Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 5 · Chapter 4

Book of the Two Eids

Hadith 3320–3359

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

3320

Majma al-Zawaid #3320

وَعَنْ أَيْمَنَ مَوْلَى ابْنِ أَبِي عَمْرَةَ قَالَ: «دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ مَمْلُوكٌ قَبْلَ أَنْ أُعْتَقَ فَقُلْتُ لَهَا: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَيُّ سَاعَةٍ كَانَ أَكْثَرَ مَا يُصَلِّي فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَتْ: دِلُوكُ الشَّمْسِ حَتَّى تَمِيلَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ هُرْمُزَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ayman, the freed slave of Ibn Abī ʿAmrah, reported that he entered upon ʿĀʾishah رضي الله عنها while still enslaved before his emancipation, and asked her at which hour the Messenger of Allāh ﷺ most frequently prayed. She replied that it was from the decline of the sun until it inclined.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایمن ‘ جو ابن ابوعمرہ کے غلام ہیں ‘ وہ بیان کرتے ہیں : میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ میں ان دنوں غلام تھا ‘ یہ میرے آزاد ہونے سے پہلے کی بات ہے ‘ میں نے ان سے کہا : اے ام المؤمنین ! نبی اکرم ﷺ کون سی گھڑی میں زیادہ نماز ادا کیا کرتے تھے ؟ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : جب سورج ڈھلنے کا وقت ہوتا تھا ‘ یہاں تک کہ وہ ڈھل جاتا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مسلم بن ہرمز ہے ‘ اور وہ ’’ ضعیف ‘‘ ہے ۔

3321

Majma al-Zawaid #3321

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «مَا هَجَّرْتُ إِلَّا وَجَدْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that whenever he came at midday, he found the Prophet ﷺ praying.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں جب بھی دوپہر کے وقت آیا ‘ تو میں نے نبی اکرم ﷺ کو نماز ادا کرتے ہی پایا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے وہ ’’ ثقہ ‘‘ ہے ‘ لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔

3322

Majma al-Zawaid #3322

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ صَلَّى قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ كَمَنْ تَهَجَّدَ بِهِنَّ مِنْ لَيْلَتِهِ، وَمَنْ صَلَّاهُنَّ بَعْدَ الْعِشَاءِ كَمِثْلِهِنَّ مِنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ نَاهِضُ بْنُ سَالِمٍ الْبَاهِلِيُّ وَغَيْرُهُ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُمْ. قُلْتُ: وَيَأْتِي حَدِيثُ أَنَسٍ وَغَيْرِهِ فِي الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعِشَاءِ.

EnglishUnverified translation

Al-Barāʾ ibn ʿĀzib رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ that whoever prays four rakʿahs before Ẓuhr, it is as one who prayed Tahajjud with them in his night, and whoever prays them after ʿIshāʾ, it is like the same in Laylat al-Qadr. > **"Whoever prays four rakʿahs before Ẓuhr, it is as one who prayed Tahajjud with them in his night, and whoever prays them after ʿIshāʾ, it is like the same in Laylat al-Qadr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص ظہر سے پہلے چار رکعات ادا کرتا ہے ‘ گویا وہ اس رات میں تہجد کی نماز میں وہ رکعات ادا کرتا ہے ‘ اور جو شخص عشاء کے بعد چار رکعات ادا کرتا ہے ‘ تو یہ شب قدر میں چار رکعات ادا کرنے کی مانند ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ناہض بن سالم باہلی ہے ‘ اور اس کے علاوہ اور راوی بھی ایسے ہیں ‘ جن کا ذکر کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت انس رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام کے حوالے سے منقول احادیث آگے آئیں گی ‘ جو عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد ‘ نماز ادا کرنے کے بارے میں ہیں ۔

3323

Majma al-Zawaid #3323

وَعَنِ الْبَرَاءِ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Barāʾ رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ would pray four rakʿahs before Ẓuhr.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ظہر سے پہلے چار رکعات ادا کیا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ‘ جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

3324

Majma al-Zawaid #3324

وَعَنْ بَشِيرِ بْنِ أَبِي سَلْمَانَ عَنْ شَيْخٍ مِنَ الْأَنْصَارِ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «مَنْ صَلَّى قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا كَانَ كَعِدْلِ رَقَبَةٍ مَنْ بَنِي إِسْمَاعِيلَ» ".

EnglishUnverified translation

Bashīr ibn Abī Sulaymān reported from an elderly Anṣārī Shaykh, from his father, from the Prophet ﷺ, that whoever prays four before Ẓuhr, it is equivalent to a neck from the children of Ismāʿīl. > **"Whoever prays four before Ẓuhr, it is equivalent to a neck from the children of Ismāʿīl."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بشیر بن ابوسلیمان نے قانصار سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ کے حوالے سے ‘ اُن کے والد کے حوالے سے ‘ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ’’ جو شخص ظہر سے پہلے چار رکعات ادا کر لے ‘ تو یہ اولاد اسماعیل میں سے چار غلام آزاد کرنے کی مانند ہے ‘‘۔

3325

Majma al-Zawaid #3325

وَعَنْ بَشِيرِ بْنِ سَلْمَانَ عَنْ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: مِثْلَهُ. رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِمَا عَمْرٌو الْأَنْصَارِيُّ وَالشَّيْخُ الْأَنْصَارِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Bashīr ibn Sulaymān reported from ʿAmr al-Anṣārī, from his father, from the Prophet ﷺ, the like thereof concerning four before Ẓuhr. > **"Whoever prays four before Ẓuhr, it is equivalent to a neck from the children of Ismāʿīl."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بشیر بن سلمان نے ‘ عمر و انصاری کے حوالے سے ‘ اُن کے والد کے حوالے سے ‘ نبی اکرم ﷺ سے اس کی مانند روایت نقل کی ہے : یہ دونوں روایات امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ ان دونوں کی سند میں ایک راوی عمر و انصاری ہے ‘ اور ایک بزرگ انصاری ہے ‘ میں اِن دونوں سے واقف نہیں ہوں ، ان دونوں روایات کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

3326

Majma al-Zawaid #3326

وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: مَنْ صَلَّى الضُّحَى وَقَبْلَ الضُّحَى أَرْبَعًا بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُمْ.

EnglishUnverified translation

Abū Mūsā رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that whoever prays Ḍuḥā and four before Ḍuḥā, a house will be built for him in Paradise. > **"Whoever prays Ḍuḥā and four before Ḍuḥā, a house will be built for him in Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص چاشت کی نماز ادا کرتا ہے ‘ اور ظہر سے پہلے چار رکعات ادا کرتا ہے ‘ اس کے لئے جنت میں گھر بنا دیا جاتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک جماعت ایسی ہے کہ میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔

3327

Majma al-Zawaid #3327

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «صَلَاةُ الْهَجِيرِ مِثْلُ صَلَاةِ اللَّيْلِ» "" فَسَأَلْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ حُمَيْدٍ عَنِ الْهَجِيرِ فَقَالَ: إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn Ḥumayd reported from his father, from his grandfather, that the Messenger of Allāh ﷺ said that the midday prayer is like the night prayer. When ʿAbd al-Raḥmān was asked about al-Hajīr, he explained it as when the sun has declined. > **"The midday prayer is like the night prayer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن حمید نے ‘ اپنے والد کے حوالے سے ‘ اپنے دادا کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ’’ دوپہر کی نماز کی مثال ‘ رات کی نماز کی مانند ہے ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عبدالرحمن بن حمید سے لفظ ’’ ہجیر ‘‘ کے بارے میں دریافت کیا : تو انہوں نے فرمایا : جب سورج ڈھل جائے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

