Muslim99Muslim99

Musnad Ahmad · Book 11 · Chapter 779

کوفہ والوں کی بقیہ روایات

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ تعالی کی مرویات

23 hadiths in this chapter

19395

Musnad Ahmad #19395

Sahih

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، فَلَمَّا غَابَتْ الشَّمْسُ، قَالَ:" انْزِلْ يَا فُلَانُ، فَاجْدَحْ لَنَا"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلَيْكَ نَهَارٌ، قَالَ:" انْزِلْ فَاجْدَحْ"، قَالَ: فَفَعَلَ، فَنَاوَلَهُ، فَشَرِبَ، فَلَمَّا شَرِبَ، أَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الْمَغْرِبِ، فَقَالَ: " إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ هَاهُنَا، جَاءَ اللَّيْلُ مِنْ هَاهُنَا، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ماہ رمضان میں کسی سفر میں تھے جب سورج غروب ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو حکم دیا کہ اے فلاں! اترو اور ہمارے لئے ستو گھولو، اس نے کہا یا رسول اللہ! ابھی تو دن کا کچھ حصہ باقی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھر فرمایا کہ اترو اور ستو گھولو، چناچہ اس نے اس پر عمل کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا برتن ہاتھ میں پکڑا اور اسے نوش فرمالیا اور اس کے بعد ہاتھ سے مغرب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا جب یہاں سورج غروب ہوجائے اور رات یہاں تک آجائے تو روزہ دار روزہ کھول لے۔

19396

Musnad Ahmad #19396

Sahih

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قَالَ: أَرْسَلَنِي ابْنُ شَدَّادٍ، وَأَبُو بُرْدَةَ، فَقَالَا: انْطَلِقْ إِلَى ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، فَقُلْ لَهُ: إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَدَّادٍ، وَأَبَا بُرْدَةَ، يُقْرِئَانِكَ السَّلَامَ، وَيَقُولَانِ: هَلْ كُنْتُمْ تُسَلِّفُونَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبُرِّ وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ؟ قَالَ: نَعَمْ، كُنَّا نُصِيبُ غَنَائِمَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنُسَلِّفُهَا فِي الْبُرِّ وَالشَّعِيرِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ. فَقُلْتُ: عِنْدَ مَنْ كَانَ لَهُ زَرْعٌ، أَوْ: عِنْدَ مَنْ لَيْسَ لَهُ زَرْعٌ؟ فَقَالَ: مَا كُنَّا نَسْأَلُهُمْ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: وَقَالَا لِي: انْطَلِقْ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، فَاسْأَلْهُ، قَالَ: فَانْطَلَقَ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ ابْنُ أَبِي أَوْفَى ، وَكَذَا حَدَّثَنَاهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، قَالَ: وَالزَّيْتِ.

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن ابی المجاہد کہتے ہیں کہ ادھاربیع کے مسئلے میں حضرت عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ اور ابوبردہرضی اللہ عنہ کے درمیان اختلاف رائے ہوگیا ان دونوں نے مجھے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا کہ ابن شداد اور ابوبردہ آپ کو سلام کہتے ہیں اور پوچھ رہے ہیں کہ کیا آپ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں گندم جو اور زیتون کی ادھاربیع کرتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا ہاں! ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مال غنیمت حاصل کرکے گندم، جو کشمش یا جو چیزیں بھی لوگوں کے پاس ہوتی تھیں، ان سے ادھاربیع کرلیا کرتے تھے میں نے ان سے پوچھا جس کے پاس کھیت ہوتا تھا یا جس کے پاس کھیت نہیں ہوتا تھا؟ انہوں نے فرمایا ہم یہ بات ان سے نہیں پوچھتے تھے پھر ان دونوں حضرات نے مجھے حضرت عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا میں نے ان سے یہ مسئلہ پوچھا تو انہوں نے بھی وہی جواب دیا جو حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ نے دیا تھا۔ حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہانڈیاں اور ان میں جو کچھ ہے الٹادو۔

19397

Musnad Ahmad #19397

Sahih

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ الْأَخْضَرِ"، قَالَ: قُلْتُ: فَالْأَبْيَضِ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي .

