Musnad Ahmad #19369
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ: إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضُ صَيْدٍ، فَيَرْمِي أَحَدُنَا الصَّيْدَ، فَيَغِيبُ عَنْهُ لَيْلَةً، أَوْ لَيْلَتَيْنِ، فَيَجِدُهُ وَفِيهِ سَهْمُهُ؟ قَالَ: " إِذَا وَجَدْتَ سَهْمَكَ، وَلَمْ تَجِدْ فِيهِ أَثَرَ غَيْرِهِ، وَعَلِمْتَ أَنَّ سَهْمَكَ قَتَلَهُ، فَكُلْهُ" .
اردو ترجمہ · Urdu
حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض یا کہ ہمارا علاقہ شکاری علاقہ ہے ہم میں سے کوئی شخص شکار پر تیرپھینکتا ہے وہ شکار ایک دو دن تک اس سے غائب رہتا ہے پھر وہ اسے پالیتا ہے اور اس کے جسم میں اس کاتیرپیوست ہوتا ہے تو اس کا کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تم اس میں اپناتیر دیکھ لو اور کسی دوسری چیز کا کوئی اثرنظر نہ آئے اور تمہیں یقین ہو کہ تمہارے ہی تیرنے اسے قتل کیا ہے تو تم اسے کھالو۔