وَعَنْ رَقِيقَةَ بِنْتِ أَبِي صَيْفِيِّ بْنِ هَاشِمٍ - وَكَانَتْ وَالِدَةَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ - قَالَتْ: تَتَابَعَتْ عَلَى قُرَيْشٍ سِنُونَ أَقْحَلَتِ الضَّرْعَ وَأَدَقَّتِ الْعَظْمَ، فَبَيْنَا أَنَا رَاقِدَةُ الْهَمِّ - أَوْ مَهْمُومَةٌ - إِذَا هَاتِفٌ يَصْرُخُ صَوْتُ صَحَلٍ يَقُولُ: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ إِنَّ هَذَا النَّبِيَّ مَبْعُوثٌ قَدْ أَظَلَّتْكُمْ أَيَّامُهُ وَهَذَا إِبَّانُ نُجُومِهِ فَحَيَّهَلَا بِالْحَيَاءِ وَالْخِصْبِ أَلَا فَانْظُرُوا رَجُلًا مِنْكُمْ وَسِيطًا عَظِيمًا جُسَامًا أَبْيَضَ وَضَّاءً أَوْطَفَ أَهْدَبَ سَهْلَ الْخَدَّيْنِ أَشَمَّ الْعِرْنِينِ لَهُ فَخْرٌ يَكْظِمُ عَلَيْهِ، وَسُنَّةٌ يَهْدِي إِلَيْهِ فَلْيُخَلِّصْ هُوَ وَوَلَدُهُ وَلْيَهْبِطْ إِلَيْهِ مِنْ كُلِّ بَطْنٍ رَجُلٌ فَلْيَشُنُّوا مِنَ الْمَاءِ وَلْيَمَسُّوا مِنَ الطِّيبِ وَلْيَسْتَلِمُوا الرُّكْنَ ثُمَّ لْيَرْقُوا أَبَا قُبَيْسٍ ثُمَّ لْيَدْعُ الرَّجُلُ وَلْيُؤُمِّنِ الْقَوْمُ فَغُثْتُمْ مَا شِئْتُمْ فَأَصْبَحْتُ - عَلِمَ اللَّهُ - فَاقْشَعَرَّ جِلْدِي وَوَلِهَ عَقْلِي وَاقْتَصَصْتُ رُؤْيَايَ وَنِمْتُ فِي شِعَابِ مَكَّةَ فَوَالْحُرْمَةِ وَالْحَرَمِ مَا بَقِيَ بِهَا أَبْطَحُ إِلَّا قَالَ: هَذَا شَيْبَةُ الْحَمْدِ وَتَنَاهَتْ إِلَيْهِ رِجَالَاتُ قُرَيْشٍ وَهَبَطَ إِلَيْهِ مِنْ كُلِّ بَطْنٍ رَجُلٌ فَشَنُّوا وَمَشَوْا وَاسْتَلَمُوا ثُمَّ ارْتَقَوْ أَبَا قُبَيْسٍ وَاصْطَفُّوا حَوْلَهُ مَا يَبْلُغُ سَعْيُهُمْ مَهْلَهُ حَتَّى إِذَا اسْتَوَوْا بِذُرْوَةِ الْجَبَلِ قَامَ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ وَمَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامٌ قَدْ أَيْفَعَ أَوْ كَرُبَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَقَالَ: "" اللَّهُمَّ سَادَّ الْخَلَّةَ كَاشِفَ الْكُرْبَةِ أَنْتَ مُعَلِّمٌ غَيْرُ مُعَلَّمٍ وَمَسْئُولٌ غَيْرُ مُبَخَّلٍ وَهَذِهِ عَبِيدُكَ وَإِمَاؤُكَ وَبِعَذَرَاتِ حُرَمِكَ يَشْكُونَ إِلَيْكَ سَنَتُهُمْ، أَذْهَبَ الْخُفَّ وَالظَّلَفَ، اللَّهُمَّ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا غَيْثًا مُغْدِقًا مُرِيعًا، فَوَرَبِّ الْكَعْبَةِ مَا رَامُوا حَتَّى تَفَجَّرَتِ السَّمَاءُ بِمَائِهَا وَاكْتَظَّ الْوَادِي بِثَجِيجِهِ فَسَمِعْتُ شِيخَانَ قُرَيْشٍ وَجِلَّتَهَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جُدْعَانَ وَحَرْبَ بْنَ أُمَيَّةَ وَهِشَامَ بْنَ الْمُغِيرَةِ يَقُولُونَ لِعَبْدِ الْمُطَّلِبِ: هَنِيئًا لَكَ أَبَا الْبَطْحَاءِ وَفِي ذَلِكَ تَقُولُ رَقِيقَةُ بِنْتُ أَبِي صَيْفِيٍّ: لِشَيْبَةِ الْحَمْدِ أَسْقَى اللَّهُ بَلْدَتَنَا ... وَقَدْ فَقَدْنَا الْحَيَا وَاجْلَوَّذَ الْمَطَرُ فَجَادَ بِالْمَاءِ جُونِيٌّ لَهُ سُبُلُ ... سَحًّا فَعَاشَتْ بِهِ الْأَنْعَامُ وَالشَّجَرُ مَنًّا مِنَ اللَّهِ بِالْمَيْمُونِ طَائِرُهُ ... وَخَيْرُ مَنْ بُشِّرَتْ يَوْمًا بِهِ مُضَرُ مُبَارَكُ الْأَمْرِ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِهِ ... مَا فِي الْأَنَامِ لَهُ عَدْلٌ وَلَا خَطَرُ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ زَحْرُ بْنُ حِصْنٍ قَالَ الذَّهَبِيُّ: لَا يُعْرَفُ.