اردو ترجمہ · Urdu

شیبانی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سبزمٹکے کی نبیذ سے منع فرمایا ہے میں نے ان سے پوچھا سفیدمٹکے کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا مجھے معلوم نہیں۔

19398

Musnad Ahmad #19398

Sahih

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو يَعْفُورٍ ، عَبْدِيٌّ مَوْلًى لَهُمْ، قَالَ: ذَهَبْتُ إِلَى ابْنِ أَبِي أَوْفَى أَسْأَلُهُ عَنِ الْجَرَادِ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّ غَزَوَاتٍ نَأْكُلُ الْجَرَادَ .

اردو ترجمہ · Urdu

ابویعفور کہتے ہیں کہ میرے ایک شریک نے میرے سامنے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے ٹڈی دلکا حکم پوچھا انہوں نے فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں اور فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سات غزوات میں شرکت کی ہے ان غزوات میں ہم لوگ ٹڈی دل کھایا کرتے تھے۔

19399

Musnad Ahmad #19399

Sahih

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَقَالَ لِرَجُلٍ:" انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا" قَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً:" فَاجْدَحْ لِي" قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الشَّمْسُ! قَالَ:" انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا" وقَالَ سُفْيَانَ مَرَّةً:" فَاجْدَحْ لِي" قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، الشَّمْسُ، قَال:" انَزِلْ فَاجْدَحْ" فَجَدَحَ، فَشَرِبَ، فَلَمَّا شَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْمَأَ بِيَدِهِ نَحْوَ اللَّيْلِ: " إِذَا رَأَيْتُمْ اللَّيْلَ قَدْ أَقْبَلَ مِنْ هَاهُنَا، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ماہ رمضان میں کسی سفر میں تھے جب سورج غروب ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو حکم دیا کہ اے فلاں! اترو اور ہمارے لئے ستو گھولو، اس نے کہا یا رسول اللہ! ابھی تو دن کا کچھ حصہ باقی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھر فرمایا کہ اترو اور ستو گھولو، چناچہ اس نے اس پر عمل کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا برتن ہاتھ میں پکڑا اور اسے نوش فرمالیا اور اس کے بعد ہاتھ سے مغرب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا جب یہاں سورج غروب ہوجائے اور رات یہاں تک آجائے تو روزہ دار روزہ کھول لے۔

19400

Musnad Ahmad #19400

Sahih

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: أَصَبْنَا حُمُرًا خَارِجًا مِنَ الْقَرْيَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَكْفِئُوا الْقُدُورَ بِمَا فِيهَا"، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَعِيدِ ابْنِ جُبَيْرٍ، فَقَالَ: إِنَّمَا نَهَى عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ تَأْكُلُ الْعَذِرَةَ .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بستی سے باہر کچھ گدھے ہمارے ہاتھ لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہانڈیوں میں جو کچھ سے سب الٹادو، سعید بن جبیررحمتہ اللہ علیہ نے اس کی وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ گندگی کھاتے تھے۔

19401

Musnad Ahmad #19401

Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ: " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ"، قَالَ:" اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاءِ، وَمِلْءَ الْأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تو سمع اللہ لمن حمدہ کہہ کر یہ فرماتے اے ہمارے پروردگار اللہ! تمام تعریفیں تیرے ہی لئے ہیں زمین و آسمان کے بھرپور ہونے کے برابر اور اس کے علاوہ جن چیزوں کو آپ چاہیں ان کے بھرپور ہونے کے برابر۔

19402

Musnad Ahmad #19402

Sahih

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُدْرِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو فَيَقُولُ: " اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَالْمَاءِ الْبَارِدِ، اللَّهُمَّ طَهِّرْ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا طَهَّرْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ، وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ ذُنُوبِي كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ، وَنَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَدُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ، وَعِلْمٍ لَا يَنْفَعُ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِيشَةً تَقِيَّةً، وَمِيتَةً سَوِيَّةً، وَمَرَدًّا غَيْرَ مُخْزٍ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء فرمایا کرتے تھے اے! مجھے برف اولوں اور ٹھنڈے پانی سے پاکیزگی عطاء فرما، اے اللہ! میرے قلب کو لغزشات سے اس طرح پاک فرما جیسے سفیدکپڑے کو میل کچیل سے صاف کرتا ہے میرے اور میرے گناہوں کے درمیان مشرق اور مغرب جتنا فاصلہ حائل فرمادے اے اللہ! میں خشوع سے خالی دل، سیراب نہ ہونے والے نفس، غیر مقبول دعاء اور غیرنافع علم سے آپ کی پناہ میں آتاہوں اے اللہ! میں ان چاروں چیزوں سے آپ کی پناہ میں آتاہوں، اے اللہ! میں آپ سے تقویٰ والی زندگی، عمدہ موت اور شرمندگی سے پاک لوٹائے جانے کا سوال کرتا ہوں۔

