Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 13 · Chapter 1061

انصار صحابہ کی روایات

جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ کی روایات۔

8 hadiths in this chapter

23747

Musnad Ahmad #23747

Hasan

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ الْحَجَّاجِ يَعْنِي الصَّوَّافَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ ابْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِنَ الْغَيْرَةِ مَا يُحِبُّ اللَّهُ وَمِنْهَا مَا يُبْغِضُ اللَّهُ، وَمِنْ الْخُيَلَاءِ مَا يُحِبُّ اللَّهُ وَمِنْهَا مَا يُبْغِضُ اللَّهُ فَأَمَّا الْغَيْرَةُ الَّتِي يُحِبُّ اللَّهُ، فَالْغَيْرَةُ فِي رِيبَةٍ، وَأَمَّا الَّتِي يُبْغِضُ اللَّهُ، فَالْغَيْرَةُ فِي غَيْرِ الرِّيبَةِ، وَأَمَّا الْخُيَلَاءُ الَّتِي يُحِبُّ اللَّهُ أَنْ يَتَخَيَّلَ الْعَبْدُ بِنَفْسِهِ لِلَّهِ عِنْدَ الْقِتَالِ، وَأَنْ يَتَخَيَّلَ بِالصَّدَقَةِ" ..

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا غیرت کی بعض قسمیں ایسی ہیں جو اللہ کو محبوب ہیں اور بعض ایسی ہیں جو اللہ کو مبغوض ہیں اسی طرح تکبر کی بعض قسمیں ایسی ہیں جو اللہ کو محبوب ہیں اور بعض ایسی ہیں جو مبغوض ہیں چناچہ وہ غیرت جو اللہ کو محبوب ہے وہ ان چیزوں میں ہوتی ہے جن میں کوئی شخص کا پہلو موجود ہو اور مبغوض وہ ہے جس میں شک کا کوئی پہلو موجود نہ ہو اور وہ تکبر جو اللہ کو محبوب ہے وہ یہ ہے کہ انسان اللہ کی رضا کے لئے قتال کے وقت اپنے آپ کو نمایاں کرے اور صدقات و خیرات میں نمایاں کرے (اور مبغوض وہ ہے جو صرف فخر یا بغاوت کے لئے ہو)

23748

Musnad Ahmad #23748

Hasan

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقُرَشِيُّ ، حَدَّثَنِي ابْنُ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، وَكَانَ أَبُوهُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ مِنَ الْغَيْرَةِ" فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، وَقَالَ:" الْخُيَلَاءُ الَّتِي يُحِبُّ اللَّهُ اخْتِيَالُ الرَّجُلِ فِي الْقِتَالِ، وَاخْتِيَالُهُ فِي الصَّدَقَةِ، وَالْخُيَلَاءُ الَّتِي يُبْغِضُ اللَّهُ الْخُيَلَاءُ فِي الْبَغْيِ"، أَوْ قَالَ:" فِي الْفَخْرِ".

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا غیرت کی بعض قسمیں ایسی ہیں جو اللہ کو محبوب ہیں اور بعض ایسی ہیں جو اللہ کو مبغوض ہیں اسی طرح تکبر کی بعض قسمیں ایسی ہیں جو اللہ کو محبوب ہیں اور بعض ایسی ہیں جو مبغوض ہیں چناچہ وہ غیرت جو اللہ کو محبوب ہے وہ ان چیزوں میں ہوتی ہے جن میں کوئی شخص کا پہلو موجود ہو اور مبغوض وہ ہے جس میں شک کا کوئی پہلو موجود نہ ہو اور وہ تکبر جو اللہ کو محبوب ہے وہ یہ ہے کہ انسان اللہ کی رضا کے لئے قتال کے وقت اپنے آپ کو نمایاں کرے اور صدقات و خیرات میں نمایاں کرے (اور مبغوض وہ ہے جو صرف فخر یا بغاوت کے لئے ہو)

23749

Musnad Ahmad #23749

Sahih

قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ : مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ ، أَنَّهُ قَالَ: جَاءَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فِي بَنِي مُعَاوِيَةَ، قَرْيَةٍ مِنْ قُرَى الْأَنْصَارِ، فَقَالَ لِي: هَلْ تَدْرِي أَيْنَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَسْجِدِكُمْ هَذَا؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَأَشَرْتُ لَهُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنْهُ، فَقَالَ: هَلْ تَدْرِي مَا الثَّلَاثُ الَّتِي دَعَا بِهِنَّ فِيهِ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَخْبِرْنِي بِهِمْ، فَقُلْتُ: " دَعَا بِأَنْ لَا يُظْهِرَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ، وَلَا يُهْلِكَهُمْ بِالسِّنِينَ، فَأُعْطِيَهُمَا، وَدَعَا بِأَنْ لَا يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ، فَمَنَعَنِيهَا" ، قَالَ: صَدَقْتَ، فَلَا يَزَالُ الْهَرْجُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ.