EnglishUnverified translation
Raqīqah bint Abī Ṣayfī ibn Hāshim, the mother of ʿAbd al-Muṭṭalib, reported that successive barren years befell Quraysh, drying udders and emaciating bones. While she lay distressed, a caller with a hoarse voice proclaimed that the Prophet was sent, his days overshadowing them and the time of his stars, urging them toward water and fertility by bringing forth a distinguished, noble, corpulent, fair, radiant man of Quraysh with thick eyelashes, smooth cheeks, and an aquiline nose, restraining anger and guided by tradition, together with his children and a man from every clan, after washing, perfuming, touching the Corner, ascending Abū Qubays, with the man supplicating and the people saying āmīn, so that they would be rained upon as they wished. In the morning she recounted her vision throughout the ravines of Makkah, and all declared it meant Shaybah al-Ḥamd, to whom the affairs of Quraysh were brought. Men from every clan came to him, washed, walked, touched the Corner, ascended Abū Qubays, and gathered around him until they stood at the peak. ʿAbd al-Muṭṭalib stood with him the young boy, the Messenger of Allāh ﷺ, near maturity, raised his hands and supplicated to Allāh, the Filler of need and Remover of distress, the Teacher who is not taught and the Asked who is not miserly, complaining of their barren year that had removed hoof and cloven hoof, asking for drenching, verdant rain. By the Lord of the Kaʿbah, they had scarcely moved before the sky burst with water and the valley filled with its torrent, and she heard the elders of Quraysh, including ʿAbd Allāh ibn Judʿān and others, praising ʿAbd al-Muṭṭalib for one granted water through his face. > **"O Allāh, Filler of need, Remover of distress, You teach and are not taught, You are asked and are not miserly. These are Your male and female servants at the sanctuaries of Your Sanctuary complaining to You of their barren year which has removed hoof and cloven hoof. O Allāh, so rain upon us a drenching, verdant rain."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدہ رقیقہ رضی اللہ عنہا بنت ابوصیفی بن ہاشم ‘ جو جناب عبدالمطلب کی والدہ ہیں ‘ وہ بیان کرتی ہیں : ’’ قریش پر یکے بعد دیگرے ( قحط سالی کے ) چند ایسے سال آئے ، جنہوں نے ( جانوروں کے ) تھن خشک کر دیے اور ہڈیاں کمزور کر دیں ‘ ایک مرتبہ میں پریشانی کے عالم میں سوئی ہوئی تھی ‘ ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) کہ اسی دوران کسی ہاتف نے گونج دار آواز میں یہ کہا : اے قریش کے گروہ ! یہ نبی مبعوث ہو گئے ہیں ، ان کے زمانے نے تم پر سایہ کر دیا ہے ‘ اور ان کے ستارے ظاہر ہونے لگے ہیں ، تو سیرابی اور شادابی کی طرف آ جاؤ ‘ تم لوگ اپنے میں سے کوئی ایسا شخص تلاش کرو ‘ جو صحت مند اور مضبوط جسم ‘ اور سفید چمکدار رنگت کا