلَّهَا" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ مذاکرہ کر رہے تھے کہ تم میں سے کون آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ سوال کرے گا کہ اللہ کی نظروں میں سب سے پسندیدہ عمل کون سا ہے؟ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیبت کی وجہ سے ہم میں سے کوئی کھڑا نہ ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قاصد بھیج کر ایک ایک کر کے ہم سب کو اپنے پاس جمع کرلیا اور ہمارے سامنے سورت صف مکمل تلاوت فرمائی۔

23789

Musnad Ahmad #23789

Sahih

حَدَّثَنَا يَعْمَرُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، أَنْبَأَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ حَدَّثَهُ، أَوْ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ ، قَالَ:" تَذَاكَرْنَا بَيْنَنَا، فَقُلْنَا: أَيُّكُمْ يَأْتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَسْأَلَهُ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ؟ وَهِبْنَا أَنْ يَقُومَ مِنَّا أَحَدٌ، " فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا رَجُلًا رَجُلًا حَتَّى جَمَعَنَا، فَجَعَلَ بَعْضُنَا يُشِيرُ إِلَى بَعْضٍ، فَقَرَأَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ سورة الحشر آية 1 إِلَى قَوْلِهِ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ سورة الصف آية 3، قَالَ: فَتَلَاهَا مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا" ، قَالَ: فَتَلَاهَا عَلَيْنَا ابْنُ سَلَامٍ مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا، قَالَ: فَتَلَاهَا عَلَيْنَا عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا، قَالَ يَحْيَى: فَتَلَاهَا عَلَيْنَا هِلَالٌ مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا، قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: فَتَلَاهَا عَلَيْنَا يَحْيَى مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا.

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ مذاکرہ کر رہے تھے کہ تم میں سے کون آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ سوال کرے گا کہ اللہ کی نظروں میں سب سے پسندیدہ عمل کون سا ہے؟ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیبت کی وجہ سے ہم میں سے کوئی کھڑا نہ ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قاصد بھیج کر ایک ایک کر کے ہم سب کو اپنے پاس جمع کرلیا اور ہمارے سامنے سورت صف مکمل تلاوت فرمائی تلاوت کا یہ سلسلہ تمام راویوں نے اپنے شاگردوں تک جاری رکھا۔

23790

Musnad Ahmad #23790

Hasan

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَجَلَسْتُ إِلَى شِيَخَةٍ فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ شَيْخٌ يَتَوَكَّأُ عَلَى عَصًا لَهُ، فَقَالَ الْقَوْمُ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا، فَقَامَ خَلْفَ سَارِيَةٍ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ لَهُ: قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ: الْجَنَّةُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُهَا مَنْ يَشَاءُ، وَإِنِّي رَأَيْتُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُؤْيَا، رَأَيْتُ كَأَنَّ رَجُلًا أَتَانِي، فَقَالَ: انْطَلِقْ فَذَهَبْتُ مَعَهُ، فَسَلَكَ بِي مَنْهَجًا عَظِيمًا، فَعَرَضَتْ لِي طَرِيقٌ عَنْ يَسَارِي، فَأَرَدْتُ أَنْ أَسْلُكَهَا، فَقَالَ: إِنَّكَ لَسْتَ مِنْ أَهْلِهَا، ثُمَّ عَرَضَتْ لِي طَرِيقٌ عَنْ يَمِينِي، فَسَلَكْتُهَا حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى جَبَلٍ زَلِقٍ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَزَجَلَ بِي، فَإِذَا أَنَا عَلَى ذُرْوَتِهِ، فَلَمْ أَتَقَارَّ ولم أَتَمَاسَكْ، فَإِذَا عَمُودٌ مِنْ حَدِيدٍ فِي ذُرْوَتِهِ حَلْقَةٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَزَجَلَ بِي حَتَّى أَخَذْتُ بِالْعُرْوَةِ، فَقَالَ: اسْتَمْسِكْ، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَضَرَبَ الْعَمُودَ بِرِجْلِهِ فَاسْتَمْسَكْتُ بِالْعُرْوَةِ، فَقَصَصْتُهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " رَأَيْتَ خَيْرًا، أَمَّا الْمَنْهَجُ الْعَظِيمُ فَالْمَحْشَرُ، وَأَمَّا الطَّرِيقُ الَّتِي عَرَضَتْ عَنْ يَسَارِكَ، فَطَرِيقُ أَهْلِ النَّارِ، وَلَسْتَ مِنْ أَهْلِهَا، وَأَمَّا الطَّرِيقُ الَّتِي عَرَضَتْ عَنْ يَمِينِكَ، فَطَرِيقُ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَأَمَّا الْجَبَلُ الزَّلِقُ فَمَنْزِلُ الشُّهَدَاءِ، وَأَمَّا الْعُرْوَةُ الَّتِي اسْتَمْسَكْتَ بِهَا، فَعُرْوَةُ الْإِسْلَامِ، فَاسْتَمْسِكْ بِهَا حَتَّى تَمُوتَ" ، قَالَ: فَأَنَا أَرْجُو أَنْ أَكُونَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، قَالَ: وَإِذَا هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ .

اردو ترجمہ · Urdu

قیس بن عباد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مسجد میں تھا کہ ایک آدمی آیا جس کے چہرے پر خشوع کے آثار واضح تھے اس نے مختصر طور پر دو رکعتیں پڑھیں لوگ کہنے لگے کہ یہ شخص اہل جنت میں سے ہے جب وہ چلا گیا تو میں بھی اس کے پیچھے روانہ ہوگیا حتیٰ کہ وہ آدمی اپنے گھر میں داخل ہوگیا میں بھی اس کے ساتھ اس کے گھر میں چلا گیا اور اس سے باتیں کرتا رہا جب وہ مجھ سے مانوس ہوگیا تو میں نے اس سے کہا کہ جب آپ مسجد میں داخل ہوئے تھے تو لوگوں نے آپ کے متعلق اس اس طرح کہا تھا اس نے کہا سبحان اللہ! انسان کو ایسی بات نہیں کہنی چاہئے جو وہ جانتا نہ ہو اور میں تمہیں اس کی وجہ بتاتا ہوں۔ میں نے عہد نبوت میں ایک خواب دیکھا تھا جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کردیا اس خواب میں میں نے دیکھا کہ میں ایک سرسبز و شاداب باغ میں ہوں جس کے درمیان میں لوہے کا ایک ستون ہے جس کا نچلا سرا زمین میں ہے اور اوپر والا سرا آسمان میں ہے اور اس کے اوپر ایک رسی ہے مجھے کسی نے کہا کہ اس پر چڑھ جاؤ میں نے کہا کہ اب چڑھو میں اس پر چڑھنے لگا حتیٰ کہ اس رسی کو پکڑ لیا اس نے مجھ سے کہا کہ اس رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنا میں جب بیدار ہوا تو یوں محسوس ہوا کہ وہ رسی اب تک میرے ہاتھ میں ہے پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ خواب بیان کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ باغ اسلام کا تھا ستون اسلام کا تھا اور وہ رسی مضبوط رسی تھی جس کا مطلب یہ ہے کہ تم مسلمان ہو اور موت تک اس پر قائم رہو گے قیس کہتے ہیں کہ پھر معلوم ہوا کہ وہ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ تھے۔