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمارے پاس بنو معاویہ میں ایک مرتبہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما آئے جو انصار کی ایک بستی ہے اور مجھ سے فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہاری اس مسجد میں کہاں نماز پڑھی تھی؟ میں نے کہا جی ہاں! اور مسجد کے ایک کونے کی طرف اشارہ کردیا پھر انہوں نے فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جن تین چیزوں کی دعا یہاں مانگی تھی وہ کیا ہیں؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! انہوں نے فرمایا بتاؤ وہ کیا ہیں؟ میں نے عرض کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا فرمائی تھی کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر کسی بیرونی دشمن کو مسلط نہ کرے اور انہیں قحط سالی سے ہلاک نہ کرے یہ دونوں دعائیں قبول ہوگئیں۔ اور تیسری دعا یہ فرمائی کہ ان کی جنگ آپس میں نہ ہونے لگے لیکن اللہ نے یہ دعا قبول نہیں فرمائی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا تم نے صحیح بیان کیا قیامت تک اسی طرح قتل و غارت گری ہوتی رہے گی۔

23750

Musnad Ahmad #23750

Hasan

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَنَّ ابْنَ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِنَ الْغَيْرَةِ مَا يُحِبُّ اللَّهُ وَمِنْهَا مَا يُبْغِضُ اللَّهُ، وَمِنْ الْخُيَلَاءِ مَا يُحِبُّ اللَّهُ وَمِنْهَا مَا يُبْغِضُ اللَّهُ، فَالْغَيْرَةُ الَّتِي يُحِبُّ اللَّهُ الْغَيْرَةُ فِي الرِّيبَةِ، وَالْغَيْرَةُ الَّتِي يُبْغِضُ اللَّهُ الْغَيْرَةُ فِي غَيْرِ رِيبَةٍ، وَالْخُيَلَاءُ الَّتِي يُحِبُّ اللَّهُ اخْتِيَالُ الْعَبْدِ بِنَفْسِهِ لِلَّهِ عِنْدَ الْقِتَالِ وَاخْتِيَالُهُ بِالصَّدَقَةِ، وَالْخُيَلَاءُ الَّتِي يُبْغِضُ اللَّهُ الْخُيَلَاءُ فِي الْفَخْرِ وَالْكِبْرِ" ، أَوْ كَالَّذِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت جابربن عتیک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا غیرت کی بعض قسمیں ایسی ہیں جو اللہ کو محبوب ہیں اور بعض ایسی ہیں جو اللہ کو مبغوض ہیں اسی طرح تکبر کی بعض قسمیں ایسی ہیں جو اللہ کو محبوب ہیں اور بعض ایسی ہیں جو مبغوض ہیں چناچہ وہ غیرت جو اللہ کو محبوب ہے وہ ان چیزوں میں ہوتی ہے جن میں کوئی شخص کا پہلو موجود ہو اور مبغوض وہ ہے جس میں شک کا کوئی پہلو موجود نہ ہو اور وہ تکبر جو اللہ کو محبوب ہے وہ یہ ہے کہ انسان اللہ کی رضا کے لئے قتال کے وقت اپنے آپ کو نمایاں کرے اور صدقات و خیرات میں نمایاں کرے (اور مبغوض وہ ہے جو صرف فخر یا بغاوت کے لئے ہو)

23751

Musnad Ahmad #23751

Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ جَبْرِ بْنِ عَتِيكٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَيِّتٍ مِنَ الْأَنْصَارِ وَأَهْلُهُ يَبْكُونَ، فَقُلْتُ: أَتَبْكُونَ وَهَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعْهُنَّ يَبْكِينَ مَا دَامَ عِنْدَهُنَّ، فَإِذَا وَجَبَتْ فَلَا يَبْكِينَ" ، فَقَالَ جَبْرٌ: فَحَدَّثْتُ بِهِ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فَقَالَ لِي: مَاذَا وَجَب؟ قلَت: إِذَا أُدْخِلَ قَبْرَهُ.

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ انصار کی ایک میت پر پہنچا اس کے اہل خانہ اس پر رو رہے تھے میں نے ان سے کہا کہ تم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں رو رہے ہو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں چھوڑ دو جب تک یہ ان کے پاس ہے یہ اس پر رو لیں گے اور جب اسے قبر میں دفن کردیا جائے گا تو پھر نہیں روئیں گے۔