3328

Majma al-Zawaid #3328

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُدَيْلٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَوْصَلُ النَّاسِ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ قَامَ فَرَكَعَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ يَقْرَأُ فِيهِنَّ بِسُورَتَيْنِ مِنَ الْمِئِينَ، فَإِذَا تَجَاوَبَ الْمُؤَذِّنُونَ شَدَّ عَلَيْهِ ثِيَابَهُ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Budayl reported from the closest companion of ʿAbd Allāh ibn Masʿūd رضي الله عنه that when the sun declined, he would stand and pray four rakʿahs, reciting therein two sūrahs from the Miʾīn, and when the muʾadhdhins called to one another he would tighten his garments and go out to prayer.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالله بن بدیل بیان کرتے ہیں : مجھے اس شخص نے یہ بات بتائی ‘ جو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے سب سے زیادہ قریب رہتے تھے ‘ انہوں نے یہ بات بیان کی : کہ جب سورج ڈھل جاتا تھا ، تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اٹھ کر چار رکعات ادا کر لیتے تھے ‘ وہ ان رکعت میں ’’ مئین ‘‘ سے تعلق رکھنے والی دو سورتیں تلاوت کرتے تھے ‘ جب مؤذن دینے لگتے تھے ‘ تو وہ اپنے لباس کو اوڑھ کر نماز کے لئے تشریف لے جاتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

3329

Majma al-Zawaid #3329

وَعَنِ الْأَسْوَدِ وَمُرَّةَ وَمَسْرُوقٍ قَالُوا: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَيْسَ شَيْءٌ يَعْدِلُ صَلَاةَ اللَّيْلِ مِنْ صَلَاةِ النَّهَارِ إِلَّا أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ وَفَضْلُهُنَّ عَلَى صَلَاةِ النَّهَارِ كَفَضْلِ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ عَلَى صَلَاةِ الْوَاحِدِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْكَنَدِيُّ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ، وَفِيهِ كَلَامٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Aswad, Murrah, and Masrūq reported that ʿAbd Allāh رضي الله عنه said that nothing of daytime prayer equals night prayer except four before Ẓuhr, whose superiority over daytime prayer is like the superiority of congregational prayer over solitary prayer.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسود ‘ مرہ اور مسروق بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ دن کی کوئی بھی نماز ‘ رات کی نماز کے برابر نہیں ہے ‘ البتہ ظہر سے پہلی کی چار رکعات کا معاملہ مختلف ہے ‘ ان رکعت کو دن کی نمازوں پر وہ فضیلت حاصل ہے ‘ جو با جماعت نماز کو تنہا نماز ادا کرنے پر حاصل ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس میں ایک راوی بشر بن ولید کندی ہے ‘ جسے ایک جماعت نے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ‘ اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

3330

Majma al-Zawaid #3330

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُصَلِّي بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ نَبْهَانَ وَقَدْ تُكُلِّمَ فِيهِ بِسَبَبِ أَنَّهُ اخْتَلَطَ، وَوَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ would pray between Ẓuhr and ʿAṣr.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ظہر اور عصر کے درمیان نماز ادا کیا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن نبہان ہے ‘ جس کے بارے میں اس حوالے سے کلام کیا گیا ہے کہ وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، ایک جماعت نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔

3331

Majma al-Zawaid #3331

عَنْ مَيْمُونَةَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي قَبْلَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حَنْظَلَةُ السَّدُوسَيُّ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَعِينٍ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Maymūnah رضي الله عنها reported that the Messenger of Allāh ﷺ would pray two rakʿahs before ʿAṣr.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ عصر سے پہلے دو رکعات ادا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حنظلہ سدوسی ہے ‘ جسے امام احمد اور یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ، جب کہ ابن حبان نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔

3332

Majma al-Zawaid #3332

وَعَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ حَافَظَ عَلَى أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الْعَصْرِ بَنَى اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْمُؤَذِّنُ وَلَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Umm Ḥabībah bint Abī Sufyān رضي الله عنها reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that whoever guards four rakʿahs before ʿAṣr, Allāh Almighty will build for him a house in Paradise. > **"Whoever guards four rakʿahs before ʿAṣr, Allāh Almighty will build for him a house in Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام حبیبہ بنت ابوسفیان رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص عصر سے پہلے چار رکعات باقاعدگی سے ادا کرے گا ‘ اللہ تعالی اس کے لئے جنت میں گھر بنا دے گا ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن سعد مؤذن ہے ‘ میں اُس سے واقف نہیں ہوں ۔

3333

Majma al-Zawaid #3333

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الْعَصْرِ حَرَّمَ اللَّهُ بَدَنَهُ عَلَى النَّارِ "" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ رَأَيْتُكَ تُصَلِّي وَتَدَعُ! قَالَ: "" لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ نَافِعُ بْنُ مِهْرَانَ وَغَيْرُهُ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُمْ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah رضي الله عنها reported from the Prophet ﷺ that whoever prays four rakʿahs before ʿAṣr, Allāh will forbid his body to the Fire. When she remarked that she had seen him sometimes pray them and sometimes omit them, he replied that he is not like any one of them. > **"Whoever prays four rakʿahs before ʿAṣr, Allāh will forbid his body to the Fire. I am not like any one of you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ’’ جو شخص عصر سے پہلے چار رکعات ادا کرتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ اس کے جسم کو جنم پر حرام قرار دے دیتا ہے ‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ یہ رکعات ادا کرتے بھی ہیں اور انہیں ترک بھی کر دیتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں تم لوگوں میں سے ‘ کسی ایک کی مانند نہیں ہوں “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی نافع بن مہران ہے ‘ اس کے علاوہ اور راوی بھی ایسے ہیں کہ میں نے کسی کو اُن کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

3334

Majma al-Zawaid #3334

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: «جِئْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَاعِدٌ فِي أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَأَدْرَكْتُ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الْعَصْرِ لَمْ تَمَسَّهُ النَّارُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَهُوَ فِي الْكَبِيرِ مُخْتَصَرًا بِلَفْظِ: "" حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ "".

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn ʿAmr ibn al-ʿĀṣ رضي الله عنهما reported that he came while the Messenger of Allāh ﷺ sat among some of his Companions including ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb رضي الله عنه, catching the end of the discourse as the Messenger of Allāh ﷺ declared that whoever prays four rakʿahs before ʿAṣr, the Fire will not touch him, and in another wording that Allāh will forbid him to the Fire. > **"Whoever prays four rakʿahs before ʿAṣr, the Fire will not touch him. Allāh will forbid him to the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں آیا ‘ نبی اکرم ﷺ اس وقت اپنے اصحاب میں سے کچھ افراد کے درمیان موجود تھے ‘ جن میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے ‘ میں نے آپ ﷺ کی گفتگو کا آخری حصہ پایا ‘ نبی اکرم ﷺ یہ ارشاد فرما رہے تھے : ’’ جو شخص عصر سے پہلے چار رکعات ادا کر لے گا ‘ اُسے آگ نہیں چھوئے گی “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم ابوامیہ ہے ‘ اور وہ ” ضعیف “ ہے ‘ یہ روایت معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ ‘ ان الفاظ کے ساتھ منقول ہے : ’’ اللہ تعالیٰ اس کو جہنم پر حرام قرار دیدے گا ‘‘۔

3335

Majma al-Zawaid #3335

وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا تَزَالُ أُمَّتِي يُصَلُّونَ هَذِهِ الْأَرْبَعَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ الْعَصْرِ حَتَّى تَمْشِيَ عَلَى الْأَرْضِ مَغْفُورًا لَهَا (مَغْفِرَةً) حَتْمًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ هَارُونَ بْنِ عَنْتَرَةَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī ibn Abī Ṭālib رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that his Ummah will continue praying these four rakʿahs before ʿAṣr until they walk upon the earth decisively forgiven. > **"My Ummah will continue praying these four rakʿahs before ʿAṣr until they walk upon the earth decisively forgiven."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ میری امت کے لوگ مسلسل عصر سے پہلے یہ چار رکعات ادا کرتے رہیں گے ‘ یہاں تک کہ وہ زمین پر ایسے عالم میں چلیں گے کہ اُن کی حتمی طور پر مغفرت ہو چکی ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن ہارون بن عشرہ ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

3336

Majma al-Zawaid #3336

عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: «خَرَجَ عُمَرُ عَلَى النَّاسِ فَضَرَبَهُمْ عَلَى السَّجْدَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى مَرَّ بِتَمِيمٍ الدَّارِيِّ فَقَالَ: لَا أَدَعُهُمَا، صَلَّيْتُهُمَا مَعَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ، رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّ النَّاسَ لَوْ كَانُوا كَهَيْئَتِكَ لَمْ أُبَالِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَهَذَا لَفْظُهُ، وَعُرْوَةُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عُمَرَ، وَقَدْ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ.

