Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 5 · Chapter 3

Book of the Two Eids

Hadith 3280–3319

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

3280

Majma al-Zawaid #3280

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ اللَّيْثِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَكُونُ النَّاسُ مُجْدِبِينَ فَيُنْزِلُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَيْهِمْ رِزْقًا مِنْ رِزْقِهِ فَيُصْبِحُونَ مُشْرِكِينَ "" فَقِيلَ لَهُ: وَكَيْفَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" يَقُولُونَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Muʿāwiyah al-Laythī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that the people would suffer drought, then Allāh Blessed and Exalted would send down upon them provision from His provision, yet they would become polytheists in the morning. When asked how that would be, he explained it by their claim of having been rained upon by such and such a star. > **"The people will suffer drought, then Allāh Blessed and Exalted will send down upon them provision from His provision, and they will become polytheists in the morning. They will say: We were rained upon by such and such a star."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ لیثی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ لوگ قحط سالی کا شکار ہوں گے ‘ تو اللہ تعالیٰ ان پر اپنے رزق میں سے رزق نازل کرے گا ‘ تو وہ لوگ مشرک ہو جائیں گے آپ کی خدمت میں عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! یہ کیسے ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ لوگ یہ کہیں گے : فلاں ‘ فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش نازل ہوئی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

3281

Majma al-Zawaid #3281

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: «قَحَطَ الْمَطَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلْنَا نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَسْتَسْقِيَ لَنَا، فَاسْتَسْقَى، فَغَدَا نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا هُوَ بِقَوْمٍ يَتَحَدَّثُونَ فَقَالُوا: سُقِينَا اللَّيْلَةَ بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَى قَوْمٍ نِعْمَةً إِلَّا أَصْبَحُوا بِهَا كَافِرِينَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ،، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه reported that rain failed during the time of the Messenger of Allāh ﷺ, so they asked the Prophet of Allāh ﷺ to pray for rain for them, and he did so. The next morning the Prophet of Allāh ﷺ came upon a group conversing and claiming they had been rained upon during the night by such and such a star, whereupon the Prophet of Allāh ﷺ remarked upon how no blessing is bestowed upon a people except that they become ungrateful for it by morning. > **"Allāh does not bestow any blessing upon a people except that they become disbelievers therein by morning."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں بارش کا قحط ہو گیا ‘ ہم نے نبی اکرم ﷺ سے درخواست کی کہ آپ ہمارے لئے بارش کے نزول کی دعا کریں ، نبی اکرم ﷺ نے دعا کی اگلے دن نبی اکرم ﷺ تشریف لائے ‘ تو کچھ لوگ آپس میں یہ بات چیت کر رہے تھے ‘ کہ گزشتہ رات فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب بھی اللہ تعالیٰ کسی قوم کو نمت عطا کرتا ہے ‘ تو وہ اس ( نعمت ) کے حوالے سے کافر ہو جاتے ہیں “۔ یہ روایت امام بزار نے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عیاش ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

3282

Majma al-Zawaid #3282

وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: «سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ السُّنَّةِ فِي صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ فَقَالَ: السُّنَّةُ فِي صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ مِثْلُ السُّنَّةِ فِي صَلَاةِ الْعِيدِ، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْتَسْقِي فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَقَرَأَ فِيهِمَا وَكَبَّرَ فِي الْأُولَى سَبْعَ تَكْبِيرَاتٍ وَفِي الثَّانِيَةِ خَمْسَ تَكْبِيرَاتٍ». قُلْتُ: هُوَ فِي السُّنَنِ مِنْ غَيْرِ بَيَانٍ لِلتَّكْبِيرِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ،، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ الزُّهْرِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ṭalḥah ibn ʿAbd Allāh ibn ʿAwf reported that he asked Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما about the Sunnah concerning the Istisqāʾ prayer, and he replied that its Sunnah is like the Sunnah of the ʿĪd prayer. The Messenger of Allāh ﷺ had gone out to pray for rain and prayed two rakʿahs in which he recited, pronouncing seven Takbīrs in the first and five Takbīrs in the second.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

طلحہ بن عبداللہ بن عوف بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نماز استسقاء کے سنت طریقے کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے فرمایا : نماز استقاء کا طریقہ وہی ہے ‘ جو نماز عید کا طریقہ ہے ۔ نبی اکرم ﷺ بارش کے نزول کے لیے دعا کرنے کے لیے ) تشریف لے گئے تھے ‘ آپ ﷺ نے دو رکعات ادا کی تھیں ، ان دونوں میں قرأت کی تھی ‘ پہلی رکعت میں سات تکبیریں کہی تھیں ، اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں کہی تھیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ سنن ‘‘ میں مذکور ہے ‘ تاہم اس میں تکبیروں کا ذکر نہیں ہے ۔ یہ روایت بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالعزیز بن عمر زہری ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

3283

Majma al-Zawaid #3283

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «أَمْحَلَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَاهُ الْمُسْلِمُونَ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَحَطَ الْمَطَرُ وَيَبِسَ الشَّجَرُ (وَهَلَكَتِ الْمَوَاشِي) وَأَسِنَتِ النَّاسُ فَاسْتَسْقِ لَنَا رَبَّكَ، فَقَالَ: "" إِذَا كَانَ يَوْمُ كَذَا وَكَذَا فَاخْرُجُوا وَاخْرُجُوا مَعَكُمْ بِصَدَقَاتٍ ""، فَلَمَّا كَانَ ذَلِكَ الْيَوْمُ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالنَّاسُ، يَمْشِي وَيَمْشُونَ وَعَلَيْهِمُ السَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ، حَتَّى أَتَى الْمُصَلَّى فَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ يَجْهَرُ فِيهِمَا بِالْقِرَاءَةِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ وَالِاسْتِسْقَاءِ فِي الرَّكْعَةِ الْأَوْلَى بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى، وَفِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ اسْتَقْبَلَ الْقَوْمَ بِوَجْهِهِ، وَقَلَبَ رِدَاءَهُ ثُمَّ جَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَكَبَّرَ تَكْبِيرَةً قَبْلَ أَنْ يَسْتَسْقِيَ ثُمَّ قَالَ: "" اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا رَحْبًا رَبِيعًا وَجَدًّا غَدَقًا طَبَقًا مُغْدِقًا هَنِيئًا مُرِيعًا مُرْبِعًا وَابِلًا شَامِلًا مُسْبِلًا نَجْلًا دَائِمًا دَرَرًا نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ عَاجِلًا غَيْرَ رَائِثٍ، اللَّهُمَّ تُحْيِي بِهِ الْبِلَادَ وَتُغِيثُ بِهِ الْعِبَادَ وَتَجْعَلُهُ بَلَاغًا لِلْحَاضِرِ مِنَّا وَالْبَادِ، اللَّهُمَّ أَنْزِلْ عَلَيْنَا فِي أَرْضِنَا زِينَتَهَا وَأَنْزِلْ (عَلَيْنَا) فِي أَرْضِنَا سَكَنَهَا اللَّهُمَّ أَنْزِلْ عَلَيْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُورًا فَأَحْيِي بِهِ بَلْدَةً مَيْتَةً وَاسْقِهِ مَا خَلَقْتَ أَنْعَامًا وَأَنَاسِيَّ كَثِيرًا ""، قَالَ: فَمَا بَرِحُوا حَتَّى أَقْبَلَ قَزَعٌ مِنَ السَّحَابِ فَالْتَأَمَ بَعْضُهُ إِلَى بَعْضٍ ثُمَّ مَطَرَتْ عَلَيْهِمْ سَبْعَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهُنَّ لَا تُقْلِعُ عَنِ الْمَدِينَةِ». قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ مَا فِي الصَّحِيحِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُجَاشِعُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ ابْنُ مَعِينٍ: قَدْ رَأَيْتُهُ أَحَدَ الْكَذَّابِينَ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that the people suffered barrenness during the time of the Messenger of Allāh ﷺ, so the Muslims came to him complaining of withheld rain, dried trees, perishing livestock, and afflicted people, asking him to pray to his Lord for rain. He appointed a day and instructed them to come out with their charities. On that day the Messenger of Allāh ﷺ and the people walked out with tranquillity and dignity until they reached the muṣallā, where the Prophet ﷺ advanced and led them in two rakʿahs with audible recitation. He would recite in the two ʿĪds and in Istisqāʾ al-Fātiḥah and Sabbiḥ isma rabbika al-Aʿlā in the first rakʿah, and al-Fātiḥah and Hal atāka ḥadīth al-Ghāshiyah in the second. When he finished the prayer he faced the people, turned his cloak inside out, knelt upon his knees, raised his hands, pronounced a Takbīr before supplicating, and then supplicated at length for abundant, beneficial, and immediate rain. The narrator said they had not yet dispersed when clouds gathered together and it rained upon them for seven days and nights continuously without ceasing over Madīnah. > **"O Allāh, grant us a rescuing, spacious, spring-like, fertile, copious, layered, drenching, wholesome, verdant, fruitful, pouring, encompassing, trailing, swift, lasting, abundant, beneficial, harmless rain, immediate and not delayed. O Allāh, give life thereby to the lands, rescue thereby the servants, make it provision for those present among us and those in the desert. O Allāh, send down upon our land its adornment and its tranquillity. O Allāh, send down upon us pure water from the sky, give life thereby to a dead town, and quench therewith what You created of cattle and many people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں بارش نہیں ہوئی ، مسلمان آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بارش کا قحط ہو گیا ہے ‘ درخت خشک ہو گئے ہیں ، مویشی ہلاکت کا شکار ہو رہے ہیں اور لوگ بیمار ہو رہے ہیں ، آپ اپنے پروردگار سے ہمارے لئے بارش کی دعا کیجئے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب فلاں دن آئے گا ‘ تو تم لوگ نکلنا اور تم لوگ اپنے ساتھ اپنے صدقات لے کے آنا ‘ جب وہ مخصوص دن آیا تو نبی اکرم ﷺ اور لوگ نکلے ‘ نبی اکرم ﷺ بھی پیدل چلتے ہوئے تشریف لے گئے اور لوگ بھی پیدل گئے ‘ ان سب لوگوں پر سکینت اور وقار تھا ‘ یہاں تک کہ وہ لوگ عید گاہ آئے نبی اکرم ﷺ آگے بڑھے ‘ آپ نے اُن لوگوں کو دو رکعات پڑھائیں ، جن میں آپ نے بلند آواز میں قرأت کی ‘ نبی اکرم ﷺ عیدین کی نماز میں اور استقاء کی نماز میں پہلی رکعت میں ‘ سورہ فاتحہ اور سورت الاعلیٰ پڑھتے تھے ‘ اور دوسری رکعت میں سورت فاتحہ اور سورت الغاشیہ پڑھتے تھے ‘ جب آپ نے نماز مکمل کی ‘ تو آپ نے لوگوں کی طرف رخ کیا ‘ اور اپنی چادر کو الٹا لیا ، پھر آپ گھٹنوں کے بل جھک گئے ‘ دونوں ہاتھ بلند کر لئے اور بارش کے نزول کی دعا کرنے سے پہلے آپ نے تکبیر کہی ، پھر آپ ﷺ نے یہ دعا کی : ’’ اے اللہ ! تو ہمیں ایسے بادل کے ذریعے سیراب فرما ! جو برسنے والا ہو ‘ وسیع ہو ‘ پیداوار کرنے والا ہو ‘ بھر پور ہو ‘ زیادہ بارش والا ہو ‘ تہوں والا ہو ‘ سیراب کرنے والا ہو ‘ عام ہو ‘ سر سبز و شاداب کر دے ‘ گھاس پھوس پیدا کرنے والا ہو ‘ موسلا دھار ہو ‘ شامل ہو ‘ لٹکانے والا ہو ‘ تیزی سے چلنے والا ہو ‘ مستقل ہو ‘ لبریز ہو ‘ نفع بخش ہو ‘ نقصان دہ نہ ہو ‘ جلدی ہو تاخیر سے نہ ہو ‘ اے اللہ ! تو اُس کے ذریعے شہروں کو زندگی دے دے ‘ اور بندوں کی مدد کر دے ‘ تو اسے ہم میں سے شہریوں اور باہر سے آنے والوں کے لئے سہولت کا باعث بنا دے ‘ اے اللہ ! ہم پر ہماری زمین میں اس کی زینت نازل کر دے ‘ اور ہم پر ہماری زمین میں اس کی سکینت نازل کر دے ‘ اے اللہ ! ہم پر آسمان سے پاک پانی نازل کر دے ‘ اور اس کے ذریعے بنجر شہر کو زندگی دے دے ‘ اور اسے سیراب کر دے اور اس کے ذریعے جانوروں کو اور بہت سے لوگوں کو جنہیں تو نے پیدا کیا ہے ‘ سیراب کر دے ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : ابھی وہ لوگ اسی حالت میں تھے کہ اس دوران بادل کا ایک ٹکڑا آیا ‘ پھر وہ ٹکڑے ایک دوسرے سے مل گئے ‘ پھر ان لوگوں پر مسلسل سات دن بارش ہوتی رہی ‘ جو مدینہ منورہ میں رکی نہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے اس کی مانند حدیث ذکر کی ہے ‘ جو ’’ صحیح ‘‘ میں منقول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی مجاشع بن عمرو ہے ‘ یحیی بن معین کہتے ہیں : اس کے بارے میں میری یہ رائے ہے کہ وہ جھوٹے لوگوں میں سے ایک ہے ۔

