Muslim99Muslim99

Mishkat al-Masabih · Book 18 · Chapter 181

جہاد کا بیان

بَابُ قِسْمَةِ الْغَنَائِمِ وَالْغُلُولِ فِيهَا

مال غنیمت کی تقسیم اور اس میں خیانت کرنے کا بیان

30 hadiths in this chapter

3985

Mishkat al-Masabih #3985

Sahih

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «فَلَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِأَحَدٍ مِنْ قَبْلِنَا ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ رَأَى ضعفنا وعجزنا فطيها لنا»

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ ، رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہم میں سے پہلے کسی کے لیے بھی مالِ غنیمت حلال نہیں تھا ، یہ اس لیے (حلال کیا گیا) کہ اللہ نے ہماری کمزوری اور عاجزی دیکھی تو اسے ہمارے لیے حلال فرما دیا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

3986

Mishkat al-Masabih #3986

Sahih

وَعَن أبي قتادةَ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حُنَيْنٍ فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ فَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ عَلَا رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَضَرَبْتُهُ مِنْ وَرَائِهِ عَلَى حَبْلِ عَاتِقِهِ بِالسَّيْفِ فَقَطَعْتُ الدِّرْعَ وَأَقْبَلَ عَلَيَّ فَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ فَأَرْسَلَنِي فَلَحِقْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقُلْتُ: مَا بَالُ النَّاسِ؟ قَالَ: أَمْرُ اللَّهِ ثُمَّ رَجَعُوا وَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ» فَقُلْتُ: مَنْ يَشْهَدُ لِي؟ ثُمَّ جَلَسْتُ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ فَقُمْتُ فَقَالَ: «مَا لَكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ؟» فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ رَجُلٌ: صَدَقَ وَسَلَبُهُ عِنْدِي فَأَرْضِهِ مِنِّي فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: لَا هَا اللَّهِ إِذاً لَا يعمدُ أَسَدٍ مِنْ أُسْدِ اللَّهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَيُعْطِيكَ سَلَبَهُ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَدَقَ فأعطه» فأعطانيه فاتبعت بِهِ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلِمَةَ فَإِنَّهُ لَأَوَّلُ مالٍ تأثَّلْتُه فِي الإِسلامِ

اردو ترجمہ · Urdu

ابوقتادہ ؓ بیان کرتے ہیں ، غزوہ حنین کے سال ہم نبی ﷺ کے ساتھ نکلے ، جب ہم (مشرکین سے) ملے تو مسلمانوں کو ہزیمت کا سامنا ہوا ، میں نے ایک مشرک شخص کو دیکھا جو ایک مسلمان شخص پر غالب آ چکا تھا ، میں نے اس کے پیچھے سے اس کی رگ گردن پر تلوار ماری اور اس کی زرہ کاٹ دی ، وہ میری طرف متوجہ ہوا تو اس نے مجھے اس قدر دبایا کہ مجھے اس کے (دبانے) سے اپنی موت نظر آنے لگی ، لیکن موت اس پر آ گئی اور اس نے مجھے چھوڑ دیا ، میں عمر بن خطاب ؓ سے ملا تو میں نے کہا : لوگوں کا کیا حال ہے ؟ انہوں نے کہا : اللہ کا حکم (ہی ایسے تھا) ، پھر وہ (مسلمان) لوٹے اور نبی ﷺ بیٹھ گئے تو فرمایا :’’ جس نے کسی مقتول کو قتل کیا اور اس پر اس کے پاس دلیل ہو تو اس (مقتول) کا سازو سامان اس (قاتل) کے لیے ہے ۔‘‘ میں نے کہا : میرے حق میں کون گواہی دے گا ؟ پھر میں بیٹھ گیا ، نبی ﷺ نے پھر وہی بات فرمائی ، میں نے کہا : میرے حق میں کون گواہی دے گا ؟ پھر میں بیٹھ گیا ، پھر نبی ﷺ نے وہی بات فرمائی تو میں کھڑا ہوا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ابوقتادہ ! تمہارا کیا مسئلہ ہے ؟‘‘ میں نے آپ کو بتایا تو ایک شخص نے کہا ’’ اس نے سچ کہا ، اور اس کا سازو سامان میرے پاس ہے اسے میری طرف سے راضی کر دیں ۔ (اور مال میرے پاس ہی رہنے دیں) ابوبکر ؓ نے فرمایا : ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا کہ اللہ کا شیر جو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے قتال کرتا ہے ، اور آپ ﷺ اس کا سازو سامان تجھے دیں گے ، تب نبی ﷺ نے فرمایا :’’ ابوبکر ؓ نے سچ کہا ، پس اسے دو ۔‘‘ چنانچہ اس نے اسے مجھے دے دیا ، میں نے اس سے بنو سلمہ میں ایک باغ خریدا ، اور یہ پہلا مال تھا جو میں نے حالتِ اسلام میں جمع کیا تھا ۔ متفق علیہ ۔

