Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 44 · Chapter 2

Book of Resurrection

Hadith 18345–18384

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

18345

Majma al-Zawaid #18345

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ الْعَرَقَ لَيَلْزَمُ الْمَرْءَ فِي الْمَوْقِفِ حَتَّى يَقُولَ: يَا رَبِّ، إِرْسَالُكَ بِي إِلَى النَّارِ أَهْوَنُ عَلَيَّ مِمَّا أَجِدُ، وَهُوَ يَعْلَمُ مَا فِيهَا مِنْ شِدَّةِ الْعَذَابِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ عِيسَى الرَّقَاشِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Jābir, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said sweat will cling to a man in the standing until he says, my Lord, Your sending me to the Fire is easier for me than what I suffer, though he knows the severity of its torment. > **"My Lord, Your sending me to the Fire is easier than what I suffer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میدان محشر میں کس شخص کو اتنا پسینہ آئے گا کہ وہ یہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! تیرا مجھے جہنم کی طرف بھیج دینا ، میرے لئے اس سے زیادہ ہلکا ہو گا ، جس صورتحال کا میں سامنا کر رہا ہوں حالانکہ وہ شخص یہ بات جانتا ہو گا کہ جہنم کا عذاب کتنا شدید ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی فضل بن عیسیٰ رقاشی ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

18346

Majma al-Zawaid #18346

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «يُبْعَثُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ جُرْدًا، مُرْدًا، مُكَحَّلِينَ، بَنِي ثَلَاثِينَ سَنَةً». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ إِلَّا أَنَّ شَهْرًا لَمْ يُدْرِكْ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ بِنَحْوِهِ فِي بَابِ «كَيْفَ يُحْشُرُ النَّاسُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" أَبْنَاءَ ثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ سَنَةً، فِي خَلْقِ آدَمَ، وَحُسْنِ يُوسُفَ، وَقَلْبِ أَيُّوبَ». وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ الْمِقْدَامِ بْنِ الْأُسُودِ بِمَعْنَاهُ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Jabal, may Allāh be pleased with him, reported that the Prophet of Allāh ﷺ said believers will be raised on the Day of Resurrection without body hair or beard, with kohl-lined eyes, at thirty years of age. > **"Believers will be raised beardless, with kohl-lined eyes, at thirty years."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت کے دن مومنین کو یوں زندہ کیا جائے گا کہ وہ داڑھی مونچھ کے بغیر ہوں گے ان کی آنکھیں سرمگیں ہوں گی اور ان کی عمر تیس سال ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے صرف یہ ہے کہ شہر نامی راوی نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث گزر چکی ہے جو اس کی مانند ہے ، وہ اس باب میں گزری ہے کہ لوگوں کا حشر کیسے ہو گا ؟ البتہ انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے تھے : اُن کی عمر 33 سال ہو گی اور ان کی جسامت حضرت آدم علیہ السلام کی مانند ہو گی اور خوبصورتی حضرت یوسف علیہ السلام کی مانند ہو گی اور دل حضرت ایوب علیہ السلام کی مانند ہو گا ۔ اس روایت کی سند عمدہ ہے ، اس سے پہلے حضرت مقدام بن اسود رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت بھی گزر چکی ہے ، جو اسی مضمون کے بارے میں ہے ۔

18347

Majma al-Zawaid #18347

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قِيلَ: «يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَوْمٌ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مَا أَطْوَلَ هَذَا الْيَوْمَ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّهُ لَيُخَفَّفُ عَلَى الْمُؤْمِنِ حَتَّى يَكُونَ أَخَفَّ عَلَيْهِ مِنْ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ يُصَلِّيهَا فِي الدُّنْيَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ عَلَى ضَعْفٍ فِي رَاوِيهِ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī, may Allāh be pleased with him, reported that it was said, O Messenger of Allāh, how long is the Day whose measure is fifty thousand years, and the Messenger of Allāh ﷺ said by Him in Whose Hand is his soul it will be lightened for the believer until it is lighter upon him than an ordained prayer he prayed in the world. > **"It will be lightened for the believer until lighter than an ordained prayer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ ایک ایسا دن جو پچاس ہزار سال کا ہو گا ۔‘‘ تو یہ دن کتنا زیادہ طویل ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اُس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، وہ مومن شخص کے لئے اتنا ہلکا ہو گا ( کہ وہ اس کو اس سے زیادہ مختصر محسوس ہو گا ) جتنی دیر میں وہ دنیا میں فرض نماز ادا کرتا تھا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے راوی میں پائے جانے والے ضعف کے باوجود اس کی سند حسن ہے ۔

18348

Majma al-Zawaid #18348

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ مِقْدَارَ نِصْفِ يَوْمٍ مِنْ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ، فَيُهَوَّنُ ذَلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِ كَتَدَلِّي الشَّمْسِ لِلْغُرُوبِ إِلَى أَنْ تَغْرُبَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, may Allāh be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ concerning the Day when mankind stands before the Lord of the worlds that its measure of half a day of fifty thousand years will be eased for the believer like the sun's descent toward setting until it sets. > **"It will be eased for the believer like the sun's descent toward setting."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” جس دن لوگ تمام جہانوں کے پروردگار کی بارگاہ میں کھڑے ہوں گے ۔‘‘ ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) اُس دن کی نصف کی مقدار پچاس ہزار سال ہو گی اور وہ دن مومن کے لیے اتنا ہلکا ہو گا ( یعنی وہ مومن کو اتنا مختصر محسوس ہو گا ) جتنا سورج جب غروب ہونے کے قریب ہو اُس وقت سے لے کر غروب ہونے تک کا درمیانی وقت ہوتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف اسماعیل بن عبداللہ بن خالد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

18349

Majma al-Zawaid #18349

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو «أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ ثَلَاثٍ. فَقَالَ: "" سَلْ عَمَّا شِئْتَ "". قَالَ: كَمْ مُقَامُ النَّاسِ بَيْنَ يَدَيْ رَبِّ الْعَالَمِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ وَمَا يَشُقُّ عَلَى الْمُؤْمِنِ فِي ذَلِكَ الْمُقَامِ؟ وَهَلْ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ مَنْزِلٌ؟ فَقَالَ: "" أَمَّا قَوْلُكَ: كَمْ مُقَامُ النَّاسِ بَيْنَ يَدَيْ رَبِّ الْعَالَمِينَ؟ فَأَلْفُ سَنَةٍ، لَا يُؤْذَنُ لَهُمْ. وَأَمَّا قَوْلُكَ: مَا يَشُقُّ عَلَى الْمُؤْمِنِ فِي ذَلِكَ الْمُقَامِ؟ فَإِنَّ الْمُؤْمِنِينَ فَرِيقَانِ: فَأَمَّا السَّابِقُونَ فَكَالرَّجُلَيْنِ تَنَاجَيَا فَطَالَتْ نَجْوَاهُمَا، ثُمَّ انْصَرَفَا، فَأُدْخِلَا الْجَنَّةَ "". فَقُلْتُ: مَا أَيْسَرَ هَذَا! "" أَمَّا قَوْلُكَ: هَلْ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ مَنْزِلٌ؟ فَإِنَّ بَيْنَهُمَا حَوْضِي، شُرُفَاتُهُ عَلَى الْجَنَّةِ، وَتَضْرِبُ شُرُفَاتُهُ عَلَى النَّارِ، طُولُهُ شَهْرٌ، وَعَرْضُهُ شَهْرٌ، أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، فِيهِ أَقْدَاحٌ مِنْ فِضَّةٍ وَقَوَارِيرُ مَنْ شَرِبَ مِنْهُ كَأْسًا لَمْ يَجِدْ عَطَشًا وَلَا حُزْنًا حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ». قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ فِيهِ ذِكْرُ الْحَوْضِ فِي الصَّحِيحِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ هِشَامُ بْنُ بِلَالٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr, may Allāh be pleased with them, reported that he came to the Prophet ﷺ to ask three things: how long people will stand before the Lord of the worlds, what will ease it for the believer, and whether there is a station between Paradise and Fire. He ﷺ said they will stand a thousand years without leave, the foremost believers will pass it like two men in long intimate converse then entering Paradise, and between Paradise and Fire lies his Basin, a month's length and width, whiter than milk and sweeter than honey, with silver cups and flasks, whoever drinks a cup never thirsting nor grieving until judgment is passed. > **"Between Paradise and Fire lies my Basin, a month's journey, whiter than milk and sweeter than honey."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : میں آپ سے تین چیزوں کے بارے میں سوال کرنے والا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم جو چاہو سوال کرو ! انہوں نے عرض کی : قیامت کے دن تمام جہانوں کے پروردگار کے سامنے لوگ کتنا عرصہ کھڑے رہیں گے ؟ اور وہ کھڑا رہنا ، مومن کے لئے کتنا مشکل ہو گا ؟ اور کیا جنت اور جہنم کے درمیان کوئی اور منزل ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جہاں تک تمہارے اس سوال کا تعلق ہے کہ لوگ تمام جہانوں کے پروردگار کے آگے کتنا عرصہ کھڑے رہیں گے ؟ تو وہ 1000 سال ( کا عرصہ ) ہو گا ، انہیں اجازت نہیں دی جائے گی ۔ جہاں تک تمہارے اس سوال کا تعلق ہے کہ وہ کھڑا ہونا ، مومن کے لئے کتنا مشکل ہو گا ؟ تو مومنین کے دو گروہ ہوں گے ، جہاں تک سبقت لے جانے والے لوگوں کا تعلق ہے تو جس طرح دو آدمی سرگوشی میں بات کر رہے ہوں اور ان کی سرگوشی طویل ہو جائے اور پھر وہ دونوں واپس چلے جائیں ( بس اتنا وقت محسوس ہو گا اور انہیں جنت میں داخل کر دیا جائے گا ۔ میں نے کہا : یہ تو بہت آسان ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جہاں تک تمہارے اس سوال کا تعلق ہے کہ کیا جنت اور جہنم کے درمیان کوئی اور منزل بھی ہے ؟ تو ان دونوں کے درمیان میرا حوض ہے ، اس کا بالائی حصہ جنت سے لگتا ہے اور اس کے بالائی حصے کا ایک حصہ جہنم سے لگتا ہے ، اس کی لمبائی ایک ماہ کی مسافت جتنی ہے اور اس کی چوڑائی بھی ایک ماہ کی مسافت جتنی ہے ، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید ہے اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے اس میں چاندی کے پیالے اور شیشے کے برتن ہوں گے جو اس میں سے ایک گلاس پی لے گا اسے پیاس یا غم محسوس نہیں ہو گا ، جب تک لوگوں کے درمیان فیصلہ نہیں ہو جاتا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے حوض کے تذکرے کے بارے میں ایک روایت ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن بلال ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

18350

Majma al-Zawaid #18350

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «تَجْتَمِعُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيُقَالُ: أَيْنَ فُقَرَاءُ هَذِهِ الْأُمَّةِ وَمَسَاكِينُهَا؟ فَيَقُومُونَ فَيَقُولُ: مَاذَا عَمِلْتُمْ؟ فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا، ابْتُلِينَا فَصَبَرْنَا، وَوَلَّيْتَ الْأُمُورَ وَالسُّلْطَانَ غَيْرَنَا. فَيَقُولُ اللَّهُ - جَلَّ ذِكْرُهُ -: صَدَقْتُمْ - أَوْ نَحْوَ هَذَا - فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ النَّاسِ بِزَمَانٍ. وَيَبْقَى شِدَّةُ الْحِسَابِ عَلَى ذَوِي الْأُمُورِ وَالسُّلْطَانِ "". قَالُوا: فَأَيْنَ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: "" يُوضَعُ لَهُمْ مَنَابِرُ مِنْ نُورٍ، يُظَلِّلُ عَلَيْهِمُ الْغَمَامُ، يَكُونُ ذَلِكَ الْيَوْمَ أَقْصَرَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ مِنْ سَاعَةٍ مِنْ نَهَارٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي كَثِيرٍ الزُّبَيْدِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr, may Allāh be pleased with them, reported from the Prophet ﷺ that on the Day of Resurrection it will be said where are the poor and needy of this nation, and they will rise and be asked what they did. They will say, our Lord, we were tried and patient while authority was given to others, so Allāh will say they spoke truly and they will enter Paradise long before others while severe reckoning remains for rulers. Asked where believers will be then, he said pulpits of light will be set for them shaded by clouds, and that Day will be shorter upon the believers than an hour of daytime. > **"The poor will enter Paradise long before others, and that Day will be shorter upon the believers than an hour."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالله بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تم لوگ قیامت کے دن اکٹھے ہو گے ، تو یہ کہا جائے گا : اس امت کے فقراء اور مساکین کہاں ہیں ؟ تو وہ کھڑے ہو جائیں گے ، ان سے دریافت کیا جائے گا : تم نے کیا عمل کیا ؟ وہ جواب دیں گے : اے ہمارے پروردگار ! تو نے ہمیں آزمائش میں مبتلا کیا تو ہم نے صبر سے کام لیا ، تو نے امور اور حکومت کا نگران ہمارے علاوہ دوسروں کو بنایا ، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تم نے سچ کہا ہے ، راوی کو شک ہے ، یا شاید اس کی مانند کوئی اور کلمہ ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تو وہ لوگ دوسرے لوگوں سے ایک مخصوص عرصہ پہلے جنت میں داخل ہو جائیں گے اور حساب کی شدت ان لوگوں کے لیے باقی رہ جائے گی ( یعنی جو دنیا میں امور اور حکومت سے متعلق افراد تھے ) ۔ لوگوں نے دریافت کیا : اُس وقت مومنین کہاں ہوں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اُن کے لیے نور سے بنے ہوئے منبر رکھے جائیں گے ، ان پر بادل سایہ کر دیں گے اور وہ ( یعنی قیامت کا ) دن مومنین کے لیے ( دنیا کے ) دن کے ایک پہر سے زیادہ مختصر ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابوکثیر زبیدی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