19403

Musnad Ahmad #19403

Sahih

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنِ القَاسِمِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: قَدِمَ مُعَاذٌ الْيَمَنَ أَوْ قَالَ: الشَّامَ فَرَأَى النَّصَارَى تَسْجُدُ لِبَطَارِقَتِهَا وَأَسَاقِفَتِهَا، فَرَوَّى فِي نَفْسِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ يُعَظَّمَ، فَلَمَّا قَدِمَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْتُ النَّصَارَى تَسْجُدُ لِبَطَارِقَتِهَا وَأَسَاقِفَتِهَا، فَرَوَّأْتُ فِي نَفْسِي أَنَّكَ أَحَقُّ أَنْ تُعَظَّمَ، فَقَالَ: " لَوْ كُنْتُ آمُرُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ، لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا، وَلَا تُؤَدِّي الْمَرْأَةُ حَقَّ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهَا كُلَّهُ حَتَّى تُؤَدِّيَ حَقَّ زَوْجِهَا عَلَيْهَا كُلَّهُ، حَتَّى لَوْ سَأَلَهَا نَفْسَهَا وَهِيَ عَلَى ظَهْرِ قَتَبٍ لَأَعْطَتْهُ إِيَّاهُ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت معاذ رضی اللہ عنہ یمن پہنچے تو وہاں کے عیسائیوں کو دیکھا کہ وہ اپنے پادریوں اور مذہبی رہنماؤں کو سجدہ کرتے ہیں ان کے دل میں خیال آیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو ان سے بھی زیادہ تعظیم کے مستحق ہیں لہٰذایمن سے واپس آکر انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے عیسائیوں کو اپنے پادریوں اور مذہبی رہنماؤں کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہوئے دیکھا ہے میرے دل میں خیال آتا ہے کہ ان سے زیادہ تعظیم کے مستحق تو آپ ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں کسی کو کسی کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ اپنے شوہرکوسجدہ کرے اور کوئی عورت اس وقت تک مکمل طور پر حقوق اللہ کو ادا نہیں کرسکتی جب تک اپنے شوہر کے مکمل حقوق ادانہ کرے حتیٰ کہ اگر مرد اس سے اپنی خواہش کی تکمیل کا اس وقت ارادہ کرے جبکہ وہ توے پر روٹی پکار رہی ہوتب بھی اس کی بات پوری کرے۔ گذشہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے کہ البتہ اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ میں نے ان لوگوں سے پوچھا کہ تم یہ کیوں کرتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہم سے پہلے انبیاء (علیہم السلام) کی تعظیم کا یہی طریقہ تھا میں نے کہا کہ پھر تو ہم اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس طرح کرنے کا زیادہ حق رکھتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہوں نے جس طرح اپنی کتابوں میں تحریف کردی ہے اسی طرح اپنے انبیاء پر جھوٹ بھی باندھتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کے بدلے میں اس سے بہتر چیز یعنی سلام عطاء فرمادیا ہے جو اہل جنت کا طریقہ تعظیم ہے۔

19404

Musnad Ahmad #19404

Sahih

حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ أَحَدِ بَنِي مُرَّةَ بْنِ هَمَّامٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ: إِنَّهُ أَتَى الشَّامَ، فَرَأَى النَّصَارَى، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَقُلْتُ: لِأَيِّ شَيْءٍ تَصْنَعُونَ هَذَا؟ قَالُوا: هَذَا كَانَ تَحِيَّةَ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلَنَا، فَقُلْتُ: نَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَصْنَعَ هَذَا بِنَبِيِّنَا، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهُمْ كَذَبُوا عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ كَمَا حَرَّفُوا كِتَابَهُمْ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَبْدَلَنَا خَيْرًا مِنْ ذَلِكَ السَّلَامَ تَحِيَّةَ أَهْلِ الْجَنَّةِ" .