3987

Mishkat al-Masabih #3987

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْهَمَ لِلرَّجُلِ وَلِفَرَسِهِ ثَلَاثَةَ أَسْهُمٍ: سَهْمًا لَهُ وَسَهْمَيْنِ لِفَرَسِهِ

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجاہد آدمی اور اس کے گھوڑے کے لیے تین حصے مقرر فرمائے ، ایک حصہ اس شخص کے لیے اور دو حصے اس کے گھوڑے کے لیے ۔ متفق علیہ ۔

3988

Mishkat al-Masabih #3988

Sahih

وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ: كَتَبَ نَجْدَةُ الْحَرُورِيُّ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنِ الْعَبْدِ وَالْمَرْأَة يحْضرَانِ لمغنم هلْ يُقسَمُ لَهما؟ فَقَالَ ليزيدَ: اكْتُبْ إِلَيْهِ أَنَّهُ لَيْسَ لَهُمَا سَهْمٌ إِلَّا أَنْ يُحْذَيَا. وَفِي رِوَايَةٍ: كَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّكَ كَتَبْتَ إِلَيَّ تَسْأَلُنِي: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ؟ وَهَلْ كَانَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ؟ فَقَدْ كَانَ يَغْزُو بِهِنَّ يُدَاوِينَ الْمَرْضَى وَيُحْذَيْنَ مِنَ الْغَنِيمَةِ وَأَمَّا السَّهْمُ فَلَمْ يَضْرِبْ لَهُنَّ بِسَهْمٍ. رَوَاهُ مُسلم

اردو ترجمہ · Urdu

یزید بن ہرمز ؓ بیان کرتے ہیں ، نجدہ حروری نے ابن عباس ؓ کی طرف خط لکھا جس میں اس نے مسئلہ دریافت کیا کہ اگر مال غنیمت کی تقسیم کے وقت غلام اور عورت موجود ہوں تو کیا ان کا حصہ نکالا جائے گا ؟ انہوں نے یزید ؓ سے فرمایا : اسے جواب لکھو ان دونوں کے لیے کوئی حصہ مقرر نہیں البتہ تھوڑا سا دے دیا جائے ۔\n اور ایک دوسری روایت میں ہے : ابن عباس ؓ نے اسے جواب لکھا : تم نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ کیا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عورتیں جہاد کیا کرتیں تھیں ، اور کیا ان کا حصہ مقرر کیا جاتا تھا ؟ ہاں آپ ﷺ کے ساتھ عورتیں جہاد میں شریک ہوتیں تھیں ، وہ مریضوں کا علاج معالجہ کرتی تھیں ، انہیں مال غنیمت میں سے دیا جاتا تھا ، رہا حصہ تو آپ ﷺ نے ان کے لیے کوئی حصہ مقرر نہیں فرمایا ۔ رواہ مسلم ۔\n

3989

Mishkat al-Masabih #3989

Sahih

وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِظَهْرِهِ مَعَ رَبَاحٍ غُلَامِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْفَزَارِيُّ قَدْ أَغَارَ عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُمْتُ عَلَى أَكَمَةٍ فَاسْتَقْبَلْتُ الْمَدِينَةَ فَنَادَيْتُ ثَلَاثًا يَا صَبَاحَاهْ ثُمَّ خَرَجْتُ فِي آثَارِ الْقَوْمِ أَرْمِيهِمْ بِالنَّبْلِ وَأَرْتَجِزُ وَأَقُولُ:\nأَنَا ابْنُ الْأَكْوَعْ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعْ\nفَمَا زِلْتُ أَرْمِيهِمْ وَأَعْقِرُ بِهِمْ حَتَّى مَا خلَقَ اللَّهُ مِنْ بَعِيرٍ مِنْ ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا خَلَّفْتُهُ وَرَاءَ ظَهْرِي ثُمَّ اتَّبَعْتُهُمْ أَرْمِيهِمْ حَتَّى أَلْقَوْا أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثِينَ بُرْدَةً وَثَلَاثِينَ رُمْحًا يَسْتَخِفُّونَ وَلَا يَطْرَحُونَ شَيْئًا إِلَّا جَعَلْتُ عَلَيْهِ آرَامًا مِنَ الْحِجَارَةِ يَعْرِفُهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَتَّى رَأَيْتُ فَوَارِسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَحِقَ أَبُو قَتَادَةَ فَارِسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَتَلَهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ فُرْسَانِنَا الْيَوْمَ أَبُو قَتَادَةَ وَخَيْرُ رَجَّالَتِنَا سَلَمَةُ» . قَالَ: ثُمَّ أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمَيْنِ: سَهْمَ الْفَارِسِ وَسَهْمَ الرَّاجِلِ فَجَمَعَهُمَا إِلَيَّ جَمِيعًا ثُمَّ أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَاءَهُ عَلَى الْعَضْبَاءِ رَاجِعَيْنِ إِلَى الْمَدِينَةِ. رَوَاهُ مُسلم\n