18351

Majma al-Zawaid #18351

وَعَنْ لَقِيطِ بْنِ عَامِرٍ: «أَنَّهُ خَرَجَ وَافِدًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ صَاحِبٌ لَهُ يُقَالُ لَهُ: نَهِيكُ بْنُ عَاصِمِ بْنِ مَالِكِ بْنِ الْمُنْتَفِقِ. قَالَ لَقِيطٌ: خَرَجْتُ أَنَا وَصَاحِبِي حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِانْسِلَاخِ رَجَبٍ، فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ، فَقَامَ فِي النَّاسِ خَطِيبًا، فَقَالَ: "" أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي خَبَّأْتُ لَكُمْ صَوْتِي مُنْذُ أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ لِأُسْمِعَكُمْ، أَلَا فَهَلْ مِنِ امْرِئٍ بَعَثَهُ قَوْمُهُ؟ "". فَقَالُوا: اعْلَمْ لَنَا مَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. "" أَلَا ثُمَّ لَعَلَّهُ أَنْ يُلْهِيهِ حَدِيثُ نَفْسِهِ، أَوْ حَدِيثُ صَاحِبِهِ، أَوْ يُلْهِيهِ الضَّلَالُ، أَلَا إِنِّي مَسْئُولٌ: هَلْ بَلَّغْتُ؟ أَلَا اسْمَعُوا تَعِيشُوا، أَلَا اجْلِسُوا، أَلَا اجْلِسُوا "". فَجَلَسَ النَّاسُ. فَقُمْتُ أَنَا وَصَاحِبِي، حَتَّى إِذَا فَرَّغَ لَنَا فُؤَدَاهُ وَبَصَرَهُ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا عِنْدَكَ مِنْ عِلْمِ الْغَيْبِ؟ فَضَحِكَ لَعَمْرُ اللَّهِ، وَهَزَّ رَأْسَهُ، وَعَلِمَ أَنِّي أَبْتَغِي لِسَقْطِهِ، قَالَ: "" ضَنَّ رَبُّكَ - عَزَّ وَجَلَّ - بِمَفَاتِيحِ الْخَمْسِ مِنَ الْغَيْبِ، لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا اللَّهُ "". وَأَشَارَ بِيَدِهِ، قُلْتُ: وَمَا هِيَ؟ قَالَ: "" عِلْمُ الْمَنِيَّةِ، وَقَدْ عَلِمَ مَتَّى مَنِيَّةُ أَحَدِكُمْ، وَلَا تَعْلَمُونَهُ وَعِلْمُ الْمَنِيِّ حِينَ يَكُونُ فِي الرَّحِمِ قَدْ عَمِلَهُ وَلَا تَعْلَمُونَ، وَعِلْمُ مَا فِي غَدٍ وَمَا أَنْتَ طَاعِمٌ وَلَا تَعْلَمُهُ، وَعِلْمُ يَوْمِ الْغَيْثِ يُشْرِفُ عَلَيْكُمْ أَزَلِّينَ مُشْفِقِينَ، فَيَظَلُّ يَضْحَكُ، قَدْ عَلِمَ أَنَّ غَيْرَكُمْ إِلَيَّ قَرِيبٌ "". قَالَ لَقِيطٌ: لَنْ نَعْدَمَ مِنْ رَبٍّ يَضْحَكُ خَيْرًا. "" وَعِلْمُ يَوْمِ السَّاعَةِ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنَا مِمَّا تُعَلِّمُ النَّاسَ، فَإِنَّا مِنْ قَوْمٍ لَا يُصَدِّقُونَ تَصْدِيقَنَا أَحَدًا مِنْ مَذْحِجٍ الَّتِي تَرْبُو عَلَيْنَا، وَخَثْعَمَ الَّتِي تُوَالِينَا، وَعَشِيرَتِنَا الَّتِي نَحْنُ مِنْهَا. قَالَ: "" تَلْبَثُونَ مَا لَبِثْتُمْ، ثُمَّ يُتَوَفَّى نَبِيُّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ تَلْبَثُونَ مَا لَبِثْتُمْ، ثُمَّ تُبْعَثُ الصَّائِحَةُ لَعَمْرُ إِلَهِكَ، مَا تَدَعُ عَلَى ظَهْرِهَا مِنْ شَيْءٍ إِلَّا مَاتَ، وَالْمَلَائِكَةُ الَّذِينَ مَعَ رَبِّكَ - عَزَّ وَجَلَّ - وَأَصْبَحَ رَبُّكَ - عَزَّ وَجَلَّ - يُطِيفُ فِي الْأَرْضِ، وَخَلَتْ عَلَيْهِ الْبِلَادُ، فَأَرْسَلَ رَبُّكَ - عَزَّ وَجَلَّ - السَّمَاءَ بِهَضْبٍ مِنْ عِنْدِ الْعَرْشِ، فَلَعَمْرُ إِلَهِكَ، مَا تَدَعُ عَلَى ظَهْرِهَا مِنْ مَصْدَعِ قَتِيلٍ، وَلَا مَدْفَنِ مَيِّتٍ إِلَّا شَقَّتِ الْقَبْرَ عَنْهُ حَتَّى تَخْلُقَهُ مِنْ عِنْدِ رَأْسِهِ، فَيَسْتَوِيَ جَالِسًا يَقُولُ رَبُّكَ: مَهْيَمْ لِمَا كَانَ فِيهِ، يَقُولُ: يَا رَبِّ، أَمْسِ الْيَوْمَ لِعَهْدِهِ بِالْحَيَاةِ يَحْسَبُهُ حَدِيثًا بِأَهْلِهِ "". فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يَجْمَعُنَا بَعْدَ مَا تُمَزِّقُنَا الرِّيَاحُ، وَالْبِلَى، وَالسِّبَاعُ؟! قَالَ: "" أُنْبِئُكَ بِمِثْلِ ذَلِكَ فِي آلَاءِ اللَّهِ، وَالْأَرْضِ أَشْرَفْتَ عَلَيْهَا وَهِيَ مَدَرَةٌ بَالِيَةٌ. فَقُلْتَ: لَا تَحْيَا أَبَدًا، ثُمَّ أَرْسَلَ رَبُّكَ - عَزَّ وَجَلَّ - السَّمَاءَ فَلَمْ تَلْبَثْ عَلَيْكَ إِلَّا أَيَّامًا حَتَّى أَشْرَفْتَ عَلَيْهَا وَهِيَ شَرْبَةٌ وَاحِدَةٌ، وَلَعَمْرُ إِلَهِكَ، لَهُوَ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يَجْمَعَكُمْ مِنَ الْمَاءِ عَلَى أَنْ يَجْمَعَ نَبَاتَ الْأَرْضِ، فَتَخْرُجُونَ مِنَ الْأَضْوَاءِ وَمِنْ مَصَارِعِكُمْ، فَتَنْظُرُونَ اللَّهَ وَيَنْظُرُ إِلَيْكُمْ "". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَكَيْفَ وَنَحْنُ مِلْءُ الْأَرْضِ، وَهُوَ شَخْصٌ وَاحِدٌ نَنْظُرُ إِلَيْهِ وَيَنْظُرُ إِلَيْنَا؟ قَالَ: "" أُنْبِئُكَ بِمِثْلِ ذَلِكَ فِي آلَاءِ اللَّهِ، الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ آيَةٌ مِنْهُ صَغِيرَةٌ، تَرَوْنَهُمَا وَيَرَيَانِكُمْ سَاعَةً وَاحِدَةً، لَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِمَا، وَلَعَمْرُ إِلَهِكَ، لَهُوَ أَقْدَرُ عَلَى أَنْ يَرَاكُمْ وَتَرَوْهُ مِنْهُمَا أَنْ تَرَوْهُمَا وَيَرَيَاكُمْ لَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِمَا "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا يَفْعَلُ بِنَا رَبُّنَا - عَزَّ وَجَلَّ - إِذَا لَقِينَاهُ؟ قَالَ: "" تُعْرَضُونَ عَلَيْهِ بَادِيَةً صَحَائِفُكُمْ، لَا تَخْفَى مِنْكُمْ خَافِيَةٌ، فَيَأْخُذُ رَبُّكَ - عَزَّ وَجَلَّ - بِيَدِهِ غَرْفَةً مِنَ الْمَاءِ فَيَنْضَحُ قِبَلَكُمْ بِهَا، فَلَعَمْرُ إِلَهِكَ، مَا يُخْطِئُ وَجْهَ أَحَدٍ مِنْكُمْ مِنْهَا قَطْرَةٌ، فَأَمَّا الْمُسْلِمُ فَتَدَعُ وَجْهَهُ مِثْلَ الرَّيْطَةِ الْبَيْضَاءِ، وَأَمَّا الْكَافِرُ فَتَخْطِمُهُ بِمِثْلِ الْحَمِيمِ الْأَسْوَدِ، أَلَا ثُمَّ يَنْصَرِفُ نَبِيُّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَيُفَرَّقُ عَلَى أَثَرِهِ الصَّالِحُونَ، فَيَسْلُكُونَ جِسْرًا مِنَ النَّارِ، فَيَطَأُ أَحَدُكُمُ الْجَمْرَةَ، فَيَقُولُ: حَسَّ، فَيَقُولُ رَبُّكَ - عَزَّ وَجَلَّ -: أَوْ إِنَّهُ فَتَطَّلِعُونَ عَلَى حَوْضِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَظْمَإِ وَاللَّهِ نَاهِلَةٍ عَلَيْهَا قَطُّ مَا رَأَيْتُهَا، فَلَعَمْرُ إِلَهِكَ، مَا يَبْسُطُ أَحَدٌ مِنْكُمْ يَدَهُ إِلَّا وَقَعَ عَلَيْهَا قَدَحٌ يُطَهِّرُهُ مِنَ الطَّوْفِ، وَالْبَوْلِ، وَالْأَذَى، وَتُحْبَسُ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ فَلَا تَرَوْنَ مِنْهُمَا وَاحِدًا "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَبِمَ نُبْصِرُ؟ قَالَ: "" بِمِثْلِ بَصَرِكَ سَاعَتَكَ هَذِهِ، وَذَلِكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ فِي يَوْمٍ أَشْرَقَتْهُ الْأَرْضُ، وَاجَهَتْ بِهِ الْجِبَالَ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَبِمَ نُجْزَى مِنْ سَيِّئَاتِنَا وَحَسَنَاتِنَا؟ قَالَ: "" الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَالسَّيِّئَةُ بِمِثْلِهَا، إِلَّا أَنْ يَعْفُوَ "". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِمَّا الْجَنَّةُ إِمَّا النَّارُ؟ قَالَ: "" لَعَمْرُ إِلَهِكَ، لِلنَّارِ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ، مَا مِنْهَا بَابٌ إِلَّا يَسِيرُ الرَّاكِبُ بَيْنَهَا سَبْعِينَ عَامًا "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَعَلَى مَا نَطَّلِعُ مِنَ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: "" عَلَى أَنْهَارٍ مِنْ عَسَلٍ مُصَفًّى، وَأَنْهَارٍ مِنْ كَأْسٍ مَا بِهَا مِنْ صُدَاعٍ وَلَا نَدَامَةٍ، وَأَنْهَارٍ مِنْ لَبَنٍ لَمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهُ، وَمَاءٍ غَيْرِ آسِنٍ، وَبِفَاكِهَةٍ لَعَمْرُ إِلَهِكَ، مَا تَعْلَمُونَ، وَخَيْرٍ مِنْ مِثْلِهِ مَعَهُ وَأَزْوَاجٍ مُطَهَّرَةٍ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَنَا فِيهَا أَزْوَاجٌ، أَوْ مِنْهُنَّ مُصْلِحَاتٌ؟ قَالَ: "" الصَّالِحَاتُ لِلصَّالِحِينَ تَلَذُّونَ بِهِنَّ مِثْلَ لَذَّاتِكُمْ فِي الدُّنْيَا، وَيَلْذَذْنَ بِكُمْ، غَيْرَ أَنْ لَا تَوَالُدَ "". قَالَ لَقِيطٌ: فَقُلْتُ: أَقْصَى مَا نَحْنُ بَالِغُونَ وَمُنْتَهُونَ إِلَيْهِ؟ فَلَمْ يُجِبْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلَامَ أُبَايِعُكَ؟ قَالَ: فَبَسَطَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ وَقَالَ: "" عَلَى إِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَزِيَالِ الْمُشْرِكِينَ، وَأَلَّا تُشْرِكَ بِاللَّهِ إِلَهًا غَيْرَهُ "". قَالَ: قُلْتُ: وَإِنَّ لَنَا مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ؟ فَقَبَضَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ وَبَسَطَ أَصَابِعَهُ، وَظَنَّ أَنِّي مُشْتَرِطٌ شَرْطًا لَا يُعْطِينِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: نَحُلُّ مِنْهَا حَيْثُ شِئْنَا، وَلَا يَجْنِي عَلَى امْرِئٍ إِلَّا نَفْسُهُ؟ فَبَسَطَ يَدَهُ، وَقَالَ: "" ذَلِكَ لَكَ، تَحُلُّ حَيْثُ شِئْتَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْكَ إِلَّا نَفْسُكَ "". قَالَ: فَانْصَرَفْنَا ثَمَّ عَنْهُ، وَقَالَ: "" هَا إِنَّ ذَيْنِ لَعَمْرُ إِلَهِكَ، إِنْ حَدَّثْتَ أَلَا إِنَّهُمْ مِنْ أَتْقَى النَّاسِ فِي الْأُولَى وَالْآخِرَةِ "". فَقَالَ لَهُ كَعْبُ بْنُ الْخُدَارِيَّةِ - أَحَدُ بَنِي كَعْبِ بْنِ كِلَابٍ -: مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" بَنُو الْمُنْتَفِقِ أَهْلُ ذَلِكَ "". قَالَ: فَانْصَرَفْنَا، وَأَقْبَلْتُ عَلَيْهِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لِأَحَدٍ فِيمَا مَضَى مِنْ خَيْرٍ فِي جَاهِلِيَّتِهِمْ؟ قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ عُرْضِ قُرَيْشٍ: وَاللَّهِ إِنَّ أَبَاكَ الْمُنْتَفِقَ فِي النَّارِ، قَالَ: فَلَكَأَنَّمَا وَقَعَ حَرٌّ بَيْنَ جِلْدِي وَوَجْهِي وَلَحْمِي مِمَّا قَالَ لِأَبِي عَلَى رُءُوسِ النَّاسِ، فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُولَ: وَأَبُوكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَإِذَا الْأُخْرَى أَجْهَلُ. فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَأَهْلُكَ؟ قَالَ: "" وَأَهْلِي لَعَمْرُ اللَّهِ، مَا أَتَيْتُ عَلَى قَبْرِ عَامِرِيٍّ، أَوْ قُرَشِيٍّ مِنْ مُشْرِكٍ. فَقُلْتُ: أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ مُحَمَّدٌ أُبَشِّرُكَ بِمَا يَسُوءُكَ تُجَرُّ عَلَى وَجْهِكَ وَبَطْنِكَ فِي النَّارِ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا فَعَلَ بِهِمْ ذَلِكَ، وَقَدْ كَانُوا عَلَى عَمَلٍ لَا يُحْسِنُونَ إِلَّا إِيَّاهُ، وَكَانُوا يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ مُصْلِحُونَ؟ قَالَ: "" ذَاكَ بِأَنَّ اللَّهَ بَعَثَ فِي آخِرِ كُلِّ سَبْعِ أُمَمٍ - يَعْنِي نَبِيًّا - فَمَنْ عَصَى نَبِيَّهُ كَانَ مِنَ الضَّالِّينَ، وَمَنْ أَطَاعَ نَبِيَّهُ كَانَ مِنَ الْمُهْتَدِينَ». رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ، وَأَحَدُ طَرِيقَيْ عَبْدِ اللَّهِ إِسْنَادُهَا مُتَّصِلٌ، وَرِجَالُهَا ثِقَاتٌ، وَالْإِسْنَادُ الْآخَرُ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ مُرْسَلٌ عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطٍ: أَنَّ لَقِيطًا.

