Muslim99Muslim99

Mishkat al-Masabih · Book 18 · Chapter 182

جہاد کا بیان

بَاب الْجِزْيَة

جزیہ کا بیان

7 hadiths in this chapter

4035

Mishkat al-Masabih #4035

Sahih

عَن بَجالَةَ قَالَ: كُنْتُ كَاتِبًا لِجَزْءِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَمِّ الْأَحْنَفِ فَأَتَانَا كِتَابُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَبْلَ مَوْتِهِ بِسَنَةٍ: فَرِّقُوا بَيْنَ كُلِّ ذِي مَحْرَمٍ مِنَ الْمَجُوسِ وَلَمْ يَكُنْ عُمَرُ أَخَذَ الْجِزْيَةَ مِنَ الْمَجُوسِ حَتَّى شَهِدَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَهَا مِنْ مَجُوسِ هجَرَ. رَوَاهُ البُخَارِيّ\nوذُكرَ حديثُ بُريدةَ: إِذَا أَمَّرَ أَمِيرًا عَلَى جَيْشٍ فِي «بَابِ الْكتاب إِلى الْكفَّار»\n

اردو ترجمہ · Urdu

بجالہ ؒ بیان کرتے ہیں ، میں احنف کے چچا جزء بن معاویہ کا سیکرٹری تھا ، عمر بن خطاب ؓ کی وفات سے ایک سال پہلے اِن کی طرف سے ہمارے پاس ایک خط آیا کہ مجوسیوں کے ہر اس جوڑے کے درمیان علیحدگی کرو جو آپس میں ایک دوسرے کے محرم ہوں ، اور عمر ؓ مجوسیوں سے جزیہ نہیں لیتے تھے حتی کہ عبدالرحمن بن عوف ؓ نے گواہی دی کہ رسول اللہ ﷺ نے ہجر کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا ۔ رواہ البخاری ۔\n اور بریدہ ؓ سے مروی حدیث ’’جب کسی امیر کو کسی لشکر پر مقرر فرماتے ..‘‘ باب الکتاب إلی الکفار میں ذکر کی گئی ہے\n

4036

Mishkat al-Masabih #4036

Zaeef

عَنْ مُعَاذٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا وَجَّهَهُ إِلَى الْيَمَنِ أَمْرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ كُلِّ حَالِمٍ يَعْنِي مُحْتَلِمٍ دِينَارًا أَوْ عَدْلَهُ مِنَ الْمَعَافِرِيِّ: ثِيَابٌ تَكُونُ بِالْيمن. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

معاذ ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے انہیں یمن کی طرف بھیجا تو انہیں ہر بالغ شخص سے ایک دینار یا اس کے مساوی معافری کپڑا جو کہ یمن میں ہوتا ہے ، لینے کا حکم فرمایا ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

4037

Mishkat al-Masabih #4037

Zaeef

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَصْلُحُ قِبْلَتَانِ فِي أَرْضٍ وَاحِدَةٍ وَلَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ جِزْيَةٌ» . رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ایک ملک میں دو قبیلے (یعنی دین) درست نہیں اور نہ کسی مسلمان پر جزیہ ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد ۔

4038

Mishkat al-Masabih #4038

Zaeef

وَعَن أنس قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى أُكَيْدِرِ دُومَةَ فَأَخَذُوهُ فَأَتَوْا بِهِ فَحَقَنَ لَهُ دَمَهُ وَصَالَحَهُ على الْجِزْيَة. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے خالد بن ولید ؓ کو دومہ کے بادشاہ اکیدر کی طرف بھیجا ، وہ اسے گرفتار کر کے آپ کی خدمت میں لے آئے ، آپ ﷺ نے اس کی جان بخشی فرما دی اور فریقین کے مابین جزیہ پر صلح ہو گئی ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

4039

Mishkat al-Masabih #4039

Zaeef

وَعَنْ حَرْبِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ جَدِّهِ أبي أُمِّه عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى وَلَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ عُشُورٌ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ

اردو ترجمہ · Urdu

حرب بن عبیداللہ اپنے نانا سے اور وہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ محصول تو یہود و نصاری پر ہے ، مسلمانوں پر عُشر نہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔

4040

Mishkat al-Masabih #4040

Sahih

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَمَرُّ بِقَوْمٍ فَلَا هُمْ يُضَيِّفُونَا وَلَا هُمْ يُؤَدُّونَ مَا لنا عَلَيْهِم منَ الحقِّ وَلَا نَحْنُ نَأْخُذُ مِنْهُمْ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ أَبَوْا إِلَّا أنْ تأخُذوا كُرهاً فَخُذُوا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہم کسی قوم کے پاس سے گزرتے ہیں تو وہ نہ تو ہماری مہمان نوازی کرتے ہیں اور نہ وہ ہمارا وہ حق دیتے ہیں جو ان پر عائد ہوتا ہے اور ہم بھی ان سے اپنا حق (زبردستی) حاصل نہیں کرتے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر وہ انکار کریں اور تمہیں زبردستی لینا پڑے تو لو ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

4041

Mishkat al-Masabih #4041

Sahih

عَنْ أَسْلَمَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ضَرَبَ الْجِزْيَةَ عَلَى أَهْلِ الذَّهَبِ أربعةَ دنانيرَ وعَلى أهلِ الوَرِقِ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا مَعَ ذَلِكَ أَرْزَاقُ الْمُسْلِمِينَ وَضِيَافَةُ ثلاثةِ أيامٍ. رَوَاهُ مَالك

اردو ترجمہ · Urdu

اسلم سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب ؓ نے سونے والوں پر چادر دینار اور چاندی والوں پر چالیس درہم جزیہ مقرر فرمایا ، اس کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی ضروریات زندگی اور تین دن کی ضیافت ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ مالک ۔