اردو ترجمہ · Urdu

سلمہ بن اکوع ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے رباح ، جو کہ رسول اللہ ﷺ کے غلام تھے ، کے ساتھ اپنے اونٹ بھیجے ، اور میں بھی اس کے ساتھ تھا ، جب ہم نے صبح کی تو عبدالرحمن فرازی نے اچانک رسول اللہ ﷺ کے اونٹوں پر دھاوا بول دیا ، میں ایک اونچی جگہ پر کھڑا ہوا اور مدینہ کی طرف رخ کر کے تین بار آواز دی ، لڑائی کا وقت آ گیا ، پھر میں نے ان لوگوں کا پیچھا کیا ، میں ان پر تیر برسا رہا تھا اور رجزیہ شعر پڑھ رہا تھا : میں ابن اکوع ہوں ، اور آج رذیل لوگوں کی ہلاکت کا دن ہے ۔ چنانچہ میں ان پر تیر برساتا رہا اور ان کی سواریوں کو زخمی کرتا رہا ، حتی کہ رسول اللہ ﷺ کے تمام اونٹ میں نے ان کے قبضہ سے آزاد کروا لیے ، اور میں پھر بھی ان کا پیچھا کر کے ان پر تیر اندازی کرتا رہا حتی کہ انہوں نے وزن ہلکا کرنے کے لیے تیس چادریں اور تیس نیزے پھینک دیے ، وہ جو بھی چیز پھینکتے میں اس پر پتھر کی نشانی لگاتا جاتا تاکہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ اسے پہچان سکیں ، حتی کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے شہ سواروں کو دیکھا اور رسول اللہ ﷺ کے شہ سوار ابوقتادہ ؓ نے عبدالرحمن فرازی کو جا لیا اور اسے قتل کر دیا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ آج ہمارا بہترین شہ سوار ابوقتادہ ؓ ہیں ، اور ہمارا بہترین پیادہ سلمہ ہیں ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، پھر رسول اللہ ﷺ نے مجھے دو حصے دیے ، ایک حصہ گھڑ سوار کا اور ایک حصہ پیادہ کا ، آپ نے وہ دونوں میرے لیے جمع فرما دیے ، پھر رسول اللہ ﷺ نے مدینہ واپس آتے ہوئے مجھے (اپنی اونٹنی) عضباء پر اپنے پیچھے سوار کر لیا ۔ رواہ مسلم ۔

3990

Mishkat al-Masabih #3990

Sahih

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُنَفِّلُ بَعْضَ مَنْ يَبْعَثُ مِنَ السَّرَايَا لِأَنْفُسِهِمْ خَاصَّةً سِوَى قِسْمَةِ عَامَّةِ الْجَيْشِ

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جن دستوں کو روانہ فرماتے تو ان میں سے بعض مجاہدین کو ان کے حصہ کے علاوہ خصوصی حصہ عنایت فرمایا کرتے تھے ۔ متفق علیہ ۔

3991

Mishkat al-Masabih #3991

Sahih

وَعَنْهُ قَالَ: نَفَّلَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم نَفَلًا سِوَى نَصِيبِنَا مِنَ الْخُمُسِ فَأَصَابَنِي شَارِفٌ والشارف: المسن الْكَبِير

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ہمارے حصے کے علاوہ خمس میں سے بھی کچھ عطا فرمایا ، سو مجھے خمس سے ایک ’’شارف‘‘ ملی ۔ شارف بوڑھی اونٹنی کو کہتے ہیں ۔ متفق علیہ ۔

3992

Mishkat al-Masabih #3992

Sahih

وَعَنْهُ قَالَ: ذَهَبَتْ فَرَسٌ لَهُ فَأَخَذَهَا الْعَدُوُّ فَظَهَرَ عَلَيْهِمُ الْمُسْلِمُونَ فَرُدَّ عَلَيْهِ فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَفِي رِوَايَةٍ: أَبَقَ عَبْدٌ لَهُ فَلَحِقَ بِالرُّومِ فَظَهَرَ عَلَيْهِمُ الْمُسْلِمُونَ فَرَدَّ عَلَيْهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بَعْدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، ان کا گھوڑا بھاگ گیا تو دشمن نے اسے پکڑ لیا ، مسلمان ان پر غالب آ گئے تو وہی گھوڑا رسول اللہ ﷺ کے دور میں مجھے لوٹا دیا گیا ۔\n اور ایک روایت میں ہے ، ان کا ایک غلام فرار ہو کر رومیوں سے جا ملا ، جب مسلمان ان پر غالب آ گئے تو نبی ﷺ کے بعد خالد بن ولید ؓ نے وہ مجھے لوٹا دیا ۔ رواہ البخاری ۔\n

