Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 13 · Chapter 1060

انصار صحابہ کی روایات

نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کی روایات۔

3 hadiths in this chapter

23744

Musnad Ahmad #23744

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَبَهْزٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، قَالَ بَهْزٌ: قَالَ: أخبرنا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ عُمَرَ اسْتَعْمَلَ النُّعْمَانَ بْنَ مُقَرِّنٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ يَعْنِي: النُّعْمَانَ: وَلَكِنِّي شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ " إِذَا لَمْ يُقَاتِلْ أَوَّلَ النَّهَارِ، أَخَّرَ الْقِتَالَ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ، وَتَهُبَّ الرِّيَاحُ، وَيَنْزِلَ النَّصْرُ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت نعمان رضی اللہ عنہ کو عامل مقرر کیا۔۔۔۔۔۔ پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی حضرت نعمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوات میں شرکت کی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر دن کے اول حصے میں قتال نہ کرتے تو اسے مؤخر کردیتے یہاں تک کہ زوال آفتاب ہوجاتا ہوائیں چلنے لگتیں اور نصرت الہٰیہ نازل ہوجاتی۔

23745

Musnad Ahmad #23745

Hasan

حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَبَّ رَجُلٌ رَجُلًا عِنْدَهُ، قَالَ: فَجَعَلَ الرَّجُلُ الْمَسْبُوبُ يَقُولُ: عَلَيْكَ السَّلَامُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَا إِنَّ مَلَكًا بَيْنَكُمَا يَذُبُّ عَنْكَ كُلَّمَا يَشْتُمُكَ هَذَا، قَالَ لَهُ: بَلْ أَنْتَ وَأَنْتَ أَحَقُّ بِهِ، وَإِذَا قَالَ لَهُ: عَلَيْكَ السَّلَامُ، قَالَ: لَا بَلْ لَكَ أَنْتَ، أنت أَحَقُّ بِهِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ایک آدمی نے دوسرے کے ساتھ تلخ کلامی کی وہ دوسرا آدمی " علیک السلام " ہی کہتا رہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم دونوں کے درمیان ایک فرشتہ موجود ہے یہ شخص جب بھی تمہیں برا بھلا کہتا ہے تو وہ تمہارا دفاع کرتا ہے اور اسے جواب دیتا ہے کہ تم ہی ایسے ہو اور تم ہی اس کے زیادہ حقدار ہو۔

23746

Musnad Ahmad #23746

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، قَالَ: قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَرْبَعِ مِائَةٍ مِنْ مُزَيْنَةَ، فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَمْرِهِ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لَنَا طَعَامٌ نَتَزَوَّدُهُ! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ: " زَوِّدْهُمْ"، فَقَالَ: مَا عِنْدِي إِلَّا فَاضِلَةٌ مِنْ تَمْرٍ، وَمَا أُرَاهَا تُغْنِي عَنْهُمْ شَيْئًا، فَقَالَ:" انْطَلِقْ فَزَوِّدْهُمْ"، فَانْطَلَقَ بِنَا إِلَى عُلِّيَّةٍ لَهُ، فَإِذَا فِيهَا تَمْرٌ مِثْلُ الْبَكْرِ الْأَوْرَقِ، فَقَالَ: خُذُوا، فَأَخَذَ الْقَوْمُ حَاجَتَهُمْ، قَالَ: وَكُنْتُ أَنَا فِي آخِرِ الْقَوْمِ، قَالَ: فَالْتَفَتُّ وَمَا أَفْقِدُ مَوْضِعَ تَمْرَةٍ، وَقَدْ احْتَمَلَ مِنْهُ أَرْبَعُ مِائَةِ رَجُلٍ .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مزینہ کے ہم چار سو افراد حاضر ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جو احکام دینے تھے سو دے دیئے پھر کچھ لوگ کہنے لگے یا رسول اللہ! ہمارے پاس کھانے کے لئے کچھ نہیں ہے جو ہم زاد راہ کے طور پر استعمال کرسکیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ انہیں زاد راہ دے دو انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس تو بچی کچھی تھوڑی سی کھجوریں ہیں اور میرا خیال نہیں ہے کہ وہ انہیں کچھ بھی کفایت کرسکیں گی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم جا کر انہیں وہی دے دو چناچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہمیں لے کر اپنے ایک بالا خانے کی طرف چل پڑے جہاں خاکستری اونٹ کی طرح کچھ کھجوریں پڑی ہوئی تھیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اٹھا لو چناچہ سب لوگ اپنی اپنی ضرورت کے مطابق کھجوریں اٹھانے لگے میں سب سے آخر میں تھا میں نے دیکھا کہ اس میں سے ایک کھجور کی جگہ بھی خالی نہیں ہوئی تھی حالانکہ وہاں سے چار سو آدمیوں نے کھجوریں اٹھائی تھیں۔