3284

Majma al-Zawaid #3284

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَنَسٍ قَالَا: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا اسْتَسْقَى قَالَ: "" اللَّهُمَّ اسْقِنَا سَقْيًا وَادِعَةً نَافِعَةً تُشْبِعُ بِهَا الْأَمْوَالَ وَالْأَنْفُسَ غَيْثًا (هَنِيئًا) مَرِيئًا طَبَقًا مُجَلَّلًا يَتَّسِعُ بِهِ بَادِينَا وَحَاضَرُنَا، تُنْزِلُ بِهِ مِنْ بَرَكَاتِ السَّمَاءِ وَتُخْرِجُ لَنَا (بِهِ) مِنْ بَرَكَاتِ الْأَرْضِ وَتَجْعَلُنَا - عِنْدَهُ مِنَ الشَّاكِرِينَ إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحَارِثُ التَّيْمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbd Allāh رضي الله عنهما and Anas رضي الله عنه reported that when the Messenger of Allāh ﷺ prayed for rain he would supplicate for a gentle, beneficial watering that would satiate wealth and souls, a wholesome, pleasant, layered, and encompassing rain by which desert and town would be eased, through which the blessings of heaven would descend and the blessings of earth would emerge, and that they be made grateful thereat, for He is the Hearer of supplication. > **"O Allāh, grant us a gentle, beneficial watering by which You satiate wealth and souls, a wholesome, pleasant, layered, encompassing rain by which our desert and our town are eased, through which You send down the blessings of the heaven and bring forth for us the blessings of the earth, and make us grateful thereat. Indeed You are the Hearer of supplication."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما اور حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب بارش کے نزول کے لئے دعا مانگتے تھے ‘ تو یہ دعا کرتے تھے : ’’ اے اللہ ! تو ہمیں ایسے طریقے سے سیراب کر دے ‘ جو اطمینان بخش ہو ‘ جس کے ذریعے تو اموال ( یعنی جانوروں ) اور نفوس ( یعنی انسانوں ) کو سیراب کر دے ‘ ایسا بادل ہو ‘ جو سیر کر دے ‘ پیاس ختم کر دے ‘ تہہ دار ہو ‘ زمین میں نباتات پیدا کر دے ، جس کے ذریعے ہمارے دیہاتوں اور شہروں کے لوگوں کو سہولت حاصل ہو ‘ تو اس کے ذریعے آسان کی برکتیں نازل فرما ‘ اور اس کے ذریعے ہمارے لئے زمین کی برکتیں نکال دے اور اس وقت تو ہمیں شکر کرنے والوں میں سے بنا دینا ‘ بے شک تو دعا کو سننے والا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن محمد بن ابراہیم حارث تیمی ہے ‘ اور وہ ’’ ضعیف ‘‘ ہے ۔

3285

Majma al-Zawaid #3285

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَسْقَى فَقَالَ: "" اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا مَرِيعًا طَبَقًا عَاجِلًا غَيْرَ رَائِثٍ نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ ""، فَمَا لَبِثْنَا أَنْ مُطِرْنَا حَتَّى سَالَ كُلُّ شَيْءٍ حَتَّى أَتَوْهُ فَقَالُوا: قَدْ غَرِقْنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ prayed for rain, supplicating for a rescuing, verdant, layered, immediate, undelayed, beneficial, and harmless rain. Shortly thereafter they were rained upon until everything flowed, and they came to him complaining of drowning, so the Messenger of Allāh ﷺ supplicated for the rain to be around them and not upon them. > **"O Allāh, grant us a rescuing, verdant, layered, immediate, undelayed, beneficial, harmless rain. O Allāh, around us and not upon us."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے بارش کے نزول کے دعا کرتے ہوئے یہ دعا کی : ’’ اے اللہ ! تو ہمیں سیراب کرنے والے بادل سے سیراب کر دے ‘ جو سبزہ پیدا کرنے والا ہو ‘ تہہ دار ہو ‘ جلدی آئے ‘ تاخیر سے نہ آئے ، نفع بخش ہو ‘ نقصان دہ نہ ہو ‘‘۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) اس کے بعد زیادہ دیر نہیں گزری تھی ‘ کہ ہم پر بارش نازل ہونے لگی ‘ یہاں تک کہ ہر چیز بہنے لگی ‘ یہاں تک کہ لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : ہم ڈوب رہے ہیں ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے اللہ ! ہمارے آس پاس ( بارش ہو ) اور ہم پر نہ ہو ! یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ‘ جس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ۔

3286

Majma al-Zawaid #3286

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَسْجِدِ ضُحًى فَكَبَّرَ ثَلَاثَ تَكْبِيرَاتٍ ثُمَّ قَالَ: "" اللَّهُمَّ اسْقِنَا - ثَلَاثًا - اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا سَمْنًا وَلَبَنًا وَشَحْمًا وَلَحْمًا ""، وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ سَحَابًا، فَثَارَتْ رِيحٌ وَغُبْرَةٌ ثُمَّ اجْتَمَعَ سَحَابٌ فَصَبَّتِ السَّمَاءُ فَصَاحَ أَهْلُ الْأَسْوَاقِ وَثَارُوا إِلَى سَقَائِفِ الْمَسْجِدِ وَإِلَى بُيُوتِهِمْ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَائِمٌ فَسَالَتِ الطَّرِيقُ وَرَأَيْنَا ذَلِكَ الْمَطَرَ عَلَى أَطْرَافِ شَعْرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَى كَتِفَيْهِ وَمَنْكِبَيْهِ كَأَنَّهُ الْجُمَانُ، فَانْصَرَفَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَانْصَرَفْتُ أَمْشِي عَلَى مَشْيِهِ وَهُوَ يَقُولُ: "" هَذَا أَحْدَثُكُمْ بِرَبِّهِ "" قَالَ أَبُو أُمَامَةَ: مَا رَأَيْتُ عَامًا قَطُّ أَكْثَرَ سَمْنًا وَلَبَنًا وَشَحْمًا وَلَحْمًا، إِنْ هُوَ إِلَّا فِي الطَّرِيقِ مَا يَكَادُ يَشْتَرِيهِ أَحَدٌ، ثُمَّ انْصَرَفَ نَحْوَ الرِّجَالِ فَوَعَظَهُمْ وَنَهَاهُمْ ثُمَّ انْصَرَفَ نَحْوَ النِّسَاءِ فَوَعَظَهُنَّ فَشَدَّدَ عَلَيْهِنَّ فِي الْحَرِيرِ وَالذَّهَبِ، فَأَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ بَلَغَنَا أَنَّكَ شَدَّدْتَ فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالذَّهَبِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنِّي لَأُحِبُّ الْجَمَالَ، حَتَّى مِنْ حُبِّي الْجَمَالَ جَعَلْتُ حِرَازَ سَوْطِي هَذَا مِنْ جِلْدِ نَمِرٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ اللَّهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ، وَإِنَّمَا الْكِبْرُ مَنْ جَهِلَ الْحَقَّ وَغَمَصَ النَّاسَ بِعَيْنَيْهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ stood in the mosque in the forenoon, pronounced three Takbīrs, and then supplicated thrice for water and for provision of ghee, milk, fat, and meat, though no cloud was visible in the sky. Then a wind with dust arose, clouds gathered, the sky poured forth, the people of the markets cried out and rushed to the roofed parts of the mosque and to their homes while the Messenger of Allāh ﷺ remained standing. The road flowed, and they saw the rain upon the edges of the hair of the Messenger of Allāh ﷺ and upon his shoulders like pearls. The Prophet ﷺ departed remarking upon its freshness from its Lord. Abū Umāmah said he never saw a year of greater abundance in ghee, milk, fat, and meat, so plentiful along the road that scarcely anyone would buy. Then he turned to the men and admonished and forbade them, then to the women, admonishing them and stressing the matter of silk and gold. A man of Banū ʿĀmir objected that he loved beauty, even to the extent of making the sheath of his whip from leopard skin, whereupon the Messenger of Allāh ﷺ clarified that Allāh is Beautiful and loves beauty, while pride is ignorance of truth and contempt of people. > **"O Allāh, grant us water. O Allāh, grant us water. O Allāh, grant us water. O Allāh, provide us with ghee, milk, fat, and meat. This is your most recent from its Lord. Indeed Allāh is Beautiful and loves beauty; pride is only he who is ignorant of the truth and despises people with his eyes."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ چاشت کے وقت مسجد میں کھڑے ہوئے ، آپ نے تین تکبیریں کہیں ، پھر آپ نے یہ دعا کی : ’’ اے اللہ ! تو ہمیں سیراب کر دے ( یہ کلمہ آپ نے تین مرتبہ فرمایا ‘ اور پھر یہ کہا : ) اے اللہ ! تو ہمیں گھی ‘ دودھ ‘ چربی اور گوشت نصیب فرما دے ! “۔ راوی بیان کرتے ہیں : ہمیں آسمان میں کوئی بادل دکھائی نہیں دے رہا تھا ، پھر ہوا چلی ، غبار اڑا اور بادل اکٹھا ہو گیا اور بارش شروع ہو گئی ، یہاں تک کہ بازار کے لوگوں نے چیخ و پکار شروع کی اور مسجد کی چھت کے نیچے اور گھروں کی طرف لپکے ‘ نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے تھے ‘ اسی دوران راستوں میں پانی بہنے لگا ‘ اور ہم نے اس بارش کو نبی اکرم ﷺ کے بالوں کے کناروں پر اور آپ کے کندھوں پر دیکھا کہ وہ بارش کے قطرے موتیوں کی طرح تھے ‘ نبی اکرم ﷺ واپس تشریف لے گئے ، میں بھی آپ کے ساتھ چلتا ہوا واپس آیا ‘ آپ یہ کہہ رہے تھے : یہ تمہارے پروردگار کی بارگاہ سے آئی ہے ۔ حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے ایسا کوئی سال نہیں دیکھا ، جس میں اُس سال سے زیادہ لوگوں کی صحت ہوئی ہو ‘ زیادہ دودھ ‘ زیادہ چربی ‘ زیادہ گوشت ( کی پیداوار ہوئی ) ہو ‘ یہ چیزیں راستے میں پڑی ہوتی تھیں ‘ اور انہیں خریدنے والا کوئی نہیں ہوتا تھا ‘ اس کے بعد نبی اکرم ﷺ لوگوں کی طرف مڑے آپ نے انہیں وعظ و نصیحت کی ، آپ نے انہیں منع کیا ، پھر آپ خواتین کی طرف تشریف لے گئے ، آپ نے انہیں وعظ کیا ‘ اور آپ نے انہیں ریشم اور سونے کے حوالے سے شدید تاکید کی ‘ بنو عامر سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آگے آیا ‘ اُس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم تک یہ روایت پہنچی ہے کہ آپ ریشم اور سونا پہنے کے بارے میں شدید تاکید کرتے ہیں ( کہ اس کو نہیں پہننا ) اس ذات کی قسم ! جس ذات نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ‘ میں جمال کو پسند کرتا ہوں ‘ اور جمال کو پسند کرنے میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ میری اس چھڑی کا غلاف چیتے کی کھال کا ہو ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ جمیل ہے ‘ وہ جمال کو پسند کرتا ہے ، تکبر یہ ہے کہ کوئی شخص حق سے ناواقف رہے ‘ اور لوگوں کو اپنی نظر میں کم تر سمجھے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں یہ مذکور ہے ‘ اسے عبیداللہ بن زحر نے علی بن یزید سے روایت کیا ہے ‘ اور یہ دونوں راوی ضعیف ہیں ۔