EnglishUnverified translation

ʿUrwah ibn al-Zubayr reported that ʿUmar رضي الله عنه went out to the people and struck them for the two prostrations after ʿAṣr, until he passed Tamīm al-Dārī رضي الله عنه, who refused to abandon them, declaring he had prayed them with one better than ʿUmar, the Messenger of Allāh ﷺ. ʿUmar replied that had the people been like him, he would not care.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کے پاس تشریف لائے اور انہیں عصر کے بعد دو رکعات ادا کرنے پر ‘ ان کی پٹائی کی ‘ یہاں تک کہ اُن کا گزر حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا ‘ تو حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ان دونوں رکعات کو ترک نہیں کروں گا ، کیونکہ میں نے یہ دونوں رکعات ‘ اُس ہستی کے ساتھ ادا کی ہیں ‘ جو آپ سے بہتر ہیں ‘ اور وہ اللہ کے رسول ہیں ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر لوگ تمہاری مانند ہو جائیں ‘ تو پھر میں اس کی پرواہ نہیں کروں گا “۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، عروہ نامی راوی نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، امام طبرانی نے اسے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کیا ہے ۔

3337

Majma al-Zawaid #3337

وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ: «أَخْبَرَنِي تَمِيمٌ الدَّارِيُّ - أَوْ أُخْبِرْتُ» أَنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ - رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ نَهْيِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَأَتَاهُ عُمَرُ فَضَرْبَهُ بِالدِّرَّةِ فَأَشَارَ إِلَيْهِ تَمِيمٌ أَنِ اجْلِسْ وَهُوَ فِي صَلَاتِهِ فَجَلَسَ عُمَرُ حَتَّى فَرَغَ تَمِيمٌ مِنْ صَلَاتِهِ فَقَالَ لِعُمَرَ: لِمَ ضَرَبَتْنِي؟ قَالَ: لِأَنَّكَ رَكَعْتَ هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ وَقَدْ نَهَيْتُ عَنْهُمَا قَالَ: إِنِّي قَدْ صَلَّيْتُهُمَا مَعَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّهُ لَيْسَ بِي إِثْمٌ - أَيُّهَا الرَّهْطُ - وَلَكِنِّي أَخَافُ أَنْ يَأْتِيَ بَعْدِي قَوْمٌ يُصَلُّونَ مَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلَى الْمَغْرِبِ حَتَّى يَمُرُّوا بِالسَّاعَةِ الَّتِي نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُصَلَّى فِيهَا حَتْمًا وَصَلُّوا مَا بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ (ثُمَّ يَقُولُونَ قَدْ رَأَيْنَا فُلَانًا وَفُلَانًا يُصَلُّونَ بَعْدَ الْعَصْرِ) وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ فِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ: ثِقَةٌ مَأْمُونٌ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

ʿUrwah reported from Tamīm al-Dārī رضي الله عنه that after ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb رضي الله عنه forbade prayer after ʿAṣr, Tamīm bowed two rakʿahs, whereupon ʿUmar struck him with the whip. Tamīm gestured to him to sit while in prayer, and ʿUmar sat until Tamīm finished. When Tamīm asked why he was struck, ʿUmar cited his prohibition, and Tamīm replied that he had prayed them with one better than him, the Messenger of Allāh ﷺ. ʿUmar then explained he bore no sin toward the group, but feared that after him people would pray between ʿAṣr and Maghrib until entering the hour in which the Messenger of Allāh ﷺ definitively forbade prayer, while praying between Ẓuhr and ʿAṣr and claiming precedent of others praying after ʿAṣr.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بیان کرتے ہیں : حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی : ( راوی کو شک ہے ‘ یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) مجھے یہ بات بتائی گئی : کہ حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عصر کے بعد نماز ادا کرنے سے منع کرنے کے باوجود ‘ دو رکعات ادا کیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اُن کے پاس آئے اور انہیں درے کے ذریعے مارنے لگے ‘ تو حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ نے انہیں اشارہ کیا کہ آپ بیٹھ جائیں ، حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ اس وقت نماز ادا کر رہے تھے ‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے ‘ جب حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ نماز سے فارغ ہوئے ‘ تو انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ نے مجھے کیوں مارا ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیونکہ تم نے یہ دو رکعات ادا کی ہیں ، اور میں نے ان سے منع کیا ہے ‘ تو حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے یہ دو رکعات اُس ہستی کے ہمراہ ادا کی ہیں ‘ جو آپ سے بہتر ہیں ‘ اور وہ اللہ کے رسول ہیں ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے لوگو ! مجھے تمہارے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہے ‘ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میرے بعد ایسے لوگ آئیں گے جو عصر کے بعد سے لے کر مغرب کے وقت تک نمازیں ادا کرتے رہیں گے ‘ یہاں تک کہ وہ اس گھڑی میں بھی نماز ادا کر لیں گے جس گھڑی میں ‘ نماز ادا کرنے سے نبی اکرم ﷺ نے منع کیا ہے ‘ جس طرح کچھ لوگ ظہر اور عصر کو ملا دیتے ہیں اور پھر یہ کہتے ہیں : کہ ہم نے فلاں اور فلاں کو دیکھا کہ وہ عصر کے بعد بھی نماز ادا کر رہا تھا ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ‘ جس کے بارے میں عبدالملک بن شعیب نے یہ کہا ہے : یہ ’’ ثقہ ‘‘ اور مامون ہے امام احمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

3338

Majma al-Zawaid #3338

«وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ رَآهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ خَلِيفَةٌ رَكَعَ بَعْدَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ، فَمَشَى إِلَيْهِ فَضَرَبَهُ بِالدِّرَّةِ وَهُوَ يُصَلِّي كَمَا هُوَ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ زَيْدٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَوَاللَّهِ لَا أَدَعُهُمَا أَبَدًا بَعْدُ إِذْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّيهِمَا قَالَ: فَجَلَسَ عُمَرُ إِلَيْهِ وَقَالَ: يَا زَيْدُ بْنَ خَالِدٍ لَوْلَا أَنِّي أَخْشَى أَنْ يَتَّخِذَهَا النَّاسُ سُلَّمًا إِلَى الصَّلَاةِ حَتَّى اللَّيْلِ لَمْ أَضْرِبْ فِيهِمَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Khālid al-Juhanī رضي الله عنه reported that ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb رضي الله عنه, while caliph, saw him bow two rakʿahs after ʿAṣr, walked to him and struck him with the whip while he continued praying. When he finished, Zayd swore by Allāh that he would never abandon them after seeing the Messenger of Allāh ﷺ pray them. ʿUmar sat with him and explained that were it not for fear that people would take them as a ladder to prayer until nightfall, he would not strike concerning them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا جو اس وقت خلیفہ تھے کہ انہوں نے عصر کے بعد دو رکعات ادا کیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ چلتے ہوئے ان کے پاس آئے اور انہیں درہ مارا ‘ وہ مسلسل نماز ادا کرتے رہے ‘ جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے ‘ تو حضرت زید رضی اللہ عنہ نے کہا : اے امیر المؤمنین ! اللہ کی قسم ! نبی اکرم ﷺ کو ان دونوں رکعت کو ادا کرتے ہوئے دیکھ لینے کے بعد ‘ میں انہیں کبھی بھی ترک نہیں کروں گا ‘ راوی بیان کرتے ہیں : تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے بیٹھ گئے اور بولے : اے زید بن خالد ! مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ لوگ اس چیز کو نماز کے لئے سیڑھی بنا لیں گے ‘ یہاں تک کہ رات ہو جایا کرے گی ( یعنی وہ مغرب ہونے تک مسلسل نماز ادا کرتے رہیں گے ) میں ان دو رکعات کی وجہ سے پٹائی نہیں کرتا ہوں ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں حسن ہے ۔