23752

Musnad Ahmad #23752

Hasan

حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ مِنَ الْغَيْرَةِ مَا يُحِبُّ اللَّهُ وَمِنْهَا مَا يُبْغِضُ اللَّهُ، وَإِنَّ مِنَ الْخُيَلَاءِ مَا يُحِبُّ اللَّهُ وَمِنْهَا مَا يُبْغِضُ اللَّهُ، وَأَمَّا الْغَيْرَةُ الَّتِي يُحِبُّ اللَّهُ فَالْغَيْرَةُ الَّتِي فِي الرِّيبَةِ، وَأَمَّا الْغَيْرَةُ الَّتِي يُبْغِضُ اللَّهُ فَالْغَيْرَةُ فِي غَيْرِ الرِّيبَةِ، وَأَمَّا الْخُيَلَاءُ الَّتِي يُحِبُّ اللَّهُ فَاخْتِيَالُ الرَّجُلِ بِنَفْسِهِ عِنْدَ الْقِتَالِ وَاخْتِيَالُهُ عِنْدَ الصَّدَقَةِ، وَالْخُيَلَاءُ الَّتِي يُبْغِضُ اللَّهُ فَاخْتِيَالُ الرَّجُلِ فِي الْفَخْرِ وَالْبَغْيِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا غیرت کی بعض قسمیں ایسی ہیں جو اللہ کو محبوب ہیں اور بعض ایسی ہیں جو اللہ کو مبغوض ہیں اسی طرح تکبر کی بعض قسمیں ایسی ہیں جو اللہ کو محبوب ہیں اور بعض ایسی ہیں جو مبغوض ہیں چناچہ وہ غیرت جو اللہ کو محبوب ہے وہ ان چیزوں میں ہوتی ہے جن میں کوئی شخص کا پہلو موجود ہو اور مبغوض وہ ہے جس میں شک کا کوئی پہلو موجود نہ ہو اور وہ تکبر جو اللہ کو محبوب ہے وہ یہ ہے کہ انسان اللہ کی رضا کے لئے قتال کے وقت اپنے آپ کو نمایاں کرے اور صدقات و خیرات میں نمایاں کرے (اور مبغوض وہ ہے جو صرف فخر یا بغاوت کے لئے ہو)

23753

Musnad Ahmad #23753

Sahih

حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ ، عَنْ عَتِيكِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَتِيكٍ ، فَهُوَ جَدُّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو أُمِّهِ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَتِيكٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ ثَابِتٍ لَمَّا مَاتَ، قَالَتْ ابْنَتُهُ: وَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ شَهِيدًا، أَمَا إِنَّكَ كُنْتَ قَدْ قَضَيْتَ جِهَازَكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَوْقَعَ أَجْرَهُ عَلَى قَدْرِ نِيَّتِهِ، وَمَا تَعُدُّونَ الشَّهَادَةَ؟" قَالُوا: قَتْلٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الشَّهَادَةُ سَبْعٌ سِوَى الْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ: الْمَطْعُونُ شَهِيدٌ، وَالْغَرِقُ شَهِيدٌ، وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيدٌ، وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ، وَصَاحِبُ الْحَرْقِ شَهِيدٌ، وَالَّذِي يَمُوتُ تَحْتَ الْهَدْمِ شَهِيدٌ، وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَهِيدَةٌ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت عبداللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کی بیٹی کہنے لگی بخدا! مجھے امید ہے کہ آپ شہداء میں شامل ہوں گے کیونکہ آپ نے اپنی تیاری مکمل کر رکھی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے ان کی نیت کے مطابق ان کا اجر طے کردیا ہے تم لوگ " شہادت " کس چیز کو سمجھتے ہو؟ لوگوں نے عرض کیا کہ اللہ کے راستہ میں مارے جانے کو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے راستہ میں مارے جانے کے علاوہ بھی شہادت کی سات قسمیں ہیں چناچہ طاعون میں مرنے والا شہید ہے، سمندر میں غرق ہو کر مرنے والا شہید ہے ذات الجنب کی بیماری میں مرنے والا شہید ہے پیٹ کی بیماری میں مرنے والا شہید ہے آگ میں جل کر مرنے والا شہید ہے عمارت کے نیچے دب کر مرنے والا شہید ہے اور حالت نفاس میں مرنے والا عورت شہید ہے۔

23754

Musnad Ahmad #23754

Sahih

حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مُرَّةَ الْحَنَفِيُّ أَبُو مُرَّةَ ، حَدَّثَنَا نَفِيسٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَابِرٍ الْعَبْدِيِّ ، قَالَ: كُنْتُ فِي الْوَفْدِ الَّذِي أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَبْدِ الْقَيْسِ، قَالَ: وَلَسْتُ مِنْهُمْ، وَإِنَّمَا كُنْتُ مَعَ أَبِي، قَالَ:" فَنَهَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَنْ الشُّرْبِ فِي الْأَوْعِيَةِ الَّتِي سَمِعْتُمْ: الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالنَّقِيرِ، وَالْمُزَفَّتِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن جابر عبدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے والے وفد عبدالقیس میں میں بھی شامل تھا میرا تعلق اس قبیلے سے نہیں تھا بلکہ میں اپنے والد صاحب کے ہمراہ آیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان برتنوں میں کچھ بھی پینے سے منع فرمایا تھا جن کے متعلق تم سن چکے ہو یعنی دباء " حنتم " نقیر اور مزفت۔