3287

Majma al-Zawaid #3287

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ خَارِجَةَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ جَدِّهِ سَعْدٍ «أَنَّ قَوْمًا شَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَحْطَ الْمَطَرِ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَجْثُوا عَلَى الرُّكَبِ، فَجَثَوْا، قَالَ: "" فَقُولُوا: يَا رَبِّ "" فَفَعَلُوا، فَسُقُوا حَتَّى أَحَبُّوا أَنْ يَكْشِفَ عَنْهُمْ». هَذَا لَفْظُهُ عِنْدَ الْبَزَّارِ، وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ: عَامِرُ بْنُ خَارِجَةَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ سَعْدٍ «أَنَّ قَوْمًا شَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَحْطَ الْمَطَرِ فَقَالَ: "" اجْثُوا عَلَى الرُّكَبِ وَقُولُوا: يَا رَبِّ يَا رَبِّ "" وَرَفَعَ السَّبَّابَةَ إِلَى السَّمَاءِ، فَسَقَوْا حَتَّى أَحَبُّوا أَنْ يَكْشِفَ عَنْهُمْ». وَالصَّوَابُ رِوَايَةُ الطَّبَرَانِيِّ، وَقَوْلُهُ: عَامِرٌ كَذَلِكَ ذَكَرَهُ الذَّهَبِيُّ فِي تَرْجَمَةِ عَامِرِ بْنِ خَارِجَةَ وَضَعَّفَهُ.

EnglishUnverified translation

ʿUmar ibn Khārijah ibn Saʿd reported from his grandfather Saʿd رضي الله عنه that a group complained to the Messenger of Allāh ﷺ of withheld rain, so he commanded them to kneel upon their knees, and they did so, then instructed them to say Yā Rabb. They did so and were given rain until they wished it to be removed from them. In another wording he commanded them to kneel and say Yā Rabb, Yā Rabb, raising his forefinger to the heaven, and they were rained upon until they wished it to cease. > **"Kneel upon your knees and say: Yā Rabb, Yā Rabb."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمر بن خارجہ بن سعد نے ‘ اپنے دادا حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : کچھ لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں بارش نہ ہونے کی شکایت کی ‘ نبی اکرم ﷺ نے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ گھٹنوں کے بل کھڑے ہو جائیں ، تو وہ لوگ گھٹنوں کے بل کھڑے ہو گئے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ یہ پڑھو : ’’ اے ہمارے پروردگار ! ‘‘۔ اُن لوگوں نے ایسا ہی کیا ‘ تو ان لوگوں پر بارش نازل ہونا شروع ہوئی ‘ ( اور اتنی دیر تک ہوتی رہی ) یہاں تک کہ انہوں نے یہ خواہش کی : کہ کاش کہ یہ بارش ختم ہو جائے ۔ روایت کے یہ الفاظ امام بزار کے نقل کردہ ہیں ‘ اسے امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کیا ہے ‘ عامر بن خارجہ بن سعد نے اپنے والد کے حوالے سے ‘ اپنے دادا حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے : ’’ کچھ لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں بارش نہ ہونے کی شکایت کی ‘ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ گھٹنوں کے بل جھک جاؤ اور یہ کہو : اے ہمارے پروردگار ! اے ہمارے پروردگار ! پھر نبی اکرم ﷺ نے شہادت کی انگلی آسمان کی طرف بلند کی ‘ تو لوگوں پر بارش نازل ہونا شروع ہو گئی ‘ ( اور اتنی دیر تک ہوتی رہی ) یہاں تک کہ لوگوں نے یہ خواہش کی : کہ اب یہ بارش ختم ہو جائے “۔ امام طبرانی کی نقل کردہ روایت درست ہے ‘ انہوں نے لفظ عام نقل کیا ہے وہ اس طرح ہے ‘ امام ذہبی نے عامر بن خارجہ کے حالات میں اس شخص کا ذکر اسی طرح کیا ہے ‘ اور اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

3288

Majma al-Zawaid #3288

وَعَنْ رَقِيقَةَ بِنْتِ أَبِي صَيْفِيِّ بْنِ هَاشِمٍ - وَكَانَتْ وَالِدَةَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ - قَالَتْ: تَتَابَعَتْ عَلَى قُرَيْشٍ سِنُونَ أَقْحَلَتِ الضَّرْعَ وَأَدَقَّتِ الْعَظْمَ، فَبَيْنَا أَنَا رَاقِدَةُ الْهَمِّ - أَوْ مَهْمُومَةٌ - إِذَا هَاتِفٌ يَصْرُخُ صَوْتُ صَحَلٍ يَقُولُ: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ إِنَّ هَذَا النَّبِيَّ مَبْعُوثٌ قَدْ أَظَلَّتْكُمْ أَيَّامُهُ وَهَذَا إِبَّانُ نُجُومِهِ فَحَيَّهَلَا بِالْحَيَاءِ وَالْخِصْبِ أَلَا فَانْظُرُوا رَجُلًا مِنْكُمْ وَسِيطًا عَظِيمًا جُسَامًا أَبْيَضَ وَضَّاءً أَوْطَفَ أَهْدَبَ سَهْلَ الْخَدَّيْنِ أَشَمَّ الْعِرْنِينِ لَهُ فَخْرٌ يَكْظِمُ عَلَيْهِ، وَسُنَّةٌ يَهْدِي إِلَيْهِ فَلْيُخَلِّصْ هُوَ وَوَلَدُهُ وَلْيَهْبِطْ إِلَيْهِ مِنْ كُلِّ بَطْنٍ رَجُلٌ فَلْيَشُنُّوا مِنَ الْمَاءِ وَلْيَمَسُّوا مِنَ الطِّيبِ وَلْيَسْتَلِمُوا الرُّكْنَ ثُمَّ لْيَرْقُوا أَبَا قُبَيْسٍ ثُمَّ لْيَدْعُ الرَّجُلُ وَلْيُؤُمِّنِ الْقَوْمُ فَغُثْتُمْ مَا شِئْتُمْ فَأَصْبَحْتُ - عَلِمَ اللَّهُ - فَاقْشَعَرَّ جِلْدِي وَوَلِهَ عَقْلِي وَاقْتَصَصْتُ رُؤْيَايَ وَنِمْتُ فِي شِعَابِ مَكَّةَ فَوَالْحُرْمَةِ وَالْحَرَمِ مَا بَقِيَ بِهَا أَبْطَحُ إِلَّا قَالَ: هَذَا شَيْبَةُ الْحَمْدِ وَتَنَاهَتْ إِلَيْهِ رِجَالَاتُ قُرَيْشٍ وَهَبَطَ إِلَيْهِ مِنْ كُلِّ بَطْنٍ رَجُلٌ فَشَنُّوا وَمَشَوْا وَاسْتَلَمُوا ثُمَّ ارْتَقَوْ أَبَا قُبَيْسٍ وَاصْطَفُّوا حَوْلَهُ مَا يَبْلُغُ سَعْيُهُمْ مَهْلَهُ حَتَّى إِذَا اسْتَوَوْا بِذُرْوَةِ الْجَبَلِ قَامَ عَبْدُ الْمُطَّلِبِ وَمَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُلَامٌ قَدْ أَيْفَعَ أَوْ كَرُبَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَقَالَ: "" اللَّهُمَّ سَادَّ الْخَلَّةَ كَاشِفَ الْكُرْبَةِ أَنْتَ مُعَلِّمٌ غَيْرُ مُعَلَّمٍ وَمَسْئُولٌ غَيْرُ مُبَخَّلٍ وَهَذِهِ عَبِيدُكَ وَإِمَاؤُكَ وَبِعَذَرَاتِ حُرَمِكَ يَشْكُونَ إِلَيْكَ سَنَتُهُمْ، أَذْهَبَ الْخُفَّ وَالظَّلَفَ، اللَّهُمَّ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا غَيْثًا مُغْدِقًا مُرِيعًا، فَوَرَبِّ الْكَعْبَةِ مَا رَامُوا حَتَّى تَفَجَّرَتِ السَّمَاءُ بِمَائِهَا وَاكْتَظَّ الْوَادِي بِثَجِيجِهِ فَسَمِعْتُ شِيخَانَ قُرَيْشٍ وَجِلَّتَهَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جُدْعَانَ وَحَرْبَ بْنَ أُمَيَّةَ وَهِشَامَ بْنَ الْمُغِيرَةِ يَقُولُونَ لِعَبْدِ الْمُطَّلِبِ: هَنِيئًا لَكَ أَبَا الْبَطْحَاءِ وَفِي ذَلِكَ تَقُولُ رَقِيقَةُ بِنْتُ أَبِي صَيْفِيٍّ: لِشَيْبَةِ الْحَمْدِ أَسْقَى اللَّهُ بَلْدَتَنَا ... وَقَدْ فَقَدْنَا الْحَيَا وَاجْلَوَّذَ الْمَطَرُ فَجَادَ بِالْمَاءِ جُونِيٌّ لَهُ سُبُلُ ... سَحًّا فَعَاشَتْ بِهِ الْأَنْعَامُ وَالشَّجَرُ مَنًّا مِنَ اللَّهِ بِالْمَيْمُونِ طَائِرُهُ ... وَخَيْرُ مَنْ بُشِّرَتْ يَوْمًا بِهِ مُضَرُ مُبَارَكُ الْأَمْرِ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِهِ ... مَا فِي الْأَنَامِ لَهُ عَدْلٌ وَلَا خَطَرُ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ زَحْرُ بْنُ حِصْنٍ قَالَ الذَّهَبِيُّ: لَا يُعْرَفُ.