3339

Majma al-Zawaid #3339

«وَعَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَزَادَ: قَالَ أَبُو دِرَاسٍ: «رَأَيْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ أَبِي مُوسَى يُصَلِّيهِمَا وَيَقُولُ: رَأَيْتُ أَبَا مُوسَى يُصَلِّيهِمَا وَيَقُولُ: إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُصَلِّيهِمَا فِي بَيْتِ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» - وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي دِرَاسٍ قَالَ فِيهِ ابْنُ مَعِينٍ: لَا بَأْسَ بِهِ.

EnglishUnverified translation

Abū Mūsā رضي الله عنه reported that he saw the Messenger of Allāh ﷺ pray two rakʿahs after ʿAṣr. Abū Dirās added that he saw Abū Bakr ibn Abī Mūsā pray them, stating he saw Abū Mūsā pray them and declare that the Prophet ﷺ would pray them in the house of ʿĀʾishah رضي الله عنها.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو عصر کے بعد دو رکعات ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ابودارس بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ابوبکر کو یہ دونوں رکعت ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے ‘ اُن کا یہ کہنا ہے : میں نے حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کو ان دونوں کو ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے ‘ اُن کا یہ کہنا ہے : کہ نبی اکرم ﷺ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں یہ دو رکعات ادا کیا کرتے تھے ۔ اس روایت کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ‘ صرف ابودارس کا معاملہ مختلف ہے ‘ اس کے بارے میں یحیی بن معین نے یہ کہا ہے : کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

3340

Majma al-Zawaid #3340

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ: «صَلَّى بِنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ صَلَاةَ الْعَصْرِ فَأَرْسَلَ إِلَى مَيْمُونَةَ ثُمَّ أَتْبَعُهُ رَجُلًا آخَرَ فَقَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُجَهِّزُ بَعْثًا وَلَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ ظَهْرٌ مِنَ الصَّدَقَةِ فَجَلَسَ يَقْسِمُ بَيْنَهُمْ فَحَبَسُوهُ حَتَّى أَرْهَقُوا الْعَصْرَ، وَكَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ وَمَا شَاءَ اللَّهُ، فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ رَجَعَ فَصَلَّى مَا كَانَ يُصَلِّي قَبْلَهَا، وَكَانَ إِذَا صَلَّى الصَّلَاةَ أَوْ فَعَلَ شَيْئًا أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ حَنْظَلَةُ السَّدُوسِيُّ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَعِينٍ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn al-Ḥārith ibn Nawfal reported that Muʿāwiyah ibn Abī Sufyān رضي الله عنه led them in ʿAṣr prayer, then sent a messenger to Maymūnah رضي الله عنها followed by another man. She informed them that the Messenger of Allāh ﷺ was equipping an expedition and lacked charity camels, so he sat distributing among them and was detained until ʿAṣr became pressing. He would pray two rakʿahs and whatever Allāh willed before ʿAṣr, then prayed ʿAṣr, returned, and prayed what he used to pray before it, for when he prayed a prayer or did a deed he loved to persist upon it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن حارث بن نوفل بیان کرتے ہیں : حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی ‘ پھر انہوں نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی طرف پیغام بھیجا ، پھر ایک اور شخص اس کے پیچھے بھیجا ‘ سیدہ میمونہ نے بتایا : نبی اکرم ﷺ ایک مہم کو روانہ کرنے والے تھے ‘ آپ کے پاس صدقے کے اونٹ اتنے نہیں تھے ( کہ اُن کو روانہ کیا جا سکتا ) تو آپ ﷺ تشریف فرما ہوئے اور ان لوگوں کے درمیان تقسیم کرنے لگے ‘ اس وجہ سے آپ ( ظہر کے بعد کے نوافل یا سنتیں ) ادا نہیں کر پائے ‘ یہاں تک کہ عصر کا وقت ہو گیا ، نبی اکرم ﷺ عصر سے پہلے دو رکعات ادا کرتے تھے ‘ اور جو اللہ کو منظور ہوتا تھا ‘ وہ ادا کرتے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے عصر کی نماز ادا کی ‘ پھر آپ واپس تشریف لائے اور وہ سنتیں ادا کیں ، جو آپ اُس سے پہلے ادا کیا کرتے تھے ‘ نبی اکرم ﷺ جب بھی کوئی نماز ادا کرتے تھے ‘ اور جب بھی کوئی کام کرتے تھے ‘ تو آپ ﷺ کو یہ بات پسند تھی کہ آپ ﷺ اسے باقاعدگی سے کریں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حنظلہ سدوسی ہے ‘ اسے امام احمد اور یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ ابن حبان نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔

3341

Majma al-Zawaid #3341

وَعَنْ مَيْمُونَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاتَتْهُ رَكْعَتَا الْعَصْرِ فَصَلَّاهُمَا بَعْدُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ حَنْظَلَةُ أَيْضًا.

EnglishUnverified translation

Maymūnah رضي الله عنها reported that the two rakʿahs of ʿAṣr escaped the Prophet ﷺ, so he prayed them afterwards.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ کی عصر کی دو رکعات رہ گئی تھیں ، تو وہ دونوں رکعت آپ ﷺ نے ( عصر کی نماز کے ) بعد ادا کی تھیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں بھی ایک راوی حنظلہ ہے ۔

3342

Majma al-Zawaid #3342

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «فَاتَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَكْعَتَانِ قَبْلَ الْعَصْرِ فَلَمَّا انْصَرَفَ صَلَّاهُمَا، ثُمَّ لَمْ يُصَلِّهِمَا بَعْدُ». قُلْتُ: لِعَائِشَةَ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا فِي الصَّحِيحِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو يَحْيَى الْقَتَّاتُ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ وَوَثَّقَهُ فِي أُخْرَى.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported that two rakʿahs before ʿAṣr escaped the Messenger of Allāh ﷺ, and when he finished he prayed them, then never prayed them again afterwards.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ کی عصر سے پہلے کی دو رکعات رہ گئی تھیں ، جب آپ نے عصر کی نماز مکمل کی ، تو اُن دونوں رکعت کو ادا کر لیا ، اس کے بعد آپ ﷺ نے کبھی یہ دونوں رکعت ادا نہیں کی ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے ’’ صحیح ‘‘ میں ‘ اس کے علاوہ حدیث منقول ہے ‘ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابویحیی القتات ہے ‘ جسے امام احمد نے اور ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ جب کہ دوسری روایت کے مطابق انہوں نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔

3343

Majma al-Zawaid #3343

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: «صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةَ الْعَصْرِ ثُمَّ دَخَلَ بَيْتِي فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّيْتَ صَلَاةً لَمْ تَكُنْ تُصَلِّيهَا؟ قَالَ: "" قَدِمَ مَالٌ فَشَغَلَنِي عَنْ رَكْعَتَيْنِ كُنْتُ أَرْكِعُهُمَا بَعْدَ الظُّهْرِ فَصَلَّيْتُهُمَا الْآنَ "" فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَتَقْضِيهِمَا إِذَا فَاتَتَا؟ قَالَ: "" لَا» "". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهَا: أَفَتَقْضِيهِمَا إِذَا فَاتَتَا؟ قَالَ: "" لَا "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ فِي صَحِيحِهِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah رضي الله عنها reported that the Messenger of Allāh ﷺ prayed ʿAṣr, then entered her house and prayed two rakʿahs. When she asked about this prayer he had not previously prayed, he explained that wealth had come and distracted him from two rakʿahs he would bow after Ẓuhr, so he prayed them now. When she asked whether they should be made up when missed, he replied in the negative. > **"Wealth came to me and distracted me from two rakʿahs I would bow after Ẓuhr, so I have prayed them now. No."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے عصر کی نماز ادا کی ‘ پھر آپ گھر تشریف لے آئے ‘ آپ نے دو رکعات ادا کیں ‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ایک ایسی نماز ادا کی ہے ‘ جو آپ پہلے ادا نہیں کرتے تھے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میرے پاس کچھ مال آ گیا تھا ، تو میں ظہر کے بعد والی دو رکعات ادا نہیں کر سکا ‘ وہ میں نے اب ادا کر لی ہیں ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جب یہ دونوں رہ گئی تھیں ، تو کیا آپ نے ان کی قضاء ادا کی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں بھی منقول ہے ‘ تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ’’ جب یہ دونوں رہ گئی تھیں ، تو کیا آپ نے ان کی قضاء ادا کی ہے ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ! ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام ابن حبان نے اپنی ’’ صحیح ‘‘ میں نقل کی ہے امام احمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

3344

Majma al-Zawaid #3344

عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ «أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْ آلَ الزُّبَيْرِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى عِنْدَهَا رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَكَانُوا يُصَلُّونَهُمَا، قَالَ قَبِيصَةُ: فَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: يَغْفِرُ اللَّهُ لِعَائِشَةَ نَحْنُ أَعْلَمُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ عَائِشَةَ إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ ; لِأَنَّ نَاسًا مِنَ الْأَعْرَابِ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِهَجِيرٍ فَقَعَدُوا يَسْأَلُونَهُ وَيُفْتِيهِمْ حَتَّى صَلَّى الظُّهْرَ وَلَمْ يُصَلِّ - يَعْنِي بَعْدَهَا - ثُمَّ قَعَدَ يُفْتِيهِمْ حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ فَانْصَرَفَ إِلَى بَيْتِهِ فَذَكَرَ أَنَّهُ لَمْ يُصَلِّ بَعْدَ الظُّهْرِ شَيْئًا فَصَلَّاهُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ، نَحْنُ أَعْلَمُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ عَائِشَةَ، نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَفِيهِ كَلَامٌ، وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ طَرَفًا مِنْ آخِرِهِ فِي الْكَبِيرِ.

EnglishUnverified translation

Qabīṣah ibn Dhuʾayb reported that ʿĀʾishah رضي الله عنها informed the family of al-Zubayr that the Messenger of Allāh ﷺ prayed two rakʿahs after ʿAṣr with her, so they would pray them. Qabīṣah said Zayd ibn Thābit رضي الله عنه remarked that Allāh forgive ʿĀʾishah, for they knew the Messenger of Allāh ﷺ better than her. Bedouins had come to the Messenger of Allāh ﷺ at midday, sitting and questioning him while he gave them rulings until he prayed Ẓuhr without praying after it, then sat giving rulings until he prayed ʿAṣr. He then returned to his house, remembered he had prayed nothing after Ẓuhr, and prayed them after ʿAṣr. Zayd insisted they knew the Messenger of Allāh ﷺ better than ʿĀʾishah, for the Messenger of Allāh ﷺ forbade prayer after ʿAṣr. > **"The Messenger of Allāh ﷺ forbade prayer after ʿAṣr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قبیصہ بن ذؤیب بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے گھرانے کے افراد کو یہ بات بتائی تھی کہ نبی اکرم ﷺ نے عصر کے بعد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں دو رکعات ادا کی تھیں ، تو وہ لوگ اُن دو رکعات کو ادا کرتے تھے ۔ قبیصہ نامی راوی بیان کرتے ہیں : تو حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ تعالی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مغفرت کرے ! ہم نبی اکرم ﷺ کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ بہتر جانتے تھے ، اصل میں ہوا یہ تھا کہ کچھ دیہاتی لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں دوپہر کے وقت حاضر ہوئے ‘ وہ بیٹھ کر آپ ﷺ سے سوالات کرتے رہے ‘ اور آپ انہیں شرعی احکام بیان کرتے رہے ‘ یہاں تک کہ آپ نے ظہر کی نماز ادا کر لی اور اس کے بعد کی سنتیں ادا نہیں کیں ، پھر آپ ﷺ بیٹھ کر ان لوگوں کو مسائل بیان کرتے رہے ‘ یہاں تک کہ عصر کی نماز کا وقت ہو گیا ، پھر آپ اپنے گھر تشریف لے گئے ، آپ کو یہ بات یاد آئی کہ آپ ﷺ نے ظہر کے بعد سنتیں ادا نہیں کی تھیں ، تو آپ نے وہ دو رکعات عصر کے بعد ادا کر لیں تھیں ، ہم نبی اکرم ﷺ کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ بہتر جانتے ہیں ‘ نبی اکرم ﷺ نے عصر کے بعد نماز ادا کرنے سے منع کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ‘ امام طبرانی نے اس روایت کا آخری حصہ معجم کبیر میں نقل کیا ہے ۔

3345

Majma al-Zawaid #3345

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى أَنْ يُصَلَّى إِذَا طَلَعَ قَرْنُ الشَّمْسِ أَوْ غَابَ قَرْنُهَا إِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ أَوْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ» رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Thābit رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ forbade praying when the edge of the sun rises or when its edge sets, for it rises between the two horns of Satan. > **"Do not pray when the edge of the sun rises or when its edge sets, for it rises between the two horns of Satan."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اُس وقت نماز ادا کرنے سے منع کیا ہے ‘ جب سورج کا کنارہ طلوع ہوتا ہے ‘ یا جب اس کا کنارہ غروب ہوتا ہے ‘ کیونکہ وہ ( یعنی سورج ) شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) “۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

3346

Majma al-Zawaid #3346

«وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطَّلِ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي سَائِلُكَ عَمًّا أَنْتَ بِهِ عَالِمٌ وَأَنَا بِهِ جَاهِلٌ، مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سَاعَةٌ تَكْرَهُ فِيهَا الصَّلَاةَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِذَا صَلَّيْتَ الصُّبْحَ فَأَمْسِكْ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ فَإِذَا طَلَعَتْ فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَحْضُورَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ حَتَّى تَعْتَدِلَ عَلَى رَأْسِكَ مِثْلَ الرُّمْحِ فَإِذَا اعْتَدَلْتَ عَلَى رَأْسِكَ فَإِنَّ تِلْكَ السَّاعَةَ تُسْجَرُ فِيهَا جَهَنَّمُ وَتُفْتَحُ فِيهَا أَبْوَابُهَا حَتَّى تَزُولَ عَنْ حَاجِبِكَ الْأَيْمَنِ فَإِذَا زَالَتْ عَنْ حَاجِبِكَ الْأَيْمَنِ فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَحْضُورَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ» "". رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ فِي زِيَادَاتِهِ فِي الْمُسْنَدِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنِّي لَا أَدْرِي سَمِعَ سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ مِنْهُ أَمْ لَا وَاللَّهُ أَعْلَمُ وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ الْمُعَطَّلِ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ.