اردو ترجمہ · Urdu

گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

19405

Musnad Ahmad #19405

Sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ قَوْمٌ بِصَدَقَتِهِمْ، صَلَّى عَلَيْهِمْ، فَأَتَاهُ أَبِي بِصَدَقَتِهِ، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب کوئی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے مال کی زکوٰۃ لے کر آتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لئے دعاء فرماتے تھے ایک دن میں بھی اپنے والد کے مال کی زکوٰۃ لے کر حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہم صل علی آل ابی اوفی۔

19406

Musnad Ahmad #19406

Sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بنِ أَبِي أَوْفَى : هَلْ بَشَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَدِيجَةَ؟ قَالَ: نَعَمْ، بَشَّرَهَا بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ، لَا صَخَبٌ فِيهِ وَلَا نَصَبٌ .

اردو ترجمہ · Urdu

اسماعیل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کو خوشخبری دی تھی؟ انہوں نے فرمایا ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جنت میں لکڑی کے ایک محل کی خوشخبری دی تھی جس میں کوئی شوروشغب ہوگا اور نہ ہی کوئی تعب۔

19407

Musnad Ahmad #19407

Sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ خَرَجَ، فَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ،، وَجَعَلْنَا نَسْتُرُهُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ أَنْ يَرْمِيَهُ أَحَدٌ، أَوْ يُصِيبَهُ بِشَيْءٍ، فَسَمِعْتُهُ يَدْعُو عَلَى الْأَحْزَابِ، يَقُولُ: " اللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، سَرِيعَ الْحِسَابِ، هَازِمَ الْأَحْزَابِ، اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ وَزَلْزِلْهُمْ" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمرے کے لئے روانہ ہوئے بیت اللہ کا طواف کیا پھر باہر نکل کر صفامروہ کے درمیان سعی کی ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اہل مکہ سے بچاکرچل رہے تھے کہ کہیں کوئی مشرک انہیں تیر نہ ماردے یا انہیں کوئی تکلیف نہ پہنچادے میں نے انہیں مشرکین کے لشکروں کے لئے بدعاء کرتے ہوئے سنا اے کتاب کو نازل کرنے والے اللہ! جلدی حساب لینے والے لشکروں کو شکست دینے والے، انہیں شکست سے ہمکنار فرما اور انہیں ہلا کر رکھ دے۔

19408

Musnad Ahmad #19408

Sahih

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى : أَوْصَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ؟ قَالَ: لَا، قُلْتُ: فَكَيْفَ أَمْرَ الْمُسْلِمِينَ بِالْوَصِيَّةِ؟ قَالَ: أَوْصَى بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ: قَالَ طَلْحَةُ، وَقَالَ الْهُزَيْلُ بْنُ شُرَحْبِيلَ: أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَتَأَمَّرُ عَلَى وَصِيِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ! وَدَّ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ وَجَدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدًا، فَخُزِمَ أَنْفُهُ بِخِزَامٍ .

اردو ترجمہ · Urdu

طلحہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی وصیت فرمائی ہے؟ انہوں نے فرمایا نہیں، میں نے کہا تو پھر انہوں نے مسلمانوں کو وصیت کا حکم کیسے دے دیا جبکہ خود وصیت کی نہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتاب اللہ پر عمل کرنے کی وصیت فرمائی ہے (لیکن کسی کو کوئی خاص وصیت نہیں فرمائی ')

19409

Musnad Ahmad #19409

Hasan

حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ أَبِي إِسْمَاعِيلَ السَّكْسَكِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي لَا أَقْرَأُ الْقُرْآنَ، فَمُرْنِي بِمَا يُجْزِئُنِي مِنْهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُلْ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ"، قَالَ: فَقَالَهَا الرَّجُلُ، وَقَبَضَ كَفَّهُ، وَعَدَّ خَمْسًا مَعَ إِبْهَامِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا لِلَّهِ تَعَالَى، فَمَا لِنَفْسِي؟ قَالَ:" قُلْ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَعَافِنِي، وَاهْدِنِي، وَارْزُقْنِي"، قَالَ: فَقَالَهَا، وَقَبَضَ عَلَى كَفِّهِ الْأُخْرَى، وَعَدَّ خَمْسًا مَعَ إِبْهَامِهِ، فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ، وَقَدْ قَبَضَ كَفَّيْهِ جَمِيعًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَقَدْ مَلَأَ كَفَّيْهِ مِنَ الْخَيْرِ" ..