EnglishUnverified translation

Laqīṭ ibn ʿĀmir, may Allāh be pleased with him, reported that he came as a delegate to the Messenger of Allāh ﷺ with his companion Nahīk ibn ʿĀṣim after Rajab had passed, finding him after dawn prayer addressing the people that he had saved his voice four days to be heard, warning against distraction by self-talk, companions, or misguidance, and reminding that he will be asked whether he conveyed. When Laqīṭ asked what knowledge of the unseen he held, the Prophet ﷺ laughed, shook his head, and said the Lord reserved the five keys of the unseen known only to Allāh: knowledge of death, of the fluid in the womb, of tomorrow's provision, of the rain approaching the distressed while He laughs knowing relief is near, and of the Hour. Laqīṭ remarked they will never lack good from a Lord who laughs. He then asked for teaching for his people, and the Prophet ﷺ told him they would remain, then their Prophet ﷺ would pass, then the Blast would leave nothing alive upon the earth nor the angels with the Lord, then the Lord would traverse the earth emptied of lands, send rain from the Throne splitting every grave, raising men seated and confused as though yesterday alive, then ask how He will gather them scattered by winds, decay, and beasts, likening it to dead barren land revived by rain into one drink, and to seeing the sun and moon together without crowding, more able to see them and be seen, then presenting them with scrolls open hiding nothing, sprinkling water that leaves the Muslim's face like a white cloth and brands the disbeliever black as pitch, then the Prophet ﷺ withdrawing, the righteous following across a bridge over Fire where a coal makes one cry out, then reaching the Prophet's Basin most thirsty yet never seen, where every hand finds a cup purifying from filth, urine, and harm, while sun and moon are withheld. > **"Your Lord reserved the five keys of the unseen, and He will gather you as He gathers the earth's growth by rain."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت لقیط بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نمائندے کے طور پر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ان کے ساتھ ان کے ایک ساتھی تھے ، جن کا نام نہیک بن عاصم بن مالک بن منتفق تھا ، حضرت لقیط رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اور میرا ساتھی روانہ ہوئے یہاں تک کہ ہم اس وقت نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، جب رجب کا مہینہ گزر چکا تھا ، ہم اس وقت نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے جب آپ صبح کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد لوگوں کے درمیان خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے تھے ، آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے لوگو ! میں نے گزشتہ چار دن سے اپنی آواز تمہارے لیے سنبھال کر رکھی ہوئی تھی ، تاکہ میں تمہیں سناؤں ، تو کیا کوئی ایسا شخص ہے ؟ جسے اس کی قوم نے بھیجا ہو ، اور اس کی قوم کے افراد نے یہ کہا ہو : کہ تم ہمارے لئے اس بات کا علم حاصل کرو ، جو اللہ کے رسول ﷺ فرماتے ہیں ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) خبردار ! ہو سکتا ہے کہ کسی شخص کو اپنے خیالوں میں گم ہونے کی وجہ سے ، یا اپنے ساتھی کے ساتھ بات چیت کرنے کی وجہ سے ، یا گمراہ کرنے والی چیزوں کی وجہ سے غفلت لاحق ہو گئی ہو ، خبردار ! مجھ سے سوال کیا جائے گا کہ کیا تم نے تبلیغ کر دی تھی ؟ خبردار ! تم سنو اور زندہ رہو ، خبردار ! تم بیٹھ جاؤ ، خبردار ! تم بیٹھ جاؤ ، تو لوگ بیٹھ گئے ۔ میں اور میرا ساتھی کھڑے ہو گئے اور اس وقت تک کھڑے رہے جب تک نبی اکرم ﷺ کی پوری توجہ ہماری طرف مبذول نہیں ہو گئی ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ کے پاس علم غیب نہیں ہے ؟ راوی کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! نبی اکرم ﷺ ہنس پڑے ، آپ نے اپنے سر کو ہلایا آپ کو پتہ چل گیا کہ میں آپ کی سقط تلاش کرنا چاہتا ہوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : پانچ چیزوں سے متعلق غیب کے حوالے سے تمہارا پروردگار اپنی شان رکھتا ہے ، ان چیزوں کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ، نبی اکرم ﷺ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اشارہ کیا ، میں نے دریافت کیا : وہ کون سی ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : موت کا علم ( یعنی اس بات کا علم کے کس کو کب موت آئے گی ؟ ) وہ تم میں سے ہر ایک کی موت کے بارے میں علم رکھتا ہے اور تم اس کے بارے میں علم نہیں رکھتے ہو ، اور مادہ تولید کے بارے میں علم ، جب وہ رحم میں ہوتا ہے ، پروردگار اس کے بارے میں علم رکھتا ہے اور تم لوگ اس کے بارے میں علم نہیں رکھتے ہو ، اور کل کیا ہو گا ؟ اس کے بارے میں علم ، کل تم کیا کھاؤ گے ، تم اس کے بارے میں علم نہیں رکھتے ہو اور بارش کے نازل ہونے کے دن کا علم ، وہ تمہیں ملاحظہ کرتا ہے کہ تم تنگی کا شکار ہو ، پریشان ہو تو وہ ہنسنے لگتا ہے کیونکہ وہ یہ علم رکھتا ہے کہ عنقریب تمہاری صورتحال تبدیل ہو جائے گی تو حضرت لقیط رضی اللہ عنہ نے کہا : ہم ایسے پروردگار کی طرف سے بھلائی سے محروم نہیں رہیں گے ، جو ہنستا بھی ہے ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) اور قیامت کے دن کا علم ، راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ لوگوں کو جو تعلیم دیتے ہیں ، اس میں سے ہمیں بھی تعلیم دیں ، کیونکہ ہم ایسے لوگ ہیں کہ ہماری باتوں کی تصدیق ، مذحج قبیلے سے تعلق رکھنے والا کوئی فرد نہیں کرتا ، وہ قبیلہ جو ہم پر حاوی ہے اور خثعم قبیلے کے لوگ بھی نہیں کرتے ، جو ہمارے ساتھ موالات رکھتے ہیں ، ہمارے اپنے قبیلے کے لوگ بھی نہیں کرتے ، جن کے ساتھ ہمارا تعلق ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم پر کچھ عرصہ گزرے گا پھر تمہارے نبی کا وصال ہو جائے گا ، پھر تم پر کچھ عرصہ گزرے گا پھر ایک زبردست آواز ( یعنی صور پھونکے جانے کی آواز ) کو بھیجا جائے گا تمہارے پروردگار کی قسم ! وہ آواز روئے زمین پر موجود ہر چیز کو ہلاکت کا شکار کر دے گی ، اور وہ فرشتے جو تمہارے پروردگار کے ساتھ ہوتے ہیں ، تمہارا پروردگار زمین میں چکر لگائے گا ، سارے شہر اس کے لیے خالی ہوں گے ، پھر تمہارا پروردگار آسمان سے بارش نازل کرے گا ، جو عرش کے پاس سے آئے گی ، تمہارے پروردگار کی قسم اس بارش کے نتیجے میں جو شخص کہیں قتل ہوا تھا ، جو کہیں دفن ہوا تھا ، سب کی قبریں شق ہو جائیں گی ، تو وہ بارش اسے سر کی طرف سے زندہ کر دے گی اور وہ ( یعنی ہر شخص ) سیدھا ہو کر بیٹھ جائے گا ، پروردگار فرمائے گا : تم جس صورتحال میں رہے ہو ، وہ کتنا عرصہ تھی ؟ تو بندہ عرض کرے گا : اے میرے پروردگار ! گزشتہ شام سے لے کر آج تک وہ اپنی زندگی کے بارے میں یہ بات کہے گا ، اور وہ یہ سمجھے گا کہ وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ ہمیں کیسے زندہ کرے گا ؟ اس کے بعد کہ ہوائیں اور بوسیدگی اور درندے ہمیں ٹکڑے ٹکڑے کر چکے ہوں گے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے اُس کی مثال بیان کرتا ہوں ، تم کسی زمین کو دیکھتے ہو جو بنجر اور ویران ہوتی ہے تو تم یہ سوچتے ہو کہ یہ کبھی آباد نہیں ہو گی ، پھر تمہارا پروردگار آسمان سے بارش بھیجتا ہے ، تو چند ہی دنوں کے بعد تم زمین کو دیکھتے ہو کہ وہاں پانی موجود ہے ، تمہارے پروردگار کی قسم ! جو ذات پانی کے ذریعے زمین کے نباتات کو پیدا کر سکتی ہے وہ اس بات پر بھی قدرت رکھتی ہے کہ پانی کے ذریعے تمہیں پیدا کر دے اور تم لوگ اپنی قبروں سے اور اپنے پچھاڑے جانے والی جگہوں سے نکلو گے ، اور اللہ تعالیٰ کو دیکھو گے اور وہ تمہیں دیکھے گا ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ کہ ہم لوگ جو پوری زمین پر بھرے ہوئے ہوں گے اور پروردگار کی ایک ذات ہو گی ، ہم اس کی طرف دیکھیں اور وہ ہماری طرف دیکھے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک مثال تمہارے سامنے بیان کرتا ہوں ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک چھوٹی سی نشانی سورج اور چاند ہیں ، ایک ہی گھڑی میں ، تم ان دونوں کو دیکھتے ہو اور وہ دونوں تمہیں دیکھتے ہیں اور ان دونوں کو دیکھنے میں ، تمہیں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آتی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جب ہم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے تو پروردگار ہمارے ساتھ کیا کرے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہیں اس کے سامنے پیش کیا جائے گا ، تمہارے اعمال نامے کھلے ہوں گے ، تمہارے حوالے سے کوئی بھی چیز اس سے پوشیدہ نہیں ہو گی ، تمہارا پروردگار چلو میں پانی لے گا اور وہ تمہاری طرف چھڑکے گا ، تمہارے پروردگار کی قسم ! اس کا قطرہ تم میں سے ہر ایک کے چہرے پر پڑے گا ، جہاں تک مسلمان کا تعلق ہے تو وہ قطرہ اس کے چہرے کو سفید چادر کی طرح کر دے گا ، جہاں تک کافر کا تعلق ہے تو وہ قطرہ اس کے ناک پر لگے گا اور اس کو سیاہ کوئلے کی طرح کر دے گا ، خبردار ! پھر تم لوگوں کے نبی آئیں گے اور ان کے پیچھے نیک لوگ آئیں گے ، اور وہ لوگ آگ کے بنے ہوئے پل پر چلتے ہوئے جائیں گے ، تم میں سے کوئی ایک شخص انگارے پر پاؤں دیدے تو وہ اوہ کہتا ہے ، اس وقت تمہارا پروردگار فرمائے گا : یہ اس کا ( یعنی حساب کتاب کا ، یا سزا دینے کا ) مخصوص وقت ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پھر تم رسول اکرم ﷺ کے حوض پر آؤ گے ، تم پیاسے ہونے کے عالم میں آؤ گے اور جو شخص اس میں سے پانی پی لے گا ، اللہ کی قسم ! اسے کبھی پیاس محسوس نہیں ہو گی ، تمہارے پروردگار کی قسم ! تم میں سے جو شخص ہاتھ آگے بڑھائے گا ، تو اس کے ہاتھ میں پیالہ آ جائے گا اور وہ ( یعنی حوض کوثر میں سے پینا ) آدمی کو پاخانے ، پیشاب اور گندگی سے پاک کر دے گا ، سورج اور چاند کو روک دیا جائے گا ، تم ان دونوں میں سے کسی کو نہیں دیکھو گے ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! تو ہم ( روشنی کے بغیر ) کیسے دیکھ پائیں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اسی طرح جس طرح تم اس وقت دیکھ سکتے ہو ، جب سورج نکلنے سے پہلے کا وقت ہوتا ہے ، جب زمین اور پہاڑ روشن ہو چکے ہوتے ہیں ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہماری برائیوں اور ہماری نیکیوں کا ہمیں کیا بدلہ دیا جائے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : نیکی کا بدلہ دس گنا ہو گا اور برائی کا بدلہ اس کی مانند ( یعنی ایک گنا ) ہو گا ، البتہ اگر اللہ تعالیٰ اسے بھی معاف کر دے ( تو اس کی مرضی ہے ) ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یا جنت ہو گی یا جہنم ہو گی ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں : تمہارے پروردگار کی قسم ! جہنم کے سات دروازے ہیں اور ان میں سے ہر دو دروازوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے کے اس درمیانی فاصلے کو کوئی سوار ستر برس تک سفر کر کے طے کر سکتا ہے اور جنت کے آٹھ دروازے ہیں اور اس کے دو دروازوں کے درمیان کے فاصلے کو کوئی سوار ستر برس تک سفر کر کے طے کر سکتا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جب ہم جنت میں جائیں گے تو ہمیں کیا ملے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : صاف ستھری شہد کی نہریں اور مشروب کی نہریں ، جن کو پینے کی وجہ سے نہ پیٹ میں درد ہو گا اور نہ ندامت ہو گی اور دودھ کی نہریں جس کا ذائقہ خراب نہیں ہوا ہو گا اور ایسا پانی جو بودار نہیں ہوا ہو گا اور ایسے پھل ہوں گے کہ تمہارے پروردگار کی قسم ! تم ان کے بارے میں علم نہیں رکھتے ہو اور اس کے ہمراہ مزید بھلائیاں ہوں گی اور صاف ستھری بیویاں ہوں گی ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : کیا جنت میں ہمیں وہ بھی ملیں گی ؟ یا پھر وہ اصلاح ( یعنی کام کاج کرنے ) والی ہوں گی ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : نیک عورتیں ، نیک آدمیوں کو ملیں گی ، تم ان عورتوں سے اسی طرح لذت حاصل کرو گے جس طرح دنیا میں لذت حاصل کرتے ہو اور وہ تمہارے ذریعے لذت حاصل کریں گی ، البتہ اولاد کا سلسلہ نہیں ہو گا ۔ حضرت لقیط رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ زیادہ سے زیادہ دور کی چیز کیا ہے ؟ جس تک ہم پہنچ پائیں گے اور جس پر انتہا ہو گی ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا ، راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں کس بات پر آپ کی بیعت کروں ؟ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک بڑھایا اور ارشاد فرمایا : نماز قائم کرنے پر ، زکوۃ دینے پر اور مشرکین سے علیحدہ رہنے پر اور اس بات پر کہ تم اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو معبود قرار دے کر شرک نہیں کرو گے ، راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : ہمارے لئے وہ کچھ ہو گا جو مشرق اور مغرب کے درمیان ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا اور اپنی انگلیاں پھیلا دیں ، آپ کو یہ گمان ہوا کہ شاید میں کوئی ایسی شرط رکھ دوں گا جو آپ کو قبول نہیں ہو گی ، میں نے کہا : ہم اس ( مشرق و مغرب کے درمیان ) میں جہاں چاہیں گے وہاں رہیں گے اور ہر شخص اپنے عمل کا جرمانہ ادا کرے گا ( یعنی کسی کے جرم کا جرمانہ دوسرے پر عائد نہیں ہو گا ) تو نبی اکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک بڑھایا اور ارشاد فرمایا : تمہیں یہ چیز ملتی ہے کہ تم جہاں چاہو رہو اور تمہیں صرف اس کی سزا بھگتنی ہو گی ، جس کا ارتکاب تم نے کیا ہو گا ، راوی کہتے ہیں : ہم آپ کے پاس سے واپس آنے لگے تو آپ نے ارشاد فرمایا : تمہارے معبود کی قسم ہے ! یہ لوگ پہلے والوں اور بعد والوں میں ، سب سے زیادہ پرہیزگار ہیں ۔ حضرت کعب بن خداریہ رضی اللہ عنہ ، جن کا تعلق بنو کعب بن کلاب سے ہے ، انہوں نے آپ سے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کون لوگ ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بنو منتفق ، جو اس کے اہل ہیں ، راوی کہتے ہیں : تو ہم واپس آ گئے اور نبی اکرم ﷺ کی طرف متوجہ ہوئے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جو لوگ زمانہ جاہلیت میں دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں ، کیا ان میں سے کسی ایک کے لئے کوئی بھلائی ہو گی ؟ راوی کہتے ہیں : تو قریش سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بولے : اللہ کی قسم ! تمہارا باپ منتفق جہنم میں ہو گا ، راوی کہتے ہیں : تو گویا میری جلد کے درمیان میرے چہرے پر میرے گوشت میں اس بات کی وجہ سے آگ لگ گئی ، جو بات ان صاحب نے سب لوگوں کے سامنے میرے والد کے بارے میں کہی تھی ، میں نے پہلے تو یہ ارادہ کیا کہ میں کہوں : یا رسول اللہ ! آپ کے والد کا کیا ہو گا ؟ لیکن دوسرا فرد زیادہ جہالت کا مظاہرہ کرنے والا ہوتا ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے اہل خانہ ( یعنی خاندان کے وہ افراد جو زمانہ جاہلیت میں فوت ہو چکے تھے اُن ) کا کیا بنے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میرے اہل خانہ اللہ کی قسم ! تم بنو عامر سے تعلق رکھنے والے یا قریش سے تعلق رکھنے والے جس بھی مشرک کی قبر کے پاس سے گزرو گے ، تو تم یہ کہنا : حضرت محمد ﷺ نے مجھے تمہاری طرف بھیجا ہے تاکہ میں تمہیں اس چیز کی اطلاع دوں ، جو تمہیں بری لگے گی ، تمہیں تمہارے چہرے کے بالوں تمہارے پیٹ کے بل جہنم میں گھسیٹا جائے گا ، راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ان کے ساتھ ایسا کیوں ہو گا ؟ جبکہ وہ لوگ بھلائی کیا کرتے تھے اور وہ تو یہی سمجھتے تھے کہ وہ اصلاح کر رہے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر سات امتوں کے آخر میں مبعوث کیا ہے ( راوی کہتے ہیں : یعنی نبی کو مبعوث کیا ہے ) تو جو شخص اپنے نبی کی نافرمانی کرے گا ، وہ گمراہ لوگوں میں سے ہو گا اور جو اپنے نبی کی فرمانبرداری کرے گا ، وہ ہدایت یافتہ لوگوں میں سے ہو گا ۔ یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے اور طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، عبداللہ کے دو طریقوں میں سے ایک کی سند متصل ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں اور دوسری سند اور طبرانی کی سند مرسل ہے ، جو عاصم بن لقیظ کے حوالے سے منقول ہے کہ حضرت لقیط رضی اللہ عنہ ( کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا ) ۔

18352

Majma al-Zawaid #18352

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «يَجْمَعُ اللَّهُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ لِمِيقَاتِ يَوْمٍ مَعْلُومٍ قِيَامًا أَرْبَعِينَ سَنَةً، شَاخِصَةً أَبْصَارُهُمْ إِلَى السَّمَاءِ، يَنْتَظِرُونَ فَصْلَ الْقَضَاءِ "". قَالَ: "" وَيَنْزِلُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمَامِ مِنَ الْعَرْشِ إِلَى الْكُرْسِيِّ، ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ: أَيُّهَا النَّاسُ، أَلَمْ تَرْضُوا مِنْ رَبِّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَرَزَقَكُمْ وَأَمَرَكُمْ أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، أَنْ يُوَلِّيَ كُلَّ أُنَاسٍ مِنْكُمْ مَا كَانُوا يَعْبُدُونَ فِي الدُّنْيَا، أَلَيْسَ ذَلِكَ عَدْلًا مِنْ رَبِّكُمْ؟ "". قَالُوا: بَلَى. قَالَ: "" فَيَنْطَلِقُ كُلُّ قَوْمٍ إِلَى مَا كَانُوا يَعْبُدُونَ، وَيَقُولُونَ وَيَقُولُونَ فِي الدُّنْيَا "". قَالَ: "" فَيَنْطَلِقُونَ وَيُمَثَّلُ لَهُمْ أَشْبَاهُ مَا كَانُوا يَعْبُدُونَ، فَمِنْهُمْ مَنْ يَنْطَلِقُ إِلَى الشَّمْسِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْطَلِقُ إِلَى الْقَمَرِ، وَالْأَوْثَانِ مِنَ الْحِجَارَةِ، وَأَشْبَاهِ مَا كَانُوا يَعْبُدُونَ "". قَالَ: "" وَيُمَثَّلُ لِمَنْ كَانَ يَعْبُدُ عِيسَى شَيْطَانُ عِيسَى، وَيُمَثَّلُ لِمَنْ كَانَ يَعْبُدُ عُزَيْرًا شَيْطَانُ عُزَيْزٍ، وَيَبْقَى مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأُمَّتُهُ "". قَالَ: "" فَيَتَمَثَّلُ الرَّبُّ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فَيَأْتِيهِمْ، فَيَقُولُ: مَا لَكُمْ لَا تَنْطَلِقُونَ كَانْطِلَاقِ النَّاسِ؟ فَيَقُولُونَ: إِنْ لَنَا لَإِلَهًا مَا رَأَيْنَاهُ بَعْدُ، فَيَقُولُ: هَلْ تَعْرِفُونَهُ إِنْ رَأَيْتُمُوهُ؟ فَيَقُولُونَ: إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ عَلَامَةً إِذَا رَأَيْنَاهَا عَرَفْنَاهَا. قَالَ: فَيَقُولُ: مَا هِيَ؟ فَتَقُولُ: يَكْشِفُ عَنْ سَاقِهِ "". قَالَ: "" فَعِنْدَ ذَلِكَ يَكْشِفُ عَنْ سَاقِهِ فَيَخِرُّ كُلُّ مَنْ كَانَ نَظَرَهُ، وَيَبْقَى قَوْمٌ ظُهُورُهُمْ كَصَيَاصِي الْبَقَرِ، يُرِيدُونَ السُّجُودَ فَلَا يَسْتَطِيعُونَ، وَقَدْ كَانُوا يُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ، وَهُمْ سَالِمُونَ، ثُمَّ يَقُولُ: ارْفَعُوا رُءُوسَكُمْ، فَيَرْفَعُونَ رُءُوسَهُمْ، فَيُعْطِيهِمْ نُورَهُمْ عَلَى قَدْرِ أَعْمَالِهِمْ، فَمِنْهُمْ مَنْ يُعْطَى نُورَهُ مِثْلَ الْجَبَلِ الْعَظِيمِ، يَسْعَى بَيْنَ يَدَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُعْطَى نُورَهُ أَصْغَرَ مِنْ ذَلِكَ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُعْطَى نُورًا مِثْلَ النَّخْلَةِ بِيَدِهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُعْطَى أَصْغَرَ مِنْ ذَلِكَ، حَتَّى يَكُونَ آخِرُهُمْ رَجُلًا يُعْطَى نُورَهُ عَلَى إِبْهَامِ قَدَمَيْهِ يُضِيءُ مَرَّةً وَيُطْفَأُ مَرَّةً، فَإِذَا أَضَاءَ قَدَّمَ قَدَمَهُ، وَإِذَا طُفِئَ قَامَ "". قَالَ: "" وَالرَّبُّ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - أَمَامَهُمْ حَتَّى يَمُرَّ فِي النَّارِ، فَيَبْقَى أَثَرُهُ كَحَدِّ السَّيْفِ "". قَالَ: "" فَيَقُولُ: مُرُّوا، فَيَمُرُّونَ عَلَى قَدْرِ نُورِهِمْ، مِنْهُمْ مَنْ يَمُرُّ كَطَرْفَةِ الْعَيْنِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَمُرُّ كَالْبَرْقِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَمُرُّ كَالسَّحَابِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَمُرُّ كَانْقِضَاضِ الْكَوْكَبِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَمُرُّ كَالرِّيحِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَمُرُّ كَشَدِّ الْفَرَسِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَمُرُّ كَشَدِّ الرَّحْلِ، حَتَّى يَمُرَّ الَّذِي يُعْطَى نُورُهُ عَلَى ظَهْرِ قَدَمَيْهِ، يَجْثُو عَلَى وَجْهِهِ وَيَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ، تَخِرُّ يَدٌ وَتُعَلَّقُ يَدٌ، وَتَخِرُّ رِجْلٌ وَتُعَلَّقُ رِجْلٌ، وَتُصِيبُ جَوَانِبَهُ النَّارُ، فَلَا يَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى يَخْلُصَ، فَإِذَا خَلَصَ وَقَفَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ فَقَدْ أَعْطَانِي اللَّهُ مَا لَمْ يُعْطِ أَحَدًا إِذْ نَجَّانِي مِنْهَا بَعْدَ إِذْ رَأَيْتُهَا "". قَالَ: "" فَيُنْطَلَقُ بِهِ إِلَى غَدِيرٍ عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ، فَيَغْتَسِلُ فَيَعُودُ إِلَيْهِ رِيحُ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَلْوَانُهُمْ، فَيَرَى مَا فِي الْجَنَّةِ مِنْ خَلَلِ الْبَابِ، فَيَقُولُ: رَبِّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ اللَّهُ: أَتَسْأَلُ الْجَنَّةَ وَقَدْ نَجَّيْتُكَ مِنَ النَّارِ؟! فَيَقُولُ: رَبِّ اجْعَلْ بَيْنِي وَبَيْنَهَا حِجَابًا لَا أَسْمَعُ حَسِيسَهَا "". قَالَ: "" فَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ، وَيَرَى أَوْ يُرْفَعُ لَهُ مَنْزِلٌ أَمَامَ ذَلِكَ، كَأَنَّ مَا هُوَ فِيهِ إِلَيْهِ حُلْمٌ، فَيَقُولُ: رَبِّ أَعْطِنِي ذَلِكَ الْمَنْزِلَ، فَيَقُولُ لَهُ: لَعَلَّكَ إِنْ أَعْطَيْتُكَهُ تَسْأَلُ غَيْرَهُ، فَيَقُولُ: لَا وَعِزَّتِكَ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ، وَأَنَّى مَنْزِلٌ أَحْسَنُ مِنْهُ؟ فَيُعْطَى فَيَنْزِلُهُ، وَيَرَى أَمَامَ ذَلِكَ مَنْزِلًا، كَأَنَّ مَا هُوَ فِيهِ إِلَيْهِ حُلْمٌ، قَالَ: رَبِّ أَعْطِنِي ذَلِكَ الْمَنْزِلَ، فَيَقُولُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لَهُ: فَلَعَلَّكَ إِنْ أَعْطَيْتُكَهُ تَسْأَلُ غَيْرَهُ، فَيَقُولُ: لَا وَعِزَّتِكَ يَا رَبِّ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ، وَأَنَّى مَنْزِلٌ يَكُونُ أَحْسَنَ مِنْهُ؟ قَالَ فَيُعْطَى مَنْزِلَةً. قَالَ وَيَرَى أَوْ يُرْفَعُ لَهُ أَمَامَ ذَلِكَ مَنْزِلٌ آخَرُ، كَأَنَّمَا هُوَ إِلَيْهِ حُلْمٌ، فَيَقُولُ: أَعْطِنِي ذَلِكَ الْمَنْزِلَ فَيَقُولُ اللَّهُ جَلَّ جَلَالُهُ: فَلَعَلَّكَ إِنْ أَعْطَيْتُكَهُ تَسْأَلُ غَيْرَهُ؟ قَالَ: لَا وَعِزَّتِكَ لَا أَسْأَلُ غَيْرَهُ، وَأَيُّ مَنْزِلٍ يَكُونُ أَحْسَنَ مِنْهُ؟! قَالَ: فَيُعْطَاهُ وَيَنْزِلُهُ، ثُمَّ يَسْكُتُ فَيَقُولُ اللَّهُ - جَلَّ ذِكْرُهُ -: مَا لَكَ لَا تَسْأَلُ؟ فَيَقُولُ: رَبِّ قَدْ سَأَلْتُكَ حَتَّى قَدِ اسْتَحْيَيْتُكَ، وَأَقْسَمْتُ لَكَ حَتَّى اسْتَحْيَيْتُكَ، فَيَقُولُ اللَّهُ - جَلَّ ذِكْرُهُ -: أَلَمْ تَرْضَ أَنْ أُعْطِيَكَ مِثْلَ الدُّنْيَا مُنْذُ خَلَقْتُهَا إِلَى يَوْمِ أَفْنَيْتُهَا، وَعَشْرَةَ أَضْعَافِهِ؟ فَيَقُولُ: أَتَهْزَأُ بِي وَأَنْتَ رَبُّ الْعِزَّةِ؟ فَيَضْحَكُ الرَّبُّ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - مِنْ قَوْلِهِ. قَالَ: فَرَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ إِذَا بَلَغَ هَذَا الْمَكَانَ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ ضَحِكَ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَدْ سَمِعْتُكَ تُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثَ مِرَارًا، كُلَّمَا بَلَغْتَ هَذَا الْمَكَانَ ضَحِكْتَ! قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحَدِّثُ هَذَا الْحَدِيثَ مِرَارًا، كُلَّمَا بَلَغَ هَذَا الْمَكَانَ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ ضَحِكَ حَتَّى تَبْدُوَ أَضْرَاسُهُ. قَالَ: "" فَيَقُولُ الرَّبُّ - جَلَّ ذِكْرُهُ -: لَا. وَلَكِنِّي عَلَى ذَلِكَ قَادِرٌ، سَلْ. فَيَقُولُ: أَلْحِقْنِي بِالنَّاسِ، فَيَقُولُ: الْحَقْ بِالنَّاسِ، قَالَ: فَيَنْطَلِقُ يَرْمُلُ فِي الْجَنَّةِ حَتَّى إِذَا دَنَا مِنَ النَّاسِ رُفِعَ لَهُ قَصْرٌ مِنْ دُرَّةٍ، فَيَخِرُّ سَاجِدًا، فَيُقَالُ لَهُ: ارْفَعْ رَأْسَكَ مَا لَكَ؟ فَيَقُولُ: رَأَيْتُ رَبِّي - أَوْ تَرَاءَى لِي رَبِّي - فَيُقَالُ لَهُ: إِنَّمَا هُوَ مَنْزِلٌ مِنْ مَنَازِلِكَ. قَالَ: "" ثُمَّ يَلْقَى رَجُلًا فَيَتَهَيَّأُ لِلسُّجُودِ لَهُ، فَيُقَالُ لَهُ: مَهْ. فَيَقُولُ: رَأَيْتُ أَنَّكَ مَلَكٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ. فَيَقُولُ: إِنَّمَا أَنَا خَازِنٌ مِنْ خُزَّانِكَ، وَعَبْدٌ مِنْ عَبِيدِكَ، تَحْتَ يَدَيَّ أَلْفُ قَهْرَمَانٌ عَلَى مِثْلِ مَا أَنَا عَلَيْهِ "". قَالَ: "" فَيَنْطَلِقُ أَمَامَهُ حَتَّى يَفْتَحَ لَهُ الْقَصْرَ "". قَالَ: "" وَهُوَ مِنْ دُرَّةٍ مُجَوَّفَةٍ، سَقَائِفُهَا وَأَبْوَابُهَا وَأَغْلَاقُهَا وَمَفَاتِيحُهَا مِنْهَا، تَسْتَقْبِلُهُ جَوْهَرَةٌ خَضْرَاءُ مُبَطَّنَةٌ بِحَمْرَاءَ، فِيهَا سَبْعُونَ بَابًا، كُلُّ بَابٍ يُفْضِي إِلَى جَوْهَرَةٍ خَضْرَاءَ مُبَطَّنَةٍ، كُلُّ جَوْهَرَةٍ تُفْضِي إِلَى جَوْهَرَةٍ عَلَى غَيْرِ لَوْنِ الْأُخْرَى، فِي كُلِّ جَوْهَرَةٍ سُرُرٌ، وَأَزْوَاجٌ، وَوَصَائِفُ، أَدْنَاهُنَّ حَوْرَاءُ عَيْنَاءُ، عَلَيْهَا سَبْعُونَ حُلَّةً، يُرَى مُخُّ سَاقِهَا مِنْ وَرَاءِ حُلَلِهَا، كَبِدُهَا مِرْآتُهُ، وَكَبِدُهُ مِرْآتُهَا، إِذَا أَعْرَضَ عَنْهَا إِعْرَاضَةً ازْدَادَتْ فِي عَيْنِهِ سَبْعِينَ ضِعْفًا عَمَّا كَانَتْ قَبْلَ ذَلِكَ ; إِذَا أَعْرَضَتْ عَنْهُ إِعْرَاضَةً ازْدَادَ فِي عَيْنِهَا سَبْعِينَ ضِعْفًا عَمَّا كَانَ قَبْلَ ذَلِكَ، فَيَقُولُ لَهَا: وَاللَّهِ، لَقَدِ ازْدَدْتِ فِي عَيْنِي سَبْعِينَ ضِعْفًا. وَتَقُولُ لَهُ: وَأَنْتَ وَاللَّهِ ازْدَدْتَ فِي عَيْنِي سَبْعِينَ ضِعْفًا. فَيُقَالُ لَهُ: أَشْرِفْ. فَيُشْرِفُ، فَيُقَالُ لَهُ: مُلْكُكَ مَسِيرَةُ مِائَةِ عَامٍ يَنْفُذُهُ بَصَرُكَ "". قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: أَلَا تَسْمَعُ مَا يُحَدِّثُنَا ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ يَا كَعْبُ عَنْ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلًا؟ فَكَيْفَ أَعْلَاهُمْ؟! قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، إِنَّ اللَّهَ - جَلَّ ذِكْرُهُ - خَلَقَ دَارًا جَعَلَ فِيهَا مَا شَاءَ مِنَ الْأَزْوَاجِ، وَالثَّمَرَاتِ، وَالْأَشْرِبَةِ، ثُمَّ أَطْبَقَهَا فَلَمْ يَرَهَا أَحَدٌ مِنْ خَلْقِهِ، لَا جِبْرِيلُ وَلَا غَيْرُهُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، ثُمَّ قَالَ كَعْبٌ: {فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ} [السجدة: 17]. قَالَ: "" وَخَلَقَ دُونَ ذَلِكَ جَنَّتَيْنِ، وَزَيَّنَهُمَا بِمَا شَاءَ، وَأَرَاهُمَا مَنْ شَاءَ مِنْ خَلْقِهِ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ كَانَ كِتَابُهُ فِي عِلِّيِّينَ نَزَلَ فِي تِلْكَ الدَّارِ الَّتِي لَمْ يَرَهَا أَحَدٌ، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ عِلِّيِّينَ لَيَخْرُجُ فَيَسِيرُ فِي مُلْكِهِ فَلَا تَبْقَى خَيْمَةٌ مِنْ خِيَمِ الْجَنَّةِ إِلَّا دَخَلَهَا مِنْ ضَوْءِ وَجْهِهِ، فَيَسْتَبْشِرُونَ لِرِيحِهِ، فَيَقُولُونَ: وَاهًا لِهَذَا الرِّيحِ، هَذَا رِيحُ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ عِلِّيِّينَ قَدْ خَرَجَ يَسِيرُ فِي مُلْكِهِ "". قَالَ: وَيْحَكَ يَا كَعْبُ، إِنَّ هَذِهِ الْقُلُوبَ قَدِ اسْتَرْسَلَتْ فَاقْبِضْهَا، فَقَالَ كَعْبٌ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ لِجَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَزَفْرَةً، مَا مِنْ مَلَكٍ مُقَرَّبٍ، وَلَا نَبِيٍّ مُرْسَلٍ، إِلَّا خَرَّ لِرُكْبَتَيْهِ، حَتَّى إِنَّ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ اللَّهِ لَيَقُولُ: رَبِّ، نَفْسِي، نَفْسِي! حَتَّى لَوْ كَانَ لَكَ عَمَلُ سَبْعِينَ نَبِيًّا إِلَى عَمَلِكَ لَظَنَنْتَ أَنْ لَا تَنْجُوَ».