3993

Mishkat al-Masabih #3993

Sahih

وَعَن جُبيرِ بن مُطعمٍ قَالَ: مَشَيْتُ أَنَا وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا: أَعْطَيْتَ بَنِي الْمُطَّلِبِ مِنْ خُمُسِ خَيْبَرَ وَتَرَكْتَنَا وَنَحْنُ بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ مِنْكَ؟ فَقَالَ: «إِنَّمَا بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو المطلبِ وَاحِدٌ» . قَالَ جُبَيْرٌ: وَلَمْ يَقْسِمِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَنِي عَبْدِ شَمْسٍ وَبَنِي نوفلٍ شَيْئا. رَوَاهُ البُخَارِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

جبیر بن مطعم ؓ بیان کرتے ہیں ، میں اور عثمان بن عفان ؓ ، نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا ، آپ نے خیبر کے خمس میں سے بنو مطلب کو عطا کیا ہے اور ہمیں چھوڑ دیا ہے ، جبکہ ہمارا اور ان کا آپ سے ایک رشتہ ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہی چیز ہیں ۔‘‘ جبیر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ نے بنو عبد شمس اور بنو نوفل کے درمیان کچھ بھی تقسیم نہ فرمایا ۔ رواہ البخاری ۔

3994

Mishkat al-Masabih #3994

Sahih

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّمَا قَرْيَةٍ أَتَيْتُمُوهَا وأقمتمْ فِيهَا فَسَهْمُكُمْ فِيهَا وَأَيُّمَا قَرْيَةٍ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ خُمُسَهَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ ثُمَّ هِيَ لَكُمْ» . رَوَاهُ مُسلم

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تم جس بستی میں (بلا قتال) داخل ہو جاؤ اور وہاں اقامت اختیار کرو تو اس میں تمہارا حصہ ہے ، اور جس بستی والوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی تو اس (سے حاصل ہونے والے مال) کا خمس اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے ، پھر وہ (باقی) تمہارے لیے ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

3995

Mishkat al-Masabih #3995

Sahih

وَعَن خوْلَةَ الْأَنْصَارِيَّةِ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ رِجَالًا يَتَخَوَّضُونَ فِي مَالِ اللَّهِ بِغَيْرِ حَقٍّ فَلَهُمُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

خولہ انصاریہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ کچھ لوگ اللہ کے مال میں ناحق تصرف کرتے ہیں ، ، روزِ قیامت ان کے لیے (جہنم کی) آگ ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

3996

Mishkat al-Masabih #3996

Sahih

وَعَن أبي هُرَيْرَة قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَذَكَرَ الْغُلُولَ فَعَظَّمَهُ وَعَظَّمَ أَمْرَهُ ثُمَّ قَالَ: لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ. لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ فُرْسٌ لَهُ حَمْحَمَةٌ فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ شَاةٌ لَهَا ثُغَاءٌ يَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ نَفْسٌ لَهَا صِيَاحٌ فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ رِقَاعٌ تَخْفُقُ فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ صَامِتٌ فَيَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي فَأَقُولُ: لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئا قد أبلغتك . وَهَذَا لفظ مُسلم وَهُوَ أتم

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک روز رسول اللہ ﷺ نے ہم میں کھڑے ہو کر خطاب فرمایا اس میں آپ نے خیانت کا ذکر کیا اور آپ نے اس معاملے کو سنگین قرار دیا ، پھر فرمایا :’’ میں تم سے کسی کو نہ پاؤں کہ وہ روزِ قیامت آئے اور اس کی گردن پر اونٹ بلبلا رہا ہو ، اور وہ شخص مجھے کہے : اللہ کے رسول ! میری مدد فرمائیں ، اور میں اس سے کہوں کہ : میں تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا میں نے تمہیں مسئلہ بتا دیا تھا ۔ میں تم میں سے کسی کو نہ پاؤں کہ وہ روزِ قیامت آئے اور اس کی گردن پر گھوڑا ہنہنا رہا ہو اور وہ آدمی کہے : اللہ کے رسول ! میری مدد فرمائیں ، تو میں کہوں : میں تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا ، میں نے تمہیں مسئلہ بتا دیا تھا ۔ میں تم میں سے کسی کو نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر بکری ممیا رہی ہو ، وہ شخص کہے ، اللہ کے رسول ! میری مدد فرمائیں ، تو میں کہوں : میں تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا ، میں نے تمہیں مسئلہ بتا دیا تھا ۔ میں تم میں سے کسی کو نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے روز آئے اور اس کی گردن پر کوئی نفس (یعنی مملوک) ہو اور وہ چلا رہا ہو اور وہ شخص کہے : اللہ کے رسول ! میری مدد فرمائیں ، اور میں کہوں : میں تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا ، میں نے تمہیں مسئلہ بتا دیا تھا ۔ میں تم میں سے کسی کو نہ پاؤں کہ وہ روزِ قیامت آئے اور اس کی گردن پر چادر حرکت کر رہی ہو تو وہ شخص کہے : اللہ کے رسول ! میری مدد فرمائیں ، تو میں کہوں گا : میں تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا ۔ میں نے تمہیں مسئلہ بتا دیا تھا ، میں تم میں سے کسی کو نہ پاؤں کہ وہ روزِ قیامت آئے اور اس کی گردن پر کوئی غیر ناطق چیز (سونا ، چاندی وغیرہ) ہو تو وہ شخص کہے : اللہ کے رسول ! میری مدد فرمائیں ، تو میں کہوں گا : میں تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا ، میں نے تمہیں مسئلہ بتا دیا تھا ۔‘‘ متفق علیہ ۔