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں قرآن کریم کا تھوڑا ساحصہ بھی یاد نہیں کرسکتا، اس لئے مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیجئے جو میرے لئے کافی ہو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یوں کہہ لیا کرو سبحان اللہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر ولاحول ولاقوۃ الاباللہ اس نے کہا یا رسول اللہ! یہ تو اللہ تعالیٰ کے لئے ہے میرے لئے کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یوں کہہ لیا کرو اے اللہ! مجھے معاف فرما، مجھ پر رحم فرما، مجھے عافیت عطاء فرما، مجھے ہدایت عطاء فرما اور مجھے رزق عطاء فرما، پھر وہ آدمی پلٹ کر چلا گیا اور اس نے اپنے دونوں ہاتھوں کو مضبوطی سے بند کر رکھا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ شخص تو اپنے ہاتھ خیر سے بھر کر چلا گیا۔ حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک غلام (لڑکا) آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ ایک یتیم لڑکا ہے جس کی بیوی، ماں اور ایک یتیم بہن ہے آپ ہمیں ان چیزوں میں سے کھلائیے جو اللہ نے آپ کو کھلائی ہیں، اللہ آپ کو اپنے پاس سے اتنا دے کہ آپ راضی ہوجائیں پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔ حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! یہاں ایک لڑکا ہے جو قریب المرگ ہے اسے لا الہ الا اللہ کی تلقین کی جارہی ہے لیکن وہ اسے کہہ نہیں پارہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا وہ اپنی زندگی میں یہ کلمہ نہیں پڑھتا تھا؟ اس نے کہا کیوں نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر موت کے وقت اسے کسی نے روک دیا۔۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔ فائدہ۔ امام احمد کے صاحبزادے عبداللہ کہتے ہیں کہ میرے والد صاحب نے یہ دونوں حدیثیں بیان نہیں کی ہیں البتہ کتاب میں لکھ دی تھیں اور انہیں کاٹ دیا تھا کیونکہ انہیں فائد بن عبدالرحمن کی احادیث پر اعتماد نہیں تھا اور ان کے نزدیک وہ متروک الحدیث تھا۔

19410

Musnad Ahmad #19410

Zaeef

قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَكَانَ فِي كِتَابِ أَبِي: حَدَّثَنَا يَزِيدُ ابْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا فَائِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ غُلَامٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَاهُنَا غُلَامًا يَتِيمًا، لَهُ أُمٌّ أَرْمَلَةٌ، وَأُخْتٌ يَتِيمَةٌ، أَطْعِمْنَا مِمَّا أَطْعَمَكَ اللَّهُ تَعَالَى، أَعْطَاكَ اللَّهُ مِمَّا عِنْدَهُ حَتَّى تَرْضَى، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ.

اردو ترجمہ · Urdu

گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

19411

Musnad Ahmad #19411

Zaeef

قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَكَانَ فِي كِتَابِ أَبِي: حَدَّثَنَا يَزِيدُ ابْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا فَائِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَاهُنَا غُلَامًا قَدْ احْتُضِرَ، يُقَالُ لَهُ: قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَلَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَقُولَهَا، فَقَالَ: " أَلَيْسَ كَانَ يَقُولُ فِي حَيَاتِهِ؟" قَالَ: بَلَى. قَالَ:" فَمَا مَنَعَهُ مِنْهَا عِنْدَ مَوْتِهِ؟" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ. فَلَمْ يُحَدِّثُ أَبِي بِهَذَيْنِ الْحَدِيثَيْنِ، ضَرَبَ عَلَيْهِمَا مِنْ كِتَابِهِ، لِأَنَّهُ لَمْ يَرْضَ حَدِيثَ فَائِدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَكَانَ عِنْدَهُ مَتْرُوكَ الْحَدِيثِ.