مالک ہو ‘ بلند حیثیت کا ہو ‘ لمبی پلکوں والا ہو ‘ نرم رخساروں ، ستواں ناک والا ہو ‘ اس میں ایسی چیز ہو کہ وہ غصہ پر قابو رکھتا ہو ‘ اور ایسی عمر رسیدگی ہو کہ اس کی طرف رجوع کیا جاتا ہو ‘ وہ اور اُس کی اولاد نکلیں ‘ اور ( قبیلے کی ) ہر شاخ میں سے ایک شخص نکلے ‘ وہ لوگ غسل کر لیں خوشبو لگا لیں ، رکن کا استلام کریں اور پھر جبل ابو قبیس پر چڑھ جائیں ، پھر وہ شخص دعا کرے ( اور باقی لوگ ) آمین کہیں ‘ تو تم جتنی چاہو گے ‘ بارش ہو جائے گی ۔ ( سیدہ رقیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ) جب صبح ہوئی ‘ تو میں حیران و پریشان تھی ، میں نے اپنا خواب بیان کیا ، میں مکہ میں مختلف جگہوں پر گئی ‘ تو ہر شخص نے یہی کہا : اس سے مراد ’’ شیبۃ الحمد ‘‘ ( یعنی جناب عبدالمطلب ) ہونگے ‘ قریش کے اُمور انہی کے پاس لائے جاتے تھے ‘ تو ( قبیلے کی ) ہر ایک شاخ کا ایک فرد ان کے پاس آیا ‘ انہوں نے غسل کیا اور پیدل چل کے جا کر ‘ حجر اسود کا استلام کیا ، پھر وہ لوگ جبل ابو قیس پر چڑھ گئے ‘ دیگر لوگ جناب عبدالمطلب کے ارد گرد اکٹھے ہو گئے ‘ جتنا بھی وہ بھلائی میں پیش رفت کر سکتے تھے ‘ یہاں تک کہ جب پہاڑ کی چوٹی پر وہ سب لوگ پہنچ گئے ‘ تو جناب عبدالمطلب کھڑے ہوئے ‘ اُن کے ساتھ نبی اکرم ﷺ بھی تھے ‘ جو اس وقت نوجوان تھے ‘ یا اس کے قریب کی عمر کے تھے ‘ انہوں نے دونوں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا کی : ” اے اللہ ! مشکل کو بند کرنے والے ‘ پریشانی کو ختم کرنے والے ! تو علم عطا کرنے والا ہے ‘ تجھ کو معلومات نہیں دی جاتی ہیں ، تجھ سے مانگا جاتا ہے ‘ تو بخل والا نہیں ہے ‘ یہ تیرے بندے اور تیری کنیزیں ہیں ‘ اور یہ تیرے حرم کی حدود میں موجود ہیں ‘ یہ تیری بارگاہ میں قحط سالی کی شکایت کر رہے ہیں ‘ ( جانوروں کے ) سینگ اور کھر رخصت ہو گئے ہیں ( یعنی جانور قحط سالی کی وجہ سے مر رہے ہیں ) ‘ اے اللہ ! تو ہم پر ایسی بارش نازل فرما ! جو زیادہ اور بھر پور ہو اور سرسبز و شاداب کر دے ‘‘ رب کعبہ کی قسم ! ابھی وہ لوگ واپس نہیں آئے تھے ‘ کہ آسمان سے بارش نازل ہونا شروع ہو گئی اور وادی میں پانی بہنے لگا ‘ میں نے قریش کے بزرگوں اور جلیل القدر افراد ‘ عبداللہ بن جدعان ، حرب بن امیہ ‘ اور ہشام بن مغیرہ کو جناب عبدالمطلب سے یہ کہتے ہوئے سنا : اے ابوبطحاء ! آپ کو مبارک ہو ! سیدہ رقیقہ رضی اللہ عنہا بنت ابوصیفی اس واقعہ کے بارے میں یہ ( اشعار ) کہتی ہیں : ’’ اے شبیہ الحمد ! اللہ تعالیٰ نے ہمارے شہر کو سیراب کر دیا ‘ پہلے ہم زندگی کو غیر موجود پاتے تھے ‘ لیکن پھر بھر پور بارش شروع ہو گئی ‘ پانی آ گیا اور اس نے نشیبی علاقے میں راستے بنا لیے ‘ جس نے جانوروں اور درختوں کو زندگی دیدی ‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے احسان ہے ‘ جس کی آمد بابرکت ہے ‘ اور آج کے دن مضر ( قبیلے کے افراد کو ) دی جانے والی سب سے بہتر خوشخبری ہے ‘ وہ بابرکت معاملے والے ہیں ‘ ان کے وسیلے سے بارش مانگی گئی ‘ مخلوق میں کوئی بھی ان کے برابر کا نہیں اور نہ ہی ( کسی کے بارے میں ایسا سوچا جا سکتا ہے ‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی زحر بن حصن ہے ‘ امام ذہبی کہتے ہیں : یہ معروف نہیں ہے ۔