23791

Musnad Ahmad #23791

Sahih

حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَدِمْتُ الشَّامَ، فَلَقِيتُ كَعْبًا، فَكَانَ يُحَدِّثُنِي عَنِ التَّوْرَاةِ، وَأُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى أَتَيْنَا عَلَى ذِكْرِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، فَحَدَّثْتُهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ فِيهَا خَيْرًا، إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ"، فَقَالَ كَعْبٌ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، هِيَ فِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةٌ، قُلْتُ: لَا، فَنَظَرَ كَعْبٌ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، هِيَ فِي كُلِّ شَهْرٍ مَرَّةٌ، قُلْتُ: لَا، فَنَظَرَ سَاعَةً، فَقَالَ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، فِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةٌ، قُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ كَعْبٌ: أَتَدْرِي أَيُّ يَوْمٍ هُوَ؟ قُلْتُ: وَأَيُّ يَوْمٍ هُوَ؟ قَالَ: فِيهِ خَلَقَ اللَّهُ آدَمَ، وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ، وَالْخَلَائِقُ فِيهِ مُصِيخَةٌ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ، خَشْيَةَ الْقِيَامَةِ، فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَأَخْبَرْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ بِقَوْلِ كَعْبٍ، فَقَالَ: كَذَبَ كَعْبٌ، قُلْتُ: إِنَّهُ قَدْ رَجَعَ إِلَى قَوْلِي، فَقَالَ: أَتَدْرِي أَيُّ سَاعَةٍ هِيَ؟ قُلْتُ: لَا، وَتَهَالَكْتُ عَلَيْهِ: أَخْبِرْنِي أَخْبِرْنِي، فَقَالَ: هِيَ فِيمَا بَيْنَ الْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ، قُلْتُ: كَيْفَ وَلَا صَلَاةَ؟ قَالَ: أَمَا سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَزَالُ الْعَبْدُ فِي صَلَاةٍ مَا كَانَ فِي مُصَلَّاهُ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ؟" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں کوہ طور کی طرف روانہ ہوا راستے میں میری ملاقات کعب احبار (رح) سے ہوگئی میں ان کے ساتھ بیٹھ گیا انہوں نے مجھے تورات کی باتیں اور میں نے انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سنانا شروع کردیں اسی دوران میں نے ان سے یہ حدیث بھی بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے سب سے بہترین دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے وہ جمعہ کا دن ہے جس میں حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا اسی دن انہیں جنت سے اتارا گیا اسی دن ان کی توبہ قبول ہوئی اسی دن وہ فوت ہوئے اور اسی دن قیامت قائم ہوگی اور زمین پر چلنے والا ہر جانور جمعہ کے دن طلوع آفتاب کے وقت خوفزدہ ہوجاتا ہے کہ کہیں آج ہی قیامت قائم نہ ہوجائے سوائے جن و انس کے اور اس دن میں ایک گھڑی ایسی بھی آتی ہے جو اگر کسی نماز پڑھتے ہوئے بندہ مسلم کو مل جائے اور وہ اس میں اللہ سے کچھ بھی مانگ لے اللہ اسے وہ ضرورعطاء فرماتا ہے۔ کعب (رح) کہنے لگے کہ یہ ہر سال میں مرتبہ ہوتا ہے میں نے کہا کہ نہیں ہر جمعہ میں ہوتا ہے اس پر کعب نے تورات کو کھول کر پڑھا پھر کہنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میری ملاقات حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے انہیں کعب کے ساتھ اپنی اس نشست کے متعلق بتایا اور جمعہ کے دن کے حوالے سے اپنی بیان کردہ حدیث بھی بتائی اور کہا کہ کعب کہنے لگے ایسا سال بھر میں ایک مرتبہ ہوتا ہے حضرت عبداللہ بن سلام سے ہوئی میں نے کہا کہ پھر کعب نے تورات پڑھ کر کہا کہ نہیں ایسا ہر جمعہ میں ہوتا ہے حضرت ابن سلام رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ وہ گھڑی کون سی ہے میں نے کہا نہیں میں تو ہلاک ہوگیا آپ مجھے بتا دیجئے انہوں نے فرمایا وہ عصر اور مغرب کے درمیان ہوتی ہے میں نے کہا یہ کیسے ہوسکتا ہے جبکہ اس وقت کوئی نماز نہیں ہوتی؟ انہوں نے فرمایا کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے وہ نماز پڑھنے تک نماز ہی میں شمار ہوتا ہے؟ میں نے کہا کیوں نہیں، انہوں نے فرمایا پھر وہ یہی ہے۔