EnglishUnverified translation

Raqīqah bint Abī Ṣayfī ibn Hāshim, the mother of ʿAbd al-Muṭṭalib, reported that successive barren years befell Quraysh, drying udders and emaciating bones. While she lay distressed, a caller with a hoarse voice proclaimed that the Prophet was sent, his days overshadowing them and the time of his stars, urging them toward water and fertility by bringing forth a distinguished, noble, corpulent, fair, radiant man of Quraysh with thick eyelashes, smooth cheeks, and an aquiline nose, restraining anger and guided by tradition, together with his children and a man from every clan, after washing, perfuming, touching the Corner, ascending Abū Qubays, with the man supplicating and the people saying āmīn, so that they would be rained upon as they wished. In the morning she recounted her vision throughout the ravines of Makkah, and all declared it meant Shaybah al-Ḥamd, to whom the affairs of Quraysh were brought. Men from every clan came to him, washed, walked, touched the Corner, ascended Abū Qubays, and gathered around him until they stood at the peak. ʿAbd al-Muṭṭalib stood with him the young boy, the Messenger of Allāh ﷺ, near maturity, raised his hands and supplicated to Allāh, the Filler of need and Remover of distress, the Teacher who is not taught and the Asked who is not miserly, complaining of their barren year that had removed hoof and cloven hoof, asking for drenching, verdant rain. By the Lord of the Kaʿbah, they had scarcely moved before the sky burst with water and the valley filled with its torrent, and she heard the elders of Quraysh, including ʿAbd Allāh ibn Judʿān and others, praising ʿAbd al-Muṭṭalib for one granted water through his face. > **"O Allāh, Filler of need, Remover of distress, You teach and are not taught, You are asked and are not miserly. These are Your male and female servants at the sanctuaries of Your Sanctuary complaining to You of their barren year which has removed hoof and cloven hoof. O Allāh, so rain upon us a drenching, verdant rain."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ رقیقہ رضی اللہ عنہا بنت ابوصیفی بن ہاشم ‘ جو جناب عبدالمطلب کی والدہ ہیں ‘ وہ بیان کرتی ہیں : ’’ قریش پر یکے بعد دیگرے ( قحط سالی کے ) چند ایسے سال آئے ، جنہوں نے ( جانوروں کے ) تھن خشک کر دیے اور ہڈیاں کمزور کر دیں ‘ ایک مرتبہ میں پریشانی کے عالم میں سوئی ہوئی تھی ‘ ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) کہ اسی دوران کسی ہاتف نے گونج دار آواز میں یہ کہا : اے قریش کے گروہ ! یہ نبی مبعوث ہو گئے ہیں ، ان کے زمانے نے تم پر سایہ کر دیا ہے ‘ اور ان کے ستارے ظاہر ہونے لگے ہیں ، تو سیرابی اور شادابی کی طرف آ جاؤ ‘ تم لوگ اپنے میں سے کوئی ایسا شخص تلاش کرو ‘ جو صحت مند اور مضبوط جسم ‘ اور سفید چمکدار رنگت کا مالک ہو ‘ بلند حیثیت کا ہو ‘ لمبی پلکوں والا ہو ‘ نرم رخساروں ، ستواں ناک والا ہو ‘ اس میں ایسی چیز ہو کہ وہ غصہ پر قابو رکھتا ہو ‘ اور ایسی عمر رسیدگی ہو کہ اس کی طرف رجوع کیا جاتا ہو ‘ وہ اور اُس کی اولاد نکلیں ‘ اور ( قبیلے کی ) ہر شاخ میں سے ایک شخص نکلے ‘ وہ لوگ غسل کر لیں خوشبو لگا لیں ، رکن کا استلام کریں اور پھر جبل ابو قبیس پر چڑھ جائیں ، پھر وہ شخص دعا کرے ( اور باقی لوگ ) آمین کہیں ‘ تو تم جتنی چاہو گے ‘ بارش ہو جائے گی ۔ ( سیدہ رقیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ) جب صبح ہوئی ‘ تو میں حیران و پریشان تھی ، میں نے اپنا خواب بیان کیا ، میں مکہ میں مختلف جگہوں پر گئی ‘ تو ہر شخص نے یہی کہا : اس سے مراد ’’ شیبۃ الحمد ‘‘ ( یعنی جناب عبدالمطلب ) ہونگے ‘ قریش کے اُمور انہی کے پاس لائے جاتے تھے ‘ تو ( قبیلے کی ) ہر ایک شاخ کا ایک فرد ان کے پاس آیا ‘ انہوں نے غسل کیا اور پیدل چل کے جا کر ‘ حجر اسود کا استلام کیا ، پھر وہ لوگ جبل ابو قیس پر چڑھ گئے ‘ دیگر لوگ جناب عبدالمطلب کے ارد گرد اکٹھے ہو گئے ‘ جتنا بھی وہ بھلائی میں پیش رفت کر سکتے تھے ‘ یہاں تک کہ جب پہاڑ کی چوٹی پر وہ سب لوگ پہنچ گئے ‘ تو جناب عبدالمطلب کھڑے ہوئے ‘ اُن کے ساتھ نبی اکرم ﷺ بھی تھے ‘ جو اس وقت نوجوان تھے ‘ یا اس کے قریب کی عمر کے تھے ‘ انہوں نے دونوں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا کی : ” اے اللہ ! مشکل کو بند کرنے والے ‘ پریشانی کو ختم کرنے والے ! تو علم عطا کرنے والا ہے ‘ تجھ کو معلومات نہیں دی جاتی ہیں ، تجھ سے مانگا جاتا ہے ‘ تو بخل والا نہیں ہے ‘ یہ تیرے بندے اور تیری کنیزیں ہیں ‘ اور یہ تیرے حرم کی حدود میں موجود ہیں ‘ یہ تیری بارگاہ میں قحط سالی کی شکایت کر رہے ہیں ‘ ( جانوروں کے ) سینگ اور کھر رخصت ہو گئے ہیں ( یعنی جانور قحط سالی کی وجہ سے مر رہے ہیں ) ‘ اے اللہ ! تو ہم پر ایسی بارش نازل فرما ! جو زیادہ اور بھر پور ہو اور سرسبز و شاداب کر دے ‘‘ رب کعبہ کی قسم ! ابھی وہ لوگ واپس نہیں آئے تھے ‘ کہ آسمان سے بارش نازل ہونا شروع ہو گئی اور وادی میں پانی بہنے لگا ‘ میں نے قریش کے بزرگوں اور جلیل القدر افراد ‘ عبداللہ بن جدعان ، حرب بن امیہ ‘ اور ہشام بن مغیرہ کو جناب عبدالمطلب سے یہ کہتے ہوئے سنا : اے ابوبطحاء ! آپ کو مبارک ہو ! سیدہ رقیقہ رضی اللہ عنہا بنت ابوصیفی اس واقعہ کے بارے میں یہ ( اشعار ) کہتی ہیں : ’’ اے شبیہ الحمد ! اللہ تعالیٰ نے ہمارے شہر کو سیراب کر دیا ‘ پہلے ہم زندگی کو غیر موجود پاتے تھے ‘ لیکن پھر بھر پور بارش شروع ہو گئی ‘ پانی آ گیا اور اس نے نشیبی علاقے میں راستے بنا لیے ‘ جس نے جانوروں اور درختوں کو زندگی دیدی ‘ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے احسان ہے ‘ جس کی آمد بابرکت ہے ‘ اور آج کے دن مضر ( قبیلے کے افراد کو ) دی جانے والی سب سے بہتر خوشخبری ہے ‘ وہ بابرکت معاملے والے ہیں ‘ ان کے وسیلے سے بارش مانگی گئی ‘ مخلوق میں کوئی بھی ان کے برابر کا نہیں اور نہ ہی ( کسی کے بارے میں ایسا سوچا جا سکتا ہے ‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی زحر بن حصن ہے ‘ امام ذہبی کہتے ہیں : یہ معروف نہیں ہے ۔

3289

Majma al-Zawaid #3289

وَعَنْ أَبِي لُبَابَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُنْذِرِ قَالَ: «اسْتَسْقَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ: إِنَّ التَّمْرَ فِي الْمَرَابِدِ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: "" اللَّهُمَّ اسْقِنَا حَتَّى يَقُومَ أَبُو لُبَابَةَ عُرْيَانًا فَيَسُدَّ مَبْعَثَ مِرْبَدِهِ بِإِزَارِهِ "" وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ سَحَابًا فَأَمْطَرَتْ فَاجْتَمَعُوا إِلَى أَبِي لُبَابَةَ فَقَالُوا: إِنَّهَا لَا تُقْلِعُ حَتَّى تَقُومَ عُرْيَانًا وَتَسُدَّ مَبْعَثَ مِرْبَدِكَ بِإِزَارِكَ فَفَعَلَ فَأَصْحَتْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ مَنْ لَا يُعْرَفُ.

EnglishUnverified translation

Abū Lubābah ibn ʿAbd al-Mundhir رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ prayed for rain, whereupon Abū Lubābah remarked that the dates were in the storehouses. The Prophet ﷺ then supplicated that they be rained upon until Abū Lubābah would stand bare and block the outlet of his storehouse with his waist-wrapper, though no cloud was visible in the sky. It rained so continuously that the people gathered to Abū Lubābah and told him it would not cease until he stood bare and blocked the outlet of his storehouse with his waist-wrapper. He did so, and the sky cleared. > **"O Allāh, grant us rain until Abū Lubābah stands bare and blocks the outlet of his storehouse with his waist-wrapper."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابولبابہ بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے بارش کے نزول کی دعا کی ، تو حضرت ابولبابہ بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کھجوریں گوداموں میں پڑی ہوئی ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے دعا کی : ’’ اے اللہ ! ہم پر اتنی بارش نازل فرما کہ ابولبابہ کو اضافی کپڑے اتار کر اپنے تہبند کے ذریعے گودام تک پانی کے راستے کو روکنا پڑے ‘‘۔ راوی بیان کرتے ہیں : آسمان میں کوئی بادل نظر نہیں آ رہا تھا ، پھر بارش نازل ہونا شروع ہوئی ‘ ( اور مسلسل ہوتی رہی ) لوگ اکھٹے ہو کر حضرت ابولبابہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور انہوں نے یہ کہا : کہ یہ بارش اُس وقت تک نہیں رکے گی ‘ جب تک آپ اضافی کپڑے اتار کر اپنے تہبند کے ذریعے گودام تک پانی جانے کو نہیں روکیں گے ‘ انہوں نے ایسا ہی کیا ‘ تو بارش رک گئی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ‘ اس روایت کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جو معروف نہیں ہے ۔

3290

Majma al-Zawaid #3290

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا - قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا رَأَى الْمَطَرَ قَالَ: "" اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمِ بْنِ صُهَيْبٍ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that when the Messenger of Allāh ﷺ saw rain, he would supplicate for it to be a beneficial downpour. > **"O Allāh, a beneficial downpour."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب بارش دیکھتے تھے ‘ تو یہ دعا کرتے تھے : ’’ اے اللہ ! یہ تیز بارش ہو اور نفع دینے والی ہو ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی علی بن عاصم بن صہیب ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

3291

Majma al-Zawaid #3291

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَدْعُو إِذَا اسْتَسْقَى: "" اللَّهُمَّ أَنْزِلْ فِي أَرْضِنَا بَرَكَتَهَا وَزِينَتَهَا وَسَكَنَهَا» "". وَفِي رِوَايَةٍ: "" وَارْزُقْنَا وَأَنْتَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ "". رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ أَوْ صَحِيحٌ.