3997

Mishkat al-Masabih #3997

Sahih

وَعَنْهُ قَالَ: أَهْدَى رَجُلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامًا يُقَالُ لَهُ: مِدْعَمٌ فَبَيْنَمَا مِدْعَمٌ يَحُطُّ رَحْلًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم إِذْ أَصَابَهُ سهم عاثر فَقَتَلَهُ فَقَالَ النَّاسُ: هَنِيئًا لَهُ الْجَنَّةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَلَّا وَالَّذِي نَفسِي بِيَدِهِ إِن الثملة الَّتِي أَخَذَهَا يَوْمَ خَيْبَرَ مِنَ الْمَغَانِمِ لَمْ تُصِبْهَا الْمَقَاسِمُ لَتَشْتَعِلُ عَلَيْهِ نَارًا» . فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِك النَّاس جَاءَ رجل بشرك أَوْ شِرَاكَيْنِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «شِرَاكٌ مِنْ نَارٍ أَوْ شِرَاكَانِ من نارٍ»

اردو ترجمہ · Urdu

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کو مدعم نامی ایک غلام بطور ہدیہ پیش کیا ، مدعم ، رسول اللہ ﷺ کی سواری کا کجاوہ اتار رہا تھا کہ اسے ایک نامعلوم جانب سے ایک تیر آ لگا جس سے وہ قتل ہو گیا ، لوگوں نے کہا : اسے جنت مبارک ہو ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہرگز نہیں ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اس نے غزوہ خیبر کے مالِ غنیمت میں سے ، اس کی تقسیم سے پہلے ، جو چادر چوری کی تھی وہ اس پر آگ بھڑکا رہی ہے ۔‘‘ جب لوگوں نے یہ بات سنی تو ایک آدمی ایک تسمہ یا دو تسمے نبی ﷺ کی خدمت میں لے آیا ۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا :’’ایک تسمہ یا دو تسمے آگ (میں جانے کے سبب) سے ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔

3998

Mishkat al-Masabih #3998

Sahih

وَعَن عبدِ الله بنِ عَمْروٍ قَالَ: كَانَ عَلَى ثَقَلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ كَرْكَرَةُ فَمَاتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُوَ فِي النَّارِ» فَذَهَبُوا يَنْظُرُونَ فَوَجَدُوا عَبَاءَةً قد غلها. رَوَاهُ البُخَارِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں کہ کرکرہ نامی شخص ، نبی ﷺ کے سامان پر مامور تھا ، وہ فوت ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ جہنمی ہے ۔‘‘ صحابہ کرام ؓ اس کا سامان دیکھنے لگے تو انہوں نے ایک چادر پائی جو اُس نے چوری کی تھی ۔ رواہ البخاری ۔

3999

Mishkat al-Masabih #3999

Sahih

وَعَن ابْن عمر قَالَ: كُنَّا نُصِيبُ فِي مَغَازِينَا الْعَسَلَ وَالْعِنَبَ فنأكله وَلَا نرفعُه رَوَاهُ البُخَارِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، غزوات میں ہمیں شہد اور انگور ملتے تو ہم انہیں کھا لیتے تھے ، اور انہیں اوپر (آپ ﷺ) تک نہیں پہنچاتے تھے ۔ رواہ البخاری ۔

4000

Mishkat al-Masabih #4000

Sahih

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: أَصَبْتُ جِرَابًا مِنْ شَحْمٍ يَوْمَ خَيْبَرَ فَالْتَزَمْتُهُ فَقُلْتُ: لَا أُعْطِي الْيَوْمَ أَحَدًا مِنْ هَذَا شَيْئًا فَالْتَفَتُّ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يبتسم إِلَيّ. مُتَّفق عَلَيْهِ. وَذكر الحَدِيث أَبِي هُرَيْرَةَ «مَا أُعْطِيكُمْ» فِي بَابِ «رِزْقِ الْوُلَاة»