EnglishUnverified translation

Ṣafwān ibn al-Muʿaṭṭal رضي الله عنه reported that he asked the Prophet ﷺ about the hour of night and day in which prayer is disliked, being ignorant of what he knew. The Messenger of Allāh ﷺ instructed him to refrain after Fajr until the sun rises, then pray, for prayer is attended and accepted until it stands over his head like a spear. When it stands directly overhead, that is an hour in which Hell is stoked and its gates opened, until it passes his right eyebrow. Once it has declined from his right eyebrow, he may pray, for prayer is attended and accepted until ʿAṣr is prayed. > **"When you have prayed Fajr, refrain from prayer until the sun rises; when it has risen, pray, for prayer is attended and accepted until it stands over your head like a spear. When it stands over your head, that hour Hell is stoked and its gates are opened, until it passes your right eyebrow. When it has passed your right eyebrow, pray, for prayer is attended and accepted until you pray ʿAṣr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا ‘ اور عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ سے اس چیز کے بارے میں سوال کرنا چاہتا ہوں ، جس سے آپ واقف ہیں اور میں اُس سے ناواقف ہوں ‘ رات کی اور دن کی کون سی گھڑیاں ایسی ہیں ، جن میں نماز ادا کرنے کو آپ مکروہ قرار دیتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جب تم صبح کی نماز ادا کر لو ‘ تو تم نماز ادا کرنے سے رک جاؤ ‘ یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے ‘ جب وہ طلوع ہو جائے تو پھر تم نماز ادا کرو ‘ کیونکہ نماز میں حاضری ہوتی ہے ‘ اور وہ قبول ہوتی ہے ‘ ایسا اس وقت تک کر سکتے ہو ‘ جب تک ( سورج ) تمہارے سر پر نیزے کی مانند برابر نہیں ہو جاتا ( یعنی عین دوپہر کا وقت نہیں ہو جاتا ) جب وہ بالکل تمہارے سر پر آ جائے ‘ تو یہ وہ گھڑی ہے ‘ جس میں جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے ‘ اور اس میں جہنم کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ، ایسا اُس وقت تک ہو گا ‘ جب تک وہ ( سورج ) ڈھل نہیں جاتا ‘ جب وہ ڈھل جائے تو تم نماز ادا کر سکتے ہو ‘ کیونکہ نماز میں حاضری ہوتی ہے ‘ اور وہ قبول ہوتی ہے ‘ اور تم نماز اس وقت تک ادا کر سکتے ہو ‘ جب تک تم عصر کی نماز ادا نہیں کر لیتے “۔ یہ روایت عبداللہ نے مسند احمد کی ’’ زیادات ‘‘ میں نقل کی ہے ‘ اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، البتہ مجھے نہیں معلوم کہ سعید مقبری نے ان سے سماع کیا ہے ‘ یا نہیں کیا ہے ؟ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ امام ابن ماجہ نے یہ روایت سعید مقبری کے حوالے سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے : ( وہ بیان کرتے ہیں : ) حضرت صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول الله ! ۔

3347

Majma al-Zawaid #3347

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «صَلَاتَانِ لَا يُصَلَّى بَعْدَهُمَا؛ الصُّبْحُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَالْعَصْرُ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Saʿd ibn Abī Waqqāṣ رضي الله عنه reported that he heard the Messenger of Allāh ﷺ say that there are two prayers after which no prayer is performed: Fajr until the sun rises, and ʿAṣr until the sun sets. > **"Two prayers after which there is no prayer: Fajr until the sun rises, and ʿAṣr until the sun sets."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ دو نمازیں ہیں ، جن کے بعد کوئی نماز ادا نہیں کی جائے گی ، صبح کی نماز ‘ جب تک سورج نکل نہیں آتا ‘ اور عصر کی نماز ‘ جب تک سورج غروب نہیں ہو جاتا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

3348

Majma al-Zawaid #3348

وَعَنْ مُرَّةَ بْنِ كَعْبٍ - أَوْ كَعْبِ بْنِ مُرَّةَ السُّلَمِيِّ - قَالَ شُعْبَةُ: وَقَدْ حَدَّثَنِي بِهِ مَنْصُورٌ عَنْ سَالِمٍ عَنْ مُرَّةَ أَوْ كَعْبٍ قَالَ: «سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَيُّ اللَّيْلِ أَسْمَعُ؟ قَالَ: "" جَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرُ "" ثُمَّ قَالَ: "" الصَّلَاةُ مَقْبُولَةٌ حَتَّى يَطْلُعَ الصُّبْحُ ثُمَّ لَا صَلَاةَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَتَكُونَ قَدْرَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ ثُمَّ الصَّلَاةُ مَقْبُولَةٌ حَتَّى يَقُومَ الظِّلُّ مَقَامَ الرُّمْحِ، ثُمَّ لَا صَلَاةَ حَتَّى تَزُولَ الشَّمْسُ ثُمَّ الصَّلَاةُ مَقْبُولَةٌ حَتَّى يُصَلَّى الْعَصْرُ، ثُمَّ لَا صَلَاةَ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ» "" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقَيْنِ إِحْدَاهُمَا هَذِهِ وَالْأُخْرَى عَنْ سَالِمٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ كَعْبِ بْنِ مُرَّةَ الْبَهْزِيِّ مِنْ غَيْرِ شَكٍّ، وَقَالَ: "" حَتَّى يُصَلِّيَ الصُّبْحَ "" بَدَلَ: "" حَتَّى يَطْلُعَ الصُّبْحُ ""، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ الْإِسْنَادَ الثَّانِيَ فِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

Murrah ibn Kaʿb or Kaʿb ibn Murrah al-Sulamī رضي الله عنه reported that he asked the Messenger of Allāh ﷺ which part of the night is most heard, and he replied the last depth of the night. He then explained that prayer is accepted until dawn breaks, then there is no prayer until the sun rises to a spear or two, then prayer is accepted until the shadow stands like a spear, then there is no prayer until the sun declines, then prayer is accepted until ʿAṣr is prayed, then there is no prayer until the sun sets. > **"The last depth of the night. Prayer is accepted until dawn breaks, then there is no prayer until the sun rises to a spear or two. Then prayer is accepted until the shadow stands like a spear. Then there is no prayer until the sun declines. Then prayer is accepted until ʿAṣr is prayed. Then there is no prayer until the sun sets."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مرہ بن کعب رضی اللہ عنہ یا شاید حضرت کعب بن مرہ سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہاں شعبہ نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے : کہ منصور نے ‘ سالم کے حوالے سے ‘ مرہ کے حوالے سے ‘ یا شاید کعب کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا : رات کے کون سے حصے میں ( دعا ) زیادہ سنی جاتی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : آخری نصف حصہ ‘ پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ نماز مقبول ہوتی ہے ‘ یہاں تک کہ صبح صادق ہو جائے ‘ پھر ( فجر کے فرضوں اور سنتوں کے علاوہ ) کوئی نماز ادا نہیں کی جائے گی ‘ جب تک سورج طلوع نہیں ہو جاتا ‘ اور جب تک وہ ایک یا دو نیزے جتنا بلند نہیں ہو جاتا ، پھر نماز مقبول ہو گی ‘ یہاں تک کہ سایہ نیزے کی جگہ پر کھڑا ہو جائے ، پھر اُس وقت تک کوئی نماز ادا نہیں کی جائے گی ‘ جب تک سورج ڈھل نہیں جاتا ، پھر نماز مقبول ہو گی یہاں تک کہ عصر کی نماز ادا کر لی جائے ‘ پھر کوئی نماز ادا نہیں کی جائے گی ‘ جب تک سورج غروب نہیں ہو جاتا ‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے دو حوالوں سے نقل کی ہے ‘ جن میں سے ایک یہ ہے ‘ اور دوسری سند سالم کے حوالے سے ‘ ایک شخص کے حوالے سے کعب بن مرہ بہزی سے منقول ہے ‘ جو کسی شک کے بغیر ہے ‘ وہ بیان کرتے ہیں : ” یہاں تک کہ صبح کی نماز ادا کر لی جائے ‘‘۔ یہ ان الفاظ کی جگہ ہے :” یہاں تک کہ صبح ( صادق ) طلوع ہو جائے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسی طرح نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ‘ البتہ دوسری سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