EnglishUnverified translation

Samurah ibn Jundub رضي الله عنه reported that when the Prophet ﷺ prayed for rain he would supplicate for its blessing, adornment, and tranquillity to be sent down in their land. In one narration there was the addition of asking for provision, for He is the Best of providers. > **"O Allāh, send down in our land its blessing, its adornment, and its tranquillity. Provide us, and You are the Best of providers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب بارش کے نزول کی دعا کرتے تھے ‘ تو یہ کہتے تھے : ” اے اللہ ! ہماری زمین میں ‘ اس کی برکت ‘ اس کی زینت اور اس کا سکون نازل فرما ! ‘‘۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” تو ہمیں رزق نصیب فرما ! بے شک تو بہترین رزق دینے والا ہے ‘‘۔ یہ دونوں روایات امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہیں ‘ امام بزار نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ‘ اس کی سند حسن ہے یا صحیح ہے ۔

3292

Majma al-Zawaid #3292

وَعَنِ الشِّفَاءِ أُمِّ سُلَيْمَانَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسُلَّمَ - اسْتَسْقَى يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي الْمَسْجِدِ وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَقَالَ: "" اسْتَغْفَرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا "" وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ وَهُوَ ضَعِيفٌ لَيْسَ بِشَيْءٍ.

EnglishUnverified translation

Al-Shifāʾ Umm Sulaymān رضي الله عنها reported that the Prophet ﷺ prayed for rain on Friday in the mosque, raising his hands and commanding seeking forgiveness of their Lord, for He is Most Forgiving, and he turned his cloak inside out. > **"Seek forgiveness of your Lord; indeed He is Most Forgiving."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ شفاء أم سلیمان رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے جمعہ کے دن مسجد میں بارش کے نزول کی دعا کی ، آپ نے دونوں ہاتھ بلند کیے اور آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اپنے پروردگار سے مغفرت طلب کرو ‘ بے شک وہ بہت زیادہ مغفرت کرنے والا ہے پھر آپ اپنی چادر کو پلٹا دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی خالد بن الیاس ہے ‘ وہ ضعیف ہے ‘ اور وہ کوئی چیز نہیں ہے ۔

3293

Majma al-Zawaid #3293

وَعَنْ سَمُرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ - «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا خَطَبَ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ إِبِطَيْهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ إِلَّا أَنِّي لَمْ أَجِدْ مُحَمَّدَ بْنَ رَاشِدٍ الْأَصْبَهَانِيَّ شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ.

EnglishUnverified translation

Samurah رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ would raise his hands when delivering the khuṭbah until the whiteness of his armpits could be seen.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ خطبہ دینے کے دوران دونوں ہاتھ بلند کرتے تھے ‘ یہاں تک کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آتی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ‘ البتہ میں نے راشد اصبہانی نامی راوی ( کا تذکرہ ) نہیں پایا ‘ جو امام طبرانی کے استاد ہیں ۔

3294

Majma al-Zawaid #3294

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطِيمِيِّ أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ خَرَجَ يَسْتَسْقِي بِالنَّاسِ فَخَطَبَ ثُمَّ صَلَّى بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ، وَفِي النَّاسِ يَوْمَئِذٍ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ وَزَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Yazīd al-Khaṭmī reported that Ibn al-Zubayr رضي الله عنهما went out with the people to pray for rain, delivered the khuṭbah, then prayed without adhān or iqāmah, while among the people on that day were al-Barāʾ ibn ʿĀzib رضي الله عنه and Zayd ibn Arqam رضي الله عنه.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالله بن یزید خطیمی بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما لوگوں کے لئے بارش کے نزول کی دعا کرنے کے لئے نکلے انہوں نے خطبہ دیا ‘ پھر اذان اور اقامت کے بغیر نماز پڑھائی ‘ جب کہ لوگوں میں اس وقت حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

3295

Majma al-Zawaid #3295

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا أَصَابَهُمُ الْمَطَرُ بِالْمَدِينَةِ فَسَالَتِ الْمَيَازِيبُ فَقَالَ: "" لَا مَحْلَ عَلَيْكُمُ الْعَامَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ قُدَامَةَ وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ الْبَزَّارُ: إِذَا تَفَرَّدَ بِحَدِيثٍ فَلَا يُحْتَجُّ بِهِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that when rain befell them in Madīnah and the spouts flowed, the Messenger of Allāh ﷺ declared that there would be no hardship upon them that year. > **"There is no hardship upon you this year."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب لوگوں کو مدینہ منورہ میں بارش لاحق ہوئی ‘ اور پرنالے بہنے لگے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس سال تم پر شدت ( یعنی قحط سالی کی پریشانی ) نہیں آئے گی ۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن قدامہ ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ’’ الثقات ‘‘ میں کیا ہے ‘ امام بزار کہتے ہیں : جب یہ کسی حدیث کو نقل کرنے میں منفرد ہو ‘ تو پھر اس سے استدلال نہیں کیا جائے گا ۔

3296

Majma al-Zawaid #3296

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّمَا الصَّيِّبُ هَاهُنَا "" وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى السَّمَاءِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ that he said that the downpour is from there, pointing with his hand toward the heaven. > **"Indeed the downpour is here."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بے شک تیز بارش یہاں سے ہوتی ہے ‘‘ آپ ﷺ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے آسمان کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

3297

Majma al-Zawaid #3297

عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ - يَعْنِي: ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ - رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا - قَالَ: «كُنْتُ جَالِسًا إِلَى جَنْبِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَمَرَّ شَيْخٌ جَمِيلٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ وَفِي أُذُنَيْهِ صَمَمٌ - أَوْ قَالَ: وَقْرٌ - فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ حُمَيْدٌ فَلَمَّا أَقْبَلْ قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي أَوْسِعْ لَهُ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَكَ فَإِنَّهُ قَدْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَقَالَ لَهُ حُمَيْدٌ: حَدِّثْنِي بِالْحَدِيثِ الَّذِي حَدَّثْتَنِي بِهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ تَعَالَى وَآلِهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ الشَّيْخُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَقُولُ: "" إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يُنْشِئُ السَّحَابَ فَيَنْطِقُ أَحْسَنَ النُّطْقِ وَيَضْحَكُ أَحْسَنَ الضَّحِكِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Saʿd ibn Ibrāhīm ibn ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf reported that he sat beside Ḥumayd ibn ʿAbd al-Raḥmān when a handsome elderly man of Banū Ghifār with impaired hearing passed by. Ḥumayd sent for him, made space for him between them as a Companion of the Messenger of Allāh ﷺ, and asked him to narrate a ḥadīth from the Messenger of Allāh ﷺ. The Shaykh stated that he heard the Messenger of Allāh say that Allāh Almighty originates the clouds, which then speak with the finest speech and laugh with the finest laughter. > **"Indeed Allāh Almighty originates the clouds, and they speak with the finest speech and laugh with the finest laughter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعد بن ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف بیان کرتے ہیں : میں حمید بن عبدالرحمن کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، اسی دوران بنی غفار سے تعلق رکھنے والے ایک خوبصورت بزرگ گزرے ‘ جن کی سماعت کمزور تھی ، حمید نے انہیں پیغام بھیجا ‘ جب وہ آئے تو انہوں نے کہا : میرے بھانجے ! تم ان کے لئے اور میرے لئے جگہ کشادہ کر دو ‘ کیونکہ یہ نبی اکرم ﷺ کے صحابی ہیں ، وہ صاحب تشریف لائے ‘ اور میرے اور حمید کے درمیان تشریف فرما ہوئے ‘ حمید نے اُن سے کہا : آپ مجھے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے ‘ جو آپ مجھے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے بیان کریں ‘ تو اُن بزرگ نے بتایا : کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ بے شک اللہ تعالی بادل کو پیدا کرتا ہے ‘ اور وہ عمدہ کلام کرتا ہے ‘ اور اچھی طرح سے ہنستا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

3298

Majma al-Zawaid #3298

وَعَنْ سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ قَالَ: «رَأَى أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَحَابَةً فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنَّا نَرْجُوا أَنْ تُمْطِرَنَا هَذِهِ السَّحَابَةُ فَقَالَ: "" إِنَّ هَذِهِ أُمِرَتْ أَنْ تُمْطِرَ بَلَيْلٍ ""، - يَعْنِي وَادِيًا يُقَالُ لَهُ: بِلَيْلٍ» -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Sabrah ibn Maʿbad reported that the Companions of the Messenger of Allāh ﷺ saw a cloud and expressed hope that it would rain upon them, whereupon the Prophet ﷺ informed them that it had been commanded to rain at Balīl, meaning a valley called Balīl. > **"Indeed it has been commanded to rain at Balīl."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سبرہ بن معبد بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے اصحاب نے بادل دیکھا ‘ تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمیں یہ امید ہے کہ اس بادل کے ذریعے ہم پر بارش نازل ہو گی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اسے یہ حکم دیا گیا ہے کہ یہ ’’ بلیل ‘‘ ( نامی راوی ) میں بارش نازل کرے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی مراد ایک وادی تھی ، جس کا نام ’’ بلیل “ تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

3299

Majma al-Zawaid #3299

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَا حَرَّكَتِ الْجَنُوبُ قُعْرَةً مِنْ قَعْرِ وَادٍ إِلَّا أَسَالَتْهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ عَطَاءٍ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَ لَهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ said that the south wind never stirs the depth of a valley's hollow without causing it to flow. > **"The south wind never stirs a hollow of a valley's hollows without causing it to flow."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جنوب سے چلنے والی ہوا ‘ جب بھی کسی وادی کے گڑھے ( یعنی نشیبی حصے ) میں حرکت کرتی ہے ‘ تو اس کو پانی سے بھر دیتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی فضل بن عطاء ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