اردو ترجمہ · Urdu

گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

19412

Musnad Ahmad #19412

Zaeef

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْمُخْتَارِ مِنْ بَنِي أَسَدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: أَصَابَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ عَطَشٌ، قَالَ: فَنَزَلَ مَنْزِلًا، فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ، فَجَعَلَ يَسْقِي أَصْحَابَهُ، وَجَعَلُوا يَقُولُونَ: اشْرَبْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَاقِي الْقَوْمِ آخِرُهُمْ"، حَتَّى سَقَاهُمْ كُلَّهُمْ .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ کسی سفر میں تھے ہمیں پانی نہیں مل رہا تھا تھوڑی دیر بعد ایک جگہ پانی نظر آگیا لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پانی لے کر آنے لگے جب بھی کوئی آدمی پانی لے کر آتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرماتے کسی بھی قوم کا ساقی سب سے آخر میں پیتا ہے یہاں تک کہ سب لوگوں نے پانی پی لیا۔

19413

Musnad Ahmad #19413

Sahih

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَهُوَ صَائِمٌ، فَدَعَا صَاحِبَ شَرَابِهِ بِشَرَابٍ، فَقَالَ صَاحِبُ شَرَابِهِ: لَوْ أَمْسَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ثُمَّ دَعَاهُ، فَقَالَ لَهُ: لَوْ أَمْسَيْتَ. ثَلَاثًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا جَاءَ اللَّيْلُ مِنْ هَاهُنَا، فَقَدْ حَلَّ الْإِفْطَارُ" ، أَوْ كَلِمَةً هَذَا مَعْنَاهَا.

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ماہ رمضان میں کسی سفر میں تھے جب سورج غروب ہوگیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا، اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ابھی تو دن کا کچھ حصہ باقی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھر پانی لانے کے لئے فرمایا تین مرتبہ اسی طرح ہوا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب یہاں سورج غروب ہوجائے اور رات یہاں تک آجائے تو روزہ دار روزہ کھول لے۔

19414

Musnad Ahmad #19414

Sahih

حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، المعنى، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ وَقَالَ بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ ابْنُ جُمْهَانَ، قَالَ: كُنَّا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى نُقَاتِلُ الْخَوَارِجَ، وَقَدْ لَحِقَ غُلَامٌ لِابْنِ أَبِي أَوْفَى بِالْخَوَارِجِ، فَنَادَيْنَاهُ: يَا فَيْرُوزُ، هَذَا ابْنُ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: نِعْمَ الرَّجُلُ لَوْ هَاجَرَ، قَالَ: مَا يَقُولُ عَدُوُّ اللَّهِ؟ قَالَ: يَقُولُ: نِعْمَ الرَّجُلُ لَوْ هَاجَرَ، فَقَالَ: هِجْرَةٌ بَعْدَ هِجْرَتِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟! يُرَدِّدُهَا ثَلَاثًا، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " طُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ، ثُمَّ قَتَلُوهُ"، قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ:" وَقَتَلُوهُ" ثَلَاثًا .

اردو ترجمہ · Urdu

سعید بن جمہان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ خوارج سے قتال کر رہے تھے کہ حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ کا ایک غلام خوارج سے جاملا وہ لوگ اس طرف تھے اور ہم اس طرف، ہم نے اسے " اے فیروز! اے فیروز! کہہ کر آوازیں دیتے ہوئے کہا ارے کمبخت! تیرے آقا حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ تو یہاں ہیں وہ کہنے لگا کہ وہ اچھے آدمی ہوتے اگر تمہارے یہاں سے ہجرت کر جاتے، انہوں نے پوچھا کہ یہ دشمن اللہ کیا کہہ رہا ہے؟ ہم نے اس کا جملہ ان کے سامنے نقل کیا تو وہ فرمانے لگے کیا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کرنے والی ہجرت کے بعد دوبارہ ہجرت کروں گا؟ پھر فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ خوشخبری ہے اس شخص کے لئے جو انہیں قتل کرے یا وہ اسے قتل کردیں۔