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd, may Allāh be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ that Allāh will gather the first and last for an appointed Day, standing forty years with eyes fixed skyward awaiting decisive judgment. Allāh will descend in shaded clouds from Throne to Footstool, and a caller will ask whether they accept their Lord's justice in consigning each people to what they worshipped in the world. Each party will go to sun, moon, stone idols, and likenesses, while for worshippers of ʿĪsā and ʿUzayr devils will be figured, leaving Muḥammad ﷺ and his nation. The Lord will come and ask why they do not go, and they will say they have a God not yet seen but known by a sign, the uncovering of the Shin, whereupon all who used to look will fall prostrate except those whose backs are like cows' horns unable to bow though once called sound. Then heads will be raised and light granted by deeds, some like a great mountain before them, some like a palm in the hand, down to the last whose light on his great toe shines and fades so he steps when lit and halts when quenched, with the Lord before them until crossing the Fire whose trace remains like a sword's edge. They will be told to pass according to light, some like an eye-blink, lightning, cloud, falling star, wind, horse's gallop, and camel's pace, until the least crawls on face, hands, and feet, sides struck by Fire, until saved to praise Allāh for deliverance after seeing it. He will be washed at a pool by Paradise's gate, restored to its fragrance and colour, see Paradise through the gate and beg entry, then beg a veil from the Fire's sound, then entering, see a dwelling ahead as though his present were a dream, repeatedly begging finer dwellings and swearing by Allāh's might to ask no more, receiving each, until silent, whereupon Allāh will ask why he asks no more, and he will answer he is abashed by asking and swearing, and Allāh will grant him his wish and more. > **"They will stand forty years awaiting judgment, then pass over the Fire according to their light."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ایک مخصوص طے شدہ دن میں ، اللہ تعالیٰ سب پہلے والوں اور بعد والوں کو جمع کرے گا ، وہ چالیس سال تک کھڑے رہیں گے ان کی نگاہیں آسمان کی طرف اٹھی ہوئی ہوں گی اور وہ حساب ہونے کے منتظر ہوں گے ۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ بادلوں کے سائے میں عرش سے کرسی کی طرف اترے گا ، پھر ایک منادی یہ اعلان کرے گا : اے لوگو ! کیا تم اپنے پروردگار سے راضی نہیں تھے ؟ جس نے تمہیں پیدا کیا ، جس نے تمہیں رزق عطا کیا ، جس نے تمہیں یہ حکم دیا کہ تم اس کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک قرار نہ دو ، اب تم میں سے ہر ایک اس کے پاس چلا جائے ، جس کے ساتھ وہ نسبت رکھتا تھا اور دنیا میں جس کی وہ عبادت کرتا تھا ، کیا یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے عدل کے مطابق فیصلہ نہیں ہے ؟ لوگ جواب دیں گے : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : تو ہر قوم اس کی طرف چلی جائے گی ، جس کی وہ دنیا میں عبادت کرتی تھی اور جس کی قائل تھی ( یا جس کے ساتھ وہ نسبت رکھتی تھی ) ۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : وہ لوگ جائیں گے اور جن کی وہ عبادت کرتے تھے ، انہیں مثالی شکل میں ان کے سامنے لایا جائے گا ، ان میں سے کچھ لوگ سورج کی طرف چلے جائیں گے ، ان میں سے کچھ چاند کی طرف چلے جائیں گے ، پتھروں سے بنے ہوئے بتوں کی طرف اور ان جیسی دیگر چیزوں کی طرف سے جائیں گے ، جن کی وہ عبادت کرتے تھے ۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں : جو لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عبادت کرتے تھے ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق شیطان کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شکل دے دی جائے گی ، جو لوگ حضرت عزیر علیہ السلام کی عبادت کرتے تھے تو حضرت عزیر علیہ السلام سے متعلق شیطان کو ان کی شکل دے دی جائے گی اور صرف حضرت محمد ﷺ اور ان کی امت باقی رہ جائیں گے ۔ آپ ﷺ یہ فرماتے ہیں : پھر پروردگار مثالی صورت میں اُن کے پاس آئے گا اور فرمائے گا : کیا وجہ ہے ؟ تم نہیں جاتے ؟ جبکہ دوسرے لوگ چلے گئے ہیں ، تو وہ لوگ کہیں گے : ہمارا ایک معبود ہے جسے ہم نے دیکھا ہوا نہیں ہے ، پروردگار فرمائے گا : اگر تم اسے دیکھ لو گے تو کیا اسے پہچان لو گے ؟ وہ جواب دیں گے : ہمارے اور اس کے درمیان ایک مخصوص نشانی ہے ، جب ہم اسے دیکھیں گے تو اسے ( یعنی اس نشانی کو ) پہچان لیں گے ، پروردگار فرمائے گا : وہ نشانی کیا ہے ؟ تو وہ لوگ کہیں گے : اس کی پنڈلی سے پردہ ہٹایا جائے گا ، آپ ﷺ یہ فرماتے ہیں : تو اس وقت پنڈلی سے پردہ ہٹایا جائے گا اور جو بھی اسے دیکھے گا وہ سجدے میں چلا جائے گا ، کچھ قوم باقی رہ جائے گی ، جن کی پشتیں گائے کے سینگوں کی مانند ہوں گی ، وہ لوگ سجدہ کرنے کا ارادہ کریں گے ، لیکن ایسا کر نہیں سکیں گے اہیں سجدے کے لئے بلایا جائے گا ، لیکن وہ سالم ہوں گے ۔ پھر پروردگار فرمائے گا : تم لوگ اپنے سر اٹھاؤ ! وہ اپنے سر اٹھائیں گے ، پھر انہیں ان کے اعمال کے حساب سے نور عطا کیا جائے گا ، ان میں سے کچھ ایسے لوگ ہوں گے جس کو دیا جانے والا نور عظیم پہاڑ کی مانند ہو گا ، وہ نور اس کے آگے چلے گا ، ان میں سے کسی کو ایسا نور دیا جائے گا جو اس سے کم ہو گا ، ان میں سے کسی کو ایسا نور دیا جائے گا ، جیسے اس کے آگے کھجور کا درخت ہو ، ان میں سے کسی کو اس سے بھی کم دیا جائے گا یہاں تک کہ جو ان میں سے آخری فرد ہو گا ، اسے اس کا نور اس کے پاؤں کے انگوٹھے کے پاس دیا جائے گا ، جو بھی روشن ہو جائے گا اور کبھی بجھ جائے گا ، جب وہ روشن ہو گا تو آدمی اپنا پاؤں آگے بڑھائے گا اور جب وہ بجھ جائے گا تو آدمی کھڑا ہو جائے گا ۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں : پروردگار ان سے آگے ہو گا ، یہاں تک کہ اُن کا ( یعنی ان میں سے کسی شخص کا ) گزر آگ میں سے ہو گا ، تو اتنا نشان باقی رہ جائے گا جیسے تلوار کی دھار کا نشان ہوتا ہے ۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں : پروردگار فرمائے گا : تم لوگ گزرو ! تو وہ لوگ اپنے نور کی مقدار کے حساب سے گزریں گے ، ان میں سے کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو پلک جھپکنے میں گزر جائیں گے ، کچھ ایسے ہوں گے جو برق کی طرح گزر جائیں گے ، کچھ ایسے ہوں گے جو بادل کی طرح گزریں گے ، کچھ یوں گزریں گے جیسے ستارہ ٹوٹتا ہے ، کچھ یوں گزریں گے جیسے ہوا ہوتی ہے ، کچھ یوں گزریں گے جیسے گھوڑا دوڑتا ہے ، کچھ یوں گزریں گے جیسے آدمی دوڑتا ہے ، یہاں تک کہ وہ شخص گزرے گا جسے اس کا نور پاؤں کے اوپری حصے پر دیا گیا ہو گا ، وہ اپنے چہرے دونوں ہاتھوں اور پاؤں کے بل گھسٹ کر گزرے گا ، اس کا ایک ہاتھ لٹکا ہوا ہو گا اور دوسرا ہاتھ ( پل صراط کے ساتھ ) چمٹا ہوا ہو گا ایک پاؤں لٹکا ہوا ہو گا اور دوسرا چمٹا ہوا ہو گا اس کے اطراف کو آگ لگ رہی ہو گی ، وہ مسلسل اسی حالت میں رہے گا ، یہاں تک کہ نجات پا جائے گا جب وہ نجات پا جائے گا تو وہ اس کے پاس ٹھہر جائے گا اور یہ کہے گا : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس نے مجھے وہ چیز عطا کی ہے جو اس نے کسی کو عطا نہیں کی ، کہ جب میں اس ( یعنی جہنم ) کو دیکھ چکا تھا تو اس کے بعد اُس نے مجھے اس ( یعنی جہنم ) سے نجات عطا کر دی ۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں : پھر اس شخص کو جنت کے دروازے کے پاس موجود کنویں کی طرف لے جایا جائے گا ، وہ غسل کر لے گا پھر جنت کی خوشبو اور اس کے رنگ اس کی طرف آئیں گے اور وہ دروازے کی جھری میں سے جنت میں موجود چیزوں کو دیکھے گا اور کہے گا : اے میرے پروردگار ! تو مجھے جنت میں داخل کر دے ، اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا : کیا تم جنت مانگ رہے ہو ؟ جبکہ میں نے تمہیں جہنم سے نجات عطا کر دی ہے ۔ وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! تو میرے اور اس کے درمیان حجاب رکھ دے تاکہ میں اس کی آہٹ نہ سن سکوں ، پھر وہ شخص جنت میں داخل ہو گا اور اپنے آگے ایک رہائشی جگہ دیکھے گا ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) تو وہ اسے خواب و خیال سا محسوس ہو گا ، وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! تو یہ رہائشی جگہ مجھے عطا کر دے ، تو پروردگار اس سے فرمائے گا : اگر میں نے تمہیں یہ دیدیا تو تم اس کے علاوہ کچھ اور مانگ لو گے ، وہ کہے گا : جی نہیں ! تیری عزت کی قسم ! میں اس کے علاوہ اور کچھ نہیں مانگوں گا ، اس سے زیادہ خوبصورت رہائشی جگہ اور کون سی ہو سکتی ہے ؟ اسے وہ دی جائے گی ، وہ وہاں رہنے لگے گا ، وہاں سے آگے وہ ایک اور رہائشی جگہ دیکھے گا جو اس سے بھی زیادہ خوبصورت ہو گی تو وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! یہ جگہ مجھے دیدے ، اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا : اگر یہ میں نے تمہیں دیدی تو تم اس کے علاوہ کچھ اور مانگ لو گے ، وہ کہے گا : جی نہیں ! تیری عزت کی قسم ! اے میرے پروردگار ! میں اس کے علاوہ اور کچھ نہیں مانگوں گا ، اس سے زیادہ خوبصورت گھر اور کون سا ہو سکتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : اسے وہ گھر دے دیا جائے گا ، وہاں سے آگے اسے اور گھر نظر آئے گا جو اس سے بھی زیادہ خوبصورت ہو گا ، وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! یہ گھر مجھے دیدے ! اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اگر یہ میں نے تمہیں دے دیا تو تم اس کے علاوہ کچھ اور مانگ لو گے ، وہ کہے گا : جی نہیں ! تیری عزت کی قسم ! میں اس کے علاوہ کچھ نہیں مانگوں گا ، اس سے زیادہ خوبصورت اور کون سا ہو سکتا ہے ؟ وہ گھر اسے دیدیا جائے گا ، وہ وہاں رہنے لگے گا اور پھر خاموش ہو جائے گا ( یعنی اس کے بعد مزید کچھ نہیں مانگے گا ) اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا وجہ ہے ؟ تم کچھ مانگتے کیوں نہیں ہو ؟ وہ جواب دے گا : اے میرے پروردگار ! میں نے تجھ سے اتنی دفعہ مانگا ہے کہ اب مجھے تجھ سے حیاء آتی ہے ، میں نے تیرے سامنے اتنی مرتبہ قسم اٹھائی کہ اب مجھے تجھ سے حیاء آتی ہے ، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو ؟ کہ جس دن میں نے دنیا کو پیدا کیا تھا اُس دن سے لے کر جس دن میں نے اُسے فنا کیا ، اس دوران دنیا میں جو کچھ بھی تھا وہ اور ( اس کے ہمراہ ) اس کا دس گنا مزید ، میں تمہیں دے دوں ؟ وہ بندہ کہے گا : کیا تو میرا مذاق اڑا رہا ہے ؟ جبکہ تو رب العزت ہے ؟ ( نبی اکرم ﷺ یہ فرماتے ہیں : ) تو اُس بندے کی اس بات پر رب العزت ہنس پڑے گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ جب بھی وہ اس حدیث میں اس مقام پر پہنچتے تھے تو ہنس پڑتے تھے ، ایک شخص نے ان سے کہا : اے ابوعبدالرحمن ! میں نے آپ کو یہ حدیث کئی مرتبہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ، آپ جب بھی اس مقام پر پہنچتے ہیں تو آپ بنستے ہیں ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ حدیث کئی مرتبہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ، نبی اکرم ﷺ جب بھی اس حدیث میں اس مقام پر پہنچتے تھے تو آپ ہنستے تھے ، یہاں تک کہ آپ کے اطراف کے دانت نظر آنے لگتے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : تو پروردگار فرمائے گا : جی نہیں ! ( یعنی میں تمہارا مذاق نہیں اُڑا رہا ہوں ) بلکہ میں اس کی قدرت رکھتا ہوں ، تم مانگو ! بندہ عرض کرے گا : تو مجھے لوگوں کے ساتھ ملا دے ، تو پروردگار فرمائے گا : تم لوگوں کے ساتھ مل جاؤ ! نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : وہ جنت میں دوڑتا ہوا جائے گا ، یہاں تک کہ جب وہ لوگوں کے قریب پہنچے گا تو اس کے سامنے موتی سے بنا ہوا ایک محل آئے گا ، وہ سجدے میں چلا جائے گا ، اس سے کہا جائے گا : تم اپنا سر اٹھاؤ ، تمہیں کیا ہوا ہے ؟ وہ کہے گا : میں نے اپنے پروردگار کو دیکھا ہے ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) میرا پروردگار میرے سامنے آیا ہے ، تو اسے کہا جائے گا : یہ تمہارے گھروں میں سے ایک گھر ہے ۔ پھر وہ ایک شخص سے ملے گا تو اس کو سجدہ کرنے کا ارادہ کرے گا ، اس سے کہا جائے گا : رُک جاؤ ! وہ کہے گا : میرا خیال ہے تم فرشتوں میں سے کوئی فرشتہ ہو ، وہ دوسرا شخص کہے گا : میں تمہارے منشیوں میں سے ایک منشی ہوں اور تمہارے خادموں میں سے خادم ہوں ، میرے ماتحت ایک ہزار افراد ہیں ، جن کی وہی ذمہ داری ہے جو میری ہے ۔ پھر وہ شخص آگے چلتا ہوا جائے گا ، یہاں تک کہ اس کے لیے محل کا دروازہ کھولا جائے گا ، وہ محل کھوکھلے موتی سے بنا ہوا ہو گا ، اس محل کی چھت اس کے دروازے اس کے تالے اس کی کنجیاں اسی کے ہونگے ، اس کے سامنے سبز رنگ کا جوہر آئے گا ، جس کا اندرونی حصہ سرخ ہو گا اس میں ستر دروازے ہوں گے ، ہر دروازہ ایک اور سبز جوہر کی طرف جاتا ہو گا ، جس کا اندرونی حصہ ہو گا ، ان میں سے ہر ایک جوہر کا رنگ دوسرے سے مختلف ہو گا ، ہر جوہر میں پلنگ ہوں گے ، بیویاں ہوں گی اور ملازمین ہوں گے ، ان میں سے جو سب سے کم حیثیت کی حور ہو گی ، اس کے جسم پر ستر حلے ہوں گے اور ان سب کے پار سے اس کی پنڈلی کا گودا نظر آ رہا ہو گا ، اس حور کا جگر اس آدمی کا آئینہ ہو گا ، اور آدمی کا جگر اس حور کا آئینہ ہو گا ، جب وہ لمحے بھر کے لئے اس سے توجہ ہٹائے گا اور پھر دیکھے گا تو اس کی نظروں میں اس حور کی خوبصورتی پہلے کے مقابلے میں ستر گنا بڑھ چکی ہو گی ، وہ شخص اس حور سے کہے گا : اللہ کی قسم ! میری نظروں میں تمہاری خوبصورتی ستر گنا زیادہ ہو چکی ہے تو وہ حور اس سے کہے گی : اللہ کی قسم ! تمہاری خوبصورتی بھی میری نگاہوں میں ستر گنا زیادہ ہو چکی ہے ، پھر اس شخص سے کہا جائے گا : تم جھانک کر دیکھو ! وہ جھانک کر دیکھے گا تو اسے کہا جائے گا : تمہاری ملکیت ایک سو سال کی مسافت جتنی ہے اور تمہاری بینائی اس میں نفوذ کر سکتی ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اے کعب ! کیا تم سن نہیں رہے ہو ؟ ابن ام عبد ہمیں قدر و منزلت کے حوالے سے سب سے کم درجے کے جنتی کے بارے میں کیا حدیث بیان کر رہے ہیں ؟ تو پھر جس کا مرتبہ بلند ہو گا ، اُس کا کیا عالم ہو گا ؟ کعب نے کہا : اے امیرالمومنین ! انہیں وہ چیزیں ملیں گی جو کسی آنکھ نے دیکھی نہیں ہوں گی ، کسی کان نے ان کے بارے میں سنا نہیں ہو گا ، اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی جگہ بنائی ہے جس میں اس نے اپنی مشیت کے مطابق بیویاں ، پھل اور مشروبات رکھے ہیں اور پھر انہیں بند کر دیا ہے ، اس جگہ کو اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے کسی نے بھی نہیں دیکھا ، نہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اور نہ ان کے علاوہ کسی اور فرشتے نے اس کو دیکھا ہے ، پھر کعب نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ کوئی جان یہ نہیں جانتی کہ اُس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا پوشیدہ رکھا گیا ہے ؟ جو اس کا بدلہ ہو گا جو وہ ( لوگ ) عمل کیا کرتے تھے ۔‘‘ کعب نے بتایا : اللہ تعالیٰ نے اس کے علاوہ دو اور جنتیں پیدا کی ہیں اور انہیں اپنی مشیت کے مطابق آراستہ کیا ہے اور ان کو اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہا ، اسے دکھایا ہے ، پھر یہ فرمایا ہے : جس شخص کا نامہ اعمال ’’ علیین ‘‘ میں ہو گا ، وہ اس مقام پر ٹھہرے گا جسے کسی نے نہیں دیکھا ہے ، یہاں تک کہ اہل علیین سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص باہر نکل کر اپنی مملکت میں چلے گا تو اس کے چہرے کی روشنی جنت کے ہر ایک خیمے کے اندر محسوس ہو گی ، اہل جنت اس کی خوشبو کی وجہ سے خوشخبری حاصل کریں گے اور وہ یہ کہیں گے : یہ خوشبو کتنی عمدہ ہے ؟ یہ اہل علیین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی خوشبو ہے جو اپنی مملکت میں سیر کے لئے نکلا ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے کعب ! تمہارا ستیاناس ہو ، یہ دل بے قابو ہو رہے ہیں ، تم انہیں قابو میں کرو ! تو کعب نے کہا : ’’ قیامت کے دن جہنم کی ایسی پھنکار ہو گی کہ ہر مقرب فرشتہ اور مرسل نبی گھٹنوں کے بل جھک جائے گا ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام یہ کہیں گے : اے میرے پروردگار ! مجھے اپنی فکر ہے ، مجھے اپنی فکر ہے ( کعب نے کہا : ) اگر آپ اپنے عمل کے ساتھ ستر انبیاء کرام کے عمل کو بھی ساتھ ملا لیں ، تو آپ یہی گمان کریں گے کہ آپ کو نجات نہیں ملے گی ۔