3300

Majma al-Zawaid #3300

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا نَشَأَتْ بَحْرِيَّةٌ ثُمَّ تَشَاءَمَتْ فَهِيَ عَيْنٌ غَدِيقَةٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ: تَفَرَّدَ بِهِ الْوَاقِدِيُّ، قُلْتُ: وَفِي الْوَاقِدِيِّ كَلَامٌ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ لَا بَأْسَ بِهِمْ وَقَدْ وُثِّقُوا. وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَبِهِ نَسْتَعِينُ رَبِّ يَسِّرْ وَتَمِّمْ بِالْخَيْرِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that when a sea-born cloud rises and then turns toward Syria, it is a copious spring of rain. > **"When a sea-born cloud rises and then turns toward Syria, it is a copious spring."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جب سمندر ( یعنی مدینہ منورہ کے مغرب ) کی طرف سے ہوا چلے اور وہ شام ( یعنی مدینہ منورہ کے شمال ) کی طرف جائے ‘ تو وہ بھر پور بارش والی ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ وہ بیان کرتے ہیں : واقدی اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں : واقدی کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ‘ ایک سے زیادہ حضرات نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال میں کوئی حرج نہیں ہے ‘ ان کی توثیق کی گئی ہے ‘ باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

3301

Majma al-Zawaid #3301

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: «أَوْصَانِي خَلِيلِي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِثَلَاثٍ: بِصَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَالْوَتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ، وَرَكْعَتَيِ الْفَجْرِ». قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ خَلَا قَوْلَهُ: وَرَكْعَتَيِ الْفَجْرِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه reported that his close friend ﷺ counselled him with three matters: fasting three days of every month, performing Witr before sleeping, and the two rakʿahs of Fajr.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے خلیل ( یعنی نبی اکرم ﷺ ) نے مجھے تین باتوں کی تلقین کی تھی : ہر مہینے میں تین روزے رکھنا ، سونے سے پہلے وتر ادا کرنا ‘ اور فجر کی دو رکعات ( سنتیں ادا کرنا ) ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے فجر کی دو رکعات کا ذکر نہیں کیا یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

3302

Majma al-Zawaid #3302

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: «يَا رَسُولَ اللَّهِ دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ؟ قَالَ: "" عَلَيْكَ بِرَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فَإِنَّ فِيهِمَا فَضِيلَةً» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْبَيْلَمَانِيِّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that a man asked for direction to a deed by which Allāh would benefit him, and the Prophet ﷺ instructed him to hold to the two rakʿahs of Fajr, for therein lies virtue. > **"Hold to the two rakʿahs of Fajr, for therein lies virtue."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کسی ایسے عمل کی طرف رہنمائی کیجئے ! جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مجھے نفع عطا کرے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم پر فجر کی دو رکعات ( سنتوں کو ) ادا کرنا لازم ہے ‘ کیونکہ ان دونوں میں فضیلت پائی جاتی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن بیلمانی ہے ‘ اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔

3303

Majma al-Zawaid #3303

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لَا تَدَعُوا الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ فَإِنَّ فِيهِمَا الرَّغَائِبَ» "". وَسُمْعَتُهُ يَقُولُ: "" «لَا تَنْتَفِيَنَّ مِنْ وَلَدِكَ فَيَفْضَحَكَ اللَّهُ عَلَى رُؤُوسِ الْخَلَائِقِ كَمَا فَضَحْتَهُ فِي الدُّنْيَا» "". وَسُمْعَتُهُ يَقُولُ: "" «لَا تَمُوتَنَّ وَعَلَيْكَ دَيْنٌ فَإِنَّمَا هِيَ الْحَسَنَاتُ وَالسَّيِّئَاتُ لَيْسَ ثَمَّ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ جَزَاءً وَقَضَاءً، وَلَيْسَ يَظْلِمُ اللَّهُ أَحَدًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ يَحْيَى وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَرَوَى أَحْمَدُ مِنْهُ: "" «وَرَكْعَتَيِ الْفَجْرِ حَافِظُوا عَلَيْهِمَا فَإِنَّ فِيهِمَا الرَّغَائِبَ» ""، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that he heard the Messenger of Allāh ﷺ forbid abandoning the two rakʿahs before the Fajr prayer, for therein lie precious rewards. He also heard him forbid disowning one's child lest Allāh disgrace him before all creation as he disgraced the child in this world. He further heard him forbid dying with debt outstanding, for there will only be good deeds and evil deeds, with neither dīnār nor dirham for recompense and settlement, and Allāh wrongs no one. > **"Do not abandon the two rakʿahs before the Fajr prayer, for therein lie precious rewards. Do not disown your child, lest Allāh disgrace you before all creation as you disgraced him in this world. Do not die with debt upon you, for there will only be good deeds and evil deeds; there is neither dīnār nor dirham there for recompense and settlement, and Allāh wrongs no one."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ فجر کی نماز سے پہلے کی نماز کی ( سنتوں ) کو تم لوگ ترک نہ کرنا ‘ کیونکہ ان دونوں میں رغبت پائی جاتی ہے ‘‘۔ میں نے آپ ﷺ کو یہ بھی ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ تم اپنی اولاد کی نفی نہ کرنا ‘ ورنہ اللہ تعالیٰ تمہیں تمام مخلوق کے سامنے اُسی طرح رسوائی کا شکار کرے گا ، جس طرح تم نے اس اولاد کی دنیا میں رُسوا کیا ہو گا “۔ میں نے آپ ﷺ کو یہ بھی ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ تم ایسی حالت میں نہ مرنا کہ تمہارے ذمہ قرض ہو ‘ کیونکہ آخرت میں نیکیوں اور برائیوں کا لین دین ہو گا ‘ وہاں دینار یا درہم تو نہیں ہو گا ، جزا اور سزا دونوں میں ( نیکیوں اور برائیوں کا لین دین ہو گا ) اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم نہیں کرتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن یحیی ہے وہ ” ضعیف “ ہے امام احمد نے اس کا یہ حصہ نقل کیا ہے : ’’ فجر کی دو رکعات کو تم باقاعدگی سے ادا کرنا ‘ کیونکہ ان میں رغبت پائی جاتی ہے ‘‘۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ۔

3304

Majma al-Zawaid #3304

وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ صَنْعَاءَ قَالَ: «كُنَّا بِمَكَّةَ فَجَلَسْنَا إِلَى عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ إِلَى جَنْبِ جِدَارِ الْمَسْجِدِ فَلَمْ نَسْأَلْهُ وَلَمْ يُحَدِّثْنَا قَالَ: ثُمَّ جَلَسْنَا إِلَى ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - مِثْلَ مَجْلِسِكُمْ هَذَا فَلَمْ نَسْأَلْهُ وَلَمْ يُحَدِّثْنَا فَقَالَ: مَا لَكُمْ لَا تَكَلَّمُونَ وَلَا تَذْكُرُونَ اللَّهَ؟ قُولُوا: اللَّهُ أَكْبَرُ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ بِوَاحِدٍ عَشْرٌ وَبِعَشْرٍ مِائَةٌ مَنْ زَادَ زَادَهُ اللَّهُ وَمَنْ سَكَتَ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ خَمْسًا سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قُلْنَا: بَلَى، قَالَ: "" وَرَكْعَتَيِ الْفَجْرِ حَافِظُوا عَلَيْهِمَا فَإِنَّ فِيهِمَا الرَّغَائِبَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

A man of the people of Ṣanʿāʾ reported that while in Makkah they sat beside ʿAṭāʾ al-Khurāsānī by the wall of the mosque without questioning him or his narrating to them. Then they sat with Ibn ʿUmar رضي الله عنهما in a similar gathering without questioning or narration, until he asked why they did not speak or remember Allāh, urging them to say Allāhu Akbar, al-Ḥamdu lillāh, and Subḥān Allāh wa bi-ḥamdih, whereby one counts as ten and ten as a hundred, with increase for whoever increases, and forgiveness for whoever remains silent. He then asked whether he should inform them of five matters he heard from the Messenger of Allāh ﷺ, and upon their assent he mentioned guarding the two rakʿahs of Fajr for their precious rewards. > **"Say: Allāhu Akbar, al-Ḥamdu lillāh, and Subḥān Allāh wa bi-ḥamdih; one counts as ten and ten as a hundred. Whoever increases, Allāh increases for him, and whoever remains silent, Allāh forgives him. Guard the two rakʿahs of Fajr, for therein lie precious rewards."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

صنعاء سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : میں مکہ میں موجود تھا ہم لوگ عطاء خراسانی کے پاس ایک مسجد کی دیوار کے پہلو میں بیٹھے ہوئے تھے ‘ نہ تو ہم نے اُن سے کوئی سوال کیا ‘ اور نہ ہی اُنہوں نے ہمیں کوئی حدیث بیان کی ‘ راوی بیان کرتے ہیں : پھر ہم لوگ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آ کر بیٹھے ، جس طرح تم لوگ بیٹھے ہوئے ہو ‘ ہم نے ان سے بھی کوئی سوال نہیں کیا ‘ اور انہوں نے بھی ہمیں کوئی حدیث بیان نہیں کی ، پھر انہوں نے ارشاد فرمایا : کیا وجہ ہے ؟ تم لوگ کیوں بات نہیں کر رہے ہو ؟ تم اللہ تعالیٰ کا ذکر کیوں نہیں کر رہے ؟ تم لوگ کہو : «اللہ اکبر» اور «سبحان اللہ و بحمدہ» ایک کے بدلے میں دس ہوں گے ‘ دس کے بدلے میں سو ہوں گے ‘ جو شخص زیادہ کرے گا ‘ تو اللہ تعالیٰ اسے مزید اجر و ثواب عطا کرے گا ‘ جو شخص خاموش رہے ‘ تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کرے ‘ کیا میں تمہیں پانچ چیزوں کے بارے میں نہ بتاؤں ‘ جو میں نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی ہیں ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں ! حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بتایا : ( نبی اکرم ﷺ نے یہ فرمایا تھا : ) ’’ فجر کی دو رکعات کو تم باقاعدگی سے ادا کرنا ‘ کیونکہ ان دونوں میں رغبت پائی جاتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ‘ جسے امام ابوداؤد نے بھی روایت کیا ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

3305

Majma al-Zawaid #3305

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ، وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ تَعْدِلُ رُبُعَ الْقُرْآنِ "" وَكَانَ يَقْرَأُ بِهِمَا فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، وَقَالَ: "" هَاتَانِ الرَّكْعَتَانِ فِيهِمَا رَغَبُ الدَّهْرِ» "". قُلْتُ: رَوَى لَهُ التِّرْمِذِيُّ الْقِرَاءَةَ بِهِمَا فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ وَقَالَ: عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ: عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that Qul Huwa Allāhu Aḥad equals a third of the Qurʾān, and Qul Yā Ayyuhā al-Kāfirūn equals a quarter of the Qurʾān. He would recite them in the two rakʿahs of Fajr, declaring that in those two rakʿahs lies the aspiration of all time. > **"Qul Huwa Allāhu Aḥad equals a third of the Qurʾān, and Qul Yā Ayyuhā al-Kāfirūn equals a quarter of the Qurʾān. In these two rakʿahs lies the aspiration of all time."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : «قل ھو اللہ احد» ایک تہائی قرآن کے برابر ہے ‘ اور ’’ «قل یا ایھاالکافرون» ‘‘ ایک چوتھائی قرآن کے برابر ہے ‘‘۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم ﷺ یہ دونوں سورتیں فجر کی دو رکعات ( سنتوں میں ) پڑھا کرتے تھے ‘ اور یہ ارشاد فرماتے تھے : ان دو رکعات میں ہمیشہ رغبت پائی جاتی ہے ‘‘۔ میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس صحابی کے حوالے سے ‘ فجر کی دو رکعات میں دونوں سورتوں کی تلاوت کرنے سے متعلق روایت نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ‘ وہ بیان کرتے ہیں : یہ ابومحمد کے حوالے سے ‘ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے ‘ جب کہ امام طبرانی فرماتے ہیں : یہ مجاہد کے حوالے سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے ‘ امام ابویعلیٰ کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