3349

Majma al-Zawaid #3349

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا تُصَلُّوا عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ، وَيَسْجُدُ لَهَا كُلُّ كَافِرٍ، وَلَا عِنْدَ غُرُوبِهَا فَإِنَّهَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَيَسْجُدُ لَهَا كُلُّ كَافِرٍ، وَلَا نِصْفِ النَّهَارِ فَإِنَّهَا عِنْدَ سَجْرِ جَهَنَّمَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ وَقَدْ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ أَيْضًا عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَوْ أَخِي أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِنَحْوِهِ وَرَوَاهُ أَيْضًا عَنْ أَبِي سَابِطٍ «أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَيٌّ حِينٍ تُكْرَهُ الصَّلَاةُ؟ قَالَ: "" مِنْ حِينِ يَطْلُعُ الصُّبْحُ حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ قَدْرَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ وَمِنْ حِينِ تَصْفَرُّ الشَّمْسُ إِلَى غُرُوبِهَا» "" وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ غَيْرَ أَنَّهُ مُرْسَلٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ said not to pray at the rising of the sun, for it rises between the two horns of Satan and every disbeliever prostrates to it, nor at its setting, for it sets between the two horns of Satan and every disbeliever prostrates to it, nor at midday, for that is when Hell is stoked. In another wording, when asked at which time prayer is disliked, he defined it from the appearance of dawn until the sun rises a spear or two, and from when the sun yellows until its setting. > **"Do not pray at the rising of the sun, for it rises between the two horns of Satan and every disbeliever prostrates to it. Do not pray at its setting, for it sets between the two horns of Satan and every disbeliever prostrates to it. Do not pray at midday, for it is when Hell is stoked. From when dawn appears until the sun rises a spear or two, and from when the sun yellows until its setting."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ سورج طلوع ہونے کے وقت نماز ادا نہ کرو ‘ کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے ‘ اور ہر کافر اس کے لئے سجدہ کرتا ہے ‘ اور اُس کے غروب ہونے کے وقت بھی نماز ادا نہ کرو ‘ کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے ‘ اور ہر کافر اس کے لئے سجدہ کرتا ہے ‘ اور نصف النہار کے وقت بھی نماز ادا نہ کرو ‘ کیونکہ یہ جہنم کے بھڑکائے جانے کا وقت ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ‘ جس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ‘ یا حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے بھائی کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ سے اس کی مانند نقل کی ہے ‘ انہوں نے اس روایت کو ابوسابط کے حوالے سے نقل کیا ہے ۔ ’’ پھر حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا : کون سے وقت میں نماز ادا کرنا مکروہ ہے ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : صبح صادق ہو جانے کے بعد سے لے کر سورج کے ایک یا دو نیزوں جتنا بلند ہونے تک ‘ اور اُس وقت جب سورج زرد ہو چکا ہو ‘ اُس کے وقت سے لے کر ‘ اُس کے غروب ہونے تک ‘‘۔ اس روایت کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ، تاہم یہ روایت ’’ مرسل ‘‘ ہے ۔

3350

Majma al-Zawaid #3350

وَعَنْ سَمُرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" لَا تُصَلُّوا حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ وَلَا حِينَ تَسْقُطُ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ وَتَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طُرُقٍ بَعْضُهَا بِنَحْوِهِ، وَقَالَ فِي بَعْضِهَا: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا أَنْ نُصَلِّيَ أَيَّ سَاعَةٍ شِئْنَا مِنَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ غَيْرَ أَنَّهُ أَمَرَنَا أَنْ نَجْتَنِبَ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَغُرُوبَهَا، وَقَالَ: "" إِنَّ الشَّيْطَانَ يَغِيبُ مَعَهَا حِينَ تَغِيبُ وَيَطْلُعُ مَعَهَا حِينَ تَطْلُعُ» "" وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Samurah رضي الله عنه reports from the Prophet ﷺ concerning the two forbidden times of prayer, explaining the reason connected with the Shaytan. > **"Do not pray when the sun is rising nor when it is setting, for it rises between the two horns of the Shaytan and sets between the two horns of the Shaytan."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تم لوگ اس وقت نماز ادا نہ کرو ‘ جب سورج طلوع ہوتا ہے ‘ اور نہ ہی اس وقت ادا کرو ‘ جب وہ غروب ہوتا ہے ‘ کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے ‘ اور شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد ‘ امام بزار ‘ امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ یہ مختلف طرق کے ساتھ منقول ہے ‘ جن میں سے بعض اس کی مانند ہیں ‘ اور بعض میں یہ الفاظ ہیں : ’’ نبی اکرم ﷺ ہمیں اس بات کا حکم دیتے تھے کہ ہم رات اور دن کی کسی بھی گھڑی میں نماز ادا کر سکتے ہیں ‘ البتہ آپ ہمیں یہ حکم دیتے تھے کہ ہم سورج کے طلوع ہونے کے وقت اور اس کے غروب ہونے کے وقت نماز ادا کرنے سے اجتناب کریں ، آپ یہ فرماتے تھے : جب یہ غروب ہوتا ہے ، تو شیطان بھی اُس کے ہمراہ غروب ہو جاتا ہے ‘ اور جب یہ طلوع ہوتا ہے ، تو شیطان بھی اُس کے ہمراہ طلوع ہوتا ہے ‘‘۔ امام احمد کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

3351

Majma al-Zawaid #3351

وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ: «كُنْتُ أُسَافِرُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَا رَأَيْتُهُ صَلَّى بَعْدَ الْعَصْرِ وَلَا بَعْدَ الصُّبْحِ قَطُّ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Salamah ibn al-Akwa' رضي الله عنه reports that he travelled in the company of the Prophet ﷺ and never once observed him offering any voluntary prayer after the Asr prayer or after the morning prayer.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سفر کرتا رہا ہوں ، میں نے آپ ﷺ کو کبھی بھی عصر کے بعد ‘ یا صبح کی نماز کے بعد کوئی نماز ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا ۔ یہ روایت امام احمد نے ‘ اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ امام احمد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

3352

Majma al-Zawaid #3352

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ نَافِعٍ قَالَ: «رَآنِي أَبُو بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيُّ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا أُصَلِّي صَلَاةَ الضُّحَى حِينَ طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَعَابَ عَلَيَّ وَنَهَانِي وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:» "" لَا تُصَلِّ حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ فِي قَرْنَيِ الشَّيْطَانٍ "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّ أَبَا يَعْلَى قَالَ: رَآنِي أَبُو هُبَيْرَةَ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Sa'id ibn Nafi' reports that Abu Bashir al-Ansari رضي الله عنه, a Companion of the Messenger of Allah ﷺ, saw him praying Salat al-Duha at the moment the sun rose, so he reproached him and forbade him, citing the Prophet's ﷺ command to delay prayer until the sun has risen high because of its rising between the horns of the Shaytan. > **"Do not pray until the sun has risen high, for it rises between the two horns of the Shaytan."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن نافع بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے صحابی حضرت ابوبشیر انصاری رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھا کہ میں سورج طلوع ہونے کے وقت چاشت کی نماز ادا کر رہا تھا ، تو انہوں نے اس کے حوالے سے مجھ پر اعتراض کیا اور مجھے اس سے منع کیا اور یہ بات بیان کی : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ تم اس وقت تک نماز ادا نہ کرو ‘ جب تک سورج بلند نہیں ہو جاتا ، کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے ‘ امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ تاہم امام ابویعلیٰ نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ ابوہبیرہ نے مجھے دیکھا ‘‘ امام احمد کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