18353

Majma al-Zawaid #18353

وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ أَرْبَعِينَ سَنَةً شَاخِصَةً أَبْصَارُهُمْ، يَنْتَظِرُونَ فَصْلَ الْقَضَاءِ». قَالَ: فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ. رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طُرُقٍ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي خَالِدٍ الدَّالَانِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

In a variant the Messenger of Allāh ﷺ said people will stand before the Lord of the worlds forty years with eyes fixed, awaiting decisive judgment, then the like of the report of Zayd ibn Abī Unaysah was mentioned. > **"People will stand before the Lord of the worlds forty years awaiting decisive judgment."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ لوگ تمام جہانوں کے پروردگار کی بارگاہ میں 40 سال تک کھڑے رہیں گے ، اُن کی نگاہیں اوپر کی طرف اٹھی ہوئی ہوں گی اور وہ فیصلے کے منتظر ہوں گے ۔‘‘ اس کے بعد راوی نے زید بن ابوانیسہ کی نقل کردہ روایت کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے مختلف حوالوں سے نقل کی ہیں ان میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوخالد دالانی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

18354

Majma al-Zawaid #18354

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ لَنَا: "" إِنَّكُمْ تُحْشَرُونَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ، ثُمَّ تَجْتَمِعُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Samurah ibn Jundub, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ used to tell them they will be gathered toward Bayt al-Maqdis, then assembled on the Day of Resurrection. > **"You will be gathered toward Bayt al-Maqdis, then assembled on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہم سے یہ فرماتے تھے : ’’ تم لوگوں کا حشر ’’ بیت المقدس ‘‘ کی طرف کیا جائے گا اور پھر تمہیں قیامت کے دن اکٹھا کیا جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور طبرانی کی سند حسن ہے ۔

18355

Majma al-Zawaid #18355

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «مَنْ شَكَّ أَنَّ الْمَحْشَرَ بِالشَّامِ ; فَلْيَقْرَأْ أَوَّلَ سُورَةِ الْحَشْرِ: "" {هُوَ الَّذِي أَخْرَجَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مِنْ دِيَارِهِمْ لِأَوَّلِ الْحَشْرِ} [الحشر: 2] ""، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" فَهِيَ أَرْضُ الْمَحْشَرِ» يَعْنِي الشَّامَ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ أَبُو سَعْدٍ الْبَقَّالُ، وَالْغَالِبُ عَلَيْهِ الضَّعْفُ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allāh be pleased with them, said whoever doubts the gathering is in Syria should recite the opening of Sūrat al-Ḥashr concerning those expelled for the first gathering, for the Prophet ﷺ said it, meaning Syria, is the land of gathering. > **"Syria is the land of the gathering."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جو شخص اس بات میں شک کرتا ہو کہ محشر شام میں ہو گا ، اُسے سورہ حشر کی ابتدائی ( درج ذیل ) آیات پڑھ لینی چاہیے : ’’ اسی نے اہل کتاب سے تعلق رکھنے والے کافروں کو پہلے حشر کے طور پر نکالا ......‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ وہ محشر کی زمین ہے ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : یعنی شام ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوسعد بقال ہے اور اس پر ضعیف ہونا غالب ہے ۔

18356

Majma al-Zawaid #18356

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «تُحْشَرُ النَّاسُ فَيُنَادِي مُنَادٍ: أَلَيْسَ عَدْلًا مِنِّي أَنْ أُوَلِّيَ كُلَّ قَوْمٍ مَا كَانُوا يَعْبُدُونَ؟ ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُمْ آلِهَتُهُمْ فَيَتَّبِعُونَهَا، حَتَّى لَا يَبْقَى أَحَدٌ غَيْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ، فَيُقَالُ لَهُمْ: مَا لَكُمْ؟ قَالُوا: لَا نَرَى إِلَهَنَا الَّذِي كُنَّا نَعْبُدُ، فَيَتَجَلَّى لَهُمْ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى -». فَقِيلَ لِأَبِي بُرْدَةَ: وَاللَّهِ، لَسَمِعْتَ أَبَا مُوسَى يَذْكُرُ هَذَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ: وَاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ فُرَاتُ بْنُ السَّائِبِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Mūsā al-Ashʿarī, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said mankind will be gathered and a caller will ask whether it is justice to consign each people to what they worshipped, then their gods will be raised and followed until none remains but this nation. Asked why they linger, they will say they do not see their God whom they worshipped, whereupon He, blessed and exalted, will manifest Himself to them. Abū Burdah thrice swore by Allāh he heard Abū Mūsā narrate this from the Messenger of Allāh ﷺ. > **"Each people will follow what they worshipped, until only this nation remains before its Lord."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ لوگوں کا حشر کیا جائے گا ( یعنی جب لوگ میدان محشر میں جمع ہوں گے ) تو ایک منادی یہ کہے گا : کیا یہ میری طرف سے عدل نہیں ہے ؟ کہ میں ہر قوم کو اس کے حوالے کر دوں ، جس کی وہ عبادت کیا کرتے تھے پھر ان کے معبود ان کے سامنے لائے جائیں گے اور وہ لوگ ان معبودوں کے پیچھے چلے جائیں گے ، یہاں تک کہ اس امت کے علاوہ کوئی اور باقی نہیں رہے گا ان سے کہا جائے گا : تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ وہ جواب دیں گے : ہم نے اپنے معبود کو نہیں دیکھا ، جس کی ہم عبادت کیا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ ان کے سامنے تجلی کرے گا ۔‘‘ ابوبردہ سے کہا گیا : کیا اللہ کی قسم آپ نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ حدیث ذکر کرتے ہوئے سنا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : اُس اللہ کی قسم ! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، یہ کلمات انہوں نے تین مرتبہ کہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی فرات بن سائب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18357

Majma al-Zawaid #18357

وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «تُحْشَرُ هَذِهِ الْأُمَّةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى ثَلَاثَةِ أَصْنَافٍ: فَصِنْفٌ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ، وَصِنْفٌ يُحَاسَبُونَ حِسَابًا يَسِيرًا وَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ، وَصِنْفٌ يَجِيئُونَ عَلَى حَمَائِلِهِمْ كَأَمْثَالِ الْجِبَالِ الرَّاسِيَةِ، فَيَقُولُ اللَّهُ - جَلَّ وَعَزَّ - لِلْمَلَائِكَةِ - وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ -: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا، عَبِيدٌ مِنْ عَبِيدِكَ، كَانُوا يَعْبُدُونَكَ لَا يُشْرِكُونَ بِكَ شَيْئًا. فَيَقُولُ: حَطُّوهَا عَنْهُمْ، وَضَعُوهَا عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى، وَادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِي». قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ مَطَرٍ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

Abū Mūsā, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said this nation will be gathered in three sorts on the Day of Resurrection: a sort entering Paradise without reckoning, a sort reckoned lightly then entering Paradise, and a sort coming with mountain-like burdens upon their carriers. Allāh will ask the angels, though knowing, who they are, and they will say servants who worshipped Him without partner, so He will say to lift the burdens from them, place them upon Jews and Christians, and enter Paradise by My mercy. > **"A sort will enter Paradise without reckoning, a sort after light reckoning, and burdens will be lifted from the third by mercy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت کے دن اس امت کا حشر تین اصناف میں کیا جائے گا ، ایک قسم وہ ہو گی جو حساب کے بغیر جنت میں داخل ہو جائے گی ، ایک قسم وہ ہو گی ، جن سے معمولی حساب لیا جائے گا اور وہ جنت میں داخل ہو جائیں گے ، ایک قسم وہ ہو گی جو پہاڑوں کی طرح کے اپنے بوجھ لے کر آئیں گے ، اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائے گا حالانکہ وہ ان کے بارے میں زیادہ بہتر جانتا ہے ، یہ کون لوگ ہیں ؟ فرشتے جواب دیں گے : اے ہمارے پروردگار ! یہ تیرے بندے ہیں جو تیری عبادت کیا کرتے تھے ، یہ کسی کو تیرا شریک قرار نہیں دیتے تھے ، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : ان کا بوجھ ہٹا دو ! اور یہودیوں اور عیسائیوں پر ڈال دو اور انہیں میری رحمت کے وسیلے سے جنت میں داخل کر دو ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ’’ صحیح ‘‘ میں ایک حدیث مذکور ہے جو اس روایت کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن مطر ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔

18358

Majma al-Zawaid #18358

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: إِنَّكُمْ مَجْمُوعُونَ بِصَعِيدٍ وَاحِدٍ، يَنْفُذُكُمُ الْبَصَرُ، وَيُسْمِعُكُمُ الدَّاعِي. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ رَبَاحٍ النَّخَعِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿūd, may Allāh be pleased with him, said you will be gathered on a single plain where the eye reaches you and the caller makes you hear. > **"You will be gathered on a single plain where the eye reaches you and the caller makes you hear."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تم لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کیا جائے گا سب لوگ بینائی کے دائرے میں آ سکیں گے ، اور پکارنے والا سب تک اپنی آواز پہنچا سکے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ریاح نخعی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

18359

Majma al-Zawaid #18359

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ يَجْمَعُ الْأُمَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ثُمَّ يَنْزِلُ مِنْ عَرْشِهِ إِلَى كُرْسِيِّهِ، وَكُرْسِيُّهُ وَسِعَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr, may Allāh be pleased with them, reported from the Messenger of Allāh ﷺ that Allāh will gather the nations on the Day of Resurrection, then descend from His Throne to His Footstool, whose extent embraces the heavens and the earth. > **"Allāh will gather the nations, then descend from His Throne to His Footstool."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب امتوں کو جمع کرے گا ، پھر وہ عرش سے کرسی کی طرف اتر کر آئے گا اور اس کی کرسی نے آسمانوں اور زمین کو گھیرا ہوا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلیٰ بن مساور ہے اور وہ متروک ہے ۔

18360

Majma al-Zawaid #18360

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «يَأْتِي مَعِي مِنْ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِثْلُ السَّيْلِ وَاللَّيْلِ، فَتَحْطِمُ النَّاسَ حَطْمَةٌ فَتَقُولُ الْمَلَائِكَةُ: لَمَا جَاءَ مَعَ مُحَمَّدٍ أَكْثَرُ مِمَّا جَاءَ مَعَ سَائِرِ الْأُمَمِ أَوِ الْأَنْبِيَاءِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, may Allāh be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ that there will come with him on the Day of Resurrection from his nation like the torrent and the night, crushing through people, so that the angels will say those who came with Muḥammad are more than came with all other nations and prophets. > **"Those who come with Muḥammad will be more than came with all other nations."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ قیامت کے دن میری امت میرے ساتھ یوں آئے گی جیسے سیلاب اور رات ہوتے ہیں ، یہاں تک کہ ان کے ہجوم کی وجہ سے دوسرے لوگوں کو اذیت کا سامنا کرنا ہو گا تو فرشتے یہ کہیں گے : حضرت محمد ﷺ کے ساتھ آنے والے لوگ ، اُن سب لوگوں سے زیادہ ہیں ، جو دیگر امتیں آئی ہیں ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) جو لوگ دیگر انبیاء کے ساتھ آئے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18361

Majma al-Zawaid #18361

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنِّي لَأَعْرِفُ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ بَيْنِ الْأُمَمِ ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَعْرِفُ أُمَّتَكَ؟ قَالَ: " أَعْرِفُهُمْ يُؤْتَوْنَ كُتُبَهُمْ بِأَيْمَانِهِمْ، وَأَعْرِفُهُمْ سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ، وَأَعْرِفُهُمْ بِنُورِهِمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ».