3306

Majma al-Zawaid #3306

وَعَنْ أَنَسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقْرَأُ فِي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ: {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} [الكافرون: 1]، وَ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} [الإخلاص: 1]». رَوَاهُ الْبَزَّارُ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ would recite Qul Yā Ayyuhā al-Kāfirūn and Qul Huwa Allāhu Aḥad in the two rakʿahs of Fajr.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ فجر کی دو رکعات ( سنتوں میں ) سورہ الکافرون اور سورہ اخلاص کی تلاوت کیا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔

3307

Majma al-Zawaid #3307

وَلِأَنَسٍ عِنْدَ الْبَزَّارِ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْوَتْرِ يَقْرَأُ فِيهِمَا: {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} [الكافرون: 1]، وَ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} [الإخلاص: 1]» وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ وَإِنْ كَانَ فِي الثَّانِي عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَلِيمٍ وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ ضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ would pray two rakʿahs after Witr in which he recited Qul Yā Ayyuhā al-Kāfirūn and Qul Huwa Allāhu Aḥad.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام بزار نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : نبی اکرم ﷺ وتر کے بعد جو دو رکعات ادا کرتے تھے ‘ اُن میں سورت الکافرون اور سورت اخلاص کی تلاوت کیا کرتے تھے ۔ ان دونوں روایات کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ‘ اگرچہ دوسری روایت کی سند میں ایک راوی عتبہ بن ابوحلیم ہے ‘ وہ ’’ ثقہ ‘‘ ہے ، لیکن امام نسائی اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

3308

Majma al-Zawaid #3308

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا صَلَاةَ قَبْلَ الْفَجْرِ إِلَّا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that there is no prayer before Fajr except the two rakʿahs of Fajr. > **"There is no prayer before Fajr except the two rakʿahs of Fajr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ فجر ( کی فرض نماز ) سے پہلے کوئی اور نماز ادا نہیں کی جائے گی ‘ صرف فجر کی دو رکعات ( سنتیں ) ادا کی جائیں گی ‘‘۔ یہ روایت بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے ‘ جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔

3309

Majma al-Zawaid #3309

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قَيْسٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that when Fajr rises, there is no prayer except the two rakʿahs of Fajr. > **"When Fajr rises, there is no prayer except the two rakʿahs of Fajr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب صبح صادق ہو جائے ‘ تو پھر فجر کی دو رکعات ( سنتوں ) کے علاوہ کوئی اور ( نفل ) نماز ادا نہیں کی جائے گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن قیس ہے ‘ اور وہ ’’ ضعیف ‘‘ ہے ۔

3310

Majma al-Zawaid #3310

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ لَيْسَ فِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَهُوَ فِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ وَإِنْ كَانَ اخْتُلِفَ فِي حُيَيِّ الْمُعَافِرِيِّ فَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما reported that when the Messenger of Allāh ﷺ had prayed the two rakʿahs of Fajr, he would recline upon his right side.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب فجر کی دو رکعات ( سنتیں ) ادا کر لیتے تھے ‘ تو دائیں پہلو کے بل لیٹ جاتے تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ابن لہیعہ نامی راوی نہیں ہے ‘ وہ امام احمد کی سند میں ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ‘ اگرچہ حیی معافری کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ‘ لیکن اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔

3311

Majma al-Zawaid #3311

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ ثُمَّ يَقُولُ: "" اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَرَبَّ إِسْرَافِيلَ وَرَبَّ مُحَمَّدٍ أَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ "" ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى صَلَاتِهِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported that the Messenger of Allāh ﷺ would pray the two rakʿahs before Fajr, then supplicate for refuge from the Fire through the Lord of Jibrīl, Mīkāʾīl, Isrāfīl, and Muḥammad, then go out to his prayer. > **"O Allāh, Lord of Jibrīl, Mīkāʾīl, Isrāfīl, and Muḥammad, I seek refuge in You from the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ فجر سے پہلے دو رکعات ( سنتیں ) ادا کرتے تھے ، پھر یہ دعا کرتے تھے : ’’ اے اللہ ! اے جبرائیل و میکائیل کے پروردگار ! اسرافیل کے پروردگار ! حضرت محمد ( ﷺ ) کے پروردگار ! میں جہنم سے تیری پناہ مانگتا ہوں ‘‘۔ پھر آپ ﷺ نماز کے لئے تشریف لے جاتے تھے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن ابوحمید ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

3312

Majma al-Zawaid #3312

وَعَنِ أُسَامَةَ بْنِ عُمَيْرٍ «أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فَصَلَّى قَرِيبًا مِنْهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: "" رَبَّ جِبْرِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ وَمُحَمَّدٍ أَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ "" - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ» -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ الذَّهَبِيُّ: عَبَّادُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مُبَشِّرٍ لَا شَيْءَ، قُلْتُ: قَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ.

EnglishUnverified translation

Usāmah ibn ʿUmayr رضي الله عنه reported that he prayed the two rakʿahs of Fajr with the Messenger of Allāh ﷺ, praying close to him. The Prophet ﷺ prayed two light rakʿahs, and he heard him thrice invoke the Lord of Jibrīl, Mīkāʾīl, Isrāfīl, and Muḥammad for refuge from the Fire. > **"Lord of Jibrīl, Mīkāʾīl, Isrāfīl, and Muḥammad, I seek refuge in You from the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت اسامہ بن عمیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ فجر کی دو رکعات ادا کیں ‘ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے قریب نماز ادا کی ‘ نبی اکرم ﷺ نے دو مختصر رکعت ادا کی تھیں ‘ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا : ’’ اے جبرائیل ‘ میکائیل ‘ اسرافیل اور حضرت محمد ( ﷺ ) کے پروردگار ! میں جہنم سے تیری پناہ مانگتا ہوں “۔ یہ کلمات آپ ﷺ نے تین مرتبہ پڑھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عباد بن سعید ہے ‘ امام ذہبی فرماتے ہیں : عباد بن سعید نے مبشر سے روایات نقل کی ہیں ‘ یہ کوئی چیز نہیں ہے ، میں یہ کہتا ہوں : ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ’’ الثقات “ میں کیا ہے ۔

3313

Majma al-Zawaid #3313

وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كَانَ عَزِيزًا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنْ يَتَكَلَّمَ (بَعْدَ الْفَجْرِ) إِلَّا بِذِكْرِ اللَّهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ: أَنَّهُ كَانَ يَعِزُّ عَلَيْهِ أَنْ يَسْمَعَ مُتَكَلِّمًا بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ إِلَى أَنْ يُصَلِّيَ الصُّبْحَ.

EnglishUnverified translation

Abū ʿUbaydah ibn ʿAbd Allāh ibn Masʿūd reported that it was grievous to ʿAbd Allāh ibn Masʿūd رضي الله عنه to speak after Fajr except with the remembrance of Allāh. In another narration, it grieved him to hear anyone speaking from the rising of Fajr until the performance of the morning prayer.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فجر کے بعد کلام کرنے کو پسند نہیں کرتے تھے ‘ وہ صرف اللہ کا ذکر کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ ابوعبیدہ نامی راوی نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ راوی ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ‘ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ انہیں یہ بات ناگوار گزرتی تھی کہ صبح صادق ہو جانے کے بعد سے لے کر ‘ صبح کی نماز ادا کرنے تک ، کسی کو کلام کرتے ہوئے سنیں ‘‘۔

3314

Majma al-Zawaid #3314

وَعَنْ عَطَاءٍ قَالَ: خَرَجَ ابْنُ مَسْعُودٍ عَلَى قَوْمٍ يَتَحَدَّثُونَ بَعْدَ الْفَجْرِ فَنَهَاهُمْ عَنِ الْحَدِيثِ وَقَالَ: إِنَّمَا جِئْتُمْ لِلصَّلَاةِ فَإِمَّا أَنْ تُصَلُّوا وَإِمَّا أَنْ تَسْكُتُوا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَعَطَاءٌ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAṭāʾ reported that Ibn Masʿūd رضي الله عنه came upon a group conversing after Fajr and forbade them from talk, declaring that they had come only for prayer, so they should either pray or remain silent.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عطاء بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کچھ لوگوں کے پاس تشریف لائے ، جو فجر کی نماز کے بعد ( یا صبح صادق ہو جانے کے بعد ) آپس میں بات چیت کر رہے تھے ، تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بات چیت کرنے سے منع کیا ‘ اور ارشاد فرمایا : تم لوگ نماز ادا کرنے کے لئے آئے ہو ‘ یا تو تم نماز ادا کرو ‘ یا پھر خاموش رہو ! یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ عطاء نامی راوی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

3315

Majma al-Zawaid #3315

عَنْ ثَوْبَانَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ يُصَلِّيَ بَعْضَ نِصْفِ النَّهَارِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَاكَ تَسْتَحِبُّ الصَّلَاةَ هَذِهِ السَّاعَةَ!؟ قَالَ: "" تُفْتَحُ فِيهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَيَنْظُرُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - بِالرَّحْمَةِ إِلَى خَلْقِهِ، وَهِيَ صَلَاةٌ كَانَ يُحَافِظُ عَلَيْهَا آدَمُ وَنُوحٌ وَإِبْرَاهِيمُ وَمُوسَى وَعِيسَى». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عُتْبَةُ بْنُ السَّكَنِ قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ: مَتْرُوكٌ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ: يُخْطِئُ وَيُخَالِفُ.

EnglishUnverified translation

Thawbān رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ liked to pray some of the middle of the day, whereupon ʿĀʾishah رضي الله عنها observed his fondness for prayer at that hour. He explained that therein the gates of heaven are opened and Allāh Blessed and Exalted looks with mercy upon His creation, and that it is a prayer observed regularly by Ādam, Nūḥ, Ibrāhīm, Mūsā, and ʿĪsā. > **"Therein the gates of heaven are opened, and Allāh Blessed and Exalted looks with mercy upon His creation. It is a prayer regularly observed by Ādam, Nūḥ, Ibrāhīm, Mūsā, and ʿĪsā."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اس بات کو مستحب سمجھتے تھے کہ نصف النہار کے بعد کچھ ( نفل یعنی سنت ) نماز ادا کریں ‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اس گھڑی میں نماز کو مستحب سمجھتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس گھڑی میں آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ‘ اور اللہ تعالیٰ رحمت کے ساتھ اپنی مخلوق کی طرف نظر کرتا ہے ‘ یہ ایک ایسی نماز ہے ‘ جسے حضرت آدم ‘ حضرت نوح ‘ حضرت ابراہیم ، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہم السلام نے باقاعدگی کے ساتھ ادا کیا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عتبہ بن سکن ہے ‘ امام دارقطنی فرماتے ہیں : یہ متروک ہے ‘ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ’’ الثقات ‘‘ میں کیا ہے ‘ وہ فرماتے ہیں : یہ غلطی بھی کر جاتا ہے ‘ اور ( دوسرے راویوں کے ) برخلاف بھی نقل کر دیتا ہے ۔

3316

Majma al-Zawaid #3316

وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ: «لَمَّا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَيَّ رَأَيْتُهُ يُدِيمُ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ وَقَالَ: "" إِنَّهُ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ فُتِحَتْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ فَلَا يُغْلَقُ مِنْهَا بَابٌ حَتَّى يُصَلَّى الظُّهْرُ، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ يُرْفَعَ لِي فِي تِلْكَ السَّاعَةِ خَيْرٌ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ.