3353

Majma al-Zawaid #3353

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ نَافِعٍ قَالَ: «رَآنِي أَبُو الْيُسْرِ وَأَنَا أُصَلِّي صَلَاةَ الضُّحَى فَنَهَانِي ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: "" لَا تُصَلُّوا حِينَ تَرْتَفِعُ الشَّمْسُ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ فِي قَرْنَيْ شَيْطَانٍ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Sa'id ibn Nafi' reports that Abu al-Yusr رضي الله عنه saw him praying Salat al-Duha and forbade him, citing the Messenger of Allah's ﷺ prohibition of praying while the sun is still low at its rising. > **"Do not pray when the sun is rising high, for it rises between the two horns of the Shaytan."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن نافع بیان کرتے ہیں : حضرت ابوالیسر رضی اللہ عنہ نے مجھے دیکھا کہ میں چاشت کی نماز ادا کر رہا تھا ، انہوں نے مجھے منع کیا اور ارشاد فرمایا : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ تم لوگ اُس وقت تک نماز ادا نہ کرو ‘ جب تک سورج بلند نہیں ہو جاتا ، کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

3354

Majma al-Zawaid #3354

وَعَنْ بِلَالٍ قَالَ: «لَمْ يَكُنْ يُنْهَى عَنِ الصَّلَاةِ إِلَّا عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِمَعْنَاهُ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Bilal رضي الله عنه reports that prayer was not forbidden except at the rising of the sun, giving as the reason its emergence between the horns of the Shaytan.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بلال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ صرف سورج طلوع ہونے کے وقت نماز ادا کرنے سے منع کرتے تھے ‘ کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کے مفہوم والی روایت نقل کی ہے ‘ اور امام احمد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

3355

Majma al-Zawaid #3355

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطَبَهُمْ وَهُوَ مَسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ فَقَالَ: "" لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ""». قُلْتُ: لَهُ فِي الصَّحِيحِ النَّهْيُ عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ addressed the people while leaning his back against the Ka'bah and forbade any prayer after Asr until the sun has set. > **"There is no prayer after Asr until the sun has set."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے خانہ کعبہ کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ دیتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا : ’’ عصر کے بعد کوئی نماز ادا نہیں کی جائے گی ‘ جب تک سورج غروب نہیں ہو جاتا “۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ’’ صحیح ‘‘ میں روایت منقول ہے ‘ جو سورج طلوع ہونے کے بعد نماز کی ممانعت کے بارے میں ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

3356

Majma al-Zawaid #3356

وَعَنْ حَيِّي بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ: «رَأَيْتُ يَعْلَى يُصَلِّي قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ قَالَ: فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ - أَوْ قِيلَ لَهُ -: أَنْتَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تُصَلِّي قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ! قَالَ يَعْلَى: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:» إِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ "" قَالَ يَعْلَى: فَلِأَنْ تَطْلُعَ وَأَنْتَ فِي أَمْرِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَطْلُعَ وَأَنْتَ لَاهٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ حَيِيُّ بْنُ يَعْلَى وَلَا يُعْرَفُ.

EnglishUnverified translation

Hayy ibn Ya'la ibn Umayyah reports that he saw Ya'la رضي الله عنه praying before sunrise, whereupon a man objected that a Companion of the Prophet ﷺ should pray before sunrise. Ya'la replied that he had heard the Messenger of Allah ﷺ describe the sun as rising between the horns of the Shaytan, and added that for it to rise while one is engaged in Allah's command is better than for it to rise while one is heedless. > **"The sun rises between the two horns of the Shaytan."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حیی بن یعلی بن امیہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت یعلی رضی اللہ عنہ کو سورج طلوع ہونے سے پہلے نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ‘ راوی بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے اُن سے کہا ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) اُن سے کہا گیا : آپ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے ایک فرد ہیں ‘ اور سورج طلوع ہونے سے پہلے نماز ادا کر رہے ہیں ؟ تو حضرت یعلی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ بے شک سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے ‘‘۔ حضرت یعلی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر وہ ایسی حالت میں طلوع ہو کہ تم اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل پیرا ہو ( یعنی نماز ادا کر رہے ہو ، تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ ایسی حالت میں طلوع ہو کہ تم غفلت کا شکار ہو ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حیی بن یعلی ہے ‘ اور وہ معروف نہیں ہے ۔

3357

Majma al-Zawaid #3357

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى الْعَصْرَ فَقَامَ رَجُلٌ يُصَلِّي فَرَآهُ عُمَرُ، فَقَالَ لَهُ اجْلِسْ، فَإِنَّمَا هَلَكَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِصَلَاتِهِمْ فَضْلٌ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Rabah reports from a man among the Companions of the Prophet ﷺ that after the Messenger of Allah ﷺ had prayed Asr, a man stood to pray, so Umar رضي الله عنه saw him and told him to sit, explaining that the People of the Book were destroyed because their prayer had no separation.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن رباح نے ‘ ایک صحابی کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : نبی اکرم ﷺ نے عصر کی نماز ادا کر لی ‘ پھر ایک شخص کھڑا ہو کر نماز ادا کرنے لگا ‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اُسے ملاحظہ کیا ، تو اُس سے فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! کیونکہ اہل کتاب اس لئے ہلاکت کا شکار ہوئے تھے ‘ کہ اُن کی نماز کے لئے کوئی فصل نہیں ہوتی تھی ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور ان دونوں کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

3358

Majma al-Zawaid #3358

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ حِينَ تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ، قَالَ: فَكُنَّا نُنْهَى عَنِ الصَّلَاةِ عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَعِنْدَ غُرُوبِهَا، وَنِصْفِ النَّهَارِ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Mas'ud رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ stated that the sun rises between the two horns of the Shaytan, and the narrator adds that they were therefore forbidden to pray at sunrise, at sunset, and at midday. > **"The sun rises, when it rises, between the two horns of the Shaytan."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ بے شک سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : ہمیں سورج طلوع ہونے کے وقت اور اس کے غروب ہونے کے وقت اور نصف النہار کے وقت نماز ادا کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور ان دونوں کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

3359

Majma al-Zawaid #3359

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُصَلُّوا عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَلَا عِنْدَ غُرُوبِهَا، فَإِنَّهَا تَغْرُبُ وَتَطْلُعُ عَلَى قَرْنِ الشَّيْطَانِ، صَلُّوا بَيْنَ ذَلِكَ مَا شِئْتُمْ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ forbade prayer at sunrise and at sunset, explaining that it rises and sets upon the horn of the Shaytan, and permitted prayer between those two times as one wishes. > **"Do not pray at the rising of the sun nor at its setting, for it sets and rises upon the horn of the Shaytan; pray between that as you wish."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے :’’ سورج طلوع ہونے کے وقت ‘ یا اس کے غروب ہونے کے وقت نماز ادا نہ کرو ‘ کیونکہ وہ شیطان کے سینگ پر طلوع ہوتا ہے ‘ اور غروب ہوتا ہے ‘ اُن کے درمیان تم جب بھی چاہو ‘ نماز ادا کر لو ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