EnglishUnverified translation

Abū Dharr and Abū al-Dardāʾ, may Allāh be pleased with them, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said he will surely recognise his nation among nations. Asked how, he said he will know them receiving their books in their right hands, known by the mark of prostration on their faces, and by their light streaming before them. > **"I will know them by their books in their right hands, the mark of prostration, and their light before them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ اور حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ قیامت کے دن میں دیگر امتوں کے درمیان اپنی امت کو پہچان لوں گا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اپنی امت کو کیسے پہچانیں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں انہیں پہچان لوں گا ، جب وہ آئیں گے تو ان کے نامہ اعمال اُن کے دائیں ہاتھ میں ہوں گے اور سجدوں کے نشانات کی وجہ سے ان کے چہرے میں موجود مخصوص نشانی کی وجہ سے میں انہیں پہچان لوں گا اور میں ان کے نور کی وجہ سے انہیں پہچان لوں گا جو ان کے آگے چل رہا ہو گا ۔‘‘

18362

Majma al-Zawaid #18362

وَفِي رِوَايَةٍ: «يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَأَيْمَانِهِمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ ابْنِ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

In a variant, their light will stream before them and on their right hands. > **"Their light will stream before them and on their right hands."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :’’ جو ( نور ) اُن کے آگے اور ان کے دائیں طرف چل رہا ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابن لہیعہ کا معاملہ مختلف ہے ، وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

18363

Majma al-Zawaid #18363

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَنَا أَوَّلُ مَنْ يُؤْذَنُ لَهُ بِالسُّجُودِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يُؤْذَنُ لَهُ أَنْ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَأَنْظُرُ إِلَى بَيْنِ يَدَيَّ فَأَعْرِفُ أُمَّتِي مِنْ بَيْنِ الْأُمَمِ، وَمِنْ خَلْفِي مِثْلُ ذَلِكَ، وَعَنْ يَمِينِي مِثْلُ ذَلِكَ، وَعَنْ شِمَالِي مِثْلُ ذَلِكَ "". فَقَالَ رَجُلٌ: كَيْفَ تَعْرِفُ أُمَّتَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ بَيْنِ الْأُمَمِ، فِيمَا بَيْنَ نُوحٍ إِلَى أُمَّتِكَ؟! قَالَ: "" هُمْ غُرٌّ مُحَجَّلُونَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ، لَيْسَ أَحَدٌ كَذَلِكَ غَيْرَهُمْ، وَأَعْرِفُهُمْ إِنَّهُمْ يُؤْتَوْنَ كُتُبَهُمْ بِأَيْمَانِهِمْ، وَأَعْرِفُهُمْ تَسْعَى ذُرِّيَّتُهُمْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ عَنْهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «وَذَرَارِيُّهُمْ نُورٌ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ». وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ ابْنِ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said he is the first permitted to prostrate on the Day of Resurrection and the first permitted to raise his head, looking before, behind, right, and left to recognise his nation among nations. Asked how among the nations from Nūḥ to his own, he said they are radiant with ablution marks, none else so, receiving books in right hands, with their offspring hastening before them. > **"I am the first permitted to prostrate and raise my head, and they are radiant with ablution marks."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ قیامت کے دن میں وہ پہلا فرد ہوؤں گا ، جس کو سجدہ کرنے کی اجازت دی جائے گی اور میں وہ پہلا فرد ہوؤں گا ، جسے یہ اجازت دی جائے گی کہ وہ اپنے سر کو اٹھائے ، میں اپنے سامنے دیکھوں گا تو دیگر امتوں کے درمیان اپنی امت کو پہچان لوں گا ، اپنے پیچھے بھی اسی طرح ( پہچان لوں گا ) اپنے دائیں طرف بھی اسی طرح ( پہچان لوں گا ) اور بائیں طرف بھی اسی طرح ( پہچان لوں گا ) ۔‘‘ ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! حضرت نوح علیہ السلام کی امت سے لے کر اپنی امت تک کی امتوں کے درمیان میں سے آپ اپنی امت کو کیسے پہچانیں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ لوگ وضو کے اثرات کی وجہ سے چمکدار پیشانیوں والے ہوں گے ، ان کے علاوہ کوئی اور ایسا نہیں ہو گا اور میں انہیں یوں پہچان لوں گا کہ جب وہ آئیں گے تو ان کے نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں ہوں گے اور میں انہیں یوں پہچان لوں گا کہ اُن کے بچے ان کے آگے دوڑتے ہوئے آ رہے ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ ان صحابی کے حوالے سے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں :” اور ان کے بچے اُن کے آگے نور کی شکل میں ہوں گے ۔‘‘ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابن لہیعہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

18364

Majma al-Zawaid #18364

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَنْتُمُ الْغُرُّ الْمُحَجَّلُونَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي كِتَابِ الطَّهَارَةِ أَحَادِيثُ مِنْ نَحْوِ هَذَا الْبَابِ.

EnglishUnverified translation

Jābir, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said you are the radiant ones with ablution marks. > **"You are the radiant ones with ablution marks."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ چمکدار پیشانیوں والے ہو ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے اس نوعیت کی کچھ احادیث کتاب الطہارۃ میں گزر چکی ہیں ۔

18365

Majma al-Zawaid #18365

عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: «كِلْتَا يَدَيِ اللَّهِ يَمِينَانِ، فَيَطْوِي السَّمَاوَاتِ فَيَأْخُذُهُنَّ بِيَدِهِ، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ، أَيْنَ الْجَبَّارُونَ؟ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ؟ قَالَ: ثُمَّ يَأْخُذُ الْأَرَضِينَ بِيَدِهِ الْأُخْرَى ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ، أَيْنَ الْجَبَّارُونَ؟ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ؟» قَالَ عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ سَالِمٌ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «يَطْوِي اللَّهُ السَّمَاوَاتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ثُمَّ يَأْخُذُهُنَّ بِيَدِهِ الْيُمْنَى، أَنَا الْمَلِكُ، أَيْنَ الْجَبَّارُونَ؟ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ؟ ثُمَّ يَطْوِي الْأَرَضِينَ، ثُمَّ يَأْخُذُهُنَّ بِشِمَالِهِ، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ، أَيْنَ الْجَبَّارُونَ؟ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ؟». قُلْتُ: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ عَنْ هَذَا. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْحَسَنِ بْنِ حَمَّادٍ سَجَّادَةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿIkrimah reported that both Hands of Allāh are right, He will fold the heavens and seize them in His Hand saying, I am the Sovereign, where are the tyrants, where are the arrogant, then seize the earths in His other Hand saying the same. ʿUmar ibn Ḥamzah told this to Sālim ibn ʿAbdullāh, who reported from ʿAbdullāh ibn ʿUmar, may Allāh be pleased with them, that the Messenger of Allāh ﷺ said Allāh will fold the heavens on the Day of Resurrection, seize them in His right Hand saying, I am the Sovereign, where are the tyrants, where are the arrogant, then fold the earths and seize them in His left, saying the same. > **"I am the Sovereign, where are the tyrants, where are the arrogant?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عکرمہ بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں ، وہ آسمانوں کو لپیٹ کر اپنے ایک ہاتھ میں پکڑے گا اور پھر یہ فرمائے گا : میں بادشاہ ہوں ، خود کو زبردست سمجھنے والے لوگ کہاں ہیں ؟ تکبر کرنے والے لوگ کہاں ہیں ؟ وہ کہتے ہیں : پھر وہ تمام زمینوں کو اپنے دوسرے ہاتھ میں پکڑے گا اور یہ فرمائے گا : میں بادشاہ ہوں ، خود کو زبردست سمجھنے والے لوگ کہاں ہیں ؟ تکبر کرنے والے لوگ کہاں ہیں ؟ عمر بن حمزہ کہتے ہیں : میں نے یہ روایت سالم بن عبداللہ کو سنائی تو سالم نے بتایا : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ہمیں یہ بات بیان کی ہے : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آسمانوں کو لپیٹے گا اور انہیں دائیں ہاتھ میں لے گا اور فرمائے گا : میں بادشاہ ہوں ، خود کو زبردست سمجھنے والے لوگ کہاں ہیں ؟ تکبر کرنے والے لوگ کہاں ہیں ؟ پھر وہ تمام زمینوں کو لپیٹ کر انہیں بائیں ہاتھ کے ذریعے پکڑ کر پھر یہ فرمائے گا : میں بادشاہ ہوں ، خود کو زبردست سمجھنے والے لوگ کہاں ہیں ؟ تکبر کرنے والے لوگ کہاں ہیں ؟‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی نقل کردہ حدیث ’’ صحیح ‘‘ میں اس کی بہ نسبت اختصار کے ساتھ منقول ہے ، یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حسن بن حماد سجادہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

18366

Majma al-Zawaid #18366

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قَوْلِ اللَّهِ: {يَوْمَ تُبَدَّلُ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ} [إبراهيم: 48] قَالَ: "" أَرْضٌ بَيْضَاءُ، لَمْ يُسْفَكْ عَلَيْهَا دَمٌ، وَلَمْ يُعْمَلْ عَلَيْهَا خَطِيئَةٌ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ جَرِيرُ بْنُ أَيُّوبَ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd, may Allāh be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ concerning Allāh's word when the earth is changed for another earth that it will be a white land upon which no blood was shed and no sin committed. > **"It will be a white land upon which no blood was shed and no sin committed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ جس دن زمین کو دوسری زمین میں تبدیل کر دیا جائے گا ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے یہ فرمایا ہے :” وہ ایک سفید زمین ہو گی ، جس پر خون نہیں بہایا گیا ہو گا اور جس پر کسی گناہ کا ارتکاب نہیں کیا گیا ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جریر بن ایوب ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔

18367

Majma al-Zawaid #18367

عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ: إِذْ ذَاكَ وَنَحْنُ بِالْمَدِينَةِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «تَجِيءُ الْأَعْمَالُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَتَجِيءُ الصَّلَاةُ، فَتَقُولُ: يَا رَبِّ، أَنَا الصَّلَاةُ، فَيَقُولُ: إِنَّكِ عَلَى خَيْرٍ، وَتَجِيءُ الصَّدَقَةُ، فَتَقُولُ: يَا رَبِّ، أَنَا الصَّدَقَةُ. فَيَقُولُ: إِنَّكِ عَلَى خَيْرٍ، ثُمَّ يَجِيءُ الصِّيَامُ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، أَنَا الصِّيَامُ. فَيَقُولُ: إِنَّكَ عَلَى خَيْرٍ، ثُمَّ تَجِيءُ الْأَعْمَالُ عَلَى ذَلِكَ، فَيَقُولُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى -: إِنَّكِ عَلَى خَيْرٍ، ثُمَّ يَجِيءُ الْإِسْلَامُ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، أَنْتَ السَّلَامُ، وَأَنَا الْإِسْلَامُ، فَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: إِنَّكَ عَلَى خَيْرٍ، بِكَ الْيَوْمَ آخُذُ، وَبِكَ أُعْطِي. قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - فِي كِتَابِهِ: "" {وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ} [آل عمران: 85]». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَزَادَ: فَيَقُولُ اللَّهُ: "" {إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ - وَمَنْ يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ} [آل عمران: 19 - 85] "". وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḥasan reported that Abū Hurayrah, may Allāh be pleased with him, narrated while in Madīnah that the Messenger of Allāh ﷺ said deeds will come on the Day of Resurrection: prayer will come saying, my Lord, I am prayer, and He will say it is upon good, then charity, then fasting, then all deeds likewise, until Islām comes saying, my Lord, You are Peace and I am Islām, so Allāh will say it is upon good, by it Today I seize and by it I grant, as Allāh said in His Book that whoever seeks other than Islām as religion it will never be accepted from him and he is among the losers in the Hereafter. > **"By Islām Today I seize and by it I grant; whoever seeks other than Islām it will never be accepted."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حسن بیان کرتے ہیں : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں حدیث بیان کی : جب وہ اور ہم مدینہ منورہ میں موجود تھے انہوں نے بتایا : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ قیامت کے دن اعمال آئیں گے ، نماز آئے گی اور عرض کرے گی : اے میرے پروردگار ! میں نماز ہوں ، تو پروردگار فرمائے گا : تم بھلائی پر ہو ، صدقہ آئے گا اور عرض کرے گا : اے میرے پروردگار ! میں صدقہ ہوں ، تو پروردگار فرمائے گا : تم بھلائی پر ہو ، پھر روزہ آئے گا اور عرض کرے گا : اے میرے پروردگار ! میں روزہ ہوں ، پروردگار فرمائے گا : تم بھلائی پر ہو ، اسی طرح مختلف اعمال آتے رہیں گے اور اللہ تعالیٰ فرماتا رہے گا : تم بھلائی پر ہو ، پھر اسلام آئے گا اور عرض کرے گا : اے پروردگار ! تو سلامتی عطا کرنے والا ہے اور میں اسلام ہوں ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : بے شک تم بھلائی پر ہو اور تمہاری وجہ سے آج میں گرفت کروں گا اور تمہاری وجہ سے آج میں عطا کروں گا ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں یہ ارشاد فرمایا ہے : جو شخص اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کرے گا تو وہ اس کی طرف سے قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ شخص آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور انھوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ’’ بیشک اللہ تعالیٰ کے نزدیک دین ، اسلام ہے ۔‘‘ ( ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ اور جو شخص اسلام کے علاوہ کوئی اور دین تلاش کرے گا تو وہ اس کی طرف سے قبول نہیں ہو گا اور وہ شخص آخرت میں خسارہ پانے والوں میں سے ہو گا ۔‘‘ اس روایت کی سند میں ایک راوی عباد بن راشد ہے جسے ابوحاتم اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ، امام احمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18368

Majma al-Zawaid #18368

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «رَأَيْتُ النَّاسَ جُمِعُوا لِلْحِسَابِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr, may Allāh be pleased with them, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said he saw the people gathered for the reckoning. > **"I saw the people gathered for the reckoning."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ انہیں حساب کے لیے جمع کیا گیا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18369

Majma al-Zawaid #18369

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «بَلَغَنِي عَنْ رَجُلٍ حَدِيثٌ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاشْتَرَيْتُ بَعِيرًا، ثُمَّ شَدَدْتُ عَلَيْهِ رَحْلِي، ثُمَّ سِرْتُ إِلَيْهِ شَهْرًا حَتَّى قَدِمْتُ عَلَيْهِ بِالشَّامِ، فَإِذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ، فَقُلْتُ لِلْبَوَّابِ: قُلْ لَهُ: جَابِرٌ عَلَى الْبَابِ، فَقَالَ: ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. فَخَرَجَ يَطَأُ ثَوْبَهُ، فَاعْتَنَقَنِي وَاعْتَنَقْتُهُ، فَقُلْتُ: حَدِيثًا بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْقِصَاصِ، فَخَشِيتُ أَنْ تَمُوتَ أَوْ أَمُوتَ قَبْلَ أَنْ أَسْمَعَهُ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" يَحْشُرُ اللَّهُ الْعِبَادَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ - أَوْ قَالَ: النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ - حُفَاةً عُرَاةً، غُرْلًا بُهْمًا "". قَالَ: قُلْنَا: وَمَا بُهْمًا؟ قَالَ: "" لَيْسَ مَعَهُمْ شَيْءٌ، ثُمَّ يُنَادِيهِمْ بِصَوْتٍ يَسْمَعُهُ مَنْ بَعُدَ كَمَا يَسْمَعُهُ مَنْ قَرُبَ: أَنَا الدَّيَّانُ، أَنَا الْمَلِكُ، لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ أَنْ يَدْخُلَ النَّارَ وَلَهُ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَقٌّ حَتَّى أَقُصَّهُ مِنْهُ، وَلَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ وَلِأَحَدٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ عِنْدَهُ حَقٌّ، حَتَّى أَقُصَّهُ مِنْهُ حَتَّى اللَّطْمَةَ "". قَالَ: قُلْنَا: كَيْفَ وَإِنَّمَا نَأْتِي عُرَاةً، غُرْلًا، بُهْمًا؟! قَالَ: "" الْحَسَنَاتُ وَالسَّيِّئَاتُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: بِمِصْرَ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ، وَحَدِيثُ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ فِي بَابِ جَامِعِ الْبَعْثِ قَبْلَ هَذَا.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbdullāh, may Allāh be pleased with them, reported that word reached him of a report heard from the Messenger of Allāh ﷺ, so he bought a camel, saddled it, and travelled a month to Syria to ʿAbdullāh ibn Unays. Announcing himself at the door, Ibn Unays came out trailing his garment and they embraced. Jābir said he feared one of them would die before he heard the report on requital, so Ibn Unays said he heard the Messenger of Allāh ﷺ say Allāh will gather servants on the Day of Resurrection barefoot, naked, uncircumcised, with nothing, then call them with a voice heard by far and near: I am the Requiter, I am the Sovereign, none of Hell's people should enter Fire while owed a right by one of Paradise's people until it is requited, nor any of Paradise's people enter Paradise while one of Hell's people is owed a right by him until it is requited, even a slap. Asked how with nothing, he said by good and evil deeds. > **"I am the Requiter, I am the Sovereign; no right shall remain except it is requited, even a slap."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : مجھے ایک صاحب کے بارے میں پتہ چلا کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے ایک حدیث سنی ہوئی ہے تو میں نے ایک اونٹ خریدا ، اُس پر پالان باندھا اور پھر ایک ماہ کی مسافت کا فاصلہ طے کر کے ان صاحب کے پاس پہنچا ، یہاں تک کہ شام میں ، میں ان کے پاس آ گیا ، وہ حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ تھے ، میں نے دربان سے کہا : تم اُن سے کہو کہ دروازے پر جابر موجود ہے ، دربان نے دریافت کیا : وہ جو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ہیں ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ اپنے کپڑے کو گھسیٹتے ہوئے باہر آئے اور انہوں نے مجھے گلے لگا لیا اور میں نے انہیں گلے لگا لیا ، میں نے کہا : مجھے ایک حدیث کے بارے میں یہ پتہ چلا تھا کہ آپ نے اسے نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنا ہوا ہے اور وہ قصاص کے بارے میں ہے ، تو مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں میرے اس حدیث کو سننے سے پہلے آپ کا انتقال نہ ہو جائے ، یا میرا انتقال نہ ہو جائے ، تو حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بندوں کو ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) لوگوں کو برہنہ پاؤں برہنہ جسم ختنے کے بغیر ’’ بہم ‘‘ حالت میں زندہ کرے گا ، راوی کہتے ہیں : ہم نے عرض کی :’’ بہم ‘‘ سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ان کے پاس کوئی چیز نہیں ہو گی ، پھر انہیں ایک منادی پکار کر یہ کہے گا ، اس پکار کو دور کا آدمی بھی اسی طرح سن لے گا جس طرح قریب کا آدمی اسے سن سکے گا ، وہ یہ فرمائے گا : میں بادشاہ ہوں ، میں بادشاہ ہوں ، میں ’’ دیان ‘‘ ( یعنی فیصلہ کرنے والا ، یا اچھے برے کا بدلہ دینے والا ) ہوں ، اہل جہنم میں سے کسی کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ جہنم میں داخل ہو جائے جبکہ اس نے اہل جنت میں سے کسی سے کوئی حق وصول کرنا ہو ، تو جب تک میں اس کو اس کا حق نہیں دلوا دیتا ( یعنی اس وقت تک یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ جہنم میں داخل ہو ) اور اہل جنت میں سے کسی کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ جنت میں داخل ہو جبکہ اس نے اہل جہنم میں سے کسی سے حق وصول کرنا ہو ، جب تک میں اس کا حق اس دوسرے سے اُسے نہیں دلوا دیتا ، یہاں تک کہ تھپڑ مارنے تک کا معاملہ بھی اس میں شامل ہو گا ، ہم نے عرض کی : یہ کیسے ہو گا ؟ جبکہ ہم برہنہ حالت میں ، ختنہ کے بغیر ، کسی چیز کے بغیر ہوں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : نیکیوں اور برائیوں ( کے حساب ) سے لین دین ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں :’’ مصر میں ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ اور حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث اس باب میں گزر چکی ہے جو دوبارہ زندہ کیے جانے سے متعلق روایات کا مجموعہ ہے ۔