EnglishUnverified translation

Abū Ayyūb رضي الله عنه reported that when the Messenger of Allāh ﷺ stayed with him, he saw him persist in four rakʿahs before Ẓuhr, explaining that when the sun declines the gates of heaven are opened and none is closed until Ẓuhr is prayed, and he loves that good from him be raised therein. > **"When the sun declines, the gates of heaven are opened, and none of them is closed until Ẓuhr is prayed, so I love that good from me be raised in that hour."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے میرے ہاں قیام کیا ، تو میں نے آپ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ظہر سے پہلی کی چار رکعات باقاعدگی سے ادا کیا کرتے تھے ‘ آپ ﷺ ارشاد فرماتے تھے : ” جب سورج ڈھل جاتا ہے ‘ تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ، تو ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا ‘ جب تک ظہر کی نماز ادا نہیں کر لی جاتی ‘ تو مجھے یہ بات پسند ہے کہ اس گھڑی میں میری بھلائی اوپر کی طرف جائے “۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔

3317

Majma al-Zawaid #3317

وَلِأَبِي أَيُّوبَ فِي الْكَبِيرِ قَالَ: «نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَيَّ شَهْرًا فَرَأَيْتُهُ إِذَا مَالَتِ الشَّمْسُ - أَوْ زَالَتْ - فَإِنْ كَانَ فِي عَمَلٍ مِنَ الدُّنْيَا رَفَضَ بِهِ وَإِنْ كَانَ نَائِمًا فَكَأَنَّمَا يُوقَظُ فَيَقُومُ وَيَغْتَسِلُ - أَوْ يَتَوَضَّأُ - ثُمَّ يَرْكَعُ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ يُتِمُّ فِيهِنَّ الرُّكُوعَ وَيُتِمَّهُنَّ وَيُحْسِنُهُنَّ وَيَتَمَكَّنُ فِيهِنَّ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَنْطَلِقَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُكَ إِذَا مَالَتِ الشَّمْسُ أَوْ زَالَتْ فَإِنْ كَانَ فِي يَدِكَ عَمَلٌ مِنَ الدُّنْيَا رَفَضْتَ بِهِ أَوْ كُنْتَ نَائِمًا فَكَأَنَّمَا تُوقَظُ فَتَغْتَسِلُ أَوْ تَتَوَضَّأُ ثُمَّ تَرْكَعُ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ تُتِمَّهُنَّ وَتَتَمَكَّنُ فِيهِنَّ وَتُحْسِنُهُنَّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ ابْوَابَ السَّمَاءِ وَأَبْوَابَ الْجَنَّةِ يُفْتَحْنَ فِي تِلْكَ السَّاعَةِ فَلَا يُوفِي أَحَدٌ بِهَذِهِ الصَّلَاةِ فَأَحْبَبْتُ أَنْ يَصْعَدَ مِنِّي إِلَى رَبِّي فِي تِلْكَ السَّاعَةِ خَيْرٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ، وَفِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَا وَفِي الْأُولَى عُبَيْدَةُ بْنُ مُعَتِّبٍ الضَّبِّيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ إِلَّا أَنَّ ابْنَ عَدِيٍّ قَالَ: وَهُوَ مَعَ ضَعْفِهِ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Ayyūb رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ stayed with him for a month, and he observed that when the sun inclined or declined, whether engaged in worldly work or asleep, he would leave it or rise as though awakened, then perform ghusl or wuḍūʾ, and pray four rakʿahs completing and perfecting their bowing with composure. When he sought to depart, Abū Ayyūb asked him about this practice, and the Messenger of Allāh ﷺ explained that the gates of heaven and the gates of Paradise are opened in that hour, none fulfilling this prayer therein, and he loved that good from him ascend to his Lord in that hour. > **"Indeed the gates of heaven and the gates of Paradise are opened in that hour, and no one fulfils this prayer therein, so I have loved that good from me ascend to my Lord in that hour."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ، معجم کبیر میں یہ روایت منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ایک ماہ میرے ہاں مقیم رہے ، میں نے آپ کو دیکھا کہ جب سورج ڈھل جاتا ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) تو اگر آپ دنیا کا کوئی کام کر رہے ہوتے ‘ تو اسے ایک طرف کر دیتے تھے ‘ اور اگر سو رہے ہوتے تھے ‘ تو بیدار ہو جاتے تھے ، پھر اٹھ کر غسل کرتے تھے ‘ یا وضو کرتے تھے ‘ پھر چار رکعات ادا کرتے تھے ، جن میں آپ رکوع مکمل کرتے تھے ‘ آپ انہیں مکمل اور اچھے طریقے سے ادا کرتے تھے ‘ اور انہیں اہتمام کے ساتھ ادا کرتے تھے ‘ جب آپ تشریف لے جانے لگے ‘ تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کو دیکھا کہ جب سورج ڈھل جاتا ہے ‘ تو اگر آپ کوئی دنیاوی کام کر رہے ہوں ‘ تو اسے ایک طرف کر دیتے ہیں ‘ اور اگر سو رہے ہوں تو یوں ہوتا ہے ‘ جیسے آپ کو بیدار کر دیا گیا ہے ‘ پھر آپ غسل کر کے یا وضو کر کے چار رکعات ادا کرتے ہیں ، جنہیں آپ اہتمام کے ساتھ مکمل اور اچھے طریقے سے ادا کرتے ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ آسمان کے دروازے اور جنت کے دروازے ‘ اس گھڑی میں کھول دیے جاتے ہیں ، اس گھڑی میں کوئی بھی یہ نماز ادا نہیں کر رہا ہوتا ‘ تو مجھے یہ بات پسند ہے کہ اس گھڑی میں میری طرف سے میرے پروردگار کی بارگاہ میں کوئی بھلائی اوپر جائے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ امام ابوداؤد اور امام ابن ماجہ نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ‘ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن زحر ہے ‘ جس نے علی بن یزید سے یہ روایت نقل کی ہے ‘ ان دونوں کو ضعیف قرار دیا گیا ہے ‘ ان دونوں کی توثیق بھی کی گئی ہے ، پہلی روایت میں ایک راوی عبید بن معتب ضبی ہے ‘ اور وہ متروک ہے ‘ البتہ ابن عدی کہتے ہیں : اس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ۔

3318

Majma al-Zawaid #3318

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا اسْتَوَى النَّهَارُ خَرَجَ إِلَى بَعْضِ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ وَقَدْ يَسَرَّ لَهُ فِيهَا طَهُورَهُ فَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ قَضَاهَا وَإِلَّا تَطَهَّرُ فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ عَنْ كَبِدِ السَّمَاءِ قَدْرَ شِرَاكٍ قَامَ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ لَمْ يَتَشَهَّدْ بَيْنَهُنَّ وَيُسَلِّمُ فِي آخِرِ الْأَرْبَعِ، ثُمَّ يَقُومُ فَيَأْتِي الْمَسْجِدَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي تُصَلِّيهَا وَلَا نُصَلِّيهَا؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: "" مَنْ صَلَّاهُنَّ مِنْ أُمَّتِي فَقَدْ أَحْيَا لَيْلَتَهُ، سَاعَةٌ تُفْتَحُ فِيهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَيُسْتَجَابُ فِيهَا الدُّعَاءُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ نَافِعٌ أَبُو هُرْمُزَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that when midday came, the Messenger of Allāh ﷺ would go out to one of the gardens of Madīnah where purification water was prepared for him. If he needed to relieve himself he did so, otherwise he purified himself. When the sun declined from the middle of the heaven by about a sandal-strap's measure, he stood and prayed four rakʿahs without Tashahhud between them, saluting at the end of the four, then rose and came to the mosque. When Ibn ʿAbbās asked what prayer this was which they did not pray, he declared that whoever of his Ummah prays them has enlivened his night, for it is an hour in which the gates of heaven are opened and supplication is answered. > **"Whoever of my Ummah prays them has enlivened his night; it is an hour in which the gates of heaven are opened and supplication is answered."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب دوپہر ہو جاتی تھی ‘ تو نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ کے کسی باغ میں تشریف لے جاتے تھے ‘ جہاں آپ کے لئے طہارت کا پانی تیار کیا جاتا تھا ‘ اگر آپ نے قضائے حاجت کرنا ہوتی تھی ‘ تو وہ کر لیتے تھے ‘ ورنہ وضو کر لیتے تھے ‘ جب آسمان پر سے سورج ڈھل جاتا تھا ‘ جو تسمے جتنا ( ڈھلا ) ہوتا ‘ تو آپ اٹھتے اور چار رکعات ادا کرتے تھے ‘ آپ ان کے درمیان تشہد نہیں پڑھتے تھے ‘ اور چوتھی رکعت کے بعد سلام پھیرتے تھے ‘ پھر آپ اٹھ جاتے تھے ‘ اور مسجد تشریف لے آتے تھے ‘ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ نماز کیا ہے ‘ جو آپ ادا کرتے ہیں ‘ اور ہم اسے ادا نہیں کرتے ہیں ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میری امت کا جو شخص اس نماز کو ادا کرے گا ‘ تو گویا اس نے اس رات عبادت کی ‘ یہ ایک ایسی گھڑی ہے ‘ جس میں آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ‘ اور اس میں دعا مستجاب ہوتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی نافع ابوہرمز ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

3319

Majma al-Zawaid #3319

وَعَنْ صَفْوَانَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ صَلَّى أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ كُنَّ لَهُ كَأَجْرِ عَشْرِ رَقَبَاتٍ "" - أَوْ قَالَ: "" أَرْبَعِ رِقَابٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُمْ.

EnglishUnverified translation

Ṣafwān رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ that whoever prays four rakʿahs before Ẓuhr, they will be for him like the reward of ten necks, or he said like four necks from the children of Ismāʿīl. > **"Whoever prays four before Ẓuhr, they will be for him like the reward of ten necks, or four necks from the children of Ismāʿīl."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت صفوان رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص ظہر سے پہلے چار رکعات ادا کرے گا ‘ تو یہ اس کے لئے دس گردنیں آزاد کرنے کی مانند ہو گا ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے چار غلام آزاد کرنے کی مانند ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک جماعت ایسی ہے ‘ جن کے حالات میں نے ( کسی بھی کتاب میں تحریر ) نہیں پائے ہیں ۔