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن مغفل ؓ بیان کرتے ہیں ، غزوۂ خیبر میں مجھے چربی کی ایک تھیلی ملی تو میں نے اسے اٹھا لیا ، اور کہا : میں آج اس میں سے کسی کو کچھ نہیں دوں گا ، میں نے دیکھا تو رسول اللہ ﷺ میری طرف (دیکھ کر) مسکرا رہے تھے ۔ متفق علیہ ۔\nابوہریرہ ؓ سے مروی حدیث :’’ میں جو تمہیں عطا کروں ۔‘‘ باب رزق الولاۃ میں ذکر کی گئی ہے ۔\n

4001

Mishkat al-Masabih #4001

Sahih

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ فَضَّلَنِي عَلَى الْأَنْبِيَاءِ أَوْ قَالَ: فَضَّلَ أُمَّتِي عَلَى الْأُمَمِ وأحلَّ لنا الْغَنَائِم . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

ابوامامہ ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ بے شک اللہ نے مجھے تمام انبیا ؑ پر فضیلت عطا کی ہے ۔‘‘ یا فرمایا :’’ میری امت کو تمام امتوں پر فضیلت عطا کی گئی ہے اور ہمارے لیے مالِ غنیمت حلال کیا گیا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

4002

Mishkat al-Masabih #4002

Sahih

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم: يَوْمئِذٍ يَوْمَ حُنَيْنٍ: «مَنْ قَتَلَ كَافِرًا فَلَهُ سَلَبُهُ» فَقَتَلَ أَبُو طَلْحَةَ يَوْمَئِذٍ عِشْرِينَ رَجُلًا وَأَخَذَ أسلابهم. رَوَاهُ الدَّارمِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ حنین کے موقع پر فرمایا :’’ جس نے کسی کافر کو قتل کیا تو اس کا سازو سامان اسی کا ہے ۔ ابوطلحہ ؓ نے اس روز بیس آدمی قتل کیے اور انہوں نے ان کا سازو سامان لے لیا ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الدارمی ۔

4003

Mishkat al-Masabih #4003

Sahih

وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي السَّلَبِ لِلْقَاتِلِ. وَلَمْ يُخَمِّسِ السَلَب. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

عوف بن مالک اشجعی اور خالد بن ولید ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جنگ میں قتل ہو جانے والے شخص کے سازو سامان کے بارے میں فیصلہ فرمایا کہ وہ اس کے قاتل کا ہے ، اور آپ نے مقتول کے سازو سامان سے خمس نہیں نکالا ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

4004

Mishkat al-Masabih #4004

Zaeef

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: نَفَّلَنِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ سَيْفَ أَبِي جَهْلٍ وَكَانَ قَتَلَهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ بدر کے موقع پر ابوجہل کی تلوار مجھے اضافی طور پر عطا فرمائی اور انہوں (ابن مسعود ؓ) نے اسے قتل کیا تھا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

4005

Mishkat al-Masabih #4005

Sahih

وَعَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ قَالَ: شَهِدْتُ خَيْبَر مَعَ ساداتي فَكَلَّمُوا فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَلَّمُوهُ أَنِّي مَمْلُوكٌ فَأَمَرَنِي فَقُلِّدْتُ سَيْفًا فَإِذَا أَنَا أَجُرُّهُ فَأَمَرَ لِي بِشَيْءٍ مِنْ خُرْثِيِّ الْمَتَاعِ وَعَرَضْتُ عَلَيْهِ رُقْيَةً كَنْتُ أَرْقِي بِهَا الْمَجَانِينَ فَأَمَرَنِي بِطَرْحِ بَعْضِهَا وَحَبْسِ بَعْضِهَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ إِلَّا أَنَّ رِوَايَتَهُ انتهتْ عِنْد قَوْله: الْمَتَاع

اردو ترجمہ · Urdu

ابولحم کے آزاد کردہ غلام عمیر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں اپنے مالکوں کے ساتھ غزوۂ خیبر میں شریک تھا ، انہوں نے میرے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے بات کی اور انہوں نے آپ کو بتایا کہ میں ایک غلام ہوں ، آپ نے میرے متعلق حکم فرمایا تو مجھے تلوار حمائل کی گئی ، اور میں اسے گھسیٹ رہا تھا ، آپ ﷺ نے گھریلو سامان میں سے مجھے کچھ دینے کا حکم فرمایا ۔ میں نے آپ کو ایک دم سنایا جو کہ میں دیوانوں پر کیا کرتا تھا ، آپ نے اس میں سے کچھ الفاظ ترک کر دینے اور کچھ رکھ لینے کا حکم دیا ۔ ترمذی ، ابوداؤد ، البتہ ابوداؤد کی روایت لفظ متاع پر ختم ہو جاتی ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔

4006

Mishkat al-Masabih #4006

Sahih

وَعَن محمع بن جاريةَ قَالَ: قُسِمَتْ خَيْبَرُ عَلَى أَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ فَقَسَمَهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَهْمًا وَكَانَ الْجَيْشُ أَلْفًا وَخَمْسَمِائَةٍ فِيهِمْ ثَلَاثُمِائَةِ فَارِسٍ فَأُعْطِيَ الْفَارِسُ سَهْمَيْنِ وَالرَّاجِلُ سَهْمًا رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَقَالَ: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ أصح فَالْعَمَل عَلَيْهِ وَأَتَى الْوَهْمُ فِي حَدِيثِ مُجَمِّعٍ أَنَّهُ قَالَ: أَنَّهُ قَالَ: ثَلَاثُمِائَةِ فَارِسٍ وَإِنَّمَا كَانُوا مِائَتَيْ فَارس

اردو ترجمہ · Urdu

مجمع بن جاریہ ؓ بیان کرتے ہیں ، خیبر کا مالِ غنیمت اہل حدیبیہ پر تقسیم کیا گیا ، رسول اللہ ﷺ نے اسے اٹھارہ حصوں میں تقسیم فرمایا : لشکر کی تعداد پندرہ سو تھی ، اس میں سے تین سو گھڑ سوار تھے ، آپ نے گھڑ سوار کو دو حصے اور پیادہ کو ایک حصہ عطا فرمایا ۔\nاور امام ابوداؤد نے فرمایا کہ ابن عمر ؓ سے مروی حدیث زیادہ صحیح ہے اور عمل اسی پر ہے ۔ مجمع سے مروی حدیث میں وہم ہے کہ انہوں نے کہا : تین سو گھڑ سوار تھے ، جبکہ وہ صرف دو سو تھے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔\n

4007

Mishkat al-Masabih #4007

Sahih

وَعَن حبيب بن مسلَمةَ الفِهْريِّ قَالَ شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نفل الرّبع فِي البدأة وَالثلث فِي الرجمة. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

حبیب بن مسلمہ فہری ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نبی ﷺ کے پاس حاضر تھا کہ آپ نے شروع شروع میں لڑنے والوں کو مالِ غنیمت میں سے چوتھائی حصہ زائد عطا فرمایا ، اور واپسی پر لڑائی کرنے والوں کو تہائی حصہ زائد عطا فرمایا ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

4008

Mishkat al-Masabih #4008

Sahih

وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُنَفِّلُ الرُّبُعَ بَعْدَ الْخُمُسِ وَالثُّلُثَ بَعْدَ الْخُمُسِ إِذَا قَفَلَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

اردو ترجمہ · Urdu

حبیب بن مسلمہ فہری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب جہاد سے واپس تشریف لانے سے پہلے مالِ غنیمت خمس نکالنے کے بعد چوتھائی اور واپس لوٹتے ہوئے خمس نکالنے کے بعد تہائی حصہ اضافی طور پر عطا فرمایا کرتے تھے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

4009

Mishkat al-Masabih #4009

Sahih

وَعَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَّةِ الْجَرْمِيِّ قَالَ: أَصَبْتُ بِأَرْضِ الرُّومِ جَرَّةً حَمْرَاءَ فِيهَا دَنَانِيرُ فِي إِمْرَةِ مُعَاوِيَةَ وَعَلَيْنَا رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ يُقَالُ لَهُ: مَعْنُ بْنُ يَزِيدَ فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَسَمَهَا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ وَأَعْطَانِي مِنْهَا مِثْلَ مَا أَعْطَى رَجُلًا مِنْهُمْ ثُمَّ قَالَ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا نَفَلَ إِلَّا بَعْدَ الْخُمُسِ» لَأَعْطَيْتُكَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

ابو جویریہ جرمی ؓ بیان کرتے ہیں ، معاویہ کے دورِ امارت میں روم کی سر زمین پر مجھے ایک سرخ گھڑا ملا جس میں دینار تھے ۔ رسول اللہ ﷺ کے ، معن بن یزید نامی ، صحابی ہمارے امیر تھے جو کہ بنو سلیم قبیلے سے تھے ، میں نے وہ گھڑا ان کی خدمت میں پیش کر دیا ، انہوں نے اسے مسلمانوں کے مابین تقسیم کر دیا اور مجھے بھی سب کے برابر ہی حصہ دیا ، پھر فرمایا : اگر میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ نہ سنا ہوتا کہ خمس نکالنے کے بعد اضافی حصہ دیا جائے گا تو میں تمہیں ضرور دیتا ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

4010

Mishkat al-Masabih #4010

Sahih

وَعَن أبي مُوسَى الأشعريِّ قَالَ: قَدِمْنَا فَوَافَقْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ افْتَتَحَ خَيْبَرَ فَأَسْهَمَ لَنَا أَوْ قَالَ: فَأَعْطَانَا مِنْهَا وَمَا قَسَمَ لِأَحَدٍ غَابَ عَنْ فَتْحِ خَيْبَرَ مِنْهَا شَيْئًا إِلَّا لمَنْ شهِدَ معَه إِلَّا أَصْحَابَ سَفِينَتِنَا جَعْفَرًا وَأَصْحَابَهُ أَسْهَمَ لَهُمْ مَعَهم. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