18370

Majma al-Zawaid #18370

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَا تَزُولُ قَدَمَا عَبْدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ أَرْبَعٍ: عَنْ عُمْرِهِ فِيمَا أَفْنَاهُ، وَعَنْ جَسَدِهِ فِيمَا أَبْلَاهُ، وَعَنْ مَالِهِ فِيمَا أَنْفَقَهُ، وَمِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ، وَعَنْ حُبِّنَا أَهْلَ الْبَيْتِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَشْقَرُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ مَعَ أَنَّهُ يَشْتُمُ السَّلَفَ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allāh be pleased with them, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said the feet of a servant will not move on the Day of Resurrection until he is asked about four: his life in what he spent it, his body in what he wore it out, his wealth in what he spent it and whence he earned it, and love of us, the Household. > **"The feet will not move until asked about life, body, wealth, and love of us, the Household."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت کے دن بندے کے پاؤں اپنی جگہ سے اس وقت تک نہیں ہلیں گے جب تک اس سے چار چیزوں کے بارے میں حساب نہیں لے لیا جاتا ، اس کی عمر کے بارے میں کہ اس نے کس کام میں اسے بسر کیا ؟ اس کے جسم کے بارے میں کہ اس نے کس کام میں اسے بوسیدہ کیا ؟ اس کے مال کے بارے میں کہ اس نے کہاں اسے خرچ کیا اور کیسے اس کو کمایا ؟ اور اس کی ہمارے ساتھ ( یعنی اہل بیت کے ساتھ ) محبت کے بارے میں ( اس سے حساب لیا جائے گا ) ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حسین بن حسن اشقر ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اگرچہ وہ اسلاف کو برا کہتا ہے ۔

18371

Majma al-Zawaid #18371

وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَا تَزُولُ قَدَمَا عَبْدٍ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ أَرْبَعَةٍ: عَنْ جَسَدِهِ فِيمَا أَبْلَاهُ، وَعُمْرِهِ فِيمَا أَفْنَاهُ، وَمَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ، وَفِيمَا أَنْفَقَهُ، وَعَنْ حُبِّنَا أَهْلَ الْبَيْتِ "". قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا عَلَامَةُ حُبِّكُمْ؟ فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى مَنْكِبِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَهُوَ عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ دُونَ قَوْلِهِ: ""وَعَنْ حُبِّنَا أَهْلَ الْبَيْتِ"". وَمَا بَعْدَهُ. وَجَعَلَ الرَّابِعَةَ: ""وَعَلَّمَهُ مَاذَا عَمِلَ بِهِ"". وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكُوفِيُّ، وَيُقَالُ لَهُ: الْمَعْكُوفُ، قَالَ صَاحِبُ الْمَيْزَانِ: أَتَى بِخَبَرٍ بَاطِلٍ، وَبَاقِيهِمْ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Barzah, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said the feet will not move until asked about four: his body in what he wore it out, his life in what he spent it, his wealth whence earned and where spent, and love of us, the Household. When asked the sign of their love, he struck his hand upon the shoulder of ʿAlī, may Allāh be pleased with him. > **"Feet will not move until asked about body, life, wealth, and love of us, the Household."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ( قیامت کے دن ) بندے کے قدم اپنی جگہ سے اُس وقت تک نہیں ہلیں گے جب تک اس سے چار چیزوں کے بارے میں حساب نہیں لیا جاتا ، اُس کے جسم کے بارے میں کہ اس نے کس کام میں اسے بوسیدہ کیا ؟ اس کی عمر کے بارے میں کہ اس نے کس کام میں اسے فنا کیا ؟ اس کے مال کے بارے میں کہ اس نے کیسے اسے کمایا اور کہاں خرچ کیا ؟ اور ہم اہل بیت کے ساتھ محبت کے بارے میں ( اس سے حساب لیا جائے گا ) عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! آپ لوگوں کے ساتھ محبت کی علامت کیا ہے ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک حضرت علی رضی اللہ عنہ کے کندھے پر لگایا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے یہ امام ترمذی نے بھی نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ اور اس کے بعد والا حصہ نقل نہیں کئے ہیں :” ہم اہل بیت کے ساتھ محبت کے بارے میں ۔‘‘ انہوں نے چوتھی چیز نقل کی ہے :’’ اُس سے علم کے بارے میں حساب لیا جائے گا کہ اس نے اس پر کتنا عمل کیا ۔‘‘ طبرانی کی سند میں ایک راوی حارث بن محمد کوفی ہے جسے معکوف کہا جاتا ہے ” میزان “ کے مصنف نے یہ کہا ہے : یہ جھوٹی روایت نقل کرتا ہے اس روایت کے باقی رجال ثقہ ہیں ۔

18372

Majma al-Zawaid #18372

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَنْ تَزُولَ قَدَمَا عَبْدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ أَرْبَعٍ: عَنْ شَبَابِهِ فِيمَا أَبْلَاهُ، وَعَنْ عُمْرِهِ فِيمَا أَفْنَاهُ، وَعَنْ مَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ وَفِيمَا أَنْفَقَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرٍ الدَّاهِرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said the feet of a servant will not move on the Day of Resurrection until he is asked about four: his youth in what he wore it out, his life in what he spent it, and his wealth whence he earned it and in what he spent it. > **"Feet will not move until asked about youth, life, and wealth whence earned and where spent."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت کے دن آدمی کے قدم اپنی جگہ سے اس وقت تک نہیں ہلیں گے جب تک اس سے چار چیزوں کے بارے میں حساب نہیں لے لیا جاتا ، اُس کی جوانی کے بارے میں کہ اس نے کس کام میں اسے بوسیدہ کیا ؟ اس کی عمر کے بارے میں کہ اس نے کس کام میں اسے فنا کیا ؟ اس کے مال کے بارے میں کہ اس نے کہاں سے کمایا اور کس کام میں خرچ کیا ؟‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر داہری ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

18373

Majma al-Zawaid #18373

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَنْ تَزُولَ قَدَمَا عَبْدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُسْأَلَ عَنْ أَرْبَعِ خِصَالٍ: عَنْ عُمْرِهِ فِيمَا أَفْنَاهُ، وَعَنْ شَبَابِهِ فِيمَا أَبْلَاهُ، وَعَنْ مَالِهِ مِنْ أَيْنَ اكْتَسَبَهُ، وَفِيمَا أَنْفَقَهُ، وَعَنْ عِلْمِهِ مَاذَا عَمِلَ فِيهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيُّ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ صَامِتِ بْنِ مُعَاذٍ، وَعَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ، وَهُمَا ثِقَتَانِ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Jabal, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said the feet of a servant will not move on the Day of Resurrection until he is asked about four traits: his life in what he spent it, his youth in what he wore it out, his wealth whence he earned it and where he spent it, and his knowledge what he did with it. > **"Feet will not move until asked about life, youth, wealth, and what he did with knowledge."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت کے دن بندے کے قدم اپنی جگہ سے اُس وقت تک نہیں ہلیں گے جب تک اس سے چار چیزوں کے بارے میں حساب نہیں لے لیا جاتا ، اس کی عمر کے بارے میں کہ اس نے کس کام میں اسے فنا کیا ، اس کی جوانی کے بارے میں کہ اس نے کس کام میں اسے بوسیدہ کیا ، اس کے مال کے بارے میں کہ اس نے کہاں سے اس کو کمایا اور کہاں خرچ کیا اور اس کے علم کے بارے میں کہ اس نے کہاں تک اس پر عمل کیا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، امام طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف صامت بن معاذ اور عدی بن عدی کندی کا معاملہ مختلف ہے اور یہ دونوں ثقہ ہیں ۔

18374

Majma al-Zawaid #18374

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ دَعَا اللَّهُ عَبْدًا مِنْ عَبِيدِهِ فَيُوقِفُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَيَسْأَلُهُ عَنْ جَاهِهِ كَمَا يَسْأَلُهُ عَنْ مَالِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ يُونُسَ: أَخُو أَبِي مُسْلِمٍ الْأَفْطَسِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, may Allāh be pleased with them, reported that he heard the Messenger of Allāh ﷺ say when the Day of Resurrection comes Allāh will summon a servant, halt him before Him, and ask him about his rank as He asks him about his wealth. > **"Allāh will halt a servant and ask him about his rank as about his wealth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جب قیامت کا دن ہو گا تو اللہ تعالیٰ ایک بندے کو بلائے گا اسے اپنے سامنے کھڑا کرے گا اور اس سے اس کے جاہ و منصب کے بارے میں حساب لے گا ، جس طرح وہ اس سے اس کے مال کے بارے میں حساب لے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن یونس ہے جو ابومسلم افطس کا بھائی ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

18375

Majma al-Zawaid #18375

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَيْسَ مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا سَيُكَلِّمُهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ حِجَابٌ، وَلَا تَرْجُمَانٌ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Buraydah, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said there is none among you but Allāh will speak to him with no veil nor interpreter between them. > **"Every one of you shall speak to Allāh with no veil nor interpreter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم میں سے ہر ایک کے ساتھ عنقریب اللہ تعالیٰ یوں کلام کرے گا کہ اللہ تعالیٰ اور اُس شخص کے درمیان کوئی حجاب یا کوئی ترجمان نہیں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن ابان ہے اور وہ متروک ہے ۔

18376

Majma al-Zawaid #18376

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ قَالَ: «سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ يَبْدَأُ بِالْيَمِينِ قَبْلَ الْكَلَامِ، فَقَالَ: مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا أَنَّ رَبَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - سَيَخْلُو بِهِ كَمَا يَخْلُو أَحَدُكُمْ بِالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، فَيَقُولُ: ابْنَ آدَمَ، مَاذَا غَرَّكَ بِي؟ ابْنَ آدَمَ، مَاذَا غَرَّكَ بِي؟ ابْنَ آدَمَ، مَاذَا أَجَبْتَ الْمُرْسَلِينَ؟ ابْنَ آدَمَ، مَاذَا أَجَبْتَ الْمُرْسَلِينَ؟ ابْنَ آدَمَ، مَاذَا عَمِلْتَ؟ ابْنَ آدَمَ، مَاذَا عَمِلْتَ؟ ابْنَ آدَمَ، مَاذَا عَمِلْتَ فِيمَا عَلِمَتْ؟ ابْنَ آدَمَ، مَاذَا عَمِلْتَ فِيمَا عَلِمْتَ؟» رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مَوْقُوفًا، وَرَوَى بَعْضَهُ مَرْفُوعًا فِي الْأَوْسَطِ: «عَبْدِي، مَا غَرَّكَ بِي؟ مَاذَا أَجَبْتَ الْمُرْسَلِينَ؟». وَرِجَالُ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَرِجَالُ الْأَوْسَطِ فِيهِمْ شَرِيكٌ أَيْضًا، وَإِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّمِيمِيُّ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUkaym reported that he heard ʿAbdullāh ibn Masʿūd, may Allāh be pleased with him, in this mosque begin with an oath before speaking: there is none among you but his Lord will be alone with him as one of you is alone with the full moon, saying, son of Ādam, what deceived you concerning Me, what answer did you give the messengers, what did you do, what did you do with what you knew, each repeated twice. > **"Son of Ādam, what deceived you concerning Me, what answer did you give the messengers, what did you do with what you knew?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن عکیم بیان کرتے ہیں میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو اس مسجد میں یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : انہوں نے گفتگو سے پہلے قسم کے ذریعے اپنے کلام کا آغاز کیا اور پھر یہ فرمایا : ’’ تم میں سے ہر ایک کے ساتھ اس کا پروردگار انفرادی طور پر یوں کلام کرے گا جس طرح چودھویں رات میں ، تم میں سے کسی ایک کے سامنے چودھویں کا چاند اکیلا ہوتا ہے ، پروردگار فرمائے گا : اے ابن آدم ! میری ذات کے بارے میں کس چیز نے تمہیں غلط فہمی کا شکار کیا ؟ اے ابن آدم ! میری ذات کے بارے میں کس چیز نے تمہیں غلط فہمی کا شکار کیا ؟ اے ابن آدم ! تم نے مرسلین کی دعوت کا کیا جواب دیا ؟ اے ابن آدم ! تم نے مرسلین کی دعوت کا کیا جواب دیا ؟ اے ابن آدم ! تم نے کیا عمل کیا ؟ اے ابن آدم ! تم نے کیا عمل کیا ؟ اے ابن آدم ! تمہیں جو علم تھا اس کے حوالے سے تم نے کیا عمل کیا ؟ اے ابن آدم ! تمہیں جو علم تھا اس کے حوالے سے تم نے کیا عمل کیا ؟“۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں موقوف روایت کے طور پر نقل کی ہے انہوں نے اس کا کچھ حصہ مرفوع روایت کے طور پر معجم اوسط میں نقل کیا ہے ( جس کے الفاظ یہ ہیں : ) ’’ اے میرے بندے ! کس چیز نے تمہیں میری ذات کے بارے میں غلط فہمی کا شکار کیا ؟ تم نے مرسلین کی دعوت کا کیا جواب دیا ؟‘‘۔ معجم کبیر کے رجال صحیح کے رجال ، صحیح کے رجال ہیں ، صرف شریک بن عبداللہ کا معاملہ مختلف ہے وہ ثقہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے معجم اوسط کے رجال میں بھی شریک نامی راوی ہے اس کے علاوہ اسحاق بن عبداللہ تمیمی ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18377

Majma al-Zawaid #18377

وَعَنْ ثَوْبَانَ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَظَّمَ شَأْنَ الْمَسْأَلَةِ فَقَالَ: "" إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ جَاءَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَحْمِلُونَ أَوْثَانَهُمْ عَلَى ظُهُورِهِمْ، فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا، لَمْ تُرْسِلْ لَنَا رَسُولًا، وَلَمْ يَأْتِنَا لَكَ أَمْرٌ، وَلَوْ أَرْسَلْتَ إِلَيْنَا رَسُولًا، لَكُنَّا أَطْوَعَ عِبَادِكَ، فَيَقُولُ لَهُمْ رَبُّهُمْ: أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَمَرْتُكُمْ بِأَمْرٍ أَتُطِيعُونِي؟ فَيَأْخُذُ عَلَى ذَلِكَ مَوَاثِيقَهُمْ. فَيَقُولُ: اعْمِدُوا لَهَا فَادْخُلُوهَا، فَيَنْطَلِقُونَ حَتَّى إِذَا رَأَوْهَا فَرِقُوا فَرَجَعُوا. قَالُوا: رَبَّنَا، فَرِقْنَا مِنْهَا لَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَدْخُلَهَا، فَيَقُولُ: ادْخُلُوهَا دَاخِرِينَ "". فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَوْ دَخَلُوهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ كَانَتْ عَلَيْهِمْ بَرْدًا وَسَلَامًا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ ضَعِيفَيْنِ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي كِتَابِ الْقَدَرِ فِيمَنْ مَاتَ فِي الْفَتْرَةِ.