19415

Musnad Ahmad #19415

Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْحَشْرَجُ بْنُ نُبَاتَةَ الْعَبْسِيُّ كُوفِيٌّ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ ، قَالَ: أَتَيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى وَهُوَ مَحْجُوبُ الْبَصَرِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، قَالَ لِي: مَنْ أَنْتَ؟ فَقُلْتُ: أَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ، قَالَ: فَمَا فَعَلَ وَالِدُكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: قَتَلَتْهُ الْأَزَارِقَةُ، قَالَ: لَعَنَ اللَّهُ الْأَزَارِقَةَ، لَعَنَ اللَّهُ الْأَزَارِقَةَ، حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ كِلَابُ النَّارِ، قَالَ: قُلْتُ: الْأَزَارِقَةُ وَحْدَهُمْ، أَمْ الْخَوَارِجُ كُلُّهَا؟ قَالَ: بَل الْخَوَارِجُ كُلُّهَا، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنَّ السُّلْطَانَ يَظْلِمُ النَّاسَ، وَيَفْعَلُ بِهِمْ، قَالَ: فَتَنَاوَلَ يَدِي، فَغَمَزَهَا بِيَدِهِ غَمْزَةً شَدِيدَةً، ثُمَّ قَالَ: وَيْحَكَ يَا ابْنَ جُمْهَانَ، عَلَيْكَ بِالسَّوَادِ الْأَعْظَمِ، عَلَيْكَ بِالسَّوَادِ الْأَعْظَمِ، إِنْ كَانَ السُّلْطَانُ يَسْمَعُ مِنْكَ، فَأْتِهِ فِي بَيْتِهِ، فَأَخْبِرْهُ بِمَا تَعْلَمُ، فَإِنْ قَبِلَ مِنْكَ، وَإِلَّا فَدَعْهُ، فَإِنَّكَ لَسْتَ بِأَعْلَمَ مِنْهُ .

اردو ترجمہ · Urdu

سعید بن جمہان رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت تک ان کی بینائی ختم ہوچکی تھی انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ میں نے بتایا کہ میں سعید بن جمہان ہوں، انہوں نے پوچھا کہ تمہارے والد صاحب کیسے ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ انہیں تو " ازارقہ " نے قتل کردیا ہے انہوں نے دو مرتبہ فرمایا ازارقہ پر لعنت الٰہی نازل ہو، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا ہے کہ وہ جہنم کے کتے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ اس سے صرف " ازارقہ " فرقے کے لوگ مراد ہیں یا تمام خوارج ہیں؟ انہوں نے فرمایا تمام خوارج " مراد ہیں پھر میں نے عرض کیا بعض اوقات بادشاہ بھی عوام کے ساتھ ظلم اور ناانصافی وغیرہ کرتا ہے انہوں نے میرا ہاتھ زور سے دبایا اور بہت تیز چٹکی کاٹی اور فرمایا اے ابن جمہان! تم پر افسوس ہے سواد اعظم کی پیروی کرو سواد اعظم کی پیروی کرو اگر بادشاہ تمہاری بات سنتا ہے تو اس کے گھر میں اس کے پاس جاؤ اور اس کے سامنے وہ ذکر کرو جو تم جانتے ہو اگر وہ قبول کرلے تو بہت اچھا ورنہ تم اس سے بڑے عالم نہیں ہو۔

19416

Musnad Ahmad #19416

Sahih

حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ أَنْبَأَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى قَالَ: وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ رَجُلٌ بِصَدَقَتِهِ، قَالَ:" اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ فُلَانٍ". قَالَ فَأَتَاهُ أَبِي بِصَدَقَتِهِ، فَقَالَ: " اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى" .

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب کوئی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے مال کی زکوٰۃ لے کر آتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لئے دعاء فرماتے تھے ایک دن میں بھی اپنے والد کے مال کی زکوٰۃ لے کر حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہم صل علی آل ابی اوفی۔