ابوموسیٰ اشعری ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم (حبشہ سے) واپس آئے تو ہماری رسول اللہ ﷺ سے اس وقت ملاقات ہوئی جب خیبر فتح ہو چکا تھا ، آپ نے ہمارا حصہ بھی مقرر فرمایا : یا یوں کہا : آپ نے ہمیں عطا فرمایا ، آپ ﷺ نے خیبر میں حاصل ہونے والے مال غنیمت میں سے یا تو ان لوگوں کو حصہ دیا جو اس غزوہ میں شریک تھے یا پھر ہمارے کشتی کے ساتھیوں یعنی جعفر اور ان کے رفقا کو دیا ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔

4011

Mishkat al-Masabih #4011

Sahih

وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ خَالِدٍ: أَنِّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُوُفِّيَ يَوْمَ خَيْبَرَ فَذَكَرُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ» فَتَغَيَّرَتْ وُجُوهُ النَّاسِ لِذَلِكَ فَقَالَ: «إِنَّ صَاحِبَكُمْ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ» فَفَتَّشْنَا مَتَاعَهُ فَوَجَدْنَا خَرَزًا مِنْ خَرَزِ يَهُودَ لَا يُسَاوِي دِرْهَمَيْنِ. رَوَاهُ مَالك وَأَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ

اردو ترجمہ · Urdu

یزید بن خالد ؓ سے روایت ہے کہ غزوہ خیبر کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کا ایک ساتھی فوت ہو گیا ، صحابہ نے اس کا تذکرہ رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھو ۔‘‘ یہ سن کر صحابہ کے چہروں کا رنگ متغیر ہو گیا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تمہارے ساتھی نے مال غنیمت میں خیانت کی ہے ۔‘‘ ہم نے اس کے سامان کی تلاشی لی تو ہم نے اس میں یہود کا ایک نگینہ پایا جس کی قیمت دو درہم کے برابر بھی نہیں تھی ۔ اسنادہ حسن ، رواہ مالک و ابوداؤد و النسائی ۔

4012

Mishkat al-Masabih #4012

Sahih

وَعَن عبدِ الله بنِ عَمْروٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصَابَ غَنِيمَةً أَمَرَ بِلَالًا فَنَادَى فِي النَّاسِ فَيَجِيئُونَ بِغَنَائِمِهِمْ فَيُخَمِّسُهُ وَيُقَسِّمُهُ فَجَاءَ رَجُلٌ يَوْمًا بَعْدَ ذَلِكَ بِزِمَامٍ مِنْ شَعَرٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا فِيمَا كُنَّا أَصَبْنَاهُ مِنَ الْغَنِيمَةِ قَالَ: «أَسْمَعْتَ بِلَالًا نَادَى ثَلَاثًا؟» قَالَ: نَعَمْ قَالَ: «فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَجِيءَ بِهِ؟» فَاعْتَذَرَ قَالَ: «كُنْ أَنْتَ تَجِيءُ بِهِ يومَ القيامةِ فلنْ أقبلَه عَنْك» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ ﷺ کو مالِ غنیمت ملتا تو آپ بلال ؓ کو حکم فرماتے تو وہ عام اعلان کرتے جس پر صحابہ کرام وہ مال غنیمت لے کر حاضر ہوتے جو ان کے پاس ہوتا ، آپ اس میں سے خمس نکالتے اور اسے تقسیم کرتے ، چنانچہ ایک آدمی اس سے ایک روز بعد بالوں سے بنی ہوئی ایک لگام لے کر آیا اور عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مالِ غنیمت میں ملنے والے مال میں یہ بھی تھی ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم نے بلال ؓ کو تین مرتبہ اعلان کرتے ہوئے سنا تھا ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، جی ہاں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تو پھر کس چیز نے تجھے اسے لانے سے منع کیا ؟‘‘ اس نے معذرت پیش کی ، لیکن آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اب تم اسے قیامت کے روز لاؤ گے ، میں اسے تم سے ہرگز قبول نہیں کروں گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

4013

Mishkat al-Masabih #4013

Zaeef

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ حَرَّقُوا مَتَاعَ الْغَالِّ وضربوه. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ، ابوبکر اور عمر ؓ نے خیانت کرنے والے کے مال و متاع کو جلا دیا اور اس کی پٹائی کی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔

4014

Mishkat al-Masabih #4014

Zaeef

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ يَكْتُمُ غَالًّا فَإِنَّهُ مِثْلُهُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

اردو ترجمہ · Urdu

سمرہ بن جندب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کرتے تھے :’’ جو شخص خیانت کرنے والے کی پردہ پوشی کرتا ہے تو وہ بھی اسی کی طرح ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