EnglishUnverified translation

Thawbān, may Allāh be pleased with him, reported that the Prophet ﷺ magnified the matter of questioning, saying when the Day of Resurrection comes the people of Jāhiliyyah will arrive carrying their idols on their backs. Their Lord will ask them, and they will say, our Lord, no messenger was sent to us and no command reached us; had You sent one we would have been most obedient. He will ask whether they would obey if He commanded them, take their covenants, then command them to enter the Fire. They will go, fear upon seeing it, and return saying they fear and cannot enter, so He will say enter it debased. The Prophet of Allāh ﷺ said had they entered the first time it would have been coolness and safety upon them. > **"Had they entered the first time it would have been coolness and safety."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سوال ( یعنی حساب ) کے مسئلے کی عظمت کا اظہار کرتے ہوئے یہ فرمایا : ’’ جب قیامت کا دن ہو گا تو زمانہ جاہلیت سے تعلق رکھنے والے لوگ آئیں گے انہوں نے اپنے بتوں کو اپنی پشتوں پر اٹھایا ہوا ہو گا ، ان کا پروردگار ان سے سوال کرے گا تو وہ جواب دیں گے : اے ہمارے پروردگار ! تو نے ہمارے لیے کسی رسول کو مبعوث نہیں کیا اور ہمارے پاس تیرا کوئی حکم نہیں آیا ، اگر تو ہماری طرف رسول کو مبعوث کر دیتا تو ہم تیرے سب سے زیادہ فرمانبردار بندے بن جاتے ، تو پروردگار اُن سے فرمائے گا : اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ کہ اگر میں تمہیں کوئی حکم دوں تو تم میری اطاعت کرو گے ؟ پھر پروردگار اس حوالے سے ان لوگوں سے پختہ عہد لے گا ، پھر وہ فرمائے گا : تم لوگ اس ( یعنی جہنم ) کی طرف جاؤ ! اور اس میں داخل ہو جاؤ ، وہ لوگ روانہ ہوں گے ، یہاں تک کہ جب وہ اسے دیکھیں گے تو اس سے ڈر جائیں گے اور واپس آ جائیں گے اور کہیں گے : ہم اُس سے ڈر گئے ہیں ، ہم اس میں داخل ہونے کی استطاعت نہیں رکھتے ہیں ، پروردگار فرمائے گا : تم لوگ ذلیل ہو کر اس میں داخل ہو جاؤ ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر وہ لوگ پہلی مرتبہ میں ، اُس میں داخل ہو جاتے تو وہ اُن کے لیے ٹھنڈک والی اور سلامتی والی ہو جاتی ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے دو ضعیف اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس سے پہلے کتاب القدر میں وہ احادیث گزر چکی ہیں ، جو ان لوگوں کے بارے میں ہیں ، جو زمانہ فترت میں فوت ہو گئے تھے ۔

18378

Majma al-Zawaid #18378

وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ: «خَطَبَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" لَيَعْذِرَنَّ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِلَى آدَمَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلَاثَ مَعَاذِيرَ، يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: يَا آدَمُ، لَوْلَا أَنِّي لَعَنْتُ الْكَذَّابِينَ، وَأَبْغَضْتُ الْكَذِبَ وَالْحَلِفَ، وَأَوْعَدْتُ عَلَيْهِ لَرَحِمْتُ الْيَوْمَ وَلَدَكَ أَجْمَعِينَ مِنْ شِدَّةِ مَا أَعْدَدْتُ لَهُمْ مِنَ الْعَذَابِ، وَلَكِنْ حَقَّ الْقَوْلُ مِنِّي: لَئِنْ كُذِّبَتْ رُسُلِي، وَعُصِيَ أَمْرِي، لَأَمْلَأَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ. وَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: يَا آدَمُ، اعْلَمْ أَنِّي لَا أُدْخِلُ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ النَّارَ أَحَدًا، وَلَا أُعَذِّبُ بِالنَّارِ مِنْهُمْ أَحَدًا إِلَّا مَنْ قَدْ عَلِمْتُ بِعِلْمِي أَنِّي لَوْ رَدَتْتُهُ إِلَى الدُّنْيَا لَعَادَ إِلَى شَرِّ مَا كَانَ فِيهِ، وَلَمْ يَرْجِعْ وَلَمْ يَعْتِبْ. وَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: يَا آدَمُ، قَدْ جَعَلْتُكَ حَكَمًا بَيْنِي وَبَيْنَ ذَرِّيَّتِكَ، قُمْ عِنْدَ الْمِيزَانِ فَانْظُرْ مَا يُرْفَعُ إِلَيْكَ مِنْ أَعْمَالِهِمْ، فَمَنْ رَجَحَ مِنْهُمْ خَيْرُهُ عَلَى شَرِّهِ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فَلَهُ الْجَنَّةُ، حَتَّى تَعْلَمَ أَنِّي لَا أُدْخِلُ النَّارَ مِنْهُمْ إِلَّا ظَالِمًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ عِيسَى الرَّقَاشِيُّ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḥasan reported that Abū Hurayrah, may Allāh be pleased with him, addressed them from the pulpit of the Messenger of Allāh ﷺ, saying he heard the Messenger of Allāh ﷺ say Allāh will present three excuses to Ādam, peace be upon him, on the Day of Resurrection. Allāh will say, O Ādam, had I not cursed liars, hated lying and oath-breaking, and threatened for it, I would have mercy today upon all your children for the torment prepared, but My word is true: if My messengers are belied and My command disobeyed I shall fill Hell with jinn and men together. And He will say, O Ādam, know I admit none of your offspring to Fire nor torment any with Fire except him whom I know would return to worse evil if returned to the world, unrepentant. And He will say, O Ādam, I have made you judge between Me and your offspring: stand by the Balance and see what is raised of their deeds; whoever's good outweighs evil by an atom's weight has Paradise, so you know I admit none to Fire but a wrongdoer. > **"I admit none of your offspring to Fire except him I know would return to worse evil."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حسن بیان کرتے ہیں : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں ، نبی اکرم ﷺ کے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حضرت آدم علیہ السلام کے سامنے تین امور کے حوالے سے وجہ بیان کرے گا ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے آدم ! اگر ایسا نہ ہوتا کہ میں نے جھوٹ بولنے والوں پر لعنت کی ہے اور میں جھوٹ اور وعدہ خلافی کو ناپسند کرتا ہوں اور میں نے اس حوالے سے وعید بیان کی ہے تو آج کے دن میں نے تمہاری ساری اولاد پر رحم کر دینا تھا ، اس عذاب کی شدت کی وجہ سے جو میں نے اُن کے لئے تیار کیا ہے ، لیکن میری طرف سے یہ بات حق ہے کہ اگر میرے رسولوں کی تکذیب کی گئی اور میرے حکم کی نافرمانی کی گئی تو میں جہنم کو جنات اور انسانوں دونوں سے بھر دوں گا ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے آدم ! تم یہ بات جان لو ! کہ میں تمہاری اولاد میں سے جہنم میں کسی فرد کو داخل نہیں کروں گا اور ان میں سے کسی فرد کو آگ کا عذاب نہیں دوں گا ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جس کے بارے میں مجھے یہ علم ہو کہ اگر میں نے اسے دنیا کی طرف لوٹا دیا تو وہ پہلے سے زیادہ بدتر عمل کرے گا ، وہ رجوع نہیں کرے گا اور ٹھیک نہیں ہو گا ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے آدم ! میں تمہیں اپنے اور تمہاری ذریت کے درمیان ثالث مقرر کرتا ہوں ، تم میزان کے پاس کھڑے ہو جاؤ اور اس بات کا جائزہ لو کہ ان کے اعمال میں سے کیا تمہارے سامنے پیش کیا جاتا ہے ؟ جس شخص کی بھلائی اس کے شر سے ذرے کے وزن جتنی زیادہ ہوئی تو اسے جنت مل جائے گی تاکہ تمہیں یہ بات پتہ چل جائے کہ میں اُن میں سے جہنم میں صرف ظالموں کو داخل کروں گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی فضل بن عیسیٰ رقاشی ہے اور وہ کذاب ہے ۔

18379

Majma al-Zawaid #18379

وَعَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «الظُّلْمُ ثَلَاثَةٌ: فَظُلْمٌ لَا يَغْفِرُهُ اللَّهُ، وَظُلْمٌ يَغْفِرُهُ، وَظُلْمٌ لَا يَتْرُكُهُ اللَّهُ. فَأَمَّا الظُّلْمُ الَّذِي لَا يَغْفِرُهُ اللَّهُ فَالشِّرْكُ، قَالَ اللَّهُ: إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ. وَأَمَّا الظُّلْمُ الَّذِي يَغْفِرُهُ اللَّهُ فَظُلْمُ الْعِبَادِ لِأَنْفُسِهِمْ فِيمَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ رَبِّهِمْ. وَأَمَّا الظُّلْمُ الَّذِي لَا يَتْرُكُهُ اللَّهُ فَظُلْمُ الْعِبَادِ بَعْضِهِمْ بَعْضًا، حَتَّى يَدِينَ لِبَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ: أَحْمَدَ بْنِ مَالِكٍ الْقُشَيْرِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ قَدْ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفِهِمْ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allāh be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ that injustice is three kinds: an injustice Allāh will not forgive, an injustice He will forgive, and an injustice He will not leave. The unforgiven is shirk, for Allāh said shirk is a mighty wrong. The forgiven is servants' wronging themselves between them and their Lord. The unleft is servants' wronging one another until requital is taken among them. > **"Injustice is three kinds: shirk never forgiven, wrongs toward Allāh forgiven, and wrongs between servants never left until requited."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ظلم تین قسم کا ہوتا ہے ، ایک ظلم وہ ہے جس کی اللہ تعالیٰ مغفرت نہیں کرے گا ایک ظلم وہ ہے جس کی وہ مغفرت کر دے گا اور ایک ظلم وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ چھوڑے گا نہیں ، جہاں تک اس ظلم کا تعلق ہے ، جس کی اللہ تعالیٰ مغفرت نہیں کرے گا تو وہ شرک ہے ، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ بے شک شرک بڑا ظلم ہے ۔‘‘ جہاں تک اس ظلم کا تعلق ہے جس کی اللہ تعالیٰ مغفرت کر دے گا تو یہ بندوں کا وہ ظلم ہے جو انہوں نے اپنے اوپر کیا ہو گا جو ان کے اور ان کے پروردگار کے مابین معاملات کے حوالے سے ہو گا ۔ جہاں تک اس ظلم کا تعلق ہے جس کو اللہ تعالیٰ چھوڑے گا نہیں ، تو وہ بندوں کا ایک دوسرے پر کیا ہوا ظلم ہے ( اللہ تعالیٰ اسے نہیں چھوڑے گا ) جب تک وہ بندوں کو ایک دوسرے سے بدلہ نہیں دلوا دیتا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد احمد بن مالک قشیری کے حوالے سے نقل کی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس ، روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ ان میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

18380

Majma al-Zawaid #18380

وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «ذَنْبٌ لَا يُغْفَرُ، وَذَنْبٌ لَا يُتْرَكُ، وَذَنْبٌ يُغْفَرُ. فَأَمَّا الذَّنْبُ الَّذِي لَا يُغْفَرُ فَالشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَأَمَّا الذَّنْبُ الَّذِي يُغْفَرُ فَذَنْبُ الْعَبْدِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَأَمَّا الذَّنْبُ الَّذِي لَا يُتْرَكُ فَذَنْبُ الْعِبَادِ بَعْضِهِمْ بَعْضًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، تَكَلَّمَ فِيهِ ابْنُ حِبَّانَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Salmān, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said there is a sin not forgiven, a sin not left, and a sin forgiven. The unforgiven is shirk with Allāh, the forgiven is the servant's sin between him and Allāh, and the unleft is servants' sins against one another. > **"There is a sin not forgiven, a sin not left, and a sin forgiven; shirk is not forgiven."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ایک گناہ وہ ہے جس کی مغفرت نہیں ہو گی ، ایک گناہ وہ ہے جسے چھوڑا نہیں جائے گا اور ایک گناہ وہ ہے ، جس کی مغفرت ہو جائے گی ، جہاں تک اس گناہ کا تعلق ہے جس کی مغفرت نہیں ہو گی تو وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ہے ، جہاں تک اس گناہ کا تعلق ہے جس کی مغفرت ہو جائے گی تو وہ بندے کا وہ گناہ ہے جو اس کے اور اللہ تعالیٰ کے مابین معاملے کے حوالے سے ہو ، جہاں تک اس گناہ کا تعلق ہے جسے چھوڑا نہیں جائے گا تو وہ بندوں کا ایک دوسرے کے ساتھ ( ظلم و زیانی کے طور پر ) کیا ہوا گناہ ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن سفیان بن عبداللہ بن رواحہ ہے اور وہ ضعیف ہے ، ابن حبان نے اس کے بارے میں کلام کیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

18381

Majma al-Zawaid #18381

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «ذَنْبٌ يُغْفَرُ، وَذَنْبٌ لَا يُغْفَرُ، وَذَنْبٌ يُجَازَى بِهِ. فَأَمَّا الذَّنْبُ الَّذِي لَا يُغْفَرُ فَالشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَأَمَّا الذَّنْبُ الَّذِي يُغْفَرُ فَعَمَلُكَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ رَبِّكَ، وَأَمَّا الذَّنْبُ الَّذِي تُجَازَى بِهِ فَظُلْمُكَ أَخَاكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ طَلْحَةُ بْنُ عَمْرٍو، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said there is a sin forgiven, a sin not forgiven, and a sin requited. The unforgiven is shirk with Allāh, the forgiven is your deed between you and your Lord, and the requited is your wronging your brother. > **"The unforgiven is shirk, the forgiven is between you and your Lord, and wronging your brother is requited."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ایک گناہ وہ ہے جس کی مغفرت ہو جائے گی ، ایک گناہ وہ ہے جس کی مغفرت نہیں ہو گی ، ایک گناہ وہ ہے جس کا بدلہ دلوایا جائے گا ، جہاں تک اس گناہ کا تعلق ہے جس کی مغفرت نہیں ہو گی ، تو وہ کسی کو اللہ کا شریک ٹھہرانا ہے ، جہاں تک اس گناہ کا تعلق ہے جس کی مغفرت ہو جائے گی تو وہ تمہارا وہ عمل ہے جس کا تعلق تمہارے اور تمہارے پروردگار کے مابین معاملے سے ہو ، جہاں تک اس گناہ کا تعلق ہے ، جس کا بدلہ دلوایا جائے گا تو وہ تمہارا اپنے بھائی پر ظلم کرنا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن عمرو ہے اور وہ متروک ہے ۔

18382

Majma al-Zawaid #18382

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «الدَّوَاوِينُ عِنْدَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - ثَلَاثَةٌ: فَدِيوَانٌ لَا يَعْبَأُ اللَّهُ بِهِ شَيْئًا، وَدِيوَانٌ لَا يَتْرُكُ اللَّهُ مِنْهُ شَيْئًا، وَدِيوَانٌ لَا يَغْفِرُهُ اللَّهُ. فَأَمَّا الدِّيوَانُ الَّذِي لَا يَغْفِرُهُ اللَّهُ فَالشِّرْكُ بِاللَّهِ، قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: {مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ} [المائدة: 72]. وَأَمَّا الدِّيوَانُ الَّذِي لَا يَعْبَأُ اللَّهُ بِهِ شَيْئًا فَظُلْمُ الْعَبْدِ نَفْسَهُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَبِّهِ، مِنْ صَوْمِ يَوْمٍ تَرَكَهُ، أَوْ صَلَاةٍ تَرَكَهَا، فَإِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ ذَلِكَ، وَيَتَجَاوَزُ إِنْ شَاءَ. وَأَمَّا الدِّيوَانُ الَّذِي لَا يَتْرُكُ اللَّهُ مِنْهُ شَيْئًا فَظُلْمُ الْعِبَادِ بَعْضِهِمْ بَعْضًا، الْقِصَاصُ لَا مَحَالَةَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَقَالَ مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ: حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى وَكَانَ صَدُوقًا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah, may Allāh be pleased with her, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said the registers with Allāh are three: one He disregards entirely, one He leaves nothing of, and one He does not forgive. The unforgiven is shirk, for Allāh said whoever associates with Allāh has Paradise forbidden to him. The disregarded is the servant's wronging himself between him and his Lord, such as abandoning a fast or prayer, which Allāh forgives and overlooks if He wills. The unleft is servants' wronging one another, whose requital is inevitable. > **"The registers are three: shirk never forgiven, wrongs toward Allāh overlooked, and wrongs between servants never left."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ دواوین ( یعنی اعمال نامے ) اللہ تعالیٰ کے پاس تین قسم کے ہوں گے ، ایک دیوان وہ ہو گا جس کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کوئی پرواہ نہیں کرے گا ، ایک دیوان وہ ہو گا جس میں سے اللہ تعالیٰ کوئی چیز نہیں چھوڑے گا اور ایک دیوان وہ ہو گا جس کی اللہ تعالیٰ مغفرت نہیں کرے گا ۔ جہاں تک اس دیوان کا تعلق ہے جس کی اللہ تعالیٰ مغفرت نہیں کرے گا تو وہ ( کسی کو ) اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانا ہے ، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام کر دے گا ۔‘‘ جہاں تک اس دیوان کا تعلق ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کوئی پرواہ نہیں کرے گا ، تو وہ بندے کا اپنے اوپر وہ ظلم کرنا ہے جو اس کے اور اس کے پروردگار کے درمیان معاملات کے حوالے سے ہو ، جیسے اس نے کسی دن کا روزہ ترک کر دیا ہو یا نماز ترک کر دی ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کر دے گا اور درگزر کرے گا ، اگر وہ چاہے گا ۔ جہاں تک اس دیوان کا تعلق ہے ، جس میں سے اللہ تعالیٰ کوئی بھی چیز نہیں چھوڑے گا تو وہ بندوں کا ایک دوسرے پر ظلم کرنا ہے اس کا لازمی طور پر قصاص ( یعنی بدلہ ) ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن موسیٰ ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، مسلم بن ابراہیم کہتے ہیں : صدقہ بن موسیٰ نے ہمیں حدیث بیان کی اور وہ صدوق تھے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

18383

Majma al-Zawaid #18383

وَعَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «وَيْلٌ لِلْمَالِكِ مِنَ الْمَمْلُوكِ، وَوَيْلٌ لِلْمَمْلُوكِ مِنَ الْمَالِكِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Ḥudhayfah, may Allāh be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ that woe awaits the master on account of the slave, and woe awaits the slave on account of the master. > **"Woe to the master on account of the slave, and woe to the slave on account of the master."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ مملوکوں کے حوالے سے مالکان کے لیے بربادی ہے اور مالکان کے حوالے سے مملوکوں کے لئے بربادی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

18384

Majma al-Zawaid #18384

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «وَيْلٌ لِلْمَالِكِ مِنَ الْمَمْلُوكِ، وَوَيْلٌ لِلْمَمْلُوكِ مِنَ الْمَالِكِ، وَوَيْلٌ لِلْغَنِيِّ مِنَ الْفَقِيرِ، وَوَيْلٌ لِلْفَقِيرِ مِنَ الْغَنِيِّ، وَوَيْلٌ لِلشَّدِيدِ مِنَ الضَّعِيفِ، وَوَيْلٌ لِلضَّعِيفِ مِنَ الشَّدِيدِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ: مُحَمَّدِ بْنِ اللَّيْثِ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ، وَقَالَ: يُخْطِئُ وَيُخَالِفُ، وَلَمْ أَجِدْهُ فِي الْمِيزَانِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ الْأَعْمَشَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَنَسٍ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said woe awaits the master on account of the slave and the slave on account of the master, the rich on account of the poor and the poor on account of the rich, the strong on account of the weak and the weak on account of the strong. > **"Woe to the rich on account of the poor, and to the strong on account of the weak, and the reverse."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مملوک کے حوالے سے مالک کے لئے بربادی ہے اور مالک کے حوالے سے مملوک کے لئے بربادی ہے ، غریب کے حوالے سے امیر کے لئے بربادی ہے اور امیر کے حوالے سے غریب کے لئے بربادی ہے ، کمزور کے حوالے سے طاقتور کے لئے بربادی ہے اور طاقتور کے حوالے سے کمزور کے لئے بربادی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد محمد بن لیث کے حوالے سے نقل کی ہے امام ابن حبان نے اس راوی کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے اور یہ کہا ہے : یہ غلطی کر جاتا ہے اور دوسروں کے برخلاف نقل کرتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں نے ’’ میزان الاعتدال ‘‘ میں اس کا تذکرہ نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ اعمش نامی راوی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، یہ روایت امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہے ۔