19417

Musnad Ahmad #19417

Sahih

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا الْهَجَرِيُّ ، قَالَ: خَرَجْتُ فِي جِنَازَةِ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى ، وَهُوَ عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ حَوَّاءَ يَعْنِي سَوْدَاءَ قَالَ: فَجَعَلْنَ النِّسَاءُ يَقُلْنَ لِقَائِدِهِ قَدِّمْهُ أَمَامَ الْجِنَازَةِ، فَفَعَلَ، قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ لَهُ: أَيْنَ الْجِنَازَةُ؟ قَالَ: فَقَالَ: خلفك، قَالَ: فَفَعَلَ ذَلِكَ مَرَّةً، أَوْ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: أَلَمْ أَنْهَكَ أَنْ تُقَدِّمَنِي أَمَامَ الْجِنَازَةِ؟ قَالَ: فَسَمِعَ امْرَأَةً تَلْتَدِمُ وَقَالَ مَرَّةً: تَرْثِي فَقَالَ: مَهْ، أَلَمْ أَنْهَكُنّ عَنْ هَذَا، إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنِ الْمَرَاثِي، لِتُفِضْ إِحْدَاكُنَّ مِنْ عَبْرَتِهَا مَا شَاءَتْ . فَلَمَّا وُضِعَتْ الْجِنَازَةُ تَقَدَّمَ، فَكَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ، ثُمَّ قَامَ هُنَيْهَةً، فَسَبَّحَ بِهِ بَعْضُ الْقَوْمِ، فَانْفَتَلَ، فَقَالَ: أَكُنْتُمْ تَرَوْنَ أَنِّي أُكَبِّرُ الْخَامِسَةَ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا كَبَّرَ الرَّابِعَةَ، قَامَ هُنَيَّةً . فَلَمَّا وُضِعَتْ الْجِنَازَةُ جَلَسَ، وَجَلَسْنَا إِلَيْهِ، فَسُئِلَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ، فَقَالَ تَلَقَّانَا يَوْمَ خَيْبَرَ حُمُرٌ أَهْلِيَّةٌ خَارِجًا مِنَ الْقَرْيَةِ، فَوَقَعَ النَّاسُ فِيهَا، فَذَبَحُوهَا، فَإِنَّ الْقُدُورَ لَتَغْلِي بِبَعْضِهَا، إِذْ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَهْرِيقُوهَا"، فَأَهْرَقْنَاهَا، وَرَأَيْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى مِطْرَفًا مِنْ خَزٍّ أَخْضَرَ .

اردو ترجمہ · Urdu

ہجری کہتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کے جنازے میں شریک ہوا وہ خود ایک سیاہ رنگ کے خچر پر سوار تھے عورتیں ان کے رہبر سے کہنے لگیں کہ انہیں جنازے کے آگے لے کر چلو اس نے ایسا ہی کیا میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ جنازہ کہاں ہے؟ (کیونکہ وہ نابینا ہوچکے تھے) اس نے بتایا آپ کے پیچھے ایک دو مرتبہ اسی طرح ہونے کے بعد انہوں نے فرمایا کیا میں نے تمہیں منع نہیں کیا تھا کہ مجھے جنازے سے آگے لے کر مت چلا کرو۔ پھر انہوں نے ایک عورت کی آواز سنی جو بین کررہی تھی انہوں نے اسے روکتے ہوئے فرمایا کیا میں نے تمہیں اس سے منع نہیں کیا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بین کرنے سے منع فرماتے تھے ہاں البتہ آنسو بہانا چاہتی ہو بہالو، پھر جب جنازہ سامنے رکھا گیا تو انہوں نے آگے بڑھ چار تکبیرات کہیں اور تھوڑی دیر کھڑے رہے یہ دیکھ کر کچھ لوگ " سبحان اللہ " کہنے لگے انہوں نے مڑ کر فرمایا کیا تم یہ سمجھ کر رہے تھے کہ میں پانچویں تکبیر کہنے لگا ہوں؟ انہوں نے جواب دیا جی ہاں! فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی جب تکبیر کہہ چکتے تو تھوڑی دیر کھڑے رہتے تھے۔ پھر جب جنازہ لا کر رکھا گیا تو حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے کسی شخص نے ان سے پالتو گدھوں کے گوشت کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ غزوہ خیبر کے موقع پر شہر سے باہر ہمیں کچھ پالتو گدھے مل گئے لوگ ان پر جاپڑے اور انہیں ذبح کرلیا، ابھی کچھ ہانڈیوں میں اس کا گوشت ابل ہی رہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے نداء لگائی انہیں بہادو، چناچہ ہم نے اسے بہا دیا اور میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ کے جسم پر نہایت عمدہ لباس جو سبز ریشم کا تھا